Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
1 Views
Episode No 10
#محبت_بازیِ_آخر #ہما_قریشی #قسط_نمبر_10 ______ اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے،جب ٹائیگر اقصیٰ کو بےہوشی کی حالت میں آڈے پر چھوٹے کی نگرانی میں چھوڑ کر سیدھا نادر کے بنگلے پر آیا تھا۔واچ مین نے اسے دیکھتے ہی جلدی سے اندر بھاگ کر نادر کو خبر کی تھی،جو پچھلے ایک ماہ سے زخمی شیر کی مانند اس کی تلاش میں پاگل ہوا جا رہا تھا۔ "چیتے چیتے کہاں غائب ہوگیا تھا تو؟؟"وہ ٹائیگر کو گلے سے لگا کر جوش میں بولا۔۔ ارد گرد میں اسلحٰہ سے لیس کھڑے گارڈز کی بندوقوں کا رخ نامحسوس انداز میں ٹائیگر پر ہی تھا،جسے وہ ایک نظر میں ہی بھانپ گیا تھا۔ "کہیں نہیں گیا تھاباس،بس ایک مسٔلہ ہوگیا تھا۔"اس نے رسانیت سے بول کر صوفے پر بیٹھ کر ، پر پیر رکھتے سنجیدہ لہجے میں کہا۔۔ "کیسا مسٔلہ؟ وہ رپورٹر؟"اُس نے آئبرو اٹھا کر طنزیہ انداز میں پوچھا ۔ "مجھے اپنے مسائل میں کسی دوسرے کی مداخلت بالکل بھی نہیں پسند۔"اس کے چہرے پر ناگواری سی اُبھری. نادر نے آنکھ کے اشارے سے سب کو تحمل مزاجی سے کام لینے کا عندیہ دیا۔ "تمھیں کچھ خبر ہے،اس رات لوڈنگ شپ سمندر میں ڈوب گیا۔اس میں موجود سارا مال بھی پانی میں ڈوب گیا۔کسٹم آفیسرز کی نظر سے کتنی مشکل سے نکلوایا تھا سارا مال۔۔"وہ دانت پر دانت رکھ کر جبڑا بھینچ کر غرآیا۔۔ "تو۔۔" ٹائیگر کے انداز میں بلا کی بے نیازی تھی۔ "تو سے کیا مطلب ہے،تمہارا؟کچھ اندازہ بھی ہے۔کتنے ارب کا نقصان ہوا ہے مجھے۔مافیہ سے تعلقات الگ خراب ہو رہے ہیں۔دماغ کہاں ہے تمہارا؟"نادر کو اس کی بے نیازی پر طیش آیا تھا۔ "نادر سیٹھ مجھ پر اپنا غصّہ نکالنے کی ضرورت نہیں،میرا کام مال پورٹ پر پہنچا کر شپ میں لوڈنگ کروانے تک کا تھا،اس کے بعد تمہارا جہاز منزل پر پہنچے ،یا سمندر میں غرق ہوجاۓ، یہ اپُن کا مسٔلہ نہیں ہے۔اور ابھی میرا دماغ ویسے ہی بہت گرم ہے،تو اپُن کو یہ فضول کے جواز نا ہی دے تو بہتر رہے گا۔۔"ٹائیگر اس کی تیز آواز پر غصّہ سے پھنکارا۔۔نادر نے بہت مشکل سے خود پر ضبط کیا تھا۔ "اب یہ بتاؤ،نادر سیٹھ تم مجھ سے کیا چاہتے ہو۔"ٹائیگر نے داڑھی سہلا کر جانچتی ہوئی نظروں سے پوچھا۔۔ "اس رپورٹر کو میرے حوالے کردو،اب میں اس کو اپنے طریقے سے استعمال کرونگا۔"نادر کے لفظوں پر اسے ایکدم طیش سا آیا تھا۔ "کیا بکواس ہے یہ،میں کام کے بیچ میں عورت ذات کا استعمال نہیں کرتا نادر معلوم ہے نا تمھیں۔"ٹائیگر پوری قوت سے چنگھاڑا۔۔ "لڑکی ذات کو اغوا کر کے اپنے مطلب کے لئے استعمال کر سکتے ہو،مگر کام کے بیچ پارسا بن رہے ہو۔"نادر اس سے زیادہ تیز آواز میں دهاڑا۔۔ "بكواس بند کرو،ٹائیگر کسی کے باپ سے نہیں ڈرتا،اگر ٹائیگر کو اس لڑکی کا ہی استعمال کر کے اپنا کام نکلوانا ہوتا،تو اب تک تمھیں اپنے دوسرے کاموں کے لئے ٹائیگر کے علاوہ لوگوں سے منتیں نہیں کرنی پڑتیں۔"ٹائیگر طنزیہ لہجے میں،ناگواری سے پھنکارا۔۔ "ایک کام سے انکاری ہو کر،تم پارسا نہیں بن سکتے ٹائیگر ،مت بھولو تم ایک جیل سے بھاگے ہوۓ قیدی ہو جسے پولیس پاگلوں کی طرح تلاش کر رہی ہے۔یاد رکھنا اگر مجھ سے غداری کرنے کا سوچا بھی تو،انجام اچھا نہیں ہوگا۔"نادر نے طیش میں سیدھا اس کا گريبان مٹھی میں جکڑا تھا۔۔۔ "آواز اور ہاتھ دونوں نیچے کر کے بات کرو نادر،مت بھولو میں اس کھیل کا وہ پیاده ہوں،جو بہت پہلے ہی اپنی شکست کا سامنا کر چکا،اگر اس بار مجھے مات دینے کی کوشش کی تو پھر یاد رکھنا نا کھیل رہے گا اور نا ہی کھلاڑی۔۔"ٹائیگر ایک جھٹکے سے اپنا گریبان چھڑا کر اسے بہت کچھ جتا گیا تھا۔آنکھیں غصّہ کی زیادتی سے سرخ انگارا ہو رہی تھیں،جبکہ لہجہ میں بلا کی سرد مہری عود آئی۔ "دیکھو ٹائیگر،یہ سالے پولیس والے تو چاہتے یہی ہیں کہ کسی طرح ٹائیگر کی دہشت اس شہر پر سے ختم ہو جائے۔اور اگر ہم دونوں دشمنی مول لے لیں گے۔تو اس میں نقصان ہم دونوں کا ہے۔"نادر نے معاملہ بگڑتا دیکھ،فورا گرگٹ کی طرح رنگ بدلا تھا۔ "نہیں سیٹھ،پولیس والے نہیں،تو ٹائیگر کے ساتھ ڈبل گیم کھیلنا چاہ رہا ہے۔مگر یاد رکھنا،اگر قانون کے ہاتھ مجھ تک پہنچے تو لگامیں تم سب کی بھی کس جائیں گی۔"ٹائیگر بولا نہیں تھا،طیش سے چنگھاڑا تھا۔اس ایک ماہ میں اس کے نام پر شہر بھر میں نادر کے غنڈے کیا غنڈا گردی کرتے پھر رہے تھے،اس سب کی خبر تھی۔ "ٹائیگر!!!تو غلط کر رہا ہے۔اس چھٹانک بھر کی رپورٹر کے لئے،تو مجھ سے،مجھ سے غداری کرنے کا سوچ رہا ہے۔"نادر نے سختی سے اسے باز رہنے کو کہا۔۔ "نہیں،نہیں نادر،دماغ تیرا خراب ہوگیا ہے۔بہتر ہے تو میرے اور اس رپورٹر کے معاملے سے بالکل دور رہے۔وہ میرا ٹارگٹ ہے۔اسے کیسے استعمال کرنا ہے۔یہ میں طے کروں گا۔نا کے تو۔"وہ اس کے سینے پر انگلی ٹھوک کر طیش میں پھنکارا۔۔ "ٹائیگر،تو سمجھ کیوں نہیں رہا،اس لڑکی کی وجہ سے مجھے کتنا بڑا نقصان ہوا ہے۔تو کام پر دھیان نہیں دے رہا۔اس لڑ کی کے چکر میں پڑ گیا ہے۔اِسے چھوڑ دے۔میرا وعدہ ہے تجھ سے میں اس سے خوب حساب چکتا کروں گا۔"وہ رسان سے بولتا،خباثت سے مسکرایا۔۔ "نادر کہا نا!!!!!!اِسے بیچ سے نکال دے۔"ٹائیگر نے طیش میں گريبان پکڑا تھا۔جانے کیوں نادر کے منہ سے اقصیٰ کا بار بار ذکر کرنا اسے نا گوار گزر رہا تھا۔ اسلحٰہ سے لیس گارڈز ایکدم آگے بڑھے تھے۔"ٹائیگر مجھ سے دشمنی بہت مہنگی پڑے گی تجھے۔"نادر کے اشارے پر سب نے اپنے قدم روک لئے تھے۔مگر اس کا گريبان اس کے ہاتھ میں ہی تھا۔ "وہ لڑ کی مجھے دے دے اور بس قصّہ تمام کر،اس کے بدلے میں تجھے کڑو۔۔۔۔۔"ابھی نادر کے الفاظ ادھورے ہی تھے۔ٹائیگر سرخ آنکھوں میں ضبط کی چنگاری کے بھڑکتے ہی،اس کے منہ پر مکوں اور لاتوں کی برسات کر چکا تھا۔ نادر بوکھلا کر پیچھے ہوا،گارڈز نے ایک دم ٹائیگر کو قابو کرنے کی کوشش کی،جس پر ایک الگ ہی جنون سوار تھا۔اس کے پے در پے منہ پر پڑنے والے مکوں سے نادر بے حال سا ہوگیا تھا۔مگر وہ بهپرے شیر کی مانند مسلسل اس کی دھلائی کرنے میں مصروف تھا۔اتنے لوگوں کی پکڑ میں بھی وہ نادر کا گلا پکڑ چکا تھا،جو دم گھٹنے کے باعث گہرے سانس بھرنے کی کوشش میں مکمل وجود سے لرز رہا تھا، یہ لمحہ دماغ کو کہیں چند سال پیچھے لے گیا تھا۔جہاں وہ آج سے چند سال پہلے بھی ایک عورت کے لئے لڑائی کر رہا تھا۔مگر۔۔۔۔۔۔ دماغ کے پردوں پر لہراتی تلخ یادوں کے زیر اثر وہ خود ہی حواس باختہ سا ہو کر پیچھے ہوا۔جبکہ اسے پکڑنے کی کوشش میں جّتے دس سے بارہ افراد اس کی سخت گرفت سے نادر کو چھڑانے میں ناکام ٹھہرے تھے۔ٹائیگر کے جھٹکے سے چھوڑنے پر،وہ لڑکھڑا کر پیچھے گرتا،اب اپنی گردن تھامے مسلسل کھانس رہا تھا۔۔۔ ٹائیگر پر عجیب سی وحشت طاری ہوگئی تھی۔حواس باختگی سے پیچھے ہٹ کر اپنا سینہ مسلتا،وہ عجیب سی بے چینی سے دو چار ہوگیا تھا۔۔ وہ بے نیازی سے اسی جگہ کھڑا تھا۔جب گن کا ہتہ سیدھا اس کے منہ پر پڑا تھا۔وہ گهبرا کر ہوش میں آیا۔چند مزید گارڈز نے ایک ساتھ اس پر حملہ کیا۔اب وہ اپنے حواس پر قابو پاتا ان سے گتهم گتھا ہو چکا تھا۔ جبکہ نادر صوفے پر بیٹھا،گہرے گہرے سانس بھرتاٹائیگر کی حالت کو جانچتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ چند ہی منٹوں میں ایک زبردست جنگ کے
