Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/10/2025
57 Views
Episode No 01
ہوں۔آیشین لینڈ لارڈفیملی کا اکلوتا وارث۔ہر ماہ ایک نیو گرل فرینڈ ایزیلی افورڈ کر سکتا ہوں۔‘‘وہ تفخر بھرے لہجے میں گویا ہوا۔جبکہ جسمین کو اپنی ذات پہ پر کئے جانے والے بےباک تبصرے بُری طرح شرمندہ کر گئے تھے۔۔وہ شخص ہر بار اچھی خاصی بے باکی کا مظاہرہ کر جاتا تھا۔۔اور وہ نادان کچھ بھی نہ کر پاتی تھی۔ ’’سویٹی آگر مجھے نہار لیا ہو تو پلیز ہمارا آرڈر بھی سرو کردو۔۔ آئی پرومس،تمہاری جاب کے بعد میں تمہیں ڈیٹ پر ضرور لے کر جاؤنگا۔‘‘جیسمین کو وہاں کھڑا ہونا محال لگ رہا تھا۔۔وہ بغیر کوئی جواب دئے اُلٹے قدموں واپس دوڑ پڑی تھی۔ ’’بہزاد رضوی جو اسکول ،کالج ،اور پھر یونیورسٹی میں بھی پلے بوائے مشہور رہا تھا۔بہزاد کا تعلق ایک ایشین فیملی سے تھا۔بس سب اُس کے بارے میں اتنا ہی جانتے تھے۔جو اپنی ماں کی بدولت ہاف برمی بھی تھا۔۔لوگ شاید اتنی جلدی اپنی عادتیں بھی تبدیل نہیں کرتے ہونگے جتنی تیزی سے وہ گرل فرینڈز تبدیل کیا کرتا تھا۔۔ وہ اب تک تقریباً ہر رنگ مذہب کی لڑکی ٹرائے کر چکا تھا۔۔مگر اس بار جو اس کا ٹارگٹ تھا وہ کافی انٹرسٹنگ کے ساتھ ساتھ اٹریکٹنگ بھی تھا۔۔پہلی ملاقات سے لے کر اب تک وہ لڑکی جب جب بہزاد کے نزدیک آئی تھی ۔اس کی دل کی دنیا میں بھوچال ہی برپا رہا تھا۔۔جسمین کی قرب میں ایک عجیب سا نشہ تھا۔۔ مگر اس بار وہ اس نشے میں مدہوشی کی حد تک ڈوب جانا چاہتا تھا۔تاکہ پھر کبھی کسی وقتی نشے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’واٹ ہیپنڈ جینی!وائے آر یو شیورنگ!(تم کانپ کیوں رہی ہو)‘‘سومیا نے اس کا لرزتا سراپا دیکھ حیرت سے پوچھا تھا۔ ’’نتھنگ!آئ ایم ناٹ فیلنگ ویل۔آئی تھنک آئی شڈ ٹو گو۔‘‘ (میری طبیعت زرا ناساز ہے۔میرے خیال سے مجھےیہاں سے جانا چاہئے۔) ’’اوہ شیور!یہاں میں سنبھال لو نگی۔اور پلیز گھر جاکر ریسٹ لازمی کرنا۔۔ کام نہ شروع کر دینا۔۔ویسے تمہیں اتنی سردی میں کچھ گرم ضرور پہننا چاہئے ۔ورنہ اس طرح تو تم بیمار ہوجاؤگی یار۔‘‘ سومیا زرا فکر مندی سے بولی تو وہ دھیرے سے مسکراتی ،اپنا خستہ حال کوٹ ُاٹھاتی کافی شاپ سے باہر نکل آئی تھی۔ کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے وہ زمین کو گھورتی تیزی سے چل رہی تھی۔کبھی نظر برف سے ڈھکی زمین پہ ٹھر جاتی تو کبھی اپنے پرانے بوسیدہ لانگ شوز پر ۔ جو کئی سال پُرانے ہونے کے باعث اب جگہ جگہ سے پھٹ رہے تھے۔وہ اپنی سوچوں میں محو چل رہی تھی۔۔جبھی پیچھے سے کوئی جانی پہچانی سی پُکار تھی۔۔اس کے قدم ٹھٹھک کر ٹھرے تھے۔ ’’ہیلو سویٹ ہارٹ!ہاؤ آر یو؟‘‘یہ اس کا اسکول کے زمانے کا کلاس فیلو جیک تھا۔۔آج کافی سالوں بعد ملاقات ہورہی تھی۔وہ حیرت آنگیز طور پر اسے دیکھتی کھل کر مسکرائی۔ ’’اوہ ہائے جیک!آئ ایم گڈ۔۔ہاؤ آر یو؟‘‘ وہ تیزی سے مسکرائی تھی۔۔ اُس کی دلکش مسکراہٹ دیکھ کوئی مبہوت رہ گیا تھا۔ ’’ابسولٹلی فائن!کہاں غائب ہوگئی ہو تم؟‘‘وہ دونوں اب ساتھ ساتھ قدم اُٹھانے لگے تھے۔ ’’میں یہیں ہوں۔۔مگر تم تو نجانے کہاں غائب رہتے ہو۔اسکول کے بعد تم کبھی مجھے ملے ہی نہیں۔‘‘وہ ساتھ ساتھ چلتے باتوں میں مصروف تھے۔جبکہ جیک اس سے بچپن کی باتیں شئیر کرنے لگا تھا۔۔وہ مسکرا رہی تھی۔۔آزاد مسکراہٹ۔۔۔وہ مسکراتی ہوئی دنیا کی حسین لڑکی لگتی تھی۔۔بہزاد کے دل نے گواہی دی تھی۔۔۔اور بس اس میں بسے ایک مشرقی مرد کا ضبط بس یہیں تک کا تھا۔۔۔وہ مٹھیاں بھینچتا واپس لوٹ گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا نجانے کونسا پہر تھا۔۔جب سخت سردی کے باعث وہ سکڑی سمٹی سی لیٹی مزید خود میں سمٹ سی گئی تھی۔اپنے پیٹ میں ٹانگیں گھساتی ،گالوں کے نیچے دونوں ہاتھ رکھے وہ بے انتہا خوبصورت اور معصوم لگ رہی تھی۔۔۔صوفے پہ اس کے ساتھ ہی نشست سنبھالے وہ اپنا کوٹ اُتار کر اس کے وجود پر ڈال چکا تھا۔۔جو گرمائش ملتے ہی کپکپانا بند کر چکی تھی۔ وہ دھیرے سے جھکا تھا۔۔اور پیشانی پر اپنے سرد ہونٹوں کا لمس چھوڑتا وہ پلٹنے ہی لگا تھاکہ جسمین کے وجود پر پڑے کوٹ کی سلیوز کا ایک کونا اس کے ہاتھ میں پڑے بریسلیٹ میں اٹک گیا تھا۔۔۔ ’’تم مجھے پاگل کردو گی سویٹ ہارٹ!‘‘وہ ہر بار کی طرح اس بار بھی اس کا وجود اپنی باہوں میں بھر کر کچھ پل سکون کے محسوس کرتا آنکھیں موند گیا تھا۔۔جبکہ جسمین کو ہمیشہ کی طرح اس کی مہربانیوں کی خبر تک نہ ہوئی تھی۔۔ ویسے بھی سارا دن کی تھکی جب وہ نیند کی آغوش میں جاتی تھی تو ہوش و خرد سے بیگانہ ہوجاتی تھی۔۔اور آج تو گرینڈ مام بھی گھر نہیں تھیں۔ایسے میں وہ ہر شے فراموش کئے بس نیند کے مزے لینے میں مگن تھی۔۔۔ ’’اب مجھے جانا ہوگا سویٹ ہارٹ!تمہارے پاس دوبارہ واپس آنے کے لئے۔۔‘‘ ونڈو سے پار نظر گھمائی تو صبح کاملگجا سا اندھیرا شدید ٹھنڈ کی لپیٹ میں تھا۔ساری رات وقفے وقفے سے ہوتی ژالہ باری نے منظر حسین بنا دیا تھا۔۔۔وہ جھکا تھا اور اس کے ادھے کھلے ہونٹوں سے زرا نیچے تھوڑی میں پڑتے گڑھے پر اپنے لب رکھتا اپنا کوٹ اُٹھا کر واپس پلٹ آیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’جینی جلدی اُٹھو یار!تمہاری گرینڈ مام واپس آگئی ہیں۔‘‘یہ آواز وہ ہڑبڑا کر اُٹھی تھی۔ ’’کب۔۔کب۔‘‘اس نے حیرانگی سے باہر کی جانب دیکھا تھا۔۔وہ الصبح کی اُٹھنے والی ابھی تک سو رہی تھی۔ ’’ابھی کچھ دیر قبل ہی۔مگر اب وہ تمہیں بلا رہی ہیں۔‘‘ یہ جویریہ تھی،وہ اسی کی طرح بچپن سے یہیں تھیں۔وہ کون ہے۔کس کی بیٹی ہے نانی نے اس بارے کبھی کوئی بات نہیں کی تھی۔۔۔ ’’کیا وہ غصےٰ میں ہیں؟‘‘ دھیرے دھیرے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ خوفزدہ سی تھی۔ ’’ہیں تو۔۔مگر تم چلو تو سہی۔‘‘ وہ لب چباتی ساتھ ہی وہاں آئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کل تم اپنی جاب سے جلدی واپس کیوں آگئی تھیں؟‘‘وہ کڑے تیوروں سے باز پرس پر اُتر آئی تھیں۔جینی نے تھوک نگلا تھا۔ ’’وہ گرینڈ مام۔۔میری طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔‘‘ نجانے کیسے مگر انہیں سب خبریں ہوجاتی تھیں۔ ’’یہ آج کل روز با روز تمہاری طبیعت کو کیا ہوجاتا ہے؟‘‘وہ مشکوک ہوئیں۔ ’’ایسی بات نہیں ہے گرینڈ مام۔۔ دراصل مجھے ٹھنڈ لگ گئی تھی۔‘‘ وہ نظریں جھکائے چور سی ہوگئی تھی۔ ان کی جائزہ لیتی نگاہوں نے بغور اس کے سراپے کا جائزہ لیا تھا۔۔جو حد سے زیادہ بُرے حلیے میں،پُرانے سے کپڑے زیب تن کئے،سر جھکائے کھڑی آنسو چھپا رہی تھی۔۔وہ ہوبہو اپنی ماں جیسی تھی۔۔ ُاس کی بیٹی بھی جوانی کے دنوں میں بالکل ایسی ہی حسین اور دلکش تھی۔اسے دیکھ بے ساختہ ہی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔۔اکلوتی بیٹی کی یاد میں وہ ہر لمحہ تڑپتیی تھیں۔۔جس کی سرکش طبیعت کے باعث وہ اسے کھو چکی تھیں۔ ’’جاؤ یہاں سے۔۔اور جلدی سے اپنے کام نبٹاؤ اور اپنے کمرے میں چلی جانا۔۔تمہارئ شکل نہیں دیکھنا چاہتی میں۔‘‘ وہ تند لہجے میں بولتیں رُخ پھیر گئیں تھیں۔۔جبکہ وہ آنکھیں جھپکتی چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی بیسمنٹ کی جانب بھاگی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’رومیلہ۔‘‘اپنی ماں کی پکار پر وہ چونکی ۔ ’’جی ماما۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی۔ ’’تمہارے بابا آج جلدی آفس چلے گئے؟‘‘ وہ ساری رات انہیں منانے کے جتن کرتے رہے تھے۔مگر وہ نہیں مانی تھیں۔ ’’ جی اور انہوں نے ناشتہ بھی نہیں کیا۔‘‘ رومیلہ افسوس بھرے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’اچھا!تم اُٹھو جلدی۔۔تمہیں اسکول سے لیٹ ہورہا ہے۔‘‘ وہ شرمندہ سی نگاہیں چرا گئیں۔ ’’اوکے!بابا کہ رہے تھے۔۔شام میں دادا ابو لوگ کی طرف جانا ہے ۔۔وہ یاد کر رہیں ہمیں۔‘‘وہ اپنا اسکول بیگ اُٹھاتئ یاد
Comments
Leave a Comment
Aiman
Fri Oct 03 2025
Zabardast
Aiman
Fri Oct 03 2025
Zabardast
Fatima
Sat Oct 04 2025
Zabardast
