Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/03/2026
0 Views
Episode No 12
مسکرا ہٹ لبو میں دبا کر پوچھا۔۔ "ارے ہم تو عاشق مزآج آدمی ہے۔ایک گئی،دوسری آئی،دوسری گئی،تیسری آئی۔۔یہ تو تمہارے لئے ہے۔۔"مقابل اسے چھیڑنے میں مصروف تھا۔۔ "اچھا!!!تو بھابھی کونسے نمبر والی ہے۔۔"سیف نے آنکھ دباتے ايموجی کہ ساتھ پوچھا۔۔ "اس کا نمبر وہ ہے،جہاں سے آگے کی میں گنتی ہی بھول گیا۔"جواب میں بڑا ہی درد تھا،سیف کا بے ساختہ قہقاہ کمرے میں بلند ہوا۔۔ "چل اب بتا،مجھے کیوں بھیجی ہے۔میں تیری کوئی ایکس محبوبہ ہوں کیا۔"اس نے مزہ سے پوچھا۔۔ "نہیں بھائی!!انکل بتا رہے تھے۔ تو بھی ان دل جلوں کی لسٹ میں شامل ہوگیا ہے۔یہ بتا نکاح کہ چھوارے کب کھلا رہا ہے۔"وہ مدعے پر آیا۔سیف نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا،اس کہ ابّا کو بھی چین نہیں تھا۔۔ "مجھے چھوڑ،یہ بتا تو مجھے تیسرے نمبر والی کہ ساتھ ولیمہ کا کھانا کب کھلا رہا ہے۔"سیف نے بات گھمائی۔۔ "بھائی ولیمہ کا پوچھ رہا ہے،یا میرے چالیسویں کا۔۔"ایک بار پھر آہیں بھرتا جواب آیا۔۔ "وہ تو بھابھی بہتر بتا سکتی ہیں۔۔"آگے سے اُس نے غصہ والے آیموجی بھیجے۔۔ "یہ بتا،ایس پی بن کر تجھے کیوں دوراہ پڑ گیا ہے۔ان بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنے کا۔۔"سیف نے ایک سرد آہ خارج کی۔۔ "اور وہ لڑکی کون ہے۔جس کا آج کل تو کیس لڑ رہا ہے؟اگر میں غلط نہیں وہ زین کی بہن ہے نا۔۔"آگے سے تفشیش بھرا جواب آیا۔۔ "پتہ نہیں مجھے،میں کسی کا کیس نہیں لڑرہا۔جو کام پولیس ڈیپارٹمنٹ کا ہے،صرف وہی سر انجام دے رہا ہوں۔"سیف نے سادہ سا جواب دیا۔۔ "خیر اگر تجھے گڑے مردے اکھاڑنے کا اتنا ہی شوق چڑھا ہے،تو اپنی سیکورٹی بھی ٹائٹ کروالینا۔پتہ ہے نا وہاب خٹک کتنا خطرناک آدمی ہے۔"دوسری جانب سے خبردار کیا گیا۔۔ "ہمم پتہ ہے مجھے۔وہ محض خاموش ہوگیا تھا،خیر اقصیٰ کا کچھ پتہ لگا؟" "نہیں یار ابھی تک نہیں!!اسےوہ منحوس گنگسٹر لے گیا ہے۔مجھ لگ رہا ہے میری قسمت میں محبّت ہے ہی نہیں۔۔"سیف نے جلا کٹا جواب دیا۔۔ "خیر!!!اس لڑکی کو اب تو بھول ہی جا بھائی،ایسی لڑکی سے انکل تیری شادی کبھی بھی نہیں کریں گے۔جو اتنے عرصے اپنے گھر سے غائب ہو۔جس پر اغواہ ہونے لا لیبل لگا ہوا ہے۔"اس نے حقیقت دکھائی۔تو وہ چپ ہوکر مزید کوئی بات کئے موبائل اف کر کہ بیڈ پر آنکھیں بند کر کہ لیٹ گیا۔۔۔ __________ اقصیٰ کمرے میں خاموش بیٹھی تھی،جب ٹائیگر کھٹکے کی آواز سے کمرے میں داخل ہوا۔اس نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر سامنے دیکھا،جو شام کہ بعد سے اب سامنے آیا تھا۔۔ "چلو اٹھو!!باہر اؤ کمرے سے۔میں اپنے قول کا پکّا آدمی ہوں۔جاؤ آج سے تم آزاد ہو۔"اقصیٰ نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا۔جو شاید نشے میں تھا۔مگر بے تاثر نگاہوں سے اس کا چہرہ دیکھتا،وہ مکمل ہوش میں تھا۔۔ "اب اٹھو!!جاؤ بھاگ جاؤ۔جہاں جانا چاہتی ہو جاؤ۔۔"وہ استہزایہ مسکرایا۔۔ "کیا ہوا رپورٹر میری شکل زیادہ ہی پیاری لگ رہی ہے،جو جانے کا دل ہی نہیں کر رہا۔۔"وہ قریب آتا شرارت سے بولا۔۔ اس نے ناگواری سے رخ موڑ لیا،یقیناً اس مولی کو کوئی نیا دوراہ پڑا تھا۔۔ "چلو اٹھو بھی،نکلو یہاں سے۔۔"فرش پر جم کر بیٹھی اقصیٰ کا بازو ہاتھوں میں دبوچ کر زبردستی کھینچ کر باہر لایا ۔۔ "لو یہ کُھلا دروازہ جاؤ بھاگوں،جہاں بھاگ سکتی ہو۔جتنا دور بھاگ سکتی ہو۔"لکڑی کا چھوٹا سا دروازہ کھولتے ہی ایک سرد ہوا کا جھونکا اقصیٰ کہ جسم سے ٹکراتا،کپکپانے پر مجبور کر گیا۔ "جاؤ نا بھاگو،بھاگ کیوں نہیں رہیں۔۔"کان کہ پاس سے ابُھرتی سرد سی سرگوشی پر اقصیٰ اچھل کر اس کی جانب متوجہ ہوئی۔سامنے دور دور تک اونچے ہیبت ناک پہاڑ نظر آرہے تھے،ہر سو گہرا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔حدِ نگاہ تک نظر آتے مناظر میں نا آدم تھا،اور نا آدم کی ذات۔۔ اقصیٰ کی نظروں میں وحشت سے خوف سا سمٹ آیا تھا،نا جانے یہ شخص کیا کرنا چاہ رہا تھا۔وہ نفی میں سر ہلاتی،سہمی نظروں سے اس کہ چہرے سے ٹپکتی وحشت دیکھ دو قدم پیچھے ہوئی۔ "چھوڑوں مجھے،اس وقت کہیں نہیں جانا مجھے۔۔"وہ خوفزاده لہجے میں چیخی۔ "ایک تو رپورٹر تم چیختی اتنا ہو کہ بندے کہ کان پھٹ جائیں،اور جب میں فارم میں آتا ہوں۔تو ڈر سے کپکپانے لگ جاتی ہو۔"وہ مصنوعی افسوس کرنے والے انداز میں بولا۔۔ "دن میں کیا بول رہی تھی رپورٹر؟" "دیکھنا آج سے تمہاری بربادی کہ دن شروع ہوجائیں گے۔جیل کی سلاخوں کہ پیچھے ڈلوا کر ہی سانس لونگی۔تو اب کیا ہوگیا۔۔۔"وہ اس کہ انداز میں بول کر شرارت سے مسکرایا۔۔ "جاؤ!اور جب مجھے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈلوانے کا شوق اتر جاۓ تو واپس آجانا۔"ہٹ کی بیرونی دو سیڑھیاں پھلانگ کر اس کا بازو پکڑ کر باہر آیا۔۔ "کیا پگل پن ہے یہ،ہاتھ چھوڑو میرا۔باہر جانا ہے مجھے،اتنے اچھے ہو تو شہر چھوڑ کر اؤ ناپھر۔۔"وہ ہاتھ چھوڑ کر سر جھٹک کر طنزیہ مسکرائی۔ٹائیگر نے داد دینے والے انداز میں آئبرو اٹھاۓ۔۔۔۔ "تو مطلب تم میرے جیسے سڑک چھاپ مولی کہ ساتھ،رہنے کہ لئے تیار ہو۔"اقصیٰ نے سر جھٹکا۔۔ "رپورٹر مان گئی،رپورٹر مان گئی۔پھر تمہاری خاموشی کو میں تمہاری ہاں سمجھوں!! رپورٹر اب مجھے جیل میں نہیں ڈلواۓ گی۔چلو اس خوشی میں شہر چل کر شادی کا کھانا کہلائیں گے،میڈیا والوں کو ۔۔"اس نے مسکرا تے ہوۓ چھیڑا۔۔ "،خبردار جو اپنی نفسیات دکھائی تو،جنگلی انسان۔"اقصیٰ اس کہ بدلے تیور دیکھ،خود کو چھوڑآتی،ڈور کر ہٹ میں داخل ہوتی کمرے میں بند ہوگئی۔جیسے شاید کوئی دوراہ پڑ گیا تھا۔جبکہ اس کی پُھرتی پر ٹائیگر کا ایک جاندار قہقاہ فضا میں بلند ہوا۔۔۔ _________ جاری ہے اگلی قسط آپ کہ رسپانس پر ہی آۓ گی۔ورنہ پھر جب مجھے وقت ملے گا تب۔
