Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
1 Views
Episode No 10
ہے۔مگر اس رات کے بعد سے اب تک اس کا کوئی پتہ نہیں لگ رہا۔اور آپ کا شک بالکل درست تھا۔وہ ایک ایکسپورٹر کے بھیس میں بہت سے غیر قانونی کاموں میں مُلوث ہے۔"سیف پر سوچ انداز میں فائل دیکھ رہا تھا،اقصیٰ کی گمشدگی کی خبر کی رپورٹ درج ہوئی تھی۔مگر اس کی کاروائیاں نامحسوس انداز میں روک دی گئی تھیں۔ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جمشید صاحب نے ذاتی طور پر کوئی ایکشن نہیں لیا تھا۔اس کی اطلاع پر وہ محض سر ہلا کر رہ گیا۔۔ "یہ فائل لے جاؤ،اور وہاب خٹک کے بیٹے کی اب تک کی تمام دیٹیلز کی فائل لے کر آؤ۔اور پتہ لگاؤ عدالت کے فیصلے سے بری الزمہ ہونے کے کتنے عرصے بعد وہاب خٹک کا بیٹا کومے سے باہر آیا تھا۔۔" سیف کے حکم پر وہ سلوٹ کرتا باہر نکل گیا۔جبکہ وہ اب معاملے کی کڑی سے کڑی ملانے میں مصروف تھا۔۔۔ _____ "یار ٹائیگر!!تو چاہتا کیا ہے۔کیوں لایا ہے اس رپورٹر کویہاں۔"چھوٹا اڈے پر اِسے اپنے مخصوص دو کرسیاں جوڑ کر لیٹنے کے سے انداز میں بیٹھا، سر پر الٹا کیپ رکھے سگریٹ پھونکنے میں مصروف دیکھ چڑ کر بولا۔۔ "چیتے کچھ بول بھی ؟؟"وہ جھنجھکلا کر بال مٹھیوں میں جکڑ کے بولا۔۔۔ "جا چھوٹے،اپن کا میٹر مت گھما،پہلے ہی بہت گرم ہو رہا ہے۔۔"وہ ایک گہرا کش لگاتا ہنوز اسی انداز میں بولا۔۔ "ٹھیک ہے۔پھر بیٹھا رہ یہاں،میں جا رہا ہوں ڈاکٹر کو بلانے۔تیری وجہ سے اس لڑکی کو اتنی گہری چوٹ آئی ہے۔"وہ چڑ کر بولتا،واپس پلٹنے لگا۔۔ "دماغ خراب ہوگیا ہے تیرا،یہاں لے کر آئیگا ڈاکٹر کو۔"وہ اچانک سیدھا ہوتا،غصّہ سے چنگھاڑا۔۔ جبکہ بازو میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔مگر وہ تکلیفوں پر ضبط کرنے میں ماہر تھا۔۔ "تو پھر،وہ دکھا بھی نہیں رہی کہ کہاں چوٹ آئی ہے۔تو اور کیا کروں۔اور فکر نہیں کر ،ڈاکٹر کا تو باپ بھی زبان نہیں کھولے گا،تو نے تو اٌپن کو فضول میں ہی ہلکے میں لیا ہواہے۔"وہ شرارت سے مسکراتا مزے سے بولا۔ "دفعہ کر،کچھ نہیں ہوگا،بہت پتھر جان ہے یہ رپورٹر۔"وہ واپسی نیم دراز ہوتا،فضا میں دھواں چھوڑتا ہوا بولا۔۔ "چل بھئی جیسی تیری مرضی،اب یہ بتا اس لڑکی کا کرنا کیا ہے۔"وہ رک کر جانچتی ہوئی نظروں سے گھور کر بولا۔۔ "کیا کرنا ہے ،پتہ لگا گھر کہاں ہے۔اس رپورٹر کا،اسے اس کے ٹھکانے پر پھینک کر پھر سوچتے ہیں کچھ۔"وہ سرد مہری سے خشک لہجے میں پھنکارا۔۔ "بہت اچھے۔۔۔"وہ تالی بجاتا وہاں سے نكلتا چلا گیا۔ جبکہ وہ پیچھے بیٹھا،سیگریٹ پھونکتا،اقصیٰ کا رونا،چلانا،خود پر حملہ کرنا سب یاد کر ایک بار پھر غصّہ سے بهپر گیا۔آنکھوں میں جنون سا عود آیا،سینے میں تکلیف سی اٹھی تھی۔۔ _____ جاری ہے آج تو قسط طویل ہے۔مجھے تبصرہ بھی طویل چاہیے۔اور 500 انگوٹھے ۔۔ورنہ قسط ایک دن کے گيپ سے آئیگی 🙂
