Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/03/2026
0 Views
Episode No 13
اور رونے کہ باعث سر بری طرح دکھ رہا تھا۔۔ "رپورٹر؟؟؟رپورٹر؟؟"ٹائیگر کی چنگھاڑتی ہوئی آواز پر اقصیٰ کہ حواس جھنجھنا اٹھے تھے۔ وہ کسملندی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔اتنے دن کی سوچوں اور تھکن کے باعث پورا جسم درد کر رہا تھا۔ہاتھ میں تکلیف مزید بڑھ گئی تھی۔ "کیا؟؟"وہ جھجھک کر باہر آئی تھی۔جہاں ٹائیگر سامنے ہی کھڑا اس کا سرخ چہرہ دیکھ رہا تھا۔جو شاید بخار کی وجہ سے تپ رہا تھا۔۔ "چھوٹے۔۔چھوٹے ۔۔"ٹائیگر نظریں اسی پر جماۓ وہیں سے پُکارا رہا تھا۔ "ہاں!!!ہاں آرہا ہوں۔۔کیا ہوا ؟مرا نہیں ہوں۔۔"وہ بوکھلاہٹ میں ڈور کر وہاں آیا تھا۔۔ "اس رپورٹر کی مرهم پٹی نہیں کی تھی تو نے؟؟؟"اس نے آئی برو اٹھاۓ. "جب میں گھر آیا تو رپورٹر۔۔۔"اس کی تیز گھوری پر وہ سٹپٹا کر سیدھا ہوا۔ "میرا مطلب ہے۔اقصیٰ باجی سو رہی تھیں۔۔"وہ بڑا ناپ تول کر بولا تھا۔اقصیٰ کہ ماتھے پر ناگواری کی شکن نمودار ھوئیں۔۔ "تو اب کردے۔۔ایسا نا ہو۔۔وقت سے پہلے مر جائے۔یہ رپورٹر۔۔ابھی تو اس نے مجھے جیل کی سلاخوں کہ پیچھے بھیجنا ہے۔"وہ کمینگی سے مسکرایا۔۔ "آئیے اقصیٰ باجی۔میں آپ کی پٹی کردوں۔۔"ٹائیگر نے اس کہ طرز تخاطب پر نظریں گُھمائیں۔خیر اسے کیا۔۔ "مجھے نہیں کروانی کوئی پٹّی۔۔کوئی احسان نہیں چاہیے مجھے تمہارا۔۔"اقصیٰ نخوت سے غصّہ سے پُھنکاری۔ "تمہاری مرضی۔۔"اس نے بے نیازی سے کندھے اچکاۓ۔ اور واپس پلٹ گیا۔کتنی ہی دیر اقصیٰ غصّہ سے اس کی پشت دیکھتی رہ گئی تھی۔منحوس ٹپوری کھانے کو ہی پوچھ لیتا۔حواس اور حالات بحال ہوۓ تو جسم کا ایک ایک حصّہ کمزوری سے ٹوٹ سا رہاتھا۔۔ کچھ دیر ہونٹ چبا کر بے بسی سے واپس پلٹنے لگی تھی۔جب ٹائیگر کی سرد آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔۔ "مجھے جیل کی سلاخوں کہ پیچھے کروانے کہ لئے تمہارا تندرست ہونا بہت ضروری ہے رپورٹر۔تم زندہ رہو گی جبھی تو مجھے پھانسی چڑھانے کا نیک کام از خود اپنے پیارے پیارے ہاتھوں سے سرانجام دے سکوں گی۔ورنہ اگر بھوک سے ہی مر گئیں۔تو مجھ جیسے کرمنل گینگسٹر،ٹپوری کو سزا کیسے دلواؤگی۔"وہ ہاتھ میں پکڑے سیب کا بائیٹ لیتا شرارت سے اس کہ نزدیک ہوتا سپاٹ انداز میں بولا۔ "چلو شاباش!!یہ رکھا سامان جو کھانا ہے۔خود بناؤ اور کھاؤ۔رپورٹر کہ ابّا حضور یہاں خاص ملازم لگا کر نہیں گئے تھے۔اقصیٰ باجی کی خدمت گزاری کہ لئے۔۔"اقصیٰ کا بس نہیں چل رہا تھا۔سامنے رکھی چھّری اٹھا کر ایک ہی بار میں قصّہ تمام کر دے۔۔ "گڈ نائٹ رپورٹر۔۔"بالوں میں ہاتھ گھماتا معنی خیزی سے ایک آنکھ دباتا،مخصوص انداز میں مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔جبکہ پیچھے وہ خاموش کھڑی رہ گئی تھی۔۔۔۔۔ ________ "ٹائیگر کا کچھ پتہ لگا؟"نادر نے پہلا سوال یہی کیا تھا۔ "نہیں۔۔"جواب مختصر تھا۔ "اور وہ اس کا چمچہ؟ کہا تھا نا نظر رکھو اس پر۔مگر تم سا۔۔۔۔پتہ نہیں کونسی دنیا میں گم رہتے ہو۔"وہ طیش میں دهاڑا تھا۔ "سارا چکر اس رپورٹر کا ہے۔لڑکی ذات کی وجہ سے بڑے بڑے سورماؤں کو ڈھیر ہوتے دیکھا ہے۔اس لڑکی کا پتہ لگاؤ۔ٹائیگر کا تو باپ بھی سر کہ بل نادر کہ پیروں میں آئے گا۔۔"وہ سگار کا ایک گہرا کش لگا کر پُھنکارا۔۔ "اور اس مال کا کیا کرنا ہے سر۔"اس نے مودب انداز میں پوچھا۔ "ابھی بس خاموش ہوجاؤ۔۔بلکل خاموش۔جیسے اس دنیا میں ہو ہی نہیں۔انہیں اپنی سوچ کہ گھوڑے دوڑانے دو۔اب بات ٹائیگر کہ سامنے انے کہ بعد ہی ہوگی۔یہ غداری ٹائیگر کو بہت مہنگی پڑے گی۔وہ جانتا نہیں کہ کس سے پنگا لیا ہے۔۔"ٹائیگر کی گُمشدگی اسے پاگل کئے دے رہی تھی۔وہ اچھے سے جانتا تھا۔کہ ٹائیگر اور اس کہ خراب تعلقات کی خبر جنگل میں اگ کی مانند پھیل گئی تھی۔۔ "اوکے سر۔۔"وہ سر جھکا کر باہر نکل گیا تھا۔۔ ________ بڑا کھٹن ہے راستہ، جو آسکو تو ساتھ دو یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو بڑے فریب کھاؤگے، بڑے ستم اُٹھاؤگے یہ عمر بھر کا ساتھ ہے، نبھا سکو تو ساتھ دو جو تم کہوں یہ دل تو کیا میں جان بھی فداکروں جو میں کہوں بس اِک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو میں اِک غریبِ بے نوا، میں اِک فقیر بے صدا مری نظر کی التجا جو پا سکو تو ساتھ دو ہزار امتحان یہاں، ہزار آزمائشیں ہزار دکھ، ہزار غم اُٹھاسکو تو ساتھ دو یہ زندگی یہاں خوشی غموں کاساتھ ساتھ ہے رُلا سکو تو ساتھ دو، ہنسا سکو تو ساتھ دو مخصوص انداز میں قلم کی رفتار جاری تھی۔مگر جذبات سے نابلند انسان کب لفظوں کی گہرائی سمجھ سکا ہے۔کوئی درد تھا یا تکلیف یا پھر ایسا غم جو سینے میں ناسور بن کر بیٹھ گیا تھا۔مگر جو بھی تھا کینسر سے زیادہ خطرناک اور جان ليوا تھا۔جو پل پل گزرتے لمحوں کہ ساتھ دیوار حیات کی بنیادے تک ہلاتا جا رہا تھا۔عنقریب دیوار ڈھے جانے کو تھی۔عنقریب کوئی اس بوجھ تلے اپنی سانسیں گنوانے والا تھا۔عنقریب اب انصاف کا وقت تھا۔۔۔۔ ________ "یہاں اؤ لڑکی۔۔"وہ یونیورسٹی کے پہلے دن انتہا کی ڈری سہمی سی تھی۔ "جی۔بولیں۔"اعتماد برقرار رکھنے کی پوری کوسش کی گئی تھی۔ "آج پہلا دن ہے یونیورسٹی میں؟"مُقابل کی آنکھوں میں ہم وقت رہنے والی شرآرت ہنوز برقرار تھی۔۔ "جی۔۔جی۔۔"وہ تین چار لڑکوں کا گروپ دیکھ ذرا گھبرا سی گئی تھی۔۔ "اپنی کلاس ڈھونڈھ رہی ہو کیا۔"وہ دونوں لڑکے کھڑے ہو کر اب اس کے ارد گرد چکر کاٹنے کے سے انداز میں گُھومتے اِسے بوکھلاۓ دے رہے تھے۔ "اؤ ہم تمھیں ڈیپارٹمنٹ کا راستہ بتا دیتے ہیں۔"ان میں سے ایک نے فوری آفر کی تھی۔ "نہیں نہیں اسی کی کوئی ضرورت نہیں۔"وہ انکاری ہوئی۔ "ارے ایسے کیسے ضرورت نہیں ہے۔ہمارے ہوتے ہوۓ آپ کیوں خواری کاٹیں گیں۔آئیے ہم آپ کو آپکی منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں۔"ان تینوں کی آنکھوں میں شرآرت ناچ رہی تھی۔سامنے کھڑی لڑکی کہ ڈرے ڈرے تاثرات انہیں لطف دے رہے تھے۔۔ "اؤ فولو می۔ان میں سے ایک زبردستی ایسے اپنی ہمراہی میں لئے آگے بڑھا۔جبکہ وہ ناچاہتے ہوۓ بھی ان کی پیروی کرنے پر مجبور تھی۔سب کی دبی دبی ہنسی وہ اپنی پشت پر محسوس کر رہی تھی۔۔ وہ اپنے دوسرے ساتھی کو شرارت سے اشارہ کرتا آگے بڑھ گیا۔وہ بھی ان کی تقلید میں بغیر آگے پیچھے دیکھے چلتی چلی جا رہی تھی۔۔ "ہیلو!!نیو كَمر ہاں!!پیچھے سے آتی ایک لڑکی دهپ سے اس کی کمر پر ہاتھ مار کر شرارت سے چھیڑتی آگے چل دی۔۔وہ گھبرا کر پیچھے دیکھتی اب ہونقوں کی طرح اِرد گِرد میں دیکھ رہی تھی۔جہاں سب ایسے دیکھ دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے۔۔ "تم کیوں رک گئیں معصوم لڑکی۔۔چلو نا۔"وہ بھی اپنی بے ساختہ امڈ انے والی ہنسی دبا کر بولا۔۔ "ابھی دو قدم ہی چلے تھے۔کہ پیچھے سے آتی ایک لڑکی نے ایک زور دار تھپڑ اس کی کمر پر جڑ دیا۔وہ بے ساختہ چیخ اٹھی تھی۔ اور یہی عمل دو سے تین بار دہرایا گیا۔ذلت اور شرمندگی سے آنکھوں میں آنسو آگے تھے۔سمجھ نہیں آرہا تھا۔سب اس کہ ساتھ ایسا سلوک کر کیوں رہے ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ کی طرف جاتے راستے میں سیڑھیوں کے قریب ہی کھڑے سارے کے سارے سینئرز اب ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔جبکہ وہ خوفزدہ نظروں سے انہیں خود پر ہنستا دیکھ رہی تھی۔یہ لوگ ناجانے کیوں اس طرح کر رہے تھے۔جبکہ چند ایک فریشیرز آنکھ بچا کر وہاں سے چلتے بنے تھے کہ کہیں ان کی شامت ہی نا آجاۓ۔۔۔ ناسمجھ آنے والی اس تذ لیل پر اُس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے تھے۔جبکہ وہ سارے ایسے گھیرے میں لئے کھڑے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ اب ہر دو سیکنڈ
