Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 16/03/2026
0 Views
Episode No 13
#محبت_بازیِ_آخر #ہما_قریشی #قسط_نمبر_13 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا سورج انگڑائیاں بھرتا،اس وادیِ میں اپنی کرنیں بکھیرتا مکمل طور پرطلوع ہو چکا تھا۔منہ پر تیز سورج کی روشنی پڑی تو اقصیٰ ایک انگڑائی بھر کر بیدار ہوئی تھی۔اِرد گِرد میں نظر دوڑائی تو وہی خالی کمرہ تھا۔جس میں فرش میں ایک میٹرس پڑا تھا۔جس پر وہ اس وقت موجود تھی۔ سُستی سے اٹھ کر بیٹھی، بالوں کا جوڑا بنا کر سمیٹا۔ساتھ رکھا دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا۔کھڑے ہو کر ہاتھ سے کپڑوں کی شکن دُور کرتی دروازہ کہ قریب آئی۔ بہت آہستہ سے بنا آواز کہ دروازہ کھول کر ایک نظر باہر ڈالی۔سامنے نظر آتے چھوٹے سے کچن میں مُکمل سناٹا چھایا ہوا تھا۔اقصیٰ نے ایک آرام دہ سانس فضا کہ سپرد کی۔اور کچن کی جانب آئی۔وہیں سِنک میں کھڑے ہو کر منہ دُھو کر پیچھے ہوئی۔۔ "گڈ مارننگ رپورٹر۔۔"پیچھے سے اُبھرتی شوخ بھری آواز پر اقصیٰ چونک کر اُچھل پڑی۔۔ بے ساختہ رخ موڑ کر پیچھے دیکھا۔جہاں ٹائیگر نُک ُسک سے تیار بڑی نفاست کہ ساتھ اپنے ملينگا جیسے بالوں کو پیچھے سیٹ کئے،وہ کہیں جانے کہ لئے تیار کھڑا تھا۔جبکہ ہونٹوں پر وہی کمینگی بھری مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔۔ اقصیٰ کا حلق تک کڑوا ہوگیا تھا۔وہ سر جھٹک کر سائیڈ سے نکلنے لگی۔وہ فوری اس کہ راستہ میں حائل ہوگیا۔اقصیٰ کی پیشانی پر ناگواری سے بل پڑ گئے۔ "ہٹو میرے راستے سے۔"سرد لہجہ میں کہا۔ "کیوں؟ناشتہ نہیں کرنا رپورٹر۔۔۔یا پھر اتنے دن سے قید میں رہ رہ کر بھوکا رہنے کی عادت ہوگئی ہے۔"وہ شوخی سے مسکرایا۔ "میں نے کہا ہٹو میرے راستے سے۔"وہ دانت کچکچا کر پُھنکاری۔ "اور اگر نہیں ہٹوں تو۔"اس نے شرارت سے اس کہ بالوں کی ایک لٹ کھینچ کر چھیڑا۔اقصیٰ بدک کر پیچھے ہوئی۔ "راستہ چھوڑو میرا۔۔ورنہ۔"غصّہ سے بولتی،وہ چند لمحوں کہ لئے ٹھری۔۔ "ورنہ۔۔"اس نے آئی برو اٹھاۓ۔ "ورنہ میں یہ گلاس تمہارے سر پر مار کر تمہارا سر کھول دونگی۔"پاس رکھا گلاس اٹھا کر وہ طیش سے گویا ہوئی۔ "اوہ!!!!ایک ہی رات میں اتنے پر نکل آۓ۔کمال ہے بھئی۔۔"وہ مسلسل تنگ کر رہا تھا۔جبکہ اقصیٰ کو گهبراہٹ ہو رہی تھی۔ "چلو اؤ۔۔اس خوشگوار صبح کے صدقے تمھیں باہر سے ناشتہ کرواتا ہوں۔۔"آنکھوں میں مخصوص چمک لئے وہ جیبوں میں ہاتھ پھنسا کر فراخ دلی سے بولا۔اقصیٰ کہ ہاتھ سے گلاس چھین کر ایک جانب رکھا تھا۔ "کوئی ضرورت نہیں ہے۔کہیں نہیں جانا مجھے۔بہت شکریہ آپ کا۔۔اب ہٹو میرے راستے سے۔۔"وہ دانت کچکچا کر آنکھوں میں سرد مہری لئے غصّہ سے پھر سائیڈ سے نکلنے لگی۔ "ارے ارے رپورٹر۔۔اتنی بھی کیا جلدی ہے۔چلی جانا چلی جانا آرام سے۔پہلے ذرا ناشتہ تو کروادو مجھے۔"وہ زبردستی ہاتھ پکڑ کر گھسیٹنے کہ انداز میں کچن میں واپس لایا۔۔ "چھوڑو مجھے جاہل انسان۔تمھیں ایک بار کی بات سمجھ نہیں آتی۔اب میں یہ گلاس سچ میں تمہارے سر پر مار دونگی۔"وہ مُسلسل اپنا ہاتھ چھوڑنے کی کوشش میں واپس گلاس اٹھا کر دھمکی آمیز لہجے میں بولی۔ "سیدھی کھڑی رہو رپورٹر!!!میری نرمی کا ناجائزہ فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی مت کرنا سمجھیں۔"وہ اسے مزاحمت کرتا دیکھ۔اس کا ہاتھ جھٹک کر یکایک سخت لہجہ اپنآتا تیز آواز میں بولا۔ اقصیٰ اس کی سخت آواز پر مزاحمت ترک کرتی سہم کر ٹہر گئی۔جبکہ وہ ایک گُھوری سے نوازتا۔گول ٹيبل کی جانب آیا۔ "یہ ناشتہ رکھا ہے۔چپ چاپ اسے کھا لینا۔چھوٹا یہیں پاس میں ایک کام سے گیا ہے۔کچھ دیر تک واپس آجاۓ گا۔میں ایک کام سے جا رہا ہوں۔اور ہاں زیادہ ہوشیاری دیکھانے کی ضرورت نہیں۔۔"وہ سرد سپاٹ سی آواز میں ہدایت کرتا۔آخر میں تنببیہ کرنا نہیں بھولا تھا۔جبکہ اقصیٰ دم سادے خاموشی سے سب سن رہی تھی۔چند منٹوں پہلے کی لہجے کی شوخی اب ہوا ہوگئی تھی۔ "چلو اب ناشتہ کرو۔تاکہ تمھیں اپنے سامنے کمرہ نشین ہوتا دیکھ لوں۔وہ کیا ہے نا رپورٹر تم بہت زیادہ چلاک ہو۔اور ایسی چالاکی ٹائیگر کے آڈے پر تمھیں بہت مہنگی پڑسکتی ہے۔"وہ ذرا قریب آکر،کان کہ پاس سرگوشی کرتا آنکھ بلنک کر کہ مسکرایا تھا۔ اقصیٰ ناگواری سے اس پر ایک نظر ڈال کر پیچھے ہوئی۔وہ مسکرا کر کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ "چلو اب بیٹھ کر ناشتہ کرو ۔کھڑی کھڑی منہ کیا دیکھ رہی ہو۔ناشتے کی جگہ کہیں ٹائیگر کو تو کچا چبانے کا ارادہ تو نہیں ہے رپورٹر کا۔"ٹائیگر آنکھوں میں شرارت لئے لائٹر سے سيگرٹ جلاتا،آنکھ دبا کر بولا۔اقصیٰ نے حقارت بھرے اندز میں منہ پھیرا۔ "حرام اور زیادہ چربی والی چیزوں کو منہ نہیں لگاتی میں۔"ٹائیگر کی شوخ نظریں خود پر مرکوز دیکھ اقصیٰ چند لمحوں بعد غصّہ سے بڑبڑا کر کچھ فاصلے پر رکھی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی تھی۔ "ہاہاہاہا۔۔۔"ٹائیگر اس کہ بگڑے تیوروں پر ایک زور دار قہقاہ لگا کر ہنسا تھا۔جبکہ وہ اپنی آنکھیں نکالے اسے غصّہ سے گھور رہی تھی۔ "ارے گرگیں۔"ٹائیگر بے ساختہ بولا۔اقصیٰ گڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔ "کیا،کہاں؟"وہ نیچے جھکی۔جبکہ وہ اپنی ہنسی روک رہا تھا۔ "کیا؟؟"اس نے اچمبھے سے پوچھا۔ "تمہاری آنکھیں۔اتنی باہر نکل لی تھیں۔مجھے لگا گرگئیں۔"وہ مُسلسل مسکرا رہا تھا۔اقصیٰ ضبط سے آنکھیں میچ کر رہ گئی۔ "چلو!!!بہت مذاق ہوگیا رپورٹر!!!اب ناشتہ کرو۔"وہ یکدم سیریس ہوا۔اقصیٰ نے کچھ اس انداز میں آنکھیں گُھمائی تھیں۔"کیا واقعی۔۔"پھر ناشتے کی جانب متوجہ ہوئی۔جو چاۓ کہ ساتھ سلائس پر مشتمل تھا۔ "چلو رپورٹر میں نكلتا ہوں۔بھاگنے کی کوشش مت کرنا۔ورنہ اس جنگل میں بھوکے گھومتے شیر،چیتے تمھیں چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے۔۔"وہ جاتے جاتے اسے ڈرآنا ہرگز نہیں بھولا تھا۔ "فکر نہیں کرو۔میں کہیں نہیں جا رہی۔اب جب سوراخوں میں سر ڈال ہی دیا ہے تو تم جیسے موسلے سے کیا ڈرنا۔تمھیں حوالات کے پیچھے کروا کر ہی دم لونگی۔۔"وہ اطمینان بھرے انداز میں اس کا سکون غارت کرنا چاہتی تھی۔ باہر کی جانب جاتا ٹائیگر ٹھٹھک کر قہقہہ لگا کر پلٹا تھا۔ "سچ بتاؤ رپورٹر۔۔ویسے اب تو تم میری پیاری بیوی بن گئی ہو۔تو حوالات میں میرے لئے خاص انتظامات تو کرواۓ ہونگے۔"وہ پلٹ کر آتا کرسی پر جھکنے کہ سے انداز میں قریب آتا مزے سے بولا تھا۔ "ہٹوں پیچھے جنگلی انسان۔"اقصیٰ نے پاس رکھا کانٹا اس کہ ہاتھ میں کُھوپنا چاہا۔جسے ٹائیگرنے بر وقت ہاتھ تھام کراس کی یہ کوشش ناکام کردی۔۔ "ناں ،ناں رپورٹر!!!اپنی طاقت آنے والے وقت کہ لئے بچا کر رکھو۔بہت اشد ضرورت پڑنے والی ہے تمھیں۔"وہ عجیب سے لہجے میں وارننگ دیتا۔مزید کوئی بات کئے وہاں سے نكلتا چلا گیا۔جبکہ اقصیٰ نے پاس رکھا گلاس اُٹھا کر لكڑی کہ فرش پر پھینکا تھا۔جو گرتے ہی چھناک کی آواز کہ ساتھ چکنا چور ہوگیا تھا۔جیسے اس وقت اسے اپنی ذات محسوس ہو رہی تھی۔یونہی ٹوٹی بکھری ہوئی سی۔۔۔۔۔ _______ ٹائیگر کے جانے کہ بعد اقصیٰ کتنی ہی دیر سر میز پر گرا کر بے آواز آنسو بہاتی رہی تھی۔کبھی باپ کی یاد آتی تو کبھی ماں کی۔کبھی جمشید صاحب کا شفقت بھرا لمس یاد کر آنکھیں بھیگ سی جاتیں۔تو کبھی شگفتہ بیگم کی نصیحتیں یاد کر وہ پھپھک کر رو پڑتی۔کتنا ڈانٹتی تھیں وہ۔کتنا منع کرتی تھیں اسے کہ نا اُلجھے ان لوگوں سے بلکہ شادی کر اپنے گھر جائے مگر اس نے نہیں سنا تھا۔۔اور آج کیا ہوا تھا۔وہ بھری دنیا میں اکیلی رہ گئی تھی۔۔اس دلدل میں ڈوب جانے کہ بعد اس کہ ماں باپ سب اسے یہیں اکیلا چھوڑ گئے تھے۔وہ تو بالکل تنہا رہ گئی تھی۔آخر کس کہ کندھے پر سر رکھ کر اپنا غم ہلکا کرتی۔یا پھر کس سے جا کر شکایت کرتی۔ماں زیادہ یاد آرہی تھی یا باپ اس کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔صبح سے دوپہر ہونے کو آئی تھی۔مگر وہ ہنوز ساکت سی بیٹھی تھی۔اب تو کوئی روشنی
