Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/03/2026
0 Views
Episode No 13
کی کرن بھی نظر نہیں آتی تھی۔ ٹائیگر سے تو ہمّت کر کہ دیا تھا۔مگر وہ اکیلی جان اتنی بڑی دنیا کا آخر کیسے سامنا کرتی۔یا کیسے کہتی کہ،کہاں جا تی۔اس چھت کہ نیچے تو پھر بھی اپنا آپ کچھ محفوظ لگ رہا تھا۔اگر یہاں سے قدم باہر رکھتی تو شاید سب گنوا بیٹھتی۔اس ظالم انسان نے تو اسے بالکل بے بس بے سہارا کر کہ چھوڑ دیا تھا۔جہاں آنسو بہانے کہ سوا کوئی اور چارہ باقی نہیں تھا۔ عادل بھی جانے کہاں رہ گیا تھا۔تھک ہار کر آنکھیں پونچھ کر وہ مایوس سی اٹھ بیٹھی تھی۔شکست خور قدم اٹھا کر ہٹ کی کھڑکی کہ نزدیک آئی۔دور تک پھیلی وادی میں قدرت کہ حسین مناظر بکھرے ہوۓ تھے۔مگر اس کی ذات پر چھائی اُداسی کم کرنے سے قاصر تھی۔۔۔ سر دیوار سے ٹکاۓ وہ وہیں کھڑی تھی۔جبھی کہیں دور سے اذان کی آواز کانوں میں آئی تھی۔ناجانے کتنے دن بعد اذان کی آواز سنائی دی تھی۔وہ سکون سے آنکھیں موند گئی تھی۔موذن کے الفاظ اس کی رگ و پے تک میں سکون پہنچا رہے تھے۔کتنے ہی لمحے یونہی گزر گئے۔اذان کی آواز آنا بند ہوگئی تھی۔آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو سامنے کا منظر اب خوبصورت لگنے لگا تھا۔عصر کے بعد کا وقت تھا۔اچانک شگفتہ بیگم کہ الفاظ کانوں میں گونجے تھے۔۔ "اللّه جب اپنے بندے پر ایک در بند کرتا ہے نا تو ستر دروازہ مزید کُھول دیتا ہے۔اس رب کی نعمت سے کبھی مایوس نا ہونا۔جب تمہارے ساتھ کوئی نہیں ہوگا۔یہاں تک کہ ہم تمہارے ماں،باپ بھی نہیں جب تمہارے ساتھ وہ ہوگا۔وہی اللّه جو تمھیں ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔تمھیں کیا گُمان ہے وہ مشکل وقت میں تمہارا ساتھ چھوڑ دے گا؟قطعً نہیں!!!اس بھری دنیا میں وہ واحد سہارا ہے۔جسے ایک بار پُکارنے پر وہ تمہاری پُکار سنے گا۔تمھیں مایوس نہیں لوٹاۓ گا۔اور جب اللّه سے بات کرنی ہو تو بہترین زریعہ نماز ہے۔نماز پڑھو۔یہ اس خالق مالک سے مخاطب ہونے کا سب سے اعلٰی زریعہ ہے۔وہ ہم سب کا رب ہے۔اس ظالم کا بھی جو آج تمہارے خلاف ہے۔اور تمہارا بھی جو آج آزمائش میں ہو۔پکاروں اسے اور دعا کرو۔آزمائش ختم ہونے کی نہیں۔بلکہ اس آزمائش کا ڈٹ کر سامنا کرنے کی۔بے شک وہ اپنے عظیم بندوں کو ہی آزمائش کے لئے چُنتا ہے۔صبر رکھوں۔اللّه صبر کرنے والوں کہ ساتھ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔"اسے یاد تھا۔جب جب وہ اپنی کسی بھی ناکامی پر مایوس ہوتی تھی۔تو شگفتہ بیگم اسے اسی طرح حوصلہ دیتی تھیں۔مگر آج اس آزمائش میں تھی۔وہاں تو اسے صرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آرہا تھا۔چاہ کر بھی صبر کرنا ناممکن سا لگ رہا تھا۔۔ "ماما آپ کہتی تھیں۔اقصیٰ تم بہت جلد باز ہو۔غصّہ والی ہو۔منہ پھٹ ہو۔کسی کا لحاظ نہیں کرتیں۔جو دل میں آتا ہے بول دیتی ہو۔یہ جانے بغیر کہ تمہارے سخت الفاظ مقابل کہ دل پر کس قدر کاری وار کریں گے۔جلد باز اور غصّہ ناک انسان زندگی کہ کسی نا کسی موڑ پر ٹھوکر ضرور کھاتا ہے۔کیوں کہ اس کہ مزاج میں نرمی نہیں ہوتی۔اور نرمی سے بات کرنے کا حکم اللّه تبارک تعالی اپنی مقدس کتاب میں بار بار دیتا ہے۔تو یہ کیسے ممکن ہے۔کہ آپ کی بات آج درست ثابت نا ہوتی۔آج میری زبان کی تیزی ہی مجھے اس نہج پر لے آئی ہے۔جہاں میں اپنا سب گنوا بیٹھی ہوں۔مانتی ہوں۔سب ٹھیک کہتی تھیں آپ۔یہ عیب ہے مجھے میں۔مگر میں منافق تو نہیں ہوں۔جو دل میں ہوتا ہے وہی زبان پر ورد کرتا ہے۔مجھ سے غلط باتیں برداشت نہیں ہوتیں۔صبر نہیں رکھا جاتا۔آپ تو واقف تھیں نا میری عادت سے میں دل کی ہر گز بُری نہیں ہوںتو پھر میرے حصّہ میں یہ آزمائش کیوں؟"اپنے خیالوں میں اقصیٰ شگفتہ بیگم سے مخاطب اپنے سود اور ضائعہ کا حساب لگا رہی تھی۔روتے روتے وہ کمرے میں آگئی تھی۔دل چاہا کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے مگر شیطان نے ورغلانے کا مکمل کام کیا تھا۔اور وہ مایوس ہوتی میٹرس پر گرتی روتے روتے سو گئی تھی۔۔۔۔ اقصیٰ کی روتے روتے کب آنکھ لگ گئی تھی۔پتہ نہیں چلا تھا۔سفید لباس میں نا جانے کون تھا۔چہرہ واضح نہیں تھا۔مگر کوئی آواز تھی جانی پہچانی سی جو بہت قریب سے اُبھری تھی۔۔۔ "اور میں بھی توتم سے کہتی تھی۔کہ اقصیٰ غصّہ کو حرام قرار دیا گیا ہے۔اور قرآن میں بارہا تاقید کی گئی کہ نرمی سے بات کیا کیجئے۔حتٰی کہ فرعون تک سے نرمی سے بات کرنے کی تاقید کی گئی۔تو تم انسان اپنا لہجے میں تلخی گھول یہ کیوں سمجھتے ہو۔کہ کسی کا دل دکھا کہ کسی کی دل آزاری کر تم سکون سے رہو گئے۔خواں کہ تم صحیح ہو۔حقیقت پسند ہو۔مگر کسی کے باطن سے واقف نہیں تم۔تم نہیں جانتے کون کس عمل سے گزر رہا ہے۔انسان کو بار بار نرمی سے بات کرنے کی تاقید کی گئی ہے۔کیونکہ یہی تمہارے صبر کا امتحاں ہے کہ تم غلط بات سنو۔اور تحمل مزاجی سے کام لو۔صبر رکھوں۔اپنی برداشت آزماؤ سامنے والے کو حسن اخلاق سے مات دو۔یہ کونسی خوبی ہے تمہاری کہ ہم سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی۔اور ہم حقیقت پسند ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ سامنے والے کی ذات کہ پرخچے اڑادیں۔تمہاری تربیت کا اندازہ اس وقت لگایا جاسکتا ہے۔جب تم حق کہ ساتھ ہو مگر غلط برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہو۔صبر سے کام لیتے ہو۔اپنا فیصلہ وقت پر چھوڑتے ہو۔یا پھر تلخ زبان ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ مُقابل سے بدتمیزی نا کرو۔کسی کی دل آزاری نا کرو۔اگر حق بات کرنے کہ لئے غصّہ جائزہ ہوتا۔تو کبھی اللّه بار بار نرمی سے بات کرنے کی تاقید نہیں کرتا۔حسن سلوک یا تمیز سے پیش آنے کا مطلب یہ نہیں۔کہ تم میٹھی چھّری ہو یا پھر دوغلے انسان ہو۔جو سب کا دل رکھنا جانتا ہے۔جو ایسی گھٹیا سوچ کا مالک ہے۔شرمنده ہونے کی ضرورت اس شخص کو ہے۔جو معاشرے میں برائی پھیلانے کا زریعہ بن رہا ہے ناکہ تمھیں جو اللّه کہ کہے پر عمل کر رہے ہو۔دین پر سنّت پر عمل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔آج اگر دین اسلام دنیا کہ جس بھی کونے میں اپنی روشنی سے انسانوں کو نیکی کی جانب مائل کر رہا ہے ۔تو اس کی سب سے بڑی وجہ صحابہ کا،وقت کہ اماموں،اؤلیاۓ اکرم کا حسن سلوک تھا۔لوگوں کو اسلام کی جانب راغب ہونے پر مجبور کرتا تھا۔اگرچہ صحابہ بھی یونہی حق پر ہونے کی دلائل پیش کر زور زبردستی،غصّہ یا تیز زبانی سے کام لیتے تو کیا آج دین اسلام چودہ سو سالوں بعد بھی ہم میں موجود ہوتا؟کیا جوق در جوق لوگ اسلام میں داخل ہونے کی چاہ کرتے؟کیا اللّه کی آیات سننے کہ بعد انسانوں کہ دلوں کی سختی زائل ہوتیں ؟کیا یہ اسلام جو اللّه کا پسندیدہ مذہب ہے۔غیر مذہب کہ لوگ اسلام میں پیدا ہونے کی چاہ کرتے؟کیا رسول ﷺ کی ہدآیات پر عمل کرتے؟زبان کی شیرنی بہت معنی رکھتی ہے۔کیونکہ یہیں سے تمہارے ماں،باپ کی تربیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ہر جگہ حسن سلوک رواں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔اسی لئے اپنے اندر صبر اور برداشت پیدا کرو۔تمہارا اصل امتحان یہی ہے کہ تم اپنے لہجے کی تلخی پر قابوں کر سکو۔کیونکہ ہر انسان کی نظر میں وہ درست ہوتا ہے۔مقابل کو قائل کیسے کرنا ہے۔یہ تمہارے ظرف اور زبان کی نرمی پر منحصر کرتا ہے۔"نیم غنودگی کی حالت میں شگفتہ بیگم کہ وہ الفاظ گونج رہے تھے۔جنہیں وہ چاہ کر بھی یاد نہیں رکھ سکی تھی۔مُندی منُدی سی آنکھیں کھولیں اور نگاہ اُپر کو اٹھائی تو سامنے کمرے میں اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔۔ "اففف!!!میرا سر۔۔۔"تھکن اور مسلسل سوچوں
