Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/01/2026
1 Views
Episode No 10
بعد ٹائیگر ان ہٹے کٹے، گارڈز کو زمین بوس کر چکا تھا۔اس لڑائی کی دوران دو گولیاں اس کے بازو میں پیوست ہو چکی تھیں۔ہاتھ سے بھل بھل نکلتا خون پوری شرٹ کو رنگ گیا تھا،جبکہ وہ سب دوبارہ اٹھنے لگے تھے۔جنہیں نادر ہاتھ کے اشارے سے روک چکا تھا۔ "اصل شیر سے زیادہ خطرناک زخمی شیر ہوتا ہے ٹائیگر،مگر تو شیر کہاں ہے؟تو بیوقوف چیتا ہے۔جس کی چیتے کی سی نظر تو سب جگہ ہے مگر جنگل کے بادشاہ کے سامنے تیری یہ قابلیت بے کار ہے۔۔"تکلیف سے ہونٹ بھینچے ٹائیگر کو سمجھ نہیں آیا تھا کہ وہ شیر اسے کہہ رہا تھا یا پھر خود کو۔۔ "جا بھاگ،پکڑ اپنی رفتار اور دوڑ جتنا دوڑ سکتا ہے۔مگر یاد رکھ چیتے تیری ساری لگامیں اس زخمی شیر کے ہاتھوں میں ہیں۔جس دن اس شیر کا شکار پنجوں میں آگیا نا۔اس دن تیری گردن دبوچنے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگاؤں گا۔میرے شکار کا سب سے پہلا تر نوالا ٹائیگر ہوگا۔۔"وہ ہانپتے ہوۓ سانس بحال کرتا،طیش سے غرایا۔۔ جبکہ وہ اس کی باتیں نظر انداز کراپنا بازو دوسرے ہاتھ سے تھامے،ان سب پر ایک سخت نگاہ ڈالتا سر سے بہتے خون کو نظر انداز کر لنگڑاتا ہوا،نادر کے بنگلے سے نکل چکا تھا۔۔ _____ "ہیلو نرمین،کیسی ہو یارا،تمھیں پتہ چلا اقصیٰ کی والدہ کا بھی انتقال ہوگیا ہے۔"نرمین کے برابر میں بیٹھتی،لالا رخ (کولیگ) نے تاسف سے کہا۔۔ "جی پتہ ہے۔"نرمین نے ہنوز سنجیدگی سے کہا۔ "بہت افسوس ہوا یار سن کر،دیکھو نا اقصیٰ کی ایک ذرا سی ضد کی وجہ سے پورا خاندان تباہ ہوگیا۔ " اس نے مزید قیاس کیا۔جس پر نرمین کے ماتھے پر ناگواری سے بل پڑ گئے۔ "اقصیٰ حق پر تھی،اور حق پر چلنے والے دنیاوی چھوٹی چھوٹی تکالیف کی وجہ سے اپنی آخرت خراب نہیں کرتے۔"نرمین نے سنجیدگی سے لفظ چبا چبا کر کہے۔ "تم سہی کہہ رہی ہو نرمین،مگر یہ بھی تو دیکھو کہ اس کی ایک غلطی کی وجہ سے انکل اور آنٹی دونوں جان سے چلے گئے ہیں۔۔"وہ ناک چڑھا کر ناگواری سے بولی۔ "تو۔۔"نرمین آئبرو اٹھا کر اب مکمل طور پر اس کی جانب گھوم چکی تھی۔ "مطلب کہ،ہر چیز سے بڑھ کر انسان کے ماں،باپ ہوتے ہیں۔کیا تھا اگر اقصیٰ اپنی فیملی کی خاطر اس پروفیشن کو چھوڑ دیتی۔یا پھر اپنی زبان پر تھوڑا لگام ڈال لیتی،کم از کم آج آنٹی انکل تو حیات ہوتے۔اور اقصیٰ اس طرح گمشدہ نا ہوتی۔جانے وہ بھی زندہ ہے کہ نہیں،قاتل ہے وہ اپنے پورے خاندان کی۔۔"وہ تیز لہجے میں بولی۔ "مطلب تم یہ کہنا چاہ رہی ہو،اس دنیا کے ہر انسان کو صرف اپنا سوچنا چاہیے،اپنی فیملی اور بس،حقیقت سے نظریں چراکر خاموشی اختیار کر لینی چاہیے۔کیوں کہ آواز اٹھانے پر تو آپ کی آواز مستقل طور پر بند کردی جائے گی۔تو اسی لئے برائی دیکھ،آنکھیں میچو اور ہر سوال سے بری الزمہ ہو جاؤ۔۔بہت خوب مس لالا رخ،بہت خوب اگر اقتدار میں بیٹھے سو میں سے سو لوگ آپ کی جیسی مطلب پرستی کی سوچ رکھنے لگ جائیں نا تو مل گیا یہاں کسی کو انصاف،اور ہوگئی اس معاشرے سے برائی ختم۔"نرمین غصّہ سے ناک پھلاتی طنزیہ سراہتی ،طیش سے پھنکاری ۔۔ لالا رخ کو یکدم چپ سی لگی تھی،ارد گرد میں کیبن میں موجود کولیگز ان دونوں کی باآواز بحث پر اب ان کی جانب متوجہ ہو چکے تھے۔ "اور دوسری بات،کوئی انسان کسی کی موت کی وجہ،اس وقت تک نہیں بن سکتا،جب تک اس انسان کا بلاوا اُوپر سے ناآجاۓ، جس کی موت آنی ہوتی ہے۔وہ آکر رہتی ہے۔کیونکہ موت اٹل حقیقت ہے۔جس سے آپ نظریں نہیں چرا سکتے۔ہاں!یہ انسان ہیں جو اکثر انسانوں کی موت کی وجہ بن جاتے ہیں۔مگر یاد رکھو ایسے اسباب پیدا کرنے والی ذات بھی اُوپر بیٹھی ہے۔تاکہ ہم نادان انسان کوئی ایسا سوال نا اٹھائیں،جو قدرت کے خلاف ہو، اس کی مرضی کے خلاف اس زمین کا ایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا،تو یہ کیسے ممکن ہے۔کوئی انسان کسی دوسرے انسان کی جان لےسکتا ہے۔ایک قاتل کے علاوہ انسان ایک دوسرے کے جانے کے اسباب کی وجہ تو بن سکتے ہیں۔مگر ان کےقاتل نہیں۔۔"نرمین کی بات وہاں موجود تمام اسٹاف بہت توجہ سے سن رہا تھا۔جو اب خاموش ہوتی۔سب پر ایک سخت نظر ڈال کر اپنے کام کی جانب متوجہ ہو چکی تھی۔ جبکہ لالا رخ شرمندگی کے باعث سرخ ہوتا چہرہ لئے،وہاں سے اٹھ کر اپنی سیٹ پر آکر بیٹھ گئی تھی۔ ____ "ابے یار چیتے!!!!تجھے کیا ضرورت تھی نادر سے دشمنی مول لینے کی۔تو کیا جانتا نہیں ہے۔اس کے ہاتھ میں تیری کمزوری تیری اصل شناخت ہے۔اور پھر ہم جیسے جرائم کی دنیا میں ڈوبے ہوۓ لوگ،جب ان لوگوں کی مخالفت کریں گے۔تو اپنا پیٹ کیسے بھریں گے۔دیکھ میرے بھائی،دریا میں رہ کر مگرمچھوں سے بیر نہیں لیا جاتا۔"چھوٹے نے کچھ دیر پہلے ہی گرم چاکوں سے اس کے بازو سے دونوں گولياں نکالی تھیں۔اور اب اس کی پٹی کرتا مسلسل بڑی اماؤں طرح نصحیت کر رہا تھا۔۔ "ابے چپ کر جا تو،معلوم ہے تیرے باپ کو،کہ کیا بیوقوفی کر آیا ہوں۔اب تو بھیجا نہیں کھا۔۔"ٹائیگر نے غصّہ میں اسے جھڑک دیا تھا۔ "ہاں!!ہاں میں تو ہوں ہی غلط،تو میرے باپ یہ بھی سن لے،وہاں جس ماں کو تم اٹھا لاۓ ہو نا اسے بھی ہوش اگیا ہے۔جب سے چلا رہی ہے۔کانوں کے پردے پھاڑ دیے ہیں میرے۔اور پہلی بات تو اسے اڈے پر لایا ہی کیوں ہے بھائی۔"چھوٹا اب ماتھے پر لگے زخموں کو کلین کرتا مسلسل بڑبڑا کر اسے گھور رہا تھا۔۔ "اسی رپورٹر کا کیا دھرا ہے یہ سب،نا میرے راستے میں آتی اور نا ہی میرا دماغ گرم ہوتا۔صحیح کہتا ہے نادر یہ رپورٹر ہے ہی فساد کی جڑ۔۔"ٹائیگر غصّہ سے جبڑے بھینچتا،ضبط سے دانت کچاکچا کر پھنکارا ۔۔ چھوٹے نے ناپسندیدہ نظروں سے اسے گھورا۔ ماتھے پر لگا زخم زور سے دبایا۔ آہ ہ ہ ہ۔۔۔"ٹائیگر زخم کے دباؤ پر زور سے چیخا۔۔ "کیا کر رہا ہے منہوس ۔۔"ٹائیگر درد سے بُلبُلا کر بولا۔۔ "کچھ نہیں کر رہا۔چل اٹھ جا کر اپنی اس تیز طرار رپورٹر کو سنبھال۔"چھوٹا غصّہ سے بولتا،فرسٹ ایڈ باکس اٹھا کر وہاں سے باہر نکل گیا۔جبکہ دوسرے کمرے میں سے اقصیٰ کی غو غو کی آوازیں اب اسے بھی صاف سنائی دے رہی تھیں۔۔ ______ "سیف تیار ہو جاؤ،ہم لڑکی دیکھنے جا رہے ہیں۔"آج شام کو سیف کے گھر میں داخل ہوتے ہی انہوں نے اخبار سائیڈ پر رکھ کر حکم جاری کیا۔ "ناٹ اگین بابا۔۔وہ بیزار سا بولتا ہوا،دھپ سے صوفے پر گرا تھا۔ "کیا مطلب ہے،چلو اٹھو فوراً فریش ہوجاؤ،آٹھ بجے تک نکلنا ہے۔"انہوں نے حکم جاری کیا۔۔ "مگر بابا۔۔" "نہیں سیف،فوراً سے کھڑے ہو جاؤ۔"ان کے انداز میں وارننگ تھی۔۔ مجھے بس ایک ماہ کا وقت دے دیں۔میرا وعدہ ہے میں آپ کی منتخب کردہ لڑکی سے چپ چاپ شادی کرلونگا۔"وہ منت بھرے لہجے میں بول کر اپنے کمرے میں غائب ہوگیا۔جبکہ ان کی جانچتی نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا۔۔ _____ "کیا مسٔلہ ہے۔کس بات کا رولا ڈالا ہوا ہے۔"وہ غصّہ میں کمرے کا دروازہ دھڑام سے کھول کر داخل ہوتا۔تیز آواز میں دهاڑا۔ وہ اسے یونہی فرش پر لیٹا کر چلا گیا تھا۔مگر اب وہ رسی سے کرسی سے بندھی بیٹھی،مسلسل آواز نکال رہی تھی۔منہ پر بھی کپڑا بندها ہوا تھا۔۔ "کس نے ہاتھ لگایا ہے اس کو۔"ٹائیگر نے ایک سرخ نگاہ اٹھا کر ان پر ڈالی۔جہاں وہ تینوں سر جھکاۓ کھڑے تھے۔۔ "بہت زبان چلا رہی تھی یہ چیتے اسی لئے میں نے اس
