Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 23/01/2026
172 Views
Part 03
ایک دو بار پہلے بھی کوشش کر چکا تھا۔ مگر اس کے باوجود ماہین اسے نظرانداز کرتی نومی کے ساتھ چلی گئی تھی۔۔ مگر اب اس کی کال دیکھ شایان کو جیسے اطمینان سا ہوا تھا۔ ہیلو۔۔ماہی۔کیسی ہو یار تم۔"شایان نے ہشاش بشاش لہجے میں استفسار کیا۔ ”میں ٹھیک ہوں ہنی۔تم بتاؤ کہاں ہو۔میں تم سے ناراض تھی۔مگر تم نے مجھے ایک بار بھی منانے کی کوشش نہیں کی۔“ماہین نے ذرا روٹھے ہوۓ لہجے میں کہا تھا۔ "یار ایسی بات نہیں۔بس اس روز نا جانے مجھے کیوں اتنا غصّہ آگیا تھا۔”شایان نے ندامت بھرے لہجے میں شرمندگی سے کہا۔ "اچھا اب چلو چھوڑو سب۔یہ بتاؤ۔کیا تم ابھی مجھ سے مل سکتے ہو۔"ماہین نے اپنے گھر کے ٹیرس سے ڈوبتے ہوۓ سورج کے دلکش مناظر سے حظ اٹھاتے پوچھا۔ "کہاں ملنا ہے بتاؤ۔"شایان فوری راضی ہوا تھا۔ ماہین کے جگہ بتانے پر شایان نے موبائل آف کر کے گاڑی اسی روڈ پر ڈال دی۔۔ _______ "کیا سچ میں سمبل۔واہ میری چیتی کیا خوب کام کیا ہے۔مجھے تم سے اس بہادری کی قطعی کوئی امید نہیں تھی۔"دانین نے فخر سے گردن اکڑا کر اس کا کندھا تهپتهپا کر شرارتًا کہا۔ “کیا مطلب ہے تمہارا۔تو کیا شایان کو دوسری شادی کی اجازت دے دیتی۔اتنا پاگل سمجھا ہوا تم نے مجھے۔" سمبل نے ناک چڑا کر ناگواری سے کہتے اس کا ہاتھ جھٹکا جو بیڈ پر پڑی قہقہہ لگا رہی تھی۔ "وہی تو میں کہہ رہی ہوں۔تم نے تو بیچارے شایان بھائی کو سہی کا محتاج کر دیا۔وہ میڈم کی اجازت کے بغیر شادی ہی نہیں کر سکتے۔"دانین کی شوخياں ابھی بھی عروج پر تھیں۔ "دفع ہوجاؤ تم۔کیسی دوست ہو بجاۓ مجھے کوئی اچھا سا آئیڈیا دینے کے ،کہ میں کیسی اس لال بالوں والی چڑیل کی چھٹی کروں۔ تمھیں اپنے بیچارے بھائی کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔"سمبل نے ذرا ناراضگی سے اس کی پیٹھ پر دهپ لگاتے ہوۓ کہا۔ ”میں تو کہتی ہوں پاکستانی اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دو۔اور کرنے دو انہیں اس لال بالوں والی سے شادی۔" دانین نے اپنی گول گول آنکھیں گھما کر شرارت سے مفید مشوارہ نوازا۔ “ایسا کبھی نہیں ہو سکتا بیٹا۔میں نے نکاح سے پہلے پکا کام کیا تھا۔جس میں میرا ساتھ آغا نے دیا۔شایان خانزاده کو تو اس بات کی کانوں کانوں خبر تک نہیں ہے۔کیوں کہ اس وقت تو وہ صرف میری وجہ سے غصّے سے پاگل ہو رہے تھے۔۔"سمبل نے مزے لے کر اپنی کارستانی بتائی جس پر پہلے تو دانین آنکھیں پھیلا کر اس میسنی کو دیکھنے لگی۔جو شریف بنی گھومتی تھی اور پھر شایان کی قسمت پر قہقہہ لگا اٹھی۔جس میں سمبل کی بھی پیاری سے ہنسی شامل تھی۔۔ _____ ”ماہین یار۔۔۔۔یہ کیسی شرط ہے۔اب میں مطلب شایان خانزادہ اس طرح کی حرکتیں کرتا ہوا اچھا لگوں گا بھلا۔"شایان نے ذرا بیزاری سے سر جھٹکا۔ماہین بگڑے تیوروں سے آنکھیں آئبرو سمیٹ کر اسے غصّہ سے گھور رہی تھی۔۔ "شایان میں نے کونسی اتنی بڑی ڈیمانڈ کردی ہے۔ایک چھوٹی سی تو خواش ہے میری کیا اب تم وہ بھی پوری نہیں کر سکتے۔" شایان نے کندھے گرا کر مدد طلب نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔جو منہ پر نو لفٹ کا بورڈ لگا کر بیٹھی تھی۔ یار۔۔۔۔"شایان کو اس مطالبے پر ذرا کوفت سی ہو رہی تھی۔۔ کوئی کچھ نہیں۔میں تمہارے لئے اپنے لئے آیا ہوا رشتہ ٹھکرا سکتی ہوں۔اس سمبل کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے پر راضی ہو سکتی ہوں۔مگر تم میری اتنی سی وش نہیں پوری کر سکتے ۔۔۔"ماہین نے آنکھوں میں نقلی آنسو سمو کر شکوہ کیا۔۔ "اچھا اچھا یار ۔ٹھیک ہے بابا۔۔رو تو نہیں۔"شایان نے جیسے اس کہ آگے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ماہین اپنی جیت پر فتح مندی سے مسکرائی تھی۔ “یہی تو بات تھی جو اسے مغرور بناتی تھی۔کسی کے آگے نا جھکنے والا شایان خانزادہ اس کے آگے ہمہ وقت جھکنے کو تیار رہتا تھا۔ "تھنکیو شایان تمھیں نہیں معلوم تم نے مجھے کتنا خوش کر دیا ہے۔"ماہین نے ذرا چہک کر کہا تھا۔۔ جس پر وہ صرف مسکرا کر رہ گیا تھا۔وہ ماہین کو یہ بات قطعی نا کہہ سکا کے تم تو سمبل کے ساتھ ایڈجسٹ کرنے پر راضی ہوگئی ہو مگر سمبل تمھیں کبھی برداشت نہیں کرے گی ۔اسی ساری صورتحال میں اس وقت وہ سمبل کو بلکل فراموش کر گیا تھا۔کہ وہ اس کا انتظار کر رہی ہوگی۔ اس کا موبائل ماہین پہلے ہی کوئی ڈسٹرب نا کرے اس باعث سلینٹ پر لگا چکی تھی۔جبکہ دوسری جانب رات گہری ہوتی دیکھ سمبل پریشان ہوگئی تھی۔۔ _____ ”یار سمبل تم پریشان نہیں ہو۔میں نے پتہ کروایا ہے ۔ڈرائیور گاڑی کسی کام سے لے کر گیا ہے۔وہ جیسے ہی آتا ہے۔میں خود تمھیں گھر چھوڑ کر آؤنگی۔"دانین نے سمبل کو تواتر سے شایان کے نمبر پر کال ملاتے دیکھ تسلی دی۔۔ "نہیں یار۔انہوں نے کہا تھا۔میں خود تمھیں لینے آؤنگا۔اور اب رات کے دس بج رہے ہیں۔ان کا نمبر بھی نہیں لگ رہا۔اللّه خیر کرے نا جانے کیا ہوا۔۔"جیسے جیسے وقت گزر رہا رہا سمبل کو گهبراہٹ ہو رہی تھی۔ اچھا اچھا ریلكس۔۔کیا پتہ وہ کسی کام میں پھنس گئے ہوں۔"دانین نے اس کے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔۔ "نہیں نا۔۔میں اکیلے ہی جا رہی ہوں۔تمہارا ڈرائیور تو پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے آہی نہیں رہا۔۔"سمبل نے چڑکر جلدی سے اٹھ کر اپنی چادر لی۔اور دانین کی پکار نظر انداز کرتی بھاگتی دوڑتی باہر کو بڑھی تھی۔۔ “یار دانین اتنی رات ہو رہی ہے۔یہاں پر کسی سواری کا ملنا نا ممکن سی بات ہے کیسے جاؤ گی۔۔دانین نے اسے سمجھانا چاہا۔جو مسلسل گارڈ سے دروازہ کھولنے پر باضد تھی۔ ”یار میں چلی جاؤ نگی۔میں مزید یہاں نہیں رک سکتی۔تم دروازہ کھلواؤ۔"سمبل نے چڑ کر کہا۔تو دانین بھی خاموش ہوگئی۔جبکہ سمبل نے باہر آتے ہی گلی میں چارو جانب نظر دوڑائی گلی مکمل سنسان پڑی ہوئی تھی۔۔ "سمبل دهيان سے جانا یار۔۔میں تو کہہ رہی ہوں تھوڑا اور انتظار کر لو ڈرائیور آتا ہی ہوگا۔۔"سمبل دانین کو نظر انداز کرتی بڑے بڑے قدم لیتی باہر کو بڑھ گئی۔۔ گلی میں مکمل سناٹا چھایا ہوا تھا۔سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں قدم اٹھاتی وہ پیدل ہی گلی پار کرتی وہ کافی دور نکل آئی تھی۔بیگ میں بجتے موبائل کے باعث مسلسل وئیبریشین ہو رہی تھی مگر سنیچنگ کے ڈر سے سمبل نے اپنا بیگ بھی چادر میں ہی چھپا رکھا تھا۔۔تیز تیز قدم اٹھاتی ارد گرد پر نظر ڈالے چلتی چلی جا رہی تھی مگر مین روڈ ابھی بھی کافی دور تھا۔۔ ابھی کچھ ہی دور آئی تھی۔کہ اپنے برابر سے ایک گاڑی کو زناٹے سے گزرتا دیکھ خوف سے چیخ کر پیچھے کو گر پڑی۔۔سمبل نے ایک دم ہراسا ہو کر ارد گرد میں دیکھا تھا۔جہاں گاڑی گزرنے کے باعث ماحول میں آرتعاش سا برپا ہوگیا تھا اب وہاں ایک بار پھر سناٹا چھا گیا تھا۔جبکہ گاڑی آگے بڑھ گئی تھی۔ سمبل اپنی چادر درست کرتی کھڑی ہونے لگی مگر یکدم پیر مڑ جانے کے باعث درد سے کراہ کر رہ گئی۔۔ گاڑی خاصی دور جاکر کر واپس موڑ کر اس کی جانب آرہی تھی۔سمبل کی خوف کے مارے آنکھیں پھیل گئی تھیں۔ماتھے پر پسینہ آگیا تھا۔نا جانے کون تھا۔جبکہ اس علاقے میں دور دور تک نا آدم تھا نا آدم کی ذات۔سمبل خوف کے مارے ہمّت جٹاتی جیسے تیسے کھڑی ہوئی جب تک گاڑی اس کے بلکل نزدیک آکر رکی تھی۔جبھی کوئی دھڑ سے دروازہ کھولتا اسکی جانب آیا تھا جبکہ اس نے اپنا چہرہ خوف کے مارے چادر میں چھپا لیا
