Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 23/01/2026
172 Views
Part 03
ہوٹل کا کھانا کون بیوقوف کھاتا ہے۔"شایان کو جان کر حیرت ہوئی۔وہ لڑکا ہو کر گھر میں کچھ نا کچھ بنالیتا تھا اور یہ میڈم ایک مہینے سے باہر کے کھانے پر پارٹی اڑا رہی تھی۔۔۔ "کون بیوقوف کیا مطلب آپ بھی تو باہر ہی کھاتے ہیں۔"سمبل نے اس کی بات کا برا مان کر کہا۔ آپ کی اطلاح کے لئے عرض ہے یہاں میرے بہت سارے دوست ہیں۔اور ان کی فمیلیز بھی ،میں جہاں جاتا ہوں۔کھانا انہیں کے ساتھ کھاتا ہوں۔نہیں تو ہم سارے دوست مل کر کچھ نا کچھ بنا لیتے ہیں۔تمہاری طرح کام چور نہیں ہیں۔"شایان نے گہرا طنز کیا۔پہلے ان سب کا ڈیرہ شایان کے فلیٹ میں ہوتا تھا۔پر جب سے اس کی شادی ہوئی تھی وہ سارے حیدر کے فلیٹ پر جمع ہوجاتے تھے جو پہلے شایان کے ساتھ ہی اپارٹمنٹ شئیر کرتا تھا۔اس کے زیادہ تر دوست غیر مقامی ہی تھے۔جو پڑھنے کی غرض سے کراچی آئے ہوۓ تھے۔ "تو میں اپنے اکیلی کے لئے کیا بناؤ۔زیادہ سے زیادہ نوڈلز یا سیلڈ وغیرہ بنا لیتی ہوں۔۔"سمبل کی تو ویسے ہی گھر کے کاموں سے جان جاتی تھی۔۔ "بہت نیک کام کرتی ہیں آپ۔کل سے پروپر طریقے سے کھانا بنانا ورنہ آئندہ میں صرف تمھیں اتنے ہی پیسے دوں گا ۔جتنی تمھیں ضرورت ہے۔"شایان کو تو یہ جان کر جھٹکا ہی لگا تھا۔کہ وہ اس کے دیے گئے پیسے صرف ہوٹلنگ پر اڑا رہی ہے۔یونیورسٹی میں تو وہ اسکولر شپ پر پڑھ رہی تھی۔ اس کی دهمكی سن کر سمبل کو غصّہ ہی آگیا تھا۔مطلب وہ چند ہزار دے کر اس پر احسان جتا رہا تھا۔وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوتی اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔شایان نے ذرا حیرانگی سے اس کا غصّہ دیکھا تھا۔۔ کچھ دیر میں واپس آئی۔اور کچھ دن پہلے کی دی ہوئی ساری رقم ایسی کی ایسی ہی شایان کے ہاتھ میں تهما دی۔جس میں اس نے ابھی تک کچھ بھی خرچ نہیں کیا تھا۔ شایان حیرت سے کبھی اسے دیکھتا تو کبھی اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی رقم کو۔"یہ کیا ہے۔"سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔ "یہ آپ کے پیسے ہیں۔بہت شکریہ آپ کا۔مجھے آپ کا احسان نہیں چاہیے۔میری ماں میرے لئے اتنا چھوڑ کر گئی ہے کہ میں اپنا گزارا کر سکوں۔"سمبل عجیب دکھ بھرے لہجے میں بول کر اسے ہکا بکا چھوڑ گئی تھی ۔۔ وہ بیوقوف یقیناً اس کی بات کا غلط مطلب لے چکی تھی۔وہ تو بس اسی لئے کہہ رہا تھا کہ روز روز باہر کا کھانا کھانا کوئی اچھی بات نہیں تھی۔مگر وہ بھی اپنی جگہ درست تھی کہ اکیلی خود کے لئے وہ کیوں اپنی جان جوکھم میں ڈالتی۔۔ ______ "اتنے دن سے کہاں غائب تھیں تم لڑکی۔"سمبل اس وقت اپنی دوست کے ہمرا کلاس میں بیٹھی لیکچر لینے کے ساتھ ساتھ باتوں میں بھی مصروف تھی۔ “بتایا تو تھا۔شادی تھی میری۔”سمبل نے آہستہ سی آواز میں سرگوشی کی۔ “وہ تو جانتی ہوں۔بٹ چھ ماہ بعد پڑھائی کا خیال کیسے آگیا۔اب تم پپپرز کی کیسے تیاری کرو گی۔اب تو کچھ ہی دن میں فائنلز ہونے والے ہیں۔“دانین نے آنکھیں چلا کر پریشانی سے استفسار کیا۔جب کے دونوں کے آنکھیں وائٹ بورڈ پر ہی مرکوز تھیں جہاں سر اردو گرامر سمجھانے میں مصروف تھے۔۔ ”ہوجاۓ گی یار!“سمبل نے ذرا بےزاری سے سر جھٹکا۔ "اچھا ہوجاۓ گی تو ٹھیک ہے۔مجھے کیا مسئلہ ہوسکتا ہے۔تمہاری مرضی۔"دانین نے بے نیازی سے کندھے جھٹکے۔ ابھی اس کی ڈگری کا ایک سال رہتا تھا۔اور اب وہ کسی قیمت پر اپنے وقت کا ضیاع نہیں چاہتی تھی۔اب ان دونوں کی بھرپور توجہ سر پر تھی۔جو پہلے انہیں وارن کر چکے تھے۔۔ ________ شایان اور ماہین اس وقت پارک میں چہل قدمی کرنے کے ساتھ ساتھ ہلكی پھلکی گفتگو بھی کرتے جا رہے تھے۔ ”شایان میرے لئے اس بار میرے کزن کا رشتہ آیا ہے۔اور میں بابا کو منع بھی نہیں کر سکتی۔"آج دو ماہ ہونے کو آۓ تھے پر شایان تھا کے کوئی فیصلہ لینے کو تیار ہی نا تھا۔ "ارے یار!!کچھ زیادہ ہی رشتے نہیں آرہے تمہارے۔“شایان نے گردن کو خم دے کر حیرانی سے دریافت کیا۔ ”ظاہر سی بات ہے۔یہ ہمارا آخری سال تھا۔چند روز بعد ہماری یونیورسٹی بھی ختم ہوجاے گی تو کچھ تو سوچیں گے نا میرے ماں باپ بھی۔”ماہین نے ناگوار لہجے میں کہا۔ “تو اب میں کیا کر سکتا ہوں بتاؤ تم۔”شایان اب خود عاجز آچکا تھا۔۔ “وہی جو تم پچھلے دو ماہ سے نہیں کر پارہے۔طلاق دو اپنی اس بیوی کو، تاکہ میں ماں بابا کو منا بھی سکوں۔ورنہ تم خود بتاؤ۔میرے ماما بابا ایک ایسے لڑکے کے انتظار میں کیوں بیٹھائیں مجھے جو پہلے سے شادی شدہ ہے۔“ماہین نے بیچ راستے میں ٹھہر کر درشت لہجے میں کہا۔تو وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔ "یار تم نہیں جانتی سمبل کو چھوڑنا اتنا آسان نہیں۔میں سوچ رہا تھا۔وہ اپنی تعلیم مکمل کر لے۔اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے پھر ہی میں کوئی فیصلہ لوں۔"شایان نے پریشانی سے اپنی کان کی لو مسلی۔ ”واہ واہ شایان صاحب کی دریا دلی کے کیا ہی کہنے۔اور اتنے عرصے تک میں بیٹھ کر تمہارا انتظار کروں۔اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کل کو تم مجھے دھوکہ نہیں دو گے۔”ماہین تو اس کی دور اندیشی پر بھڑک اٹھی تھی۔ “یار تمھیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے کیا۔“شایان نے آئبرو اٹھا کر سرد لہجے میں پوچھا۔ ”پہلے تھا مگر اب نہیں ہے۔“خشک لہجے میں کہا۔۔ ”مگر کیوں۔”اس نے حیرانی سے پوچھا۔ “ابھی تم نے اپنے گھر والوں کے کہنے پر اس لڑکی سے شادی کر لی۔کل کو تم کہہ دو کہ ماہین میری ام نہیں مان رہیں میں سمبل کو نہیں چھوڑ سکتا۔پھر میرا کیا ہوگا۔کبھی سوچا ہے۔"ماہین آج ہر حال میں اپنا مقصد منوانا چاہتی تھی۔ ”یار ایسا کچھ نہیں ہوگا۔تم یقین رکھو۔اور بس اس رشتے کو ٹال دو۔مجھے پتہ ہے۔تمہارے لئے کسی رشتے کو ریجیکٹ کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔”شایان نے اسے کندھوں سے تھام کر مسکرا کر کہا۔تو اسکی پیشانی پر موجود بلوں میں اضافہ ہوگیا۔۔ "کیا مطلب کیا ہے تمہاری اس بات کا؟“ماہین کے غصّہ کا گراف یکدم ہی بڑھا تھا۔ "”کوئی مطلب نہیں۔بس تم اس رشتے سے منع کردو۔"شایان نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا۔ “میری ایک بات کان کھول کر سن لو شایان خانزادہ میں اس رشتے کے لئے جب تک منع نہیں کرونگی۔جب تک تم اس جاہل گوار کو طلاق نا دے دو۔"ماہین نے تڑخ کر کہا۔۔ "ماہین یار سمجھے کی کوشش کرو۔میری خالہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔کہاں جائے گی وہ”۔شایان نے اسے قائل کرنا چاہا۔ "میری بلا سے بھاڑ میں جائے۔تم فیصلہ کر لو میں یا وہ جاہل انپڑھ لڑکی۔تمھیں ہم دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔شایان خانزادہ۔۔"انگشت شہادت اٹھا کر درشت لہجے میں بولتی وہ خاصی خونخار ہوگئی تھی۔ “ماہین تم بلاوجہ کی ضد کر رہی ہو۔”شایان نے اس کی ضد پر جھڑکا۔ “اچھا!!میں ضد کر رہی ہوں۔تو اب تم دیکھو گے میری ضد۔تم اس دو ٹکے کی لڑکی کی وجہ سے مجھے نظر انداز کر رہے ہو نا۔اب تم دیکھو میں کیا کرتی ہوں۔اس کے ساتھ۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔“ماہین غصّہ سے آپے سے باہر ہوتی جنونی لہجے میں بولی۔ ”بکواس بند کرو ماہین اس میں سمبل کی کوئی غلطی نہیں۔اس سے شادی کا میرا ذاتی فیصلہ تھا۔وہ بھی اس رشتہ پر اسی طرح مجبور تھی جیسے کہ میں۔اب میں اپنی مری ہوئی خالہ کی روح کو تمہاری وجہ سے مزید اذیت نہیں دے سکتا۔مت بھولو اگر آج میری خالہ اور سمبل کی ماں اس دنیا
