Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 23/01/2026
172 Views
Part 03
میں موجود نہیں ہیں تو صرف اور صرف تمہاری وجہ سے سمجھیں۔“غصّہ میں شایان اس کے منہ پر دهاڑا تھا۔۔ ماہین اس کے اس قدر تلخ لہجے اور سمبل کی سائیڈ لینے پر یکدم خاموش ہوگئی تھی۔پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا۔اس سے پہلے کے وہ سمبل کو ہمیشہ کے لئے اپنا لے۔کچھ تو کرنا پڑے گا۔اس پر ایک خاموش نظر ڈالتی۔فلحال خاموشی سے وہاں سے نکل آئی تھی۔۔ پیچھے شایان بالوں میں ہاتھ پھیرتا خود کو پر سکون کرتا اس کی پشت دیکھنے لگا۔جو دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے نکل گئی تھی۔اسکی سمجھ سے باہر تھا کہ اب ایسا کیا کرے۔جس میں سمبل اور ماہین دونوں کی رضامندی شامل ہو۔کوئی ایک بھی دوسری کو برداشت کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔ایک طرف مجبوری اور عزت تو دوسری جانب محبت جس نے شایان کا دماغ گھما کر رکھ دیا تھا۔ ______ کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھول کر کوئی گھر میں داخل ہوا تھا۔سمبل نے ذرا چونک کر کچن سے باہر آکر نظر گھمائی ۔سامنے ہی شایان دروازہ لاک کرتا گھر میں داخل ہو رہا تھا۔سمبل نے گھڑی پر نظر ڈورائی جہاں ابھی دن کے تین بج رہے تھے۔ سمبل نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔ ”شایان آج آپ جلدی آ گئے ۔“اس کے سوال کرنے پر شایان کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔ ”کیوں اب میں اپنے گھر بھی نہیں آسکتا کیا۔“شایان نے غصّیلے لہجے میں کہا۔ ”اپنے کام سے کام رکھو سمجھی!!“اسے سخت نظروں سے گھورتا ،بیدردی سے اپنی جیکٹ ایک جانب پھینکتا،کمرہ نشین ہوگیا۔دروازہ کی ٹھا کی آواز پر وہ لرز کر رہ گئی تھی۔۔ انہیں کیا ہوا؟؟سمبل نے اچھنبے سے سوچا۔ ”ضرور اس لال بالوں والی چڑیل نے کچھ کہا ہوگا۔”سمبل سر جھٹکتی ماہین کے نئے ہیئر کلر پر جملہ کستی اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔۔ _______ شایان اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر بیڈ پر چت لیٹا ہوا تھا۔جب اس کی نظروں کے سامنے اپنی مایوں سے ایک دن پہلے کا منظر گھوم گیا۔ اس روز خاجستہ شایان اور ماہین کے بیچ ہوتی بات کے بابت مکمل طور پر آگاہ ہوچکی تھی یہ سنتے ہی ان کو صدمہ سا لگا تھا۔ وہ تو پہلے ہی کینسر جیسے جان لیوا مرض میں مبتلا تھیں۔ ایسے میں اپنے بھانجے کے منہ سے نکلنے والے لفظوں نے انہیں کافی اذیت سے دوچار کیا تھا۔لمحوں کا کھیل تھا وہ اپنے پورے وجود سے زمین بوس ہوئی تھیں۔ شایان نے چونک کر رخ موڑ کر دیکھا ۔تو سامنے ہی وہ دنیا و مافیہ سے بیگانا بیہوش پڑی ہوئی تھیں۔۔موبائل آف کر کے فوری ان کی جانب لپكا تھا۔“خالہ ،خالہ “اس کی چیخ و پکار پر سب حویلی سے باہر ڈور کر آئے تھے۔اپنی ماں کی حالت دیکھ سمبل حواس باختہ سی ان کی جانب ڈوری تھی۔ وہ جو کل کے نکاح کی تیاری میں مایوں کی دلہن بننے والی تھی۔اس وقت روتی ہوئی پریشانی سے اپنے حلیہ سے بھی لاپرواہ تھی۔شایان نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر اس کی اور دیکھا تھا پھر جلدی سے اس کے لئے بھی گاڑی کادروازہ وا کیا تھا۔ شایان آغا جان کے ہمرا انہیں گاڑی میں ڈالتا شہر جانے کے لئے روانہ ہوا تھا۔سمبل کو روتا چیختا دیکھ وہ مسلسل ڈرائیو کر رہا تھا۔ “آغا اماں کو کیا ہوگیا ہے۔”سمبل نے روتے کپکپاتے لہجے میں بے یقینی سے استفسار کیا۔ انہوں نے ایک نظر اس کی دلہن بنے روپ پر ڈال کر نظریں چرائیں۔وہ سب بہت پہلے ہی ان کے مرض سے واقف تھے۔جبکہ سمبل کو اس سب سے لا علم رکھا گیا تھا۔وہ مسلسل ان کا سر اپنی گود میں رکھے انہیں اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔کچھ ہی دیر کی طویل مسافت کے بعد انھیں ضلع کے ایک قریبی چھوٹے سے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا تھا۔انہیں فوری ایمرجنسی میں لے جایا گیا تھا چند گھنٹوں کے طویل انتظار کے بعد بعد ڈاکٹر نے باہر آکر ان کے ہوش میں آنے کی نوید سنائی ۔ساتھ ہی آغا کے ہمرا وہ اپنے کیبن کی جانب بڑھے۔ “ آپ لوگوں میں سے شایان کون ہے۔ “ نرس نے ان تمام لوگوں پر نظر ڈال استفسار کیا تو شایان جلدی سے آگے بڑھتا۔ان کے وارڈ کی جانب بڑھا۔ سامنے بیڈ پر ہی خاجستہ مشینوں میں جکڑیں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھیں۔ ”خالہ جان جو کچھ آپ نے سنا ایسا کچھ نہیں ہے۔آپ مجھے بلکل غلط مت سمجھئے گا۔بس آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں اور ہمارے ساتھ گھر چلیں۔“شایان نے انکی حالت قدرے بہتر دیکھ فوری صفائی پیش کی تھی جو اپنا آکسیجن ماسک سائیڈ پر کر رہی تھی۔ ” اگر تم میری بیٹی سے شادی نہیں کرنا چاہتے تو اسے ابھی چھوڑ دو اس کی شادی کے بعد اسے طلاق دے کر اس کی زندگی خراب مت کرنا بیٹا مجھے تمہاری اور سمبل دونوں کی خوشياں عزیز ہیں۔“کپکپاتے ہونٹوں سے بڑی مشکل سے چند لفظ ادا کئے تھے۔ ”نہیں خالہ جان آپ غلط سمجھ رہی۔سمبل سے شادی میں اپنی پوری رضا مندی سے کر رہا ہوں۔“ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ ”شایان بیٹا میری سمبل بہت نادان ہے اور معصوم بھی۔اس نے بچپن سے اپنے نام کے ساتھ تمہارا نام سنا ہے۔ میں جانتی ہوں ایسے میں وہ ٹوٹ کر بکھر جائے گی۔مگر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے۔وقت رہتے سنبھل بھی جائے گی۔تم اور سمبل میرے لئے برابر ہو۔اگر تم اس شادی میں دلچسپی نہیں رکھتے بچے تو تمہاری خالہ تم پر ہر گز کوئی دباؤ نہیں ڈالے گی۔“وہ کیسے یہ لفظ ادا کر پائی تھیں صرف وہی جانتی تھیں۔اپنی بیٹی کی محبّت کو کتنی آسانی سے چھپا گئی تھیں۔جبکہ وہ مسلسل نفی میں سر ہلاتا انہیں قائل کرنا چاہ رہا تھا۔ ” تمہاری سانس دیتی خالہ کی تم سے صرف ایک ہی التجا ہے۔بس اس کا خیال رکھنا۔زندگی میں چاہے نا رکھنا کیوں کہ کچے زخم جلدی بھر جاتے ہیں جبکہ تمہاری بے وفائی کا زخم اس کے لئے ناسور بن جائے گا۔بہتر یہی ہے کہ تم ابھی علیحدگی اختیار کر لو ۔“ خاجستہ کے الفاظ نے شایان کو بھونچکا کر رکھ دیا تھا۔پیچھے اندر داخل ہوتے آغا جان اس ساری صورتحال کو سمجھنے میں نا کام سے تھے۔ دوسری جانب خاجستہ گہرے گہرے سانس بھرتیں صرف شایان کو دیکھ رہی تھیں۔جو خاموشی سے انہیں دیکھ رہا تھا۔ان کی بگڑتی حالت کے پیش نظر آغا ڈور کر ڈاکٹر کو بلانے بھاگے تھے۔ وہ اس آخری وقت میں بھی صرف اپنی بیٹی کی خوشیاں چاہتی تھی وہ چاہتی تو اس وقت اسے مجبور کر کے کوئی بھی وعدہ لے کر اسے ہمیشہ کے لئے سمبل کا کر سکتی تھی مگر انہوں نے ایسا نہ کیا ان کے لئے وہ دونوں ہی برابر تھے۔ دونوں کی خوشیاں عزیز تھیں۔ کسی ایک کے ساتھ نا انصافی انہیں گوارا نہیں تھی۔ خاجستہ کی حالت بگڑتی دیکھ اندر آتے ڈاکٹرز نے انہیں باہر نکال دیا تھا۔ شایان تھکے ہوئے قدموں سے نڈھال سر جھکا کے باہر آیا تو سمبل جلدی سے اس کی اور لپکی تھی۔جانے کیوں آغا نے اسے اندر جانے سے منع کر دیا تھا۔ شایان نے ذرا سی نظر اٹھا کر اس کے روتے سوجے ہوۓ چہرے کو دیکھا ۔جس نے اس کے مقابل آتے ہی سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی۔ آنسووں سے لبریز سوجھی موٹی آنکھیں جن میں اپنی ماں کا درد بول رہا تھا۔وہ خاموشی سے اسے کاندھوں سے تھامتا ایک طرف کو ہو گیا جو مسلسل اس
