Rebellious Love (Episodic Novel) — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/10/2025
57 Views
Episode No 01
Rebellious Love By Huma Qureshi Episode No 01 انتساب میری پیاری ہم نام دوست ایمن قریشی کے نام....... لندن شہر پر ایک اور بھیگی سی صبح اپنے پَر پھیلا رہی تھی۔صبح کا اُجالا چاروں جانب پھیل رہا تھا۔چڑیوں کی چہچہاہٹ،ہر سو پھیلی مہکتے گلاب کی سی دلفریب خوشبو،مشرق سے طلوع ہوتا سورج،سب کچھ حسین تھا مکمل۔ بلیک جینز اور شورٹ شرٹ کے اُپرسیاہ ہڈی پہنے سائیکل پرسوار تیزی سے پیڈل مارتی وہ منزل پر پہنچنا چاہتی تھی۔صبح کا اُجالا اس قدر حسین تھا کہ وہ منظر میں کُھوئی ُ دھندھ کے باعث ہلکی نظر آتی کار کو بھی نہیں دیکھ پائی تھی۔جو فل رفتار سے قریب سے قریب تر آتی چلی جارہی تھی۔ سامنے سے آتی گاڑی ایک جھٹکے سے فاصلے پر ٹھری تھی۔ سائیکل ڈس بلینس ہونے کے باعث لڑکھڑا کر گر پڑی تھی۔پیروں میں چوٹ آگئی تھی۔ وہ کچی ریتیلی سی زمین پر سائیکل سمیت گر پڑی تھی۔کہنیوں اور پاؤں پر چوٹ لگ گئی تھی۔جہاں سے اب خون رس رہا تھا۔۔نیلی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئی تھیں۔ ’’گاڑی میں بیٹھا وہ مغرور شہزادہ جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آیا تھا۔ ’’ہنی! کیا ہوا تمہیں؟چوٹ تو نہیں لگی؟‘‘اپنے بیش قیمت لباس کی پرواہ کئے بغیر ہی وہ اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا۔جبکہ وہ اُس کی طلسماتی شخصیت کے حصار میں جکڑی ٹرانس میں بس آنکھیں سیراب کر رہی تھی۔جو اس کی زرا سی تکلیف پر تڑپ اُٹھاتھا۔ ’’ڈارلنگ آر یو اوکے!‘‘اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا وہ محبت سے چور لہجے میں سوالیہ گویا ہوا تھا۔ وہ بالکل ویسا ہی تھا جیسا اس نے کہانیوں میں پڑھ رکھا تھا۔شہزادوں جیسا،گرینڈ مام کی اسٹوریز جیسا۔وہ غیر ارادی طور پر اُس کے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگی تھی۔جبکہ وہ آنکھوں میں خُماری لئے اس کے گلابی ہونٹوں کی نازکی دیکھ دھیرے سے جھکنے لگا تھا۔وہ سکون سے آنکھیں موند گئی تھی۔ ’’ہیئے جلدی اُٹھو!تمہاری نانی بُلا رہی ہے۔‘‘ وہ گڑبڑاکر اُٹھی تھی۔ ’’مگر کیوں؟‘‘وہ حواس باختہ ہوئی۔ ’’شاید وہ تم سے خفا ہیں۔‘‘اس نے قیاسہ آرائی کی۔ ’’کیا!مگر میں نے توسارے کام کر دئے تھے۔‘‘ہڑبڑاہٹ میں خواب اور شہزادہ تو پیچھے ہی رہ گیا تھا۔ ’’جلدی اُٹھو!تمہاری نانی بہت غصے میں ہے۔جینی آج تو تم گئیں کام سے۔‘‘پیشانی پہ سخت سردی میں بھی پسینہ چمک اُٹھا تھا۔ تہ خانے سے ڈرتے ڈرتے سیڑ ھیاں چڑھتی وہ ُاپر آئی تھی ۔جہاں نانی لاؤنج میں ہی جینز شرٹ اور لونگ کوٹ میں ملبوس ریولنگ چئیر پر دھیرے سے جھولتیں آتش دان کے آگے بیٹھی کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھیں۔ ’’نانی آپ نے بُلایا تھا؟‘‘وہ گھبراُٹھی تھی۔ایمرے نے آئی برو آٹھا کر اُیسے دیکھا تھا۔ ’’یہاں آؤ لڑکی!‘‘وہ اُٹھ بیٹھی تھی۔جینی ڈرتے ڈرتے قریب آئی۔ ’’کل رات میں نے تمہیں پورے گھر کی ڈسٹنگ کرنے کا کہا تھا۔ کیا تم نے اپنا کام مکمل کیا تھا؟‘‘وہ گھبرائی۔ ’’نہیں کیا رائٹ!‘‘وہ خرافاتی آنداز میں مسکائیں۔ ’’وہ گرینڈ مام۔۔‘‘بے بسی کے مارے آنکھیں نمکین پانیوں سے بھیگ گئیں تھیں۔۔۔۔ ’’یہ لسٹ پکڑو۔۔اب تمہاری سزا یہ ہے کہ پورے ماہ کی گروسری تم اکیلی کروگی۔‘‘جینی کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے تھے۔ ’’نانی!باہر بہت سردی ہے۔‘‘کمزور سی التجا تھی۔ ’’کیا؟‘‘ایمرے کی گھُورتی نگاہیں دیکھ وہ جلدی سے لسٹ تھام گئی تھی۔ ’’اب جاؤ!‘‘سخت دھاڑ جیسی آواز تھی ۔جینی سنگل شرٹ میں ملبوس ہی تیزی سے بھاگ اُٹھی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سخت سردی کے باعث سڑکوں پر سفید برف کی چادر سی بچھ گئی تھی۔سُن پڑتے جسم میں گھستی سرد لہرئیں پورا وجود لرزائے دے رہی تھی۔پاؤں سُن ہوتے محسوس ہوئے تھے۔اسٹرئٹ پر پیدل چلتی وہ بھاگنے کے سے آنداز میں چل رہی تھی۔جبھی سامنے سے آتے شخص سے بُری طریقے سے تصادم ہوا تھا۔۔وہ لڑکھڑا کر گر پڑتی ،مگر مقابل ایسے کمر سے تھام کر اپنی جانب کھینچتا اس پر حصار باندھ گیا تھا۔ جینی نے نظر بھر کر ایسے دیکھا تھا۔گندمئ رنگت،جازب نظر چہرہ، کنچے جیسی سبزمقنطیسی آنکھیں اور کشادہ پیشانی پر پڑے بل وہ دیکھنے میں ہی ایشین نظر آتا تھا۔ہونٹوں کو باہم آپس میں بھینچ رکھا تھا۔جینیکا اُس کی طلسماتی شخصیت کے سحر میں جکڑی تھم سی گئی تھی۔ ’’ہنی آر یو اوکے؟‘‘وہ ایسے اسٹل دیکھ زرا تفشیش بھرے لہجے میں گویا ہوا۔ ’’ی۔یس۔۔آئی ایم فائن۔‘‘وہ خوفزدہ سی دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔مگر زہن اس کی سحر انگیز پر سنالٹی میں بُری طرح سے جکڑا تھا۔۔۔ ’’کیا میں زیادہ خوبصورت ہوں؟‘‘وہ معنی خیزی سے بولتا زرا قریب جھکا تھا۔ ’’میں۔۔میں۔‘‘وہ کسی مرد کی اتنی قربت پر گڑبڑا سی گئی تھی۔ ’’فرینڈز!‘‘ایسے اس کا ڈرا سہما سا روپ دیکھ شرارت سوجھ گئی تھی۔ ’’نہ۔۔نہیں۔‘‘وہ سائیڈ سے گزرنے لگی۔تو وہ ایک جھٹکے سے کمر سے تھام کر قریب کر گیا۔جسم میں گرمائی سی اُترتی محسوس ہوئی تھی۔ ’’میرے ساتھ آؤ۔‘‘اس کی طلسماتی ذات کے سحر کا حصار تھا کہ وہ اس کی ایک پُکار پر کھینچی چلی گئی تھی۔۔جو اِیسے کسی بار میں لے آیا تھا۔اور اب وہ دونوں بار ٹینڈر کے عین سامنے کھڑے تھے۔جو اُس کا تفصیلی نظروں سے جائزہ لیتا معنی خیزی سے مسکرایا۔۔۔ ’’دو ڈبل پیک!‘‘آنکھ کا کونا دباتا ۔ دو چھوٹے گلاسوں میں ٰڈرنک ڈالتااُن کے سامنے رکھ چکا تھا۔جینی تو تمام تر معاملات سے بے نیاز اس کا چہرہ تکے جارہی تھی۔ ’’لیٹس چئیرز!‘‘گلاس سے گلاس ٹکرا کر زبردستی گلاس اس کے منہ سے لگاتا وہ وہ زہریلا مادہ اس کے منہ میںُ اُنڈیل چکا تھا۔تیز میوزک اور ریمپ پر تھرکتے لوگ، یکدم اس کی نظروں کےسامنے ہفت اقلیم گھوم گئے تھے۔بہزاد بار ٹینڈر کو آنکھ مار کر اُس کی کمر کے گرد حصار قائم کرتا اپنے ساتھ بار کی بیک سائیڈ پر لے آیا تھا۔جو مسلسل نشے کی حالت میں جھوم سی رہی تھی۔دماغ میں نانی کی چنگھاڑتی ہوئی آواز گونج رہی تھی۔۔مگر وہ اپنے سینس میں نہیں تھی۔۔ اُس کی حالت کا فائدہ اُٹھاتا بہزاد اُس کی ڈھلکتی گردن تھامتا نشے میں مدہوش سا اس کی گردن پر جھکا تھا۔جو منہ پھیرتی اپنا بچاؤ کرنا چاہ رہی تھی۔اس کی بارہا مزاحمت پر وہ چہرہ جکڑ کر زبردستی کر گیا تھا۔جو پہلی بار کسی مرد کے لمس پر لرز سی گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مائیکل بہزاد کہاں ہے۔؟‘‘ویرا جو اسے تلاشتی اس کی فیورٹ پلیس پر آگئی تھی۔۔مگر یہاں بھی مایوسی کا شکار وہ اپنے یونی فیلو مائیکل سے سوالیہ گویا ہوئی تھی۔جو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ بیٹھا شام رنگین کرتا،مدہوش تھا۔۔ ’’بہزاد!وہ تو آج کسی بیوٹی کے ساتھ یہاں آیا تھا۔۔پھر میں نے اسے بیک سائیڈ پر جاتے دیکھا تھا۔۔اور پھر وہ غائب ہوگیا۔۔‘‘ ہولے سے اپنی گرل فرینڈ کا گال چھوتا وہ ویرا کوتلملاکر رکھ گیا ۔ ’’اففف بہزاد! آئی ول کل یو۔۔‘‘پیر پٹختی وہ بیک سائیڈ کی جانب گئی تھی۔۔مگر وہاں صرف کسی چھوٹی سی لڑکی کو مدہوشی کی سی حالت میں نیم بےہوش دیکھ متعجب ہوئی۔ ’’ہئے گرل!گیٹ اپ!‘‘وہ اس کا گال تھپتھپاتی ہوش دلانا چاہ رہی تھی۔جیسمین بامشکل آنکھیں کھولتی خود کو ہوش دلا رہی تھی۔۔وہ شہزادوں کی سی شخصیت والا خوبصورت شخص تو اس کی بے بسی کا فائدہ اُٹھا کر اسے بے آسرا چھوڑ چلا گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’جینی!‘‘ وہ گرینڈ مام کی آوازز پر چور سی قریب آئی جو بدستور آتش دان کے سامنے بیٹھیں کینہ توز نگاہوں سے گھور رہی تھیں۔ ’’گڈ ایوننگ گرینڈ مام!‘‘ وہ مدھم لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ جبکہ وہ مسلسل اس کا جھکا سر گھور رہی تھیں۔۔وہ ان کی سگی بیٹی کی بیٹی تھی۔جس نےان کے سامنے بغاوت کر ایک ایشین مسلم سے شادی کرلی تھی۔جو
Comments
Leave a Comment
Aiman
Fri Oct 03 2025
Zabardast
Aiman
Fri Oct 03 2025
Zabardast
Fatima
Sat Oct 04 2025
Zabardast
