Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/03/2026
0 Views
Episode No 13
بعد کوئی آتا اور اس کی کمر پر زور دار تھپڑ رسید کر جاتا۔۔ اب وہ وہیں کھڑی زارو قطار رو رہی تھی۔سب کی ہنسی کو بریک لگا تھا۔مذاق مذاق میں صورتحال سنجیدگی اختیار کر گئی تھی۔ سامنے کھڑی لڑکی کی آنکھوں سے ٹپکتے آنسو دیکھ جیسے ایسےچند لمحے منجمند کر گئے تھے۔ابھی وہ سارے مزاق ایک جانب کر سیریس ہوۓ۔ "ارے ارے،پیاری لڑکی تم تو رو پڑی یار!!ہم تو مذاق کر رہے تھے کیوں گائیز!!"ان کے گروپ کی ایک شرآرتی سی لڑکی،قریب آکر ایک اور دهپ لگا کر قہقہہ لگاتی مزے سے بولی۔۔ انہوں نے شرارت میں دھپ سے تھپڑ لگاتے پشت پر ایک پیپر چسپاں کر دیا تھا۔جس پر" ہٹ می اپ "لکھا ہوا تھا۔اور اسی چیز کا فائدہ اٹھا کر وہ آتے جاتے اس کے تھپڑ لگا رہے تھے۔ سامنے کھڑے شاہزین نے بہت غور سے سامنے کھڑی چادر میں لپٹی لڑکی کا یہ انداز دیکھا تھا۔جبکہ ساتھ کھڑا زوہان مسُلسل ہنس رہا تھا۔شاہزین نے ان سب کو اشارے سے مزید پریشان کرنے سے باز رکھا،اور خود قدم اٹھاتا اس کی جانب بڑھا جو شرمندگی سے آنکھیں رگڑتی نظر بچا کر وہاں سے بھاگتی چلی گئی تھی۔۔پیچھے وہ سارے کندھے آچکا کر نئے شکار کی تلاش میں نظریں گُھمانے لگے تھے۔جبکہ شاہزین کی نظریں وہیں ٹک گئی تھیں۔۔ _______ "ہیلو!!وہ ان سب سے نِگاہ بچاتا یونیورسٹی کے گارڈن ایریا میں آتا گھاس پر اس کے قریب ہی نشست سنبھال گیا تھا۔ لان کے سادہ سوٹ پر بلیک چادر میں اس کی مومی سی صورت سورج کی تپش سے دمک رہی تھی،جھیل سی آنکھوں کو اٹھا کر پاس سے اُبھرتی آواز کی جانب دیکھا۔جہاں وہی لڑکا اس کے ساتھ التی پالتی مار کر بیٹھ رہا تھا۔ "میرا نام شاہزین ہے۔"وہ خوشدلی سے اپنا ہاتھ بڑھآتا اپنا تعارف کروا رہا تھا۔۔جبکہ وہ اپنی چادر سر سے ذرا اور خود پر کھینچ کر فاصلے پر جا بیٹھی تھی۔۔۔ اونچا دراز قد،صاف سی رنگت،جینز پر وائٹ ٹی شرٹ پر اپُر سے شرٹ پہن رکھی تھی،جس کے بٹن کُھلے ہوۓ تھے،جبکہ اپنے گھنے بالوں کو ہاتھ کی مدد سے وہ باربار پیچھا کرتا ٹھیک کر رہا تھایا سٹائل مار رہا تھا،اسے یہ چیز کچھ خاص سمجھ نہیں آئی تھی۔مگر جو بھی تھا۔وہ خوش شکل سا لڑکا اب ناجانے پھر سے کیوں اس کے پاس آبیٹھا تھا۔ "اوہ!!! لگتا ہے تم ہمارے گروپ سے ڈرگئی ہو،ڈرو نہیں یار!آج تمہارا فرسٹ ڈے تھا۔تو بس یہ تمھیں ویلکم کرنے کے لئے ایک چھوٹا سا سرپرائز دیا تھا۔جیسے ہم حرف عام میں ریگنگ کہتے ہیں۔"وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر تالی بجا کر مسکرا کر بولا۔۔ جبکہ وہ آنکھیں چھوٹی کئے اس کے انداز ملاخظہ کر رہی تھی،جو اسے رُلا کر اب بلاوجہ فری ہو رہا تھا۔۔ "اچھا جانے دو،تمہارا نام کیا ہے۔اور کس ڈیپارٹمنٹ سے ہو۔"اس نے اس کی خاموشی دیکھ،ایک بار پھر پہل کی۔۔ "آپ سے مطلب!!"بے ساختہ ہی تڑخ کی بولی تھی۔۔ "اؤه!! تمہارے منہ میں تو زبان بھی ہے،میں سمجھا تھا گونگی ہو۔"وزوردار قہقاہ لگا کر بولا۔اس نے منہ بسورا ۔۔ "شٹ آپ!!!وہ غصّہ سے پُھنکاری۔۔ "ارے گونگی کو غصّہ بھی آتا ہے۔"وہ مسلسل ٹیزکر رہا تھا۔۔وہ غصّہ میں اپنا بیگ اٹھاتی بڑے بڑے قدم اٹھا کر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھنے لگی۔۔ "اچھا سنو!!روکو تو۔۔۔تیز گام۔۔میرا نام شاہزین ہے۔اور وہ سارے میرے گروپ واسی تھے۔ہم صرف مذاق کر رہے تھے۔میں بی بی اے کا سٹوڈنٹ ہوں،اور میرا یہاں دوسرا سال ہے۔تم کونسی کلاس کی ہو۔۔"وہ اس کے ساتھ قدم ملاتا،اپنی راگنی الاپنے لگا۔۔ "اچھا چھوڑو۔۔پتہ ہے کیا؟؟ "اصل میں کیا ہے نا،جب تم جیسے نیو ممی ڈیڈی ڈاٹ کوم بچے یونیورسٹی آتے ہیں نا تو ہم سینئرز کی چیل کی سی نگاہ آپ لوگوں کو فوری پہچان لیتی ہے۔مطلب ویل ڈریس،اچھے بچوں کی طرح سینے سے کتابیں لگائے، بستہ کندھے سے ٹانگے پورے اسکول والا ماحول بنا دیتے ہویار ۔تو بس ہمارے اندر کا شرارتی بچا بھی جاگ جاتا ہے۔اور ہم آپ کے ساتھ تھوڑا شغل میلا لگا لیتے ہیں،برا ماننے والی بات نہیں،کچھ دن بعد آپ بھی ہماری لائن میں لگی کھڑی ہونگی۔۔"وہ پھولی سانسوں کے ساتھ،اس کے پیچھے پیچھے بھاگنے کے سے انداز میں چلتا،پوری کتھا سنانے لگا تھا۔جس میں اسے کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔اور وہ اگنور کرتی بھاگی چلی جا رہی تھی۔۔ "ارے سُنو نا،تیز گام۔۔وہ بھاگتی ڈُورتی ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتی دوسرے فلور پر بھاگ گئی۔جبکہ وہ پیچھے مسکرا کر بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے گروپ کی جانب بڑھا۔۔۔ "معصوم تیز گام۔۔انٹرسٹنگ۔۔"وہ پلٹ کر زِیر لب مسکراتا خود ساختہ بڑبڑآیا تھا۔۔ ________ "شاہزين تو کہاں غائب ہوگیا تھا بھائی؟؟"وہ تینوں پیر سے پتھر اُچھال کر دور پھینکتا دیکھ،اس کے نزدیک آۓ۔ "یہیں تھا،کیوں کیا ہوا؟"وہ آئی برو اٹھا کر بولا۔ "کچھ نہیں بھائی،وہ ہماری گنگہگار آنکھوں نے دیکھا کہ تو اس گونگی تیز گام کے پیچھے جا رہا تھا۔تو بس تیرے پیچھے چلے آۓ۔ "زوہان شرآرت سے آنکھیں گُھما کر اس کی گردن میں ہاتھ ڈال کر بولا۔ "ابے نہیں یار!!بچاری رو رہی تھی۔"اس نے مخصوص انداز میں بالوں میں ہاتھ پھیر کر کہا۔۔ "اؤه ۔۔۔۔۔۔"وہ شرارت سے ہونٹ گول کرتا بولا،جس پر تینوں کا مشترکہ قہقہہ بُلند ہوا۔ "اوہ بھائی جا،کچھ نہیں ہے۔فضول اؤ ،جی،پی !!!"وہ گڑبڑا کر اس کا ہاتھ جھٹک کر آگے بڑھا۔۔ وہ تینوں بھی مسکرا کر اسے کے پیچھے آۓ ،جبکہ زوہان مسلسل تنگ کر رہا تھا۔۔ _________ وہ بہت دیر بعد اپنی مطلوبہ کلاس تلاش کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ابھی کلاس میں آکر بیٹھے کچھ دیر ہی گزری تھی۔جب ایک خوش شکل لڑکی اس کہ نزدیک آکر بیٹھی تھی۔ "ہیلو!!ماۓ نیم از شائنہ۔فرسٹ ڈے ؟؟"وہ درازقدامت اور دھان پان سی جسامت کی لڑکی اپنا تعارف کرواتی۔ذرا نروس لگ رہی تھی۔ "جی۔۔"عادت کہ مطابق مختصر جواب دیا گیا تھا۔۔ "تمہارا نام؟؟"اس نے توجہ اس جانب دلوائی۔۔ "میرا نام۔۔سر آگئے۔۔"وہ بتانے ہی لگی تھی۔کہ کلاس میں انٹرہوتے پروفیسر کو دیکھ۔خاموش رہ گئی۔۔ ________ "شاہزین۔۔چل یار کیا بولتا ہے۔"آج کلب چلیں؟؟"زوہان اس کہ گلے میں ہاتھ ڈال کر یونیورسٹی کہ گراؤنڈ میں مارچ کرتا۔سوچنے والے انداز میں بولا۔۔ "نہیں یار۔۔میرا دل نہیں ہے۔۔ویسے بھی وہاں کا ماحول مجھے کچھ خاص پسند نہیں۔اور تو تو بھائی وہاں جا کر اپنی ہی دُنیا میں مگن ہوجاتا ہے۔"وہ سنجیدہ لہجے میں بے زاری سے بولا۔۔ "ابے چل نا یار۔۔تجھ میں بھی اس رواڈی کی منحوس روح حلول ہوگئی ہے۔چل مزہ آۓ گا۔"وہ ناک چڑھا کر راضی کرنے کی کوشش کرتا ہوا بولا۔ "آج نہیں پھر کبھی۔"اس کا انداز جان چھوڑانے والا تھا۔ "چل جیسی تیری مرضی چل کلاس میں چلتے ہیں۔"وہ اثبات میں سر ہلاتا اس کہ ہم قدم ہوا۔۔ ________ آج اقصیٰ کو اس ہٹ میں قید نکاح کہ بعد ناجانے کونسا دن تھا۔وقت کا حساب لگانا۔جیسے اس نے چھوڑ ہی دیا تھا۔شام کے ساۓ گھیرے ہونے لگے تھے۔مگر ان دونوں موالیوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔بھوک سے اقصیٰ کہ پیٹ میں چوہے ڈور رہے تھے۔ اکتا کر کچن میں آئی۔جہاں میز بالکل خالی تھی۔وہ دونوں سارا سارا دن غائب رہتے تھے۔نا جانے کیا کرتے پھرتے تھے۔یا پھر وہی چوری ڈکیتی کرتے ہونگے۔اقصیٰ سوچ کر سر جھٹک گئی۔ کچھ دیر یونہی خالی کچن کو دیکھ دیکھ کر جب کچھ سمجھ نا آیا۔تو وہاں اکلوتے رکھے فریج کہ پاس آئی۔جس میں ٹھنڈے پانی کی بوتلوں کہ علاوہ شاید ہی کچھ موجود ہوتا تھا۔ اقصیٰ نے اپنی سُوچوں میں گُم جیسے ہی فریج کھولا تھا۔درد سے اس کی چیخ بلند ہوگئی تھی۔ "اہ ہ ہ ۔۔۔کتنے جاہل انسان ہیں یہ لوگ۔چیزیں بھی اپنی طرح دو نمبر،ٹھرڈ کلاس رکھی
