Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 23/01/2026
172 Views
Part 03
سے سوال کررہی تھی۔پھر کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر نے باہر آ کر کر وہ خبر ان کے کانوں میں سور کی طرح پھوکی تھی جس کے باعث وہ اپنے پورے وجود سے بوس ہوئی تھی۔ کب خاجستہ کے ہمراہ وہ لوگ واپس حویلی آئے تھے۔کب خاجستہ کی آخری رسومات ادا کیں سمبل کو کچھ خبر نہ تھی وہ تو ساکت نظروں سے اپنی ماں کا چہرہ دیکھ رہی تھی جس کا دیدار بھی اس دنیا میں دوبارہ ممکن نہیں تھا اس کے بعد سے سمبل اور شایان کا سامنا نہیں ہوا تھا تھا شادی کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ خاجستہ کی موت کی وجہ سب بلڈ کینسر ہی سمجھے تھے۔نروس بریک ڈاؤن پر کسی نے زیادہ توجہ نہیں دی تھی جبکہ سمبل کی تو جیسے دنیا ہی اجڑ گئی تھی۔۔ ________ “شایان جو ہوا بہت غلط ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔مگر اب میں سمبل کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہونے دوں گا وہ مجھے میری بہنوں کی طرح عزیز ہے.“ آغا جان کے مقابل صوفے پر سر جھکا کر بیٹھا شایان اس تمام حادثے پر پشیمان تھا اس کی زبانی ساری حقیقت سے آشنا ہو کر وہ ایک دم غصے سے پاگل ہوگئے تھے ۔جنہیں شایان نے بہت مشکلوں سے ٹھنڈا کیا تھا. ” مگر آغا بھائی میں نے آپ لوگوں کو پہلے بھی کہا تھا کہ میں سمبل سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن آپ لوگ میری بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھے۔ تو اس میں میری کیا غلطی ہے مجھے کیا معلوم تھا کہ خالہ جانی اس بات کا اس قدر صدمہ لیں گی اور اس دنیا سے ہی چلی جائے گی.” شایان نے نادم ہوکر کہا “ یہ سب کرنے سے پہلے کچھ تو شرم کی ہوتی کچھ تو حیا کی ہوتی بد بخت !! یہ یاد کر لیتے کہ وہ تمہارے بچپن کی منگ ہے بچپن سے منسوب ہے وہ تمہارے نام کے ساتھ.“ آغا نے کرخت لہجے میں اسے جھاڑ پلائی تھی. ” جب میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کوئی ایسی ویسی بات تو نہیں ہے۔شادی سے انکار کی جب تم نے کتنی صفائی اور ڈھٹائی سے میری نفی کی تھی۔ کہ نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔اور اب تم یہ سب کہہ رہے ہو۔دل تو چاہ رہا ہے۔میں تمہیں جان سے مار ڈالوں۔“ آغا غصے میں آپے سے باہر ہوئے تھے ” شایان محض خاموشی سے سر جھکائے دل ہی دل میں ماہین سے خفا ہو رہا تھا۔ یہ سب اسی کی وجہ سے ہوا تھا۔اگر وہ ایسا نا کرتی تو وہ شادی کے بعد کوئی بھی بہانہ کر کے خاموشی سے علیحدگی اختیار کر لیتا۔مگر اب تو سارا مسئلہ ہی الٹ چکا تھا۔شادی تو اس کی ہر حال ہونی تھی۔اور اب وہ سمبل کو تکلیف دے کر اپنی خالہ کی روح کو بھی تکلیف نہیں پہچانا چاہتا تھا۔ “اب کیا کرنا ہے بد بخت۔۔مگر ایک بات تو جان لو شادی تو تمہاری سمبل سے ہوگی۔کیا تم نہیں جانتے تمہار انکار اس کی ذات کو ایک سولیہ نشان بنا کر چھوڑ جائے گا۔“شایان عجیب کشمکش میں گھرا کھڑا تھا۔ایک طرف سمبل کا آنسووں سے لبریز چہرہ نگاہوں میں گھوم جاتا تو دوسری جانب ماہین کا جسے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا.. ”آغا میں سمبل کو ویسے بھی نہیں چھوڑ رہا۔ خالہ میری وجہ سے دنیا سے چلی گئیں اگر میں اب مزید سمبل کے ساتھ کوئی زیادتی کروں گا تو انکی روح کو مزید تکلیف ہوگی۔“شایان نے بہت مشکلوں سے یہ لفظ ادا کیے تھے.. ”اور وہ لڑکی جس سے تم نے شادی کے وعدے کر رکھے ہیں۔ “آغا نے ماتھے پر بل ڈال کر استفسار کیا. ”آغا کیا میں ماہین سے دوسری شادی نہیں کر سکتا۔” شایان نے کچھ توقف کے بعد سوچ کر سوال کیا.. بالکل کر سکتے ہو۔ مگر اس سے پہلے تمہیں سمبل سے اجازت لینی پڑے گی اگر چہ اسے کوئی اعتراض نہیں تو ہمیں بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔“ آغاز ایک نظر اس کے پریشان چہرے پر گھما کر کر عام سے لہجے میں کہا.. ”کچھ ہی دیر میں آغا کے حکم کے مطابق سمبل اس کمرے میں موجود تھی جہاں شایان پہلے سے موجود تھا.. “تو بولو بچہ تمہارا کیا فیصلہ ہے جو تمہارا فیصلہ ہوتا ہے۔ وہی آخری ہوگا کیا تمھیں اس بات سے کوئی اعتراض ہے کہ شایان تم سے شادی کے بعد دوسری شادی کر لے ۔ آغا نے سمبل کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر پوچھا.. سمبل تو شایان کے مطالبے ،اور اس انکشاف پر پہلے ہی حیرت سے گنگ بے یقینی سے خاموش بیٹھی ہوئی تھی۔ اسے تو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہورہا ہے ۔اور آغا کے سوال کرنے پر جیسے اس کے دل میں خنجر گھونپ دیا تھا۔اسے یکدم ہی اپنی ماں یاد آئی تھیں۔ ایک نظر اٹھا کر شایان کو دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا تھا اور پھر آغا کو کو جن کی نظروں میں شفقت تھی جیسے جو فیصلہ کرے گی آخری ہوگا.مگر اس کو فیصلت کا اختیار تھا ہی کب۔۔ ”آغا اگر میں کہوں کہ مجھے اس شادی سے اعتراض ہوگا تو کیا یہ مجھ سے شادی نہیں کریں گے؟“ سمبل نے ایک نظر شایان کو دیکھ سوال کیا تمہاری شادی تو مجھ سے ہی ہوگی یہ بات اپنے ذہن میں بٹھا لو۔” سمبل کے سوال کرنے پر شایان نے گھور کر کہا۔ “آغا خاندان کے تمام ہی لوگ اس بات سے واقف ہیں۔کہ میں بچپن سے شایان خانزادہ کی منگ ہوں۔ اور جب کے اب تو بارات سر پر کھڑی ہے۔ ایسے میں اگر میں انکار کر بھی دوں تو بعد میں مجھ سے کون شادی کرے گا؟مجھے فیصلہ کا اختیار دے کر بھی آپ لوگوں نے مجھے فیصلہ لینے کے قابل نہیں چھوڑا۔میرا یہی فیصلہ ہے کہ میں شایان سے شادی کروگی لیکن میری موجودگی میں شایان ہر گز دوسری شادی نہیں کر سکتے۔” سمبل نے دل پر پتھر رکھ کر ابھی اسی کا ساتھ چنا تھا۔مگر ساتھ اپنی خوشیوں کی ضمانت بھی لی تھی۔آغا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔جبکہ شایان ساکت نظروں سے اس کی پشت کو گھور رہا تھا.. “تو پھر طے ہوا تمہارا نکاح اسی ماہ ہوگا ۔مگر اب رخصتی کچھ ماہ بعد بعد ہوگی۔اس بچی نے ابھی اپنی ماں کو کھویا ہے۔ہم ابھی اس پر کسی قسم کی کوئی ذمہ داری نہیں ڈالنا چاہتے۔”۔وہ یہ بات اس کمرے کی درو دیوار سے باہر نہیں جانے دینا چاہتے تھے اسی لیے انہوں نے خان بیگم تک کو بتانے کی زحمت نہیں کی تھی۔ جبکہ شایان دل ہی دل میں سمبل کا دماغ ٹھکانے لگانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔جو کتنی آسانی سے اس کے ساتھ بندھ گئی تھی۔ وہ ذرا سی لڑکی اپنے ایک فیصلے سے اسے زیر کر گئی تھی ۔ اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دبوسی لڑکی اس کے آگے منہ کھولے گی۔ اور پھر وہی ہوا چند ماہ بعددونوں کی رخصتی ہوگئی لیکن اب ماہین کا بار بار ایک ہی تقاضا اور سمبل کو طلاق دینا اس کی سمجھ سے باہر تھا۔ماہین کو چھوڑنے کے لئے اس کا دل کسی طور رضا مند نہیں تھا۔اس نے سوچا تھا۔ کہ کچھ عرصے بعد وہ سمبل کو سمجھائے گا۔اس کی تعلیم مکمل کروا کر اگر سمبل نے چاہا تو اس کی رضامندی سے سے اس سے علیحدگی اختیار کر لیے
