Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 12
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 15/03/2026
0 Views
Episode No 12
دبوچتا دهیمی آواز میں پھنكارا۔۔ اقصیٰ جو مسلسل رو رہی تھی،اپنے بچاؤ کہ لئے ایک دم اس کہ منہ پر حملہ آور ہوئی تھی،اس نے بوکھلا اس کی کلائیاں پکڑ کر قابوں میں کیا۔جس کی آواز نہیں نکل رہی تھی مگر ہاتھ بادستور مسلسل چل رہے تھے۔آنکھوں سے آنسو تواتر سے گلابی بالوں سے بہتے بے مول ہوتے جا رہے تھے۔۔ "تمہارے باپ کو کینسر تھا ،جبکہ تمہاری ماں صدمے سے مر گئی۔یہی حقیقت ہے۔اور اگر تم چاہتی ہو۔میں تمھیں کسی اور کے حوالے نا کروں۔تو جیسا میں کہتا ہوں۔ویسا کرتی جاؤ۔ورنہ یاد رکھنا،آج کا تمہارا انکار تمھیں زندگی بھر پچھتانے پر مجبور کر دے گا۔"اقصیٰ جو سسکیاں بھرتی مسلسل مذامت کر رہی تھی،بے یقینی سے ٹھر گئی۔جسم میں کپکپی سے ہونے لگی تھی۔دل چاہ رہا تھا،مقابل کا قتل کر ڈالے،مگر وہ بے بسی کی انتہاؤں پر تھی۔۔ "آخری بار پوچھا رہا ہوں؟ہاں یا ناں؟"وہ قہر برساتی نگاہیں اس کی ساکت نگاہوں میں گاڑ کر گویا ہوا۔زخم پر آتے سخت ہاتھ پر وہ درد سے بلبلا اٹھی۔۔ حلق میں آنسوں کا گولہ سا پھنسا تھا،آواز حلق سے نکلنے سے انکاری ہوئی۔اس کی انگلیاں سخت ہوتی محسوس کر اقصیٰ ناچاہتے ہوۓ بھی سر آثبات میں ہلا گئی۔۔ "وری گڈ رپورٹر۔۔۔"وہ شوخی سے مسکرایا۔۔ "چلو اپنا یہ چوکٹا درست کر کہ،باہر آجاؤ۔ابھی اس مولوی کو بھی فارغ کرنا ہے۔۔ "وہ بڑبڑاتا ہوا،کمرے سے باہر نکل گیا۔۔ کچھ دیر بعد نکاح کی سنت ادا ہونے کہ ساتھ ہی،دعا پڑھائی گی۔جبکہ اس تمام عرصے میں وہ بلکل خاموش ہوئی بیٹھی تھی۔جیسے اس تمام قصّہ کی کوئی خبر ہی نا ہو۔زندگی میں آیا اتنا بڑا طوفان کس قدر خاموشی سے سب کچھ اپنے بہاؤ کہ ساتھ برباد کرتا چلا گیا تھا،اور کسی اپنے کو خبر تک نا ہوئی تھی۔سہی تو کہا تھا اس نے مولوی صاحب سے کہ وہ لاوارث ہے۔اور لاوارثوں کہ ساتھ تو زندگی ایسی ہی ناانصافیاں کرتی ہے۔۔۔آنکھوں سے مسلسل گرتے آنسوں،اس کہ دل میں اٹھتے درد کہ گواہ تھے۔۔ عجیب ٹرانس کی کیفیت میں گہری،تھکے ہوۓ قدموں سے واپس اس کمرے میں لوٹ آئی تھی،جہاں کئی دنوں سے قید تھی،مگر اس قید سے رہائی کی ایک امید سی باقی تھی،ایک روشنی کی کرن سی نظر آتی تھی۔مگر اس قید سے جیسے رہائی ناممکن سی ہوئی تھی۔ووڈن فلور پر گھٹنوں کہ بل بیٹھتی وہ شدّت سے سسک اٹھی تھی۔۔۔۔۔۔ دل کا ہجومِ غم سے عدم اب یہ حال ہے دریا پہ جیسے شام کو سکتہ سا چھا گیا انتخاب __________ "سر خبر ملی ہے،ٹائیگر تو لمبے عرصے کہ لئے رو پوش ہوگیا ہے،مگر نادر سیٹھ ایک بار پھر اپنے نئے منصوبوں کی تکمیل کہ لئے تیار بیٹھا ہے۔۔"وہ کچھ دیر پہلے ہی تھانے آیا تھا۔ "خبر ہے کہ،اس جہاز کہ ڈوب جانے کہ بعد،ڈرگز کی سمگلنگ ہوئی ہے،جو کسی بھی طرح جلد مارکیٹ میں اتار دی جائے گی۔اور اس سے کتنے گھر خاندان تباہ ہونگے اس بات سے تو آپ باخوبی واقف ہونگے۔۔"سب انسپکٹر کی اطلاع پر وہ سر ہلا کر رہ گیا۔۔ "ویسے تمھیں کیا لگتا ہے،ٹائیگر نے اس رپورٹر لڑکی کو کیوں کڈنیپ کیا ہوگا،میڈیا میں تو ایسی تیز زبان والے کافی نیوز انکر ہیں تو صرف وہ لڑکی کیوں؟"سیف آغا نے کسی سوچ کہ تحت سوال کیا۔۔ "نظر میں آگئی ہوگی سر اور کیا،ویسے اس لڑکی کی بھی گز بھر کی زبان تھی،میڈیا رپورٹر ہونے کا مطلب یہ تھوڑی ہوتا ہے کہ کسی کہ پیچھے ہاتھ دھو کر ہی پڑ جاؤ۔اب پتہ لگ گیا ہوگا،زبان چلانے کا انجام۔۔"وہ ناگواری سے بول کر سر جھٹک گیا۔۔ "اچھا!جاؤ تم،دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے۔ہاتھ ڈالنے کا فائدہ کچھ نہیں ہے۔پھر اُپر سے سفارش آجاۓ گی،اور ہم منہ تکتے رہ جائیں گے۔"وہ غصّہ میں بڑبڑآیا۔۔ "لیکن سر مجھے لگتا ہے،ٹائیگر نے نادر کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔اور اب وہ دوسرے تیسروں کی مدد لے رہا ہے۔تو شاید مال اتنی حفاظت سے نکالنا اتنا آسان نہیں،اور اس کام کہ لئے تو اس نے بہت سی لڑکیاں رکھی ہونگی۔۔"وہ مزید بولا۔۔ "هممم!!!!جاؤ تم۔۔۔۔۔"سیف کا موڈ بگڑ چکا تھا،جبھی خشک لہجے میں چلتا کیا،اس کہ اشارہ پر وہ موڑا۔۔ "اچھا ایک کام کرو،مجھے اس مجرم کی فائل لا کر دو جو جیل سے بھاگ گیا تھا۔۔"وہ سلوٹ مار کر وہاں سے نکل گیا۔جبکہ وہ واپس اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔۔۔ __________ تو وجہِ سوز نہیں، تو بھی گر ملا ہوتا ہمارے ساتھ کوئی اور حادثہ ہوتا سبھی کہانیاں، افسانے مر چکے ہوتے اگر زمانے میں ہر شخص با وفا ہوتا غلط ہیں لوگ جو جینا سزا بتاتے ہیں ہمیں بھی ملتا یہ موقع اگر سزا ہوتا زمیں جو پہلے ہی دن تنگ ان پہ کی جاتی کوئی کسی کے نہ اب خواب توڑتا ہوتا دل و دماغ کی بنتی نہیں غنیمت ہے یہ ایک ہوتے نیا مسئلہ کھڑا ہوتا یہ بات طے ہے کہ ہے مجھ میں ہی کمی ورنہ یوں ساتھ میرا نہ ہر ایک چھوڑتا ہوتا میں اک وجود ہوں سو آپ کا نہ ہو پایا میں ایک خواب جو ہوتا تو آپ کا ہوتا انتخاب ۔۔۔۔ قلم پوری رفتار کہ ساتھ کورے کاغذ کہ پنوں پر چلتا،دکھ کی ایک نئی داستان رقم کرتا چلا جا رہا تھا۔آنکھوں سے ٹپکتے آنسوں کہ باعث بھیگتی سیاہی کہ کچھ لفظ مٹاتی جا رہی تھی۔۔دل و دماغ کی سرحدوں پر آج پھر کوئی پرانی بھولی بھٹکی سی ماضی کی کوئی درد ناک یاد ذہن کہ دریچوں پہ دستک دیتی،اندر داخل ہونے کی خواہش مند تھی۔جنہیں وہ زبردستی نکال باہر پھینک چکا تھا۔۔ شدید اتنا رہا تیرا انتظار مجھے! کہ وقت مِنّتیں کرتا رہا گزار مجھے! انتخاب سوئیوں کی باز گشت جاری تھی جہاں وقت چیتے کی سی رفتار سے بھاگتا ہی چلا جا رہا تھا،دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہونے لگے تھے،مگر زندگی کہ اس باب کا سفر وہیں اس موت پر ٹھر سا گیا تھا۔۔۔ خُود اپنے لیے بیٹھ کے سوچیں گے کِسی دِن ...... یُوں ہے کہ تجھے بُھول کے دیکھیں گے کِسی دن گلابی انچل کو بار بار سر پر درست کرتی،وہ بوکھلائی سی اس کی باتیں سنی انسنی کرتی بھاگی چلی جا رہی تھی۔جبکہ وہ پیچھے تیز تیز قدم اٹھاتا،اس کے ساتھ قدم ملانا چاہتا تھا۔مگر وہ تیز گام ٹھہرتی تو صحیح۔۔۔۔۔ ________ کبھی جب مُدتوں کے بعد اُس کا سامنا ہو گا سوائے پاس آداب تکلف اور کیا ہو گا نوید سرِ خوشی جب آئے گی اُس وقت تک شاید ہمیں زہرِ غمِ ہستی گوارا ہو چکا ہو گا صلیبِ وقت پر میں نے پُکارا تھا مُحبت کو مری آواز جس نے بھی سُنی ہو گی ہنسا ہو گا ہمارے شوق کے آسودہ و خوش حال ہونے تک تمہارے عارض و گیسو کا سودا ہو چکا ہو گا نوائیں نکہتیں آسودہ چہرے دِل نشیں رشتے مگر اِک شخص اِس ماحول میں کیا سوچتا ہو گا ہنسی آتی ہے مُجھ کو مصلحت کے اِن تقاضوں پر کہ اب اِک اجنبی بن کر اُسے پہچاننا ہو گا دلیلوں سے دوا کا کام لینا سخت مُشکل ہے مگر اِس غم کی خاطر یہ ہُنر بھی سیکھنا ہو گا ہے نصف شب وہ دیوانہ ابھی تک گھر نہیں آیا کسی سے چاندنی راتوں کا قصہ چِھڑ گیا ہو گا انتخاب ۔۔ "خوبصورت،کہاں سے کاپی کی بیٹا۔۔"سیف نے اپنے یونیورسٹی کہ زمانے کو دوست کا میسج موصول کر ،شوخی سے پوچھا۔۔ "ہاۓ نا پوچھوں سیف میاں،کسی دل جلے کی محبوبہ کی بے وفائی کی داستان ہے۔۔"آگے سے شرآرت سے بھرپور جواب آیا۔۔ "اہاں !!!وہ وہ دل جلا کہیں تو خود تو نہیں ۔۔"سیف سے
