Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/03/2026
0 Views
Episode No 12
#محبت_بازیِ_آخر ہما قریشی قسط نمبر12 نکاح اسپیشل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "عادل (چھوٹے )چل اٹھ،جا کر کسی نکاح خواں کا انتظام کر۔"وہ چونک کر سیدھا ہوا،اس کے اصل نام سے وہ جبھی پکارتا تھا،جب وہ سنجیدہ ہوتا تھا۔ "کون میں۔۔"اس نے اچنبھے سے سینے پر انگلی رکھ کر تصدیق چاہی۔ "نہیں!!!!تمہاری بد روح ۔"وہ طنزیہ بولا۔ "ٹائیگر مجھے لگ رہا ہے،آج کل تیرا دماغ جو ہے نا،گھاس چرنے گیا ہوا ہے۔"اس نے علامہ اقبال کی طرح لمحوں کی تاخیر میں سوچ بچار کے بعد قیاس آرائی کی۔ "اور مجھے لگ رہا ہے کہ تیری جو کھال ہے نا بیٹا،وہ شدّت سے مصالحہ کی طلبگار ہے"وہ مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ "ہیں!!اوہ نہیں بھائی،اب مجھے پکّا یقین ہوگیا، تو یقیناً کسی بری آتما کے ساۓ میں چل رہا ہے۔"آج اس کی شوخیاں عروج پر تھیں۔ "صحیح بات ہے،اور وہ بد روح مجھے باربار تجھے ریمانڈ میں لینے کے لئے اُکسا رہی ہے۔"وہ سردمہری سے بولتا، اس کی جانب بڑھا۔جبکہ وہ چینخ کر صوفے پر سے پیچھے پھلانگتا،ہٹ کے دروازے کی جانب بھاگا۔ "اب کہاں بھاگ رہا ہے۔"وہ ذرا غصّہ سے بول کر مزید اس کی جانب بڑھا۔جو بندروں کی طرح اچھل کود کر رہا تھا۔ "جا رہا ہوں،جا رہا ہوں۔ویسے میں سوچ رہا ہوں۔اس جنگل میں نکاح خواں تو نہیں،البتہ میں ضرور کسی جنگلی جانور کی خوراک بن جاؤں گا۔"وہ نادیده آنسو صاف کر دہائیاں دینے کے انداز میں منہ بنا کر بولا۔ "اپنے پیروں پر دفع ہوگا،یا پھر چار کندھوں کا انتظام کروں۔"وہ عادتًا طیش میں آیا۔ "جا رہا ہوں،جا رہا ہوں،زندہ سلامت لوٹ آیا نا اس جنگل میں سے تو نکاح کے چھواروں کے ساتھ ساتھ،ولیمے کا کھانا بھی کھلاڈالنا مجھے۔"اس کے اپنے ہی رونے تھے،جبکہ اس نے نخوت سے سر جھٹکا تھا۔ آج ویسے ہی اسے ہر چیز،اور بات پر طیش آرہا تھا۔اس کے غصّہ کا نشانہ عادل نا بن جائے،اسی لئے اس نے اسے وہاں سے چلتا کیا تھا۔۔ دیکھ محبت کا دستور تو مجھ سے میں تجھ سے دور تنہا تنہا پھرتے ہیں دل ویراں آنکھیں بے نور دوست بچھڑتے جاتے ہیں شوق لیے جاتا ہے دور ہم اپنا غم بھول گئے آج کسے دیکھا مجبور دل کی دھڑکن کہتی ہے آج کوئی آئے گا ضرور کوشش لازم ہے پیارے آگے جو اس کو منظور سورج ڈوب چلا ناصرؔ اور ابھی منزل ہے دور ناصر کاظمی ________ "جب میں نے ایک بار کہہ دیا کہ میں تم جیسے سڑک چھاپ دہشت گرد سے نکاح ہر گز نہیں کروں گی،تو اتنی سی بات سمجھ کیوں نہیں آرہی تمہیں۔،چاہو تو جان سے مار دو مجھے۔مگر میں وہ نہیں کرونگی جو تم چاہتے ہو۔’’آنکھوں میں نفرت کی چنگاری لئے وہ غصے کی زیادتی سے چیخ پڑی تھی۔ٹائیگر جانے کب سے اسے راضی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ "دیکھ رپورٹر!!مجھے سختی کرنے پر مجبور نا کر،اُپن کا بھیجا ویسے ہی بڑا گرم ہو رہا ہے۔سیدھے سے مان جا ورنہ۔"وہ ڈرانے کے لئے گن سیدھی پیشانی پر رکھتا،تنبیہی لہجے میں بولا۔ "مجھے یہاں سے جانا ہے،اتنی سی بات سمجھ کیوں نہیں آرہی تمہیں۔پلیز مجھے جانے دو یہاں سے۔"وہ غصّہ سے بهپر کر چیخ اٹھی۔ ’’دیکھ رپورٹر یہاں سے جانے کا خیال بھی اپنے دل سے نکال دو۔اور رہی نکاح کی بات تو وہ تو تجھے ہر حال میں کرنا ہی پڑے گا۔’’غصے سے لال انگارا ہوتی آنکھیں ضبط سے میچ کر وہ متوازن لہجے میں گویا ہوا۔جو مان کر ہی نہیں دے رہی تھی۔ ’’نہیں کرونگی۔نہیں کرونگی،میں یہ نکاح ہر گز نہیں کرونگی۔چاہے تو جان سے مار دو مجھے۔"اقصٰی اسے منہ میں دبا سیگرٹ لائٹر سے جلاتا دیکھ غصہ سے پھنکاری جس نے اس کی مذمت پر صبح اٹھتے ہی واپس کرسی پر باندھ دیا تھا۔ ٹائیگر نے ایک آئبرو اٹھا کر اس کے انداز دیکھے تھے،جو انکار تو ایسے کر رہی تھی۔جیسے وہ اس کی راۓ جاننے کے لئے منتظر بیٹھا تھا۔ ’’نکاح نہیں کروگی؟"کمر کے پیچھے لگی بندوق نکال کر ٹیبل پر رکھتے وہ بہت سفاکی سے گویا ہوا۔ایک لمحے کو تو اقصٰی گھبراگئی۔مگر آنکھوں میں ایک بار پھر وہی نفرت لوٹ آئی تھی۔بے سختہ سر نفی میں ہل گیا۔۔ ’’گولی کھا کر بھی نہیں۔’’اس کے لہجے میں الگ ہی شیطانیت بول رہی تھی۔ نہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اہ ہ ہ ہ۔۔۔۔نا جانے کیوں وہ اس شخص سے رحم کی امید لگا بیٹھی تھی۔۔ ٹائیگر نے لمحے کے ہزارویں حصّہ میں لوڈڈ گن اس کے بازو پر رکھ کر ٹريگر دبا دیا تھا،بازو کو چھو کر نکلتی گولی کے باعث ہوتی تکلیف سے چیختی اقصٰی درد کی شدت سے رو پڑی۔جبکہ اب وہ آرام سے ایک کرسی پر بیٹھا بڑے مزے سے اِسے زخمی بازو دوسرے ہاتھ سے پکڑ کر روتا ہوا دیکھ رہاتھا۔جیسے اس تماشے سے لطف اندوز ہوا ہو۔ ’’محبت وحبت نہیں ہے مجھے تم سے کوئی،نا ہی میں تم سے نکاح کرنے کے لئے مرا جا رہا ہوں،یہ جو زبان چلتی ہے نا میرے سامنے اسے لگام دو،ورنہ جڑ سے کاٹ کر پھینک دوں گا۔"اچانک سے کرسی سے اٹھ کھڑاہوتا،اس کے مقابل منہ پر جھکتا سرد لہجے میں پھنکارا،خوف زدہ نظروں سے دیکھتی اقصیٰ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی تھی۔ ٹائیگر ایک نظر اس کا زخمی بازو دیکھ استہزائیہ مسکراتا زرا پیچھے ہوا، اب وہ خاموش آنسو بہاتی خوف سے اس کا چہرہ تک رہی تھی۔جبکہ تکلیف کے باعث چہرہ ضبط سے سرخ پڑگیا تھا۔غصہ اور طیش میں ایکدم گھوم کر ایک زور دار ٹھوکر سے دوسری کرسی پر لات مار کر اپنا غصّہ نکالتا اسے زمین بوس کر چکا تھا۔اب پیچھے بند کمرے میں محض اقصی کی دلخراش چیخیں تھیں.جو تکلیف سے دُهری ہو رہی تھی۔ چلتے تھے کبھی وقت کے ساتھ ہم بھی آج ہم تو چل رہے ہیں پر وقت نے ساتھ چھوڑ دیا.. انتخاب _______ "ٹائیگر یار چل آجا،نکاح خواں کا انتظام ھوگیا۔"ٹائیگر طیش میں قدم اٹھاتا سیدھا باہر آیا تھا۔وہ اسے گولی نہیں مارنا چاہتا تھا۔مگر ناجانے کیسے اس سے گولی چل گئی تھی۔۔ "کیا ہوا،یہ تیرے ہاتھ پر خون کیسا لگا ہے۔"اس کا دماغ بری طرح کھٹکا تھا۔ وہ نظرانداز کرتا،گن میز پر رکھتا،صوفے پر بیٹھ کر چہرے پر ہاتھ پھیرتا،خود کو پرسکون کرنے لگا۔۔ "ٹائیگر میں تجھ سے پوچھ رہا ہوں یار،کیا ہوا ہے؟کہیں تو نے۔۔۔"اس نے بے یقینی سے پوچھا تھا۔ "جا یار پٹّی کر جاکر اس کی،غصّے میں مجھے خبر ہی نہیں ہوئی۔"وہ جیسے خود بھی نادم ہوا۔۔ "کونسا غصّہ،دماغ ٹھیک ہے تیرا،تو کسی کے گناہ کی سزا کسی اور کو دے رہا ہے۔کونسا غصّہ ہے تیرا،جو تو اس قدر بے حس ہو چکا ہے۔"وہ غصّے سے آپے سے باہر ہوتا چیخ اٹھا تھا،جبکہ وہ سرخ آنکھوں میں عجیب سی نفرت کی بنا پر جنونی سا سر جھکا کر بیٹھا تھا۔ "جا یار،دیکھ جا کر اسے۔"اس نے یاد دلایا۔جبکہ وہ تاسف سے نفی میں سر ہلاتا رہ گیا۔۔۔ "باہر نکاح خواں اور گواہان کا انتظام ہوگیا ہے۔یہاں سے کچھ دور فاصلے پر ایک بستی آباد ہے۔اب اللّه کا واسطہ ہے۔تجھے ان کے سامنے کوئی ایسی حرکت نا کرنا۔جس کی وجہ سے ہم ان کی نظر میں مشکوک ہو جائیں۔"وہ رنج کی حالت میں تاسف سے گویا ہوا۔جبکہ وہ ہنوز خاموش تھا۔۔ ________ وہ کمرے میں داخل ہوا،تو سامنے ہی اقصیٰ کندھا پکڑے تکلیف سے دوهری ہو رہی تھی۔۔جبکہ کندھا گولی لگنے کے باعث خون سے سرخ ہو رہاتھا۔۔ "کرلو جتنا ظلم کر سکتے ہو تم وحشی لوگ،مگر یاد رکھنا میں جس دن بھی اس قید سے آزاد ہوئی نا،سب سے پہلے تم لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے کرواؤنگی۔"چھوٹے کو
