Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/03/2026
0 Views
Episode No 12
دروازے میں ایستادہ دیکھ،تکلیف سے آنسوؤں پر ضبط کرتی ہونٹ بھینچ کر بولی۔۔ "وہ ایسا نہیں چاہتا تھا،آپ پلیز جیسا وہ کہہ رہا ہے۔ویسے مان لیں۔وعدہ ہے اب ہماری جانب سے کوئی تکلیف نہیں ہوگی آپ کو۔"وہ نادم سا فرسٹ ایڈ باکس لئے اس کے قریب آیا۔اقصیٰ نے شدّت گریہ سے سرخ ہوتی آنکھیں میچ کر ضبط کرنے کی کوشش کی تھی۔نا جانے یہ کونسے گناہ کی سزا تھی۔۔ چھوٹے نے اس کے خون میں لت پت ،بازو پر نظر ڈالی جہاں زخم خاصہ گہرا آیا تھا،خون ابُل ابُل کر باہر آرہا تھا،پاس رکھی ٹھنڈے یخ پانی کی بوتل بازو پر ڈالی تو اقصیٰ کی سسکی نکل گئی،زخم صاف کر اب وہ اس کی پٹی کر رہا تھا،مگر وہ نازک جان تکلیف برداشت کرتی ذرا سے دباؤ پر بار بار چیخ اٹھ رہی تھی۔ٹائیگر باہر بیٹھا،خاموشی سے سب سن رہا تھا۔جبکہ چھوٹے کی ہمراہی میں ساتھ آۓ نکاح خواں اور گواہ ہٹ سے باہر ہی فاصلے پر دریا کے کنارے بیٹھے انتظار فرمارہے تھے۔۔۔ "بس ہوگیا۔۔"وہ ہاتھ صاف کرتا،پٹی لپیٹ کر بولا تھا۔۔ "باہر نکاح خواں آیا ہوا ہے،اگر آپ نکاح کے لئے تیار ہیں تو بتائیے ورنہ میں ٹائیگر کو سمجھاؤں گا،کہ وہ آپ کو مجبور نا کرے۔۔"اس نے اسکی تکلیف کی وجہ سے کہا تھا۔جس کی حالیہ حالت اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔۔ "نہیں میں تیار ہوں،اب یہ نکاح نہیں،بلکہ آغاز ہے میری جنگ کا،یاد رکھنا۔میں ان لوگوں میں سے نہیں جو بھول جاؤں،میں اپنی ہر تکلیف کا حساب سود سمیت لونگی۔۔"اقصیٰ کے لہجے میں نفرت در آئی تھی۔ چھوٹا خاموش نگاہوں سے صرف اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔ "مگر میری ایک شرط ہے۔۔"اقصیٰ کی اچانک بات پر وہ چونک اٹھا۔۔ "کیسی شرط۔۔"کمرے میں داخل ہوتے ٹائیگر کی آواز پر وہ دونوں اس کی جانب متوجہ ہوۓ۔ ۔۔ "یہی کہ صرف نام کے ٹائیگر نہیں،بلکہ ذرا دلیری کا مظاہرہ بھی کرنا،اسی لئے اب مجھے یہاں باندھ کر قید مت رکھنا۔اور ہاں بے فکر رہو،اب جب تک میں تمھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے نا کروادوں۔تمہارا پیچھا ہر گز بھی نہیں چھوڑوں گی۔۔"وہ نفرت سے طنزیہ مسکراتی ہاتھ تھامے بیٹھی تھی۔۔ "ہاہاہاہا۔۔۔۔رپورٹر کی خوش فہمیاں۔۔۔"وہ بے ڈھنگا سا قہقہہ لگا کر گویا ہوا۔پھر قدم اٹھا کراس کے ذرا قریب آیا۔۔ "رسّی جل گئی مگر بّل ابھی تک نہیں گیا۔۔بہت خوب رپورٹر۔۔" وہ دل جلانے والی مسکراہٹ سے مسکرایا۔۔ "چلو ڈن ہوگیا۔۔ویسے یہاں سے بھاگنے کی کوشش کرو گی بھی تو زیادہ دور زندہ سلامت نہیں بھاگ سکتیں۔۔"وہ آنکھ دبا کر ہنوز مسکرا رہا تھا۔۔ "چل چھوٹے،باہر جو کپڑے پڑے ہیں وہ دے دے اس کو۔۔"وہ جاتے جاتے ایک دم پلٹا۔۔ "اور ہاں!!!باہر مولوی کہ سامنے جیسا میں کہوں،ویسا کرنا،اور اپنی گز بھر کی زبان ذرا کم چلانا سمجھی نا۔"اس نے تنبیہہ کرنی ضروری سمجھی،اقصیٰ نے جھٹکے سے رخ دوسری جانب موڑ لیا۔۔ ________ تقریباًایک گھنٹے کہ وقفے سے اقصیٰ خون میں سنا لباس تبدیل کرتی،اس جبراًنکاح کے لیے ذہنی طور پر تیار بیٹھی تھی۔ٹائیگر کی طرف سے ہر بات کی انتہا ہوگئی تھی۔مگر اس کے سامنے اقصیٰ کی ساری التجائیں رائیگاں گئیں تھیں۔اس کی وجہ سے زندگی تو اب خراب ہو ہی چکی تھی،باپ بھی اس دنیا میں نہیں رہا تھا۔ماں بھی جانے کن حالوں کو تھی۔اگر اب اس قید سے رہائی حاصل کرنی ہی تھی تو کیوں نا جب تک وہ اس زندان میں قید تھی،اپنا بدلہ پورا کر سکتی۔ "بھابھی باہر آجائیں۔۔عادل کے طرز تخاطب پر اس نے غصّے سے رخ موڑا تھا۔۔ "خبردار،خبردار جو آئندہ مجھے اس گھٹیا نام سے پکارا بھی تو۔منہ توڑ دونگی تمہارا سمجھے۔۔"وہ بھپری شیرنی کی طرح غرائی تھی۔۔ چھوٹا شرمندہ ہو کر رہ گیا تھا۔اس نے تو ویسے ہی مخاطب کرکیا تھا۔ "باہر آجائیں،نکاح خواں انتظار کر رہا ہے۔"وہ ٹائیگر کا پیغام دیتا،وہاں سے نكلتا چلا گیا۔۔ اقصیٰ نے آنکھ میں آئی نمی کو بےدردی سے رگڑ کر کپکپاتے وجود سے قدم کمرے سے باہر کی جانب اٹھاۓ تھے۔آنکھوں کے سامنے اپنے ماں،باپ کا چہرہ گھوم گیا تھا۔جن کی اجازت کے بغیر وہ اتنا بڑا قدم اٹھارہی تھی،دل میں ہوک سی اٹھی تھی۔شگفتہ بیگم کو کتنی چاہ تھی،کتنا ارمان تھا اسے دلہن بنا دیکھنے کا۔۔۔ بلیک پلین شلوار سوٹ پہنے وہ لرزتے وجود سے کمرے سے باہر آئی تھی۔دوپٹہ سر پر اس انداز میں اوڑھا تھا۔کہ وہ دوپٹے میں مکمل چھپ سی گئی تھی۔سامنے نگاہ اٹھائی،سامنے ہی وہ وحشی صفت انسان سفید،شلوار سوٹ میں بالوں کی سلیقے سے پونی بناۓ انسان کا بچا بنا سنجیدہ سا بیٹھا تھا۔سامنے ہی ہٹ کہ چھوٹے سے مہمان خانے میں صوفے پر مولوی صاحب، کہ ساتھ گواہان موجود تھے۔ اقصیٰ آہستہ روی سے قدم بڑھاتی نذدیک آئی،ساتھ پڑے سنگل صوفے پر ٹک گئی تھی۔ "بیٹا نکاح کی سنّت ادا کرنے سے پہلے میں پوچھنا چاہوں گا،یہ نکاح مکمل طور پر آپ کی رضا مندی سے ہو رہا ہے۔"مولوی صاحب کہ سوال پر اقصیٰ کہ ساتھ ساتھ ٹائیگر بھی ٹھٹھک سا گیا۔ "جواب دیجئے ۔کیا اس نکاح میں آپ کی رضامندی شامل ہے۔"اقصیٰ کی خاموشی پر اانہوں نے سوال دہرآیا۔۔ "جی،یہ نکاح میں اپنی پوری رضامندی سے کر رہی ہوں۔"اقصیٰ نے چند لمحے ٹھر کر نڈر انداز میں جواب دیا ۔ "کیا اس نکاح میں،آپ کہ ماں باپ کی مرضی بھی شامل ہے۔"انہوں نے لڑکی کی جانب سے کسی کہ بھی گواہ کی غیر موجودگی محسوس کر سوال کیا۔ "اس کہ ماں،باپ دونوں ہی اس دنیا میں موجود نہیں،اور نا ہی کوئی ایسا رشتہ دار جو اس کا ولی وارث ہو،یہ لاوارث ہے اسی لئے آپ گواہاں کی موجودگی میں،میں اس لڑکی کو اپنے نکاح میں لینا چاہتا ہوں۔اب ہوگئی تسلی مولوی صاحب۔یا کچھ اور پوچھنا باقی ہے۔۔۔۔"ٹائیگر تو اپنی رو میں دانت کچکچاتا ہوا،بول گیا تھا مگر اقصیٰ نے بے یقینی سے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا،جو اس کی جانب متوجہ نہیں تھا۔۔ "کیا اس کی ماں بھی اس بھری دنیا میں اسے اکیلا کر گئی تھی؟"یہ سوچ آتے ہی اقصیٰ پوری جی جان سے کانپ گئی تھی۔۔۔ "نکاح کی کروائی شروع کی جائے۔"ٹائیگر کو غصّہ ہوتا دیکھ انہوں نے نکاح پڑھانا شروع کیا۔۔ "کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔"مولوی صاحب کی آواز نے ماحول میں چھایا سکوت توڑا،جبکہ اقصیٰ بے یقینی سے پتھر کی ہوئی بیٹھی تھی۔ "کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔"نکاح کہ الفاظ ایک بار پھر دہراۓ گئے۔۔مگر وہ خاموش تھی،ٹائیگر نے سکتِ میں بیٹھی اقصیٰ کو دیکھ پریشانی سے ماتھا مسلا۔۔ "اقصیٰ۔۔۔جواب دو مولوی صاحب کیا پوچھ رہے ہیں۔۔"وہ اس کہ قریب آکر سرگوشی میں غرایا،جبکہ وہ تمام لوگ اس کی خاموشی محسوس کر ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے تھے۔۔ "میری ماں۔۔۔"آواز تو جیسے حلق میں ہی کہیں دب سی گئی تھی ,صرف ہونٹوں کی جبش تھی جس سے اسے بات سمجھ آئی۔۔ "کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔"نکاح کہ الفاظ تیسری بار دہراۓ گئے۔ "نہیں۔۔اقصیٰ جواب دیتی ایک جھٹکے سے اٹھ کر وہاں سے بھاگ گئی تھی،جبکہ وہ بے یقینی سے اس کی پشت دیکھتا رہ گیا۔۔ "بیٹا،بچی کہ ساتھ کسی قسم کی کوئی زبردستی تو نہیں ہوئی۔"مولوی کہ سوال پر وہ چند لمحے خاموش رہ گیا۔ "شاید ڈر گئی ہے،آپ لوگ رکیں،میں بس دس منٹ میں لے کر آتا ہوں۔"جواب چھوٹے کی جانب سے آیا۔۔ "ٹھرو تم میں دیکھتا ہوں۔۔"وہ خود اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھا۔ "کیا تماشہ لگایا ہوا ہے ہاں !!!!تمھیں ایک بار کی بات سمجھ نہیں آتی کیا،کیا چاہ رہی ہو؟اس بار گولی سیدھی تمہارے دماغ میں اتاروں۔۔"وہ دروازہ بند کر اس کا چہرہ
