Mera Name Muhabbat (SHORT STORIES) — Part 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Cultural Fiction
Published: 23/01/2026
172 Views
Part 03
"دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا؟یہ کچن کا کیا حال بنا رکھا ہے۔۔"کچن میں داخل ہوتا شایان غصّے سے پھنکارا۔ سمبل بوکھلا کر چولہے کی جانب بڑھی۔کڑاہی جو دھیمی سی آنچ پر بس جل بھن کر بھٹا لگنے کو ہی تھی۔آگے بڑھ کر جلدی سے چولہا بند کیا۔اور چور سی نظر شایان پر ڈالی۔جو کچن کا بکیھرا دیکھ رہا تھا۔چارو اور پیاز،ٹماٹر کا گند،سلپ پر ادھر ادھر گرا پانی۔سنک میں صاف ستھری پلیٹس اور چمچ کا انبار جیسے بس شاید ایک بار میں یوز کر کہ سنک کی نظر کر دیا گیا تھا۔ "یہ تمہارا کام کرنے کا سٹائل ہے۔"شایان کی نفاست پسند طبعیت پر یہ بات خاصی ناگوار گزری تھی۔ "نہیں وہ۔۔بس مجھے علم نہیں ہے نا کہ کونسی چیز کہاں رکھی ہے۔تو اسی لئے کچن پھیل گیا۔"سمبل نے شرمندگی سے بھونڈی سی دلیل دی۔ "شایان اس پر ایک سخت سلگتی نگاہ ڈال کر کچن سے باہر نکل گیا۔اگر وہ تھوڑی دیر مزید کچن میں کھڑا رہتا تو کوئی بعید نہیں تھی وہ اس پھوہڑ کو ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر سے نکال دیتا۔ سمبل نے بھی ارد گرد نظر گھمائی اور ہاتھوں کو تیزی سے چلانے لگی۔اس کی ماں بھی اس کی اس عادت سے سخت نالہ رہتی تھیں۔جو کام کم کرتی تھی اور پھیلاوا زیادہ کرتی تھی۔۔ "افف دانین کی بچی۔صرف تمہاری وجہ سے باتوں میں لگ کر اپنے کام ہی فراموش کر گئی۔"سمبل بڑبڑا کر ہاتھ چلاتی جلدی جلدی سب کچھ سمیٹنے میں مصروف تھی۔کڑاہی مصالحہ میں تو اب جلی جلی سی آگئی تھی۔اسی لئے اس کو بھی ایک طرف کر کہ اب وہ کچھ اور بنانے کا سوچ رہی تھی۔۔ ________ "پخیر راغلے، پخیر راغلے بچہ۔۔"سمبل اور شایان کو حویلی پہنچتے پہنچتے شام ہوگئی تھی۔ "شکریہ خالہ جانی ۔"سمبل فرطِ جذبات میں اگے بڑھ کر ان کے گلے لگ کر یکدم رو پڑی۔ام خانم ایک دم گھبرا اٹھیں۔۔ "سمبل بچے کیا ہوا۔تم رو کیوں رہا ہے بچے۔"ام نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر استفسار کیا۔جبکہ آغا سے بغل گیر ہوتے شایان نے نا گواری سے اس کا ڈرامہ ملاخطہ کیا تھا۔۔ "کچھ نہیں خالہ جانی بس امو کی یاد آگئی۔"سمبل نے شایان کی گھورتی نظریں خود پر مرکوز دیکھ بہانہ گھڑا۔ "چلو بچہ کوئی بات نہیں۔تم یہاں بیٹھو۔ہم مردان خانے میں جا رہے ہیں۔"آغا اس کے سر پر ہاتھ رکھ شایان کے ہمرا آگے بڑھ گئے۔جبکہ اب وہ سب بھابھیوں اور ان کے بچوں کے گرد گھری بیٹھی سب کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئی تھی۔۔ _____ آج ان دونوں کے ولیمے کی دعوت تھی۔جس کی خوشی میں قبیلے کے تمام افراد ہی حویلی میں موجود تھے۔سمبل کو منہ دکھائی میں کئی بیش قیمت تحائف وصول ہوئے تھے۔ لائٹ پیچ کلر کی لانگ میکسی پر بھاری بھرکم جیولری پہنے بیٹھی سمبل ہیوی میک اپ لک میں آسمان سے اتری کوئی اپسرا ہی لگ رہی تھی۔جب کے اس کے بغل میں بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس وجیہہ سس جاذب نظر شخصیت کے ساتھ اس کے برابر میں بیٹھا شایان خانزادہ کسی سلطنت کا شہزادہ ہی لگ رہا تھا۔کرسٹل گرے آنکھوں میں ایک الگ ہی الوہی سی چمک تھی۔جس کے باعث محفل میں موجود ہر آنکھ اسی پر مرکوز تھی۔۔ رات دیر تک محفل اپنے اختتام کو پہنچی تو سب نے اپنے اپنے کمرے کی جانب رخ کیا۔جبکہ شایان رات دیر تک اپنے دوستوں کے ساتھ ہی مصروف رہا تھا۔اور صبح فجر میں آغا کی ڈانٹ سن کر وہ سارے بھی اپنے اپنے کمروں کی جانب ڈورے تھے۔۔ _____ سمبل اور شایان کو کراچی آئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا۔زندگی اپنی ڈگر پر روا دواں تھی۔شایان کے بے حد اسرار پر سمبل نے بھی فارغ بیٹھنے سے بہتر اپنی ڈگری مکمل کرنے کو ترجیح دی۔ ان دونوں کی ہی اب یہ روز صبح کی روٹین بن گئی تھی۔شایان پہلے اسے یونیورسٹی چھوڑ دیتا تھا اور پھر خود اپنی یونیورسٹی چلا جاتا تھا۔ جبکہ سمبل واپس خود ہی آتی تھی۔سمبل کچن کی ذمہ داریوں سے ہاتھ کھینچ چکی تھیں۔دونوں ہی اب زیادہ تر کھانا باہر ہی کھاتے تھے۔یا پھر کچھ آرڈر کر لیتے تھے۔ایک صبح کا ناشتہ ہی تھا جو دونوں کا ساتھ ہوتا تھا ورنہ شایان تو زیاده تر گھر سے باہر ہی رہتا تھا۔جبکہ سمبل نے اکیلے ہونے کے باعث رات کا کھانا ترک کر دیا تھا۔اس کی اکثر ہی حویلی بات ہوتی رہتی تھی۔مگر اب دونوں ہی خاموشی سے وقت کو دھکا دے رہے تھے۔۔ _____ "شایان پھر کیا سوچا تم نے،اب تو تمہاری شادی کو ایک مہینہ ہونے والا ہے۔" ماہین اور وہ اس وقت ایک ریسٹورنٹ میں موجود تھے۔آج ان کا ساتھ ڈنر کا پلین تھا۔۔ سوچنا کیا ہے۔سمبل اپنی ڈگری مکمل کر رہی اور میں اپنی۔"شایان نے کندھے اچکا کر سیدھا سا جواب دیا تھا۔۔ "میں تمہاری اور میری شادی کی بات کر رہی ہوں۔"ماہین نے اسے دیکھ کر ناگواری سے آنکھیں گھومائیں۔ "ہاں!!یار تھوڑا صبر کر لو ابھی۔۔ویسے بھی یہ بات پہلے ہی طے تھی کہ ڈگری مکمل ہونے سے پہلے ہم شادی نہیں کریں گے۔"شایان نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر کہا تو ماہی کا کھانا کھاتا ہاتھ بیچ میں ہی رک گیا۔۔ "تو۔۔میرے جو رشتے آرہے ہیں۔ان کا میں کیا کروں۔ہاں بولو۔"ماہی نے اپنے لمبے تراش خراش کئے ناخنوں پر پھونک مار کر کہا۔۔ "سمپل ہےمنع کردو ۔"شایان نے اطمینان سے کہا۔۔ "کیوں منع کردوں؟تمہارا کیا بھروسہ کل کو کہہ دو کہ تمہاری ام نہیں مان رہی۔اور تم اسی جاہل کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہو تو میرا کیا ہوگا۔"ماہی نے ڈرامائی انداز میں رندھے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔ "یار تم مجھے ایسا سمجھتی ہوں۔بے فکر رہو شایان خانزادہ اپنی زبان سے پھرنے والوں میں سے نہیں ہے۔"شایان نے اسے اطمینان دلايا۔ "پکی بات ہے نا۔"ماہی نے ایک انداز سے تصدیق چاہی۔تو شایان بھی مسکرا اٹھا۔۔ کوئی شک۔"آئبرواٹھا کر پوچھا۔۔ "بلکل نہیں۔مجھے یقین ہے۔تم اس سمبل کو چھوڑ دو گے۔"ماہی نے شاطرانہ بات معصوم سے انداز میں کہی تو شایان نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا۔ماہی اسے ہی دیکھ رہی تھی جو کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔ ،_______ شایان ڈپلیکیٹ چابی سے دروازہ انلاک کرتا فلیٹ میں داخل ہوا تو نظر سیدھی سمبل پر پڑی جو وہیں سوفے پر پیر پسار کر بیٹھی بک پکڑے کچھ یاد کرنے میں مصروف تھی۔۔ سمبل نے گھڑی پر نظر ڈوڑا کر ذرا حیرانی سے اسے دیکھ کر سلام کیا۔جو آج نا جانے دن دہاڑے کیسے گھر میں آگیا تھا۔۔شایان نے اس کا حیران چہرہ دیکھا پھر سر ہلا کر اشارے سے جواب دیتا ہاتھ میں پکڑے دو لارج پزا کے باکس ،کولڈنک کی بوٹلز اور پاستا اٹھا کر فرج میں رکھا۔جو آج شاید لنچ کے بعد ڈنر گھر میں ہی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔سمبل بھی بے نیازی سے کندھے جھٹکتی اپنا ٹیسٹ یاد کرنے میں مصروف ہوگئی۔۔ ______ شایان کچن میں داخل ہوا تو صاف ستھرا سا خالی کچن اس کا منہ چڑا رہا تھا۔کیا مطلب اس لڑکی نے دوپہر کے کھانے کے لئے کیا کچھ نہیں بنایا تھا۔۔ شایان اپنی سوچ کے پیش نظر باہر آیا۔ "سمبل دوپہر میں کھانا نہیں بنایا تم نے۔"اس کے سوالیہ انداز پر وہ چونک کر سیدھی ہوئی۔ "نہیں میں تو یونیورسٹی سے واپسی پر یا تو کھانا پیک کروا لیتی ہوں یا آرڈر کردیتی ہوں۔کبھی کبھار موڈ ہوتا ہے تو بنا لیتی ہوں۔کیوں کیا ہوا۔"سمبل نے مزے سے اپنی کارستانی بتائی تھی۔جبکہ شایان کامنہ حیرت کی زیادتی سے کھل گیا تھا۔۔ "کیا مطلب تم گھر میں کھانا کیوں نہیں بناتی ہو۔ روز روز
