Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
1 Views
Episode No 10
کے ہاتھ پیر باندھ دیے۔"اس کے الفاظ مکمل ہوتے ہی ٹائیگر کے ہاتھ کا ایک زبردست طمانچہ اس کے چودہ طبق روشن کر گیا۔ ایک قہر بھری نگاہ ان تینوں پر ڈال کر خود آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ کھولے،جو عادت کے مطابق مسلسل مذامت کر رہی تھی۔ منہ سے کپڑا ہٹتے ہی وہ پوری قوت سے چیخی،ٹائیگر نے اس کی دلیری اور ہمّت پر داد دینے والے انداز میں آئبرو اٹھاۓ.مگر اپنا کام جاری رکھا۔ہاتھوں کے آزاد ہوتے ہی وہ روتی ہوئی اپنی کلائیاں سہلانے لگی۔جہاں اب نیل پڑنے لگے تھے۔ جبکہ۔ وہ تینوں ہونقوں کی طرح اقصیٰ کی ہمّت ملاحظہ کر رہے تھے۔یہ رپورٹر جس طرح ٹی وی پر چنگھاڑتی تھی۔ویسے ہی ابھی بھی چلا رہی تھی۔ ٹائیگر جیسے ہی اسے مکمل آزاد کرتا۔سانس بھر کر پیچھے ہوتا ان تینوں کی جانب مڑنے ہی لگا تھا۔کہ لرزتی کانپتی اقصیٰ روتے ہوۓ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔اور اس کا دوسرا عمل سب کو حیرت اور بے یقینی میں دھکیل گیا۔۔ "چٹاخ" زناٹے دار تھپڑ کی آواز نے فضا میں ہلچل سی مچا دی۔ہر شے اپنی اپنی جگہ پر چند پل کے لئے تھم سی گئی۔ٹآئیگر کی آنکھوں میں چند لمحے کے لئے بے یقینی سی اُبھری،چہرے کا تاثر یکایک تبدیل ہوا۔وہ جو پلٹنے لگا تھا،اقصیٰ نے اچانک اسے بازو سے پکڑ کر رخ اپنی جانب کرتے تھپڑ رسید کر ڈالا،فوراً سے بیشتر وہ غصّہ اور طیش میں اس کی جانب پلٹا۔ اقصیٰ تھپڑ مار کر خود بھی خوفزدہ ہو کر چند قدم دور ہوئی۔۔آنکھوں میں ڈر ہچکولے لے رہا تھا۔آڈے پر موجود جدید اسلحہ سے لیس گینگسٹڑز کی بندوقوں نے سیدھا اس کے سر کا نشانہ لیا تھا۔ "تم۔۔تمہاری اتنی ہمت۔کہ تم نے ٹائیگر پر، اپُن پر ہاتھ اٹھایا۔"اپنی تذلیل پر غصّہ سے سرخ پڑتا ٹآئیگر اس کے منہ پر غرایا تھا۔جو سہم کر رہ گئی تھی۔ساتھ ہی ایک ہاتھ سے اس کے بال مٹھی میں جکڑے۔جو خود کو آزاد کروانے کے لئے کی گئی مذمت پر چہرے پر بکھر گئے تھے۔ اقصیٰ اتنی ساری لوڈڈ گنز کا رخ اپنی جانب دیکھ کپکپا کر رہ گئی۔ایسے لوگوں سے رحم کی امید رکھنا محض بیوقوفی تھی۔ "دیکھو میں۔۔میں تم سے۔۔مطلب میں مارنا نہیں۔۔میں معافی۔۔۔مجھے جانے دو پلیز۔۔"بے ربط سا جملہ ادا کرتی اقصیٰ خوف اور بے بسی سے اس کی سخت گرفت میں ہاتھ جوڑتی اونچا اونچا رو پڑی۔۔۔۔ "کیوں رپورٹر بیچ سڑک میں ہزار مردوں کے بیچ کھڑے ہو کر ٹآئیگر گینگ کے خلاف بولنے کی جرأت کرتے روح نہیں کانپتی۔جو اب ذرا سی تیز آواز پر تھرتھر کانپ رہی ہو۔"اقصیٰ کا آنسوؤں سے تر چہرہ دیکھ ٹآئیگر نے غصّہ سے انگارا ہوتی آنکھیں اس کہ خوف زدہ چہرے پر گاڑ کر دانت پر دانت رکھ کر غراتے ہوۓ ساتھ ہی اشارہ دیا،جس پر سب ہی نے گنز نیچے کرلی تھیں۔مگر اقصیٰ کی خوف سے آواز ہی بند ہوگئی تھی۔جو اب اپنے عمل کے بعد ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔ "بند کرو یہ اپنا رونا،دھونا،رپورٹر میں نہیں پگھلنے والا تمہارے ان آنسوؤں سے۔بہت اچھے سے جانتا ہوں میں،تم جیسی لڑکیوں کو۔جو صرف موقع کے انتظار میں ہوتی ہیں۔کہ کسی طرح بھی کسی امیر کبیر شخص کی نظر ہم پر پڑے،اورپھر ہم اسے اپنا ٹارگٹ بنا کر اس پر جال پھینک سکیں۔"آنکھوں میں بے پناہ نفرت سموۓ حقارت زدہ لہجے میں بولتا وہ یہ بھی بھول گیا تھا۔کہ وہ بذات خود کون ہے۔وہ اپنے مقابل کس لڑکی سے مخاطب ہے۔،یا پھر ارد گرد میں کون کھڑا ہے۔وہ ٹرانس اور نفرت میں بولتا سب فراموش کر گیا تھا۔ جبکہ اپنے کردار کے لئے اس دو نمبر،سڑک چھاپ،غنڈے موالی،ٹپوری کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر اقصیٰ کا دل چاہا اس کا منہ توڑ ڈالے۔مگر فلحال وہ بے بس تھی،اپنی عزت کی خاطر خاموش تھی۔ "بند کردو اسے یہیں،اس رپورٹر کی اتنی اوقات نہیں،اور جب تک باہر نہیں نکالنا۔جب تک اس رپورٹر کا دماغ ٹھکانے پر نا آجاۓ۔"ٹآئیگر نے غصّہ پر ضبط کرتے اس کے بال آزاد کر اچانک پیچھے کی جانب دهکیلا تھا۔جبکہ اس ساری صورتحال میں کچھ دور فلور پر منہ کے بل گرتی اقصیٰ کی آنکھ کے قریب کوئی نوکیلی چیز لگی تھی۔اور اس کی درد سے چیخیں بلند ہوگئی تھیں۔مگر وہ اسے اپنے بندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر جاچکا تھا۔جو اب اپنی غلیظ نظریں اسی پر ٹکاۓ کھڑے تھے۔۔ ______ "ہاں ٹائیگر بول کیا۔۔۔۔"وہ ابھی آہی رہا تھا کہ ٹائیگر کو غصّہ سے کمرے سے باہر نكلتا دیکھ چونکا۔۔ "ٹائیگر۔۔۔" ابے ہٹ یار یہاں سے،جاکر دیکھ اسے۔۔"وہ غصّہ میں خود پر بہت مشکلوں سے ضبط کر رہا تھا۔۔ "ہوا کیا ہے۔"وہ حیرانی سے،حواس باختہ ہوا۔ مگر وہ اس کی سن کر بھی، ان سنی کرتا عجلت میں وہاں سے نکل گیا،اگر وہ کچھ دیر مزید وہاں ٹھہرتا تو شاید خود پر ضبط کھو دیتا۔۔ وہ تاسف سے نفی میں سر ہلاتا،کمرے میں داخل ہوا،جہاں ایک جانب اقصیٰ فرش پر گری اپنی آنکھ پکڑے بیٹھی تھی۔دوسری جانب ان تینوں کی نظریں اسی پر مرکوز تھیں۔مگر یہ ٹائیگر کا ڈر تھا،۔جو قدم روکنے پر مجبور کر رہا تھا۔ " کھڑے کھڑے منہ کیا دیکھ رہے ہو،نکلو تم سب یہاں سے فٹافٹ۔۔"چھوٹا اقصیٰ کو زمین سے اٹھانے کے لئے اس کی جانب قدم اٹھاتا،غصّہ سے بولا۔وہ تینوں اسے گھورتے ہوۓ، کمرے سے باہر نکل گئے۔ "آپ ٹھیک ہیں؟"وہ اس کے قریب آتا بولا،اقصیٰ ہچکیاں لیتی خاموشی سی سمٹ کر پیچھے ہوگئی۔۔ "کیا ہواآپ کی آنکھ کو؟؟"اس نے ہاتھ لگانا چاہا۔ "پیچھے۔۔پیچھے رہو مجھ سے،ہاتھ مت لگانا مجھے۔جاہل،جنگلیوں۔۔۔"وہ اچانک غصّہ سے دهاڑی تھی۔وہ اس کے چنگھاڑنے پر بوکھلا کر پیچھے ہوا ۔ "اچھا،اچھا۔۔آپ ایسے ہی دکھا دیں کیا ہوا۔"اس نے ہاتھ کھڑے کر،تحمل مزاجی سے کام لیا۔ وہ مسلسل نفی میں سر ہلاتی مزید دیوار سے چپک گئی تھی۔وہ بے بسی سے اس کی آنکھ سے قریب سے بہتا خون دیکھ رہا تھا۔جو کوئی نوک دار چیز لگنے کے باعث ہوا تھا۔یا پھر وہ ٹائیگر کی بریسیلٹ کی رگڑ تھی ۔۔ "اچھا،میں ٹائیگر کو بولتا ہوں،وہ دیکھ لے گا۔۔"چھوٹے نے بے بسی سے چار و ناچار اٹھ کھڑے ہوتے کہا۔۔ "نہیں،نہ۔۔نہیں۔میں ٹھیک ہوں۔"وہ لرز کر گهبرا کر بولی۔اور جلدی سے دوپٹہ سے اپنی آنکھ کا کونا صاف کیا۔۔۔ وہ کچھ دیر اب آہستہ آہستہ سسکتی ہوئی اقصیٰ کو دیکھتا،بے بسی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔جبکہ وہ اب اونچا اونچا رونے لگی تھی۔ ______ "یہ پانی پی لیں۔"کچھ لمحے بعد وہ ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے کمرے میں داخل ہوا۔۔ اقصیٰ کچھ دیر یونہی بیٹھی رہی،مگر پھر گلے میں چبھتے کانٹے محسوس کر، ہاتھ بڑھا کر پانی کا گلاس تھام کر ہونٹوں سے لگایا۔پورا جسم درد کی شدّت سے پھوڑا بنا ہوا تھا۔سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔اب تو آہستہ آہستہ یہاں سے آزاد ہونے کی امید بھی دم توڑتی جا رہی تھی ۔۔۔۔ _____ "السلام علیکم سر۔۔۔" سب انسپکٹر سلوٹ مار کر،پیر سے زمین پر دھمک چھوڑتا کیبن میں داخل ہوا۔۔ "وعلیکم السلام!!! "شاہ نواز کیا خبر ہے۔"سیف نے ٹائیگر کی فائل بند کر کے سنجیدگی سے پوچھا۔ "نیوز اینکر اقصیٰ کا تو کچھ پتہ نہیں لگا،البتہ ذرائع کے مطابق چند روز قبل،ان کی والدہ بھی انتقال کر گئی ہیں۔"اس نے تن کر کھڑے ہوتے،اپنی معلومات کے مطابق آگاہی دی۔۔ "همم،اس کے علاوہ ٹائیگر کی کوئی خبر۔۔"اقصیٰ کی والدہ کے بارے میں وہ پہلے ہی جانتا تھا "نہیں سر،ٹائیگر کا تو کچھ پتہ نہیں لگ رہا۔البتہ این ٹریڈرز کا مالک نادر سیٹھ آج کل مٌلک واپس اگیا ہے۔اور وہ خود ٹائیگر کی تلاش میں
