Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/03/2026
0 Views
Episode No 13
ہوئی ہیں۔"وہ اپنا پیر پکڑ کر درد سے کراہتی غصّہ سے بڑبڑآئی۔ فریج کھولتے ہی فرج کا ٹوٹا ہوا دروازہ اس کہ پیر پر آگر تھا۔جیسے کھولنے کا عظیم کام یقیناً ٹائیگر نے کیا تھا۔۔ "اففف اللّه!!!میرا پیر ٹوٹ گیا۔امی۔۔کہاں مر گئے ہو۔۔۔میرا پاؤں۔۔"درد کہ باعث آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔ "یہ فریج کا دروازہ کون پاگل انسان کھول کر الگ رکھتا ہے۔۔"وہ غصّہ سے خود ہی بڑبڑاۓ جا رہی تھی۔۔ "میں۔۔کوئی تکلیف ہے تمھیں۔"ٹائیگر پتہ نہیں کہاں سے نازل ہوا تھا۔جو چونک کر اُچھل پڑی تھی۔ "یہ۔۔یہ اتنی زور سے میرے پاؤں پر گرگیا۔ایسا لگ رہا ہے ہڈی ٹوٹ گئی ہو۔"دروازہ دھڑام سے گرنے کے باعث پاؤں سن ہوگیا تھا۔۔۔ "سانسیں چل رہی ہیں؟"اس نے ناسمجھی سے دیکھا تھا۔ "زندہ ہو؟مری تو نہیں ہو نا ؟؟وہ سرد لہجے میں پھر بولا۔ اب پھوٹو بھی سانس آرہی ہے نا؟؟"وہ غصّہ سے چنگھاڑا۔اقصیٰ خوف سے فوری اثبات میں سر ہلا گئی تھی۔ "بس یہی غنیمت ہے۔۔"ایک طیش بھری نگاہ ڈال کر وہاں سے نكلتا چلا گیا۔۔ "جنگلی،جاہل۔۔منحوس انسان۔پتہ نہیں کونسا وقت تھا۔جو اس جیسے جاہل انسان سے میرا سامنہ ہوگیا۔میرے کونسے گناہ کی سزا ہے یہ وحشی،درندہ صفت انسان۔"اقصیٰ کی تیز زبان پھر سے اپنے جواہر دیکھانے لگی تھی۔مگر وہاں سننے والا تھا کون؟ تکلیف سے آنسو بھاتی اقصیٰ کو ایک بار پھر اپنے ماں باپ یاد آۓ تھے۔جو اس کی ذرا سی تکلیف پر پریشان ہو جاتے تھے۔سوچوں کا رخ ایک بار پھر تکلیف دہ سوچوں میں گم ہونے لگا تھا۔۔۔ _______ "اقصیٰ بیٹا؟؟"اپنے والد کی آواز پر وہ چونک کر متوجہ ہوئی تھی۔ "جی بابا۔۔"اقصیٰ مسکرا کر ان کہ پاس آئی۔ "پڑھائی کیسی چل رہی ہے آپ کی۔"وہ بیٹی کہ سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیر کر گویا ہوۓ۔ "اچھی جا رہی ہے بابا۔"وہ مسکرا کر بولی تھی۔ "بس یونہی دل لگا کر پڑھو۔پڑھ لکھ کر تم نے اپنے باپ کا خوب نام روشن کرنا ہے۔کسی سے ڈرنے،گهبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔تمہارے پیچھے تمہارا باپ کھڑا ہے نا۔"وہ گویا اسے ہمّت دلا رہے تھے۔وہ انکی اكلوتی بیٹی تھی۔اس سے انہیں بہت سی امیدیں وابسطہ تھیں۔۔ وہ کسی خواب کے زِیر اثر چونک کر اٹھ بیٹھی تھی۔ارد گرد میں دیکھا تو وہ مخصوص بستر پر موجود تھی۔ماتھے پر پسینے کہ ننھے ننھے قطرِ نمو دار تھے۔جسم وحشت سے ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔کتنی امیدیں تھی اس کہ باپ کو۔اس کی ذات سے۔جبکہ وہ ان کی امیدوں پر پورا نہیں اتر سکی تھی۔ایک غلط قدم اٹھانے کہ باعث اس کی زندگی ناسور بن گئی تھی۔اُس کا غم ،اس کہ ماں باپ کو کھا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ _________ جاری ہے کہانی کا یہ نیا موڑ کیسا لگا؟اگلی قسط اپکے طویل تبصروں پر منحصر کرتی ہے۔۔۔۔۔۔
