Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 05/01/2026
2 Views
Episode No 05
ٹرے میں چھڑک کر ایک لمبا کش لگاکر ، سرخ آنکھیں کھولیں، رخ اس کی جانب موڑ کر ایک گہری سرد نگاہ ڈال آبرو اچکاۓ جیسے پوچھ رہا ہو "کہ اب تو مجھے بتاۓ گا۔کہ کب کیا کرنا ہے۔"جبکہ وہ سر کُھجا کر اِرد گرد میں نگاہ دوڑاتا کھسیا کر رہ گیا۔۔ "چل آجا میرے چھوٹے تیری بوریت ختم کرنے کا انتظام کرتا ہوں۔"وہ پر سوچ سا کوئی لائحے عمل تیار کرتا،اس پر عمل کرنے کو تیار تھا۔۔ "آہاہاہا۔۔معاف کردے ،معاف کر دے یار!!میرے باپ ،دادوں کی بھی توبہ جو میں تیری رپورٹر کو کچھ کہوں۔"ٹائیگر نے اچانک سے اس کی گردن دبوچی تھی۔گلے میں مزید بڑھتے دباؤ کے باعث وہ کراہ کر رہ گیا۔۔ "ویسے ٹائیگر تو نے دیکھا ،لگتا ہے تیری رپورٹر۔۔۔۔۔میرا مطلب اقصیٰ باجی۔۔تمہاری دھمکی سے بہت زیادہ ہی ڈر گئیں ہیں۔"گردن کے مزید بڑھتے دباؤ پر وہ فوراً سیدھا ہوتا تمیز سے بولا۔۔ "کیوں ایسا بھی کیا ہوا۔"عنابی لبوں کے بیچ میں سیگرٹ دباۓ، لائیٹر سے ایک مزید سیگریٹ سُلگا کر جانچتی نظروں سے پوچھا۔۔۔ "ابے میں نے کل کا شو دیکھا،اقصیٰ باجی تو بالكل پردے سے غائب ہوگئی ہیں جبکہ اقصیٰ آپی کی جگہ،ایک نیا کنچا پیس روڈ شو میں فالتوں لوگوں کو پکڑ پکڑ کر ان کی راۓ طلب کر رہی تھی۔"چھوٹے نے مزے سے آنکھیں چلا کر اطلاع دی۔جبکہ وہ اقصیٰ کے نام کے ساتھ اُس کے فضول القابات سن سپاٹ نظروں سے گھورتا تنگ آچکا تھا۔۔ "میں کیا کہ رہا تھا چھوٹے۔۔۔"ٹائیگر کے عجیب انداز پر وہ چونک کر سیدھا ہوا۔ کیا کہ رہا تھا بھائی۔۔۔چھوٹا سیریس ہوا۔۔ "اگر تیری یہ گز بھر کی زبان کاٹ کر میں بھوکے،شکاری کتوں کے آگے ڈال دوں تو سوچ کتنے کتوں کا بھلا ہو جائے گا۔۔"ٹائیگر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا سمجھانے والے انداز میں بولا۔جبکہ وہ بدک کر پیچھے ہوا۔۔ "کیا بول رہا ہےیارا،تو تو میرا بڑا بھائی ہے۔اففف اپن کو تو سوچ کر ہی خوف آرہا ہے۔ہاۓ میری بچاری معصوم زبان۔"چھوٹے نے عورتوں کی طرح مصنوعی آنسو پونچھ کر تھوک نگلا۔۔ "چل اب پھوٹ لے یہاں سے،اس سے پہلے کہ تیری باتوں سے میرا میٹر شاٹ ہو،اور میرا دماغ مزید گرم ہو تو پتلی گلی پکڑ کر نکل یہاں سے۔۔"ٹائیگر نے ہاتھ کی دو بیچ کی انگلیاں باہم اپس میں ملا کر جیب سے سیگرٹ نکال کر منہ میں رکھتے ایسے گریبان سے پکڑ کر پیچھے کو دھکا دیتے رفو چکر ہونے کا عندیہ دیا۔۔ "جا رہا ہوں،جا رہا ہوں۔۔ویسے ایک بات بتا کہیں رپورٹر کے ساتھ تیرا کوئی اور لفڑا تو نہیں۔۔۔اچھا اچھا جا رہا ہوں۔۔"چھوٹا شرارت سے بولتا اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ بوکھلا کر الٹے قدموں ہی بھاگ پڑا ۔ ٹائیگر نے سیگرٹ میں بھڑکتا شولا آنکھوں کے عین سامنے کر اس کی راکھ کو دیکھ زمین پر پھینک اس پر اپنے بھاری بوٹ رکھ کر فلٹر مسل ڈالا۔چھوٹا مذاق مذاق میں ہی اس کہ اندر ابلتے الاؤ ، سینے میں جلتی اگ کو مزید ہوا دے گیا تھا۔جو پہلے ہی سب جلا کر بھسم کر گئی تھی۔اب جانے کون تھا جو اس اگ کی لپیٹ میں آنے والا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "ہاۓ بے بی کیا حال ہیں تمہارے۔۔"شام کے چھے بج رہے تھے۔ بلڈنگوں کے پار غروب ہوتے سورج کے باعث ہر سو اندھیرا سا چھا گیا تھا۔۔ اقصیٰ بس اسٹینڈ کے ساتھ والی سٹریٹ پر واک کرتی گھر کی جانب گامزن تھی۔جبھی پیچھے سے آتی آوازوں کو نظرانداز کرتی تیز تیز قدم اٹھانے لگی۔ "ارے روکو تو،اتنی جلدی کس بات کی ہے۔تم کہو تو ہم چھوڑ دیتے ہیں ۔۔"بائیک پر سوار وہ تین لوگ مسلسل پیچھے سے ہوٹنگ کرنے میں مصروف تھے۔۔ "لفنگے۔۔اقصیٰ ناگواری سے بولتی اپنا دوپٹہ درست کرتی چلتی چلی جا رہی تھی۔۔ جبکہ وہ گلی کا موڑ آتے ہی اس کے سامنے اپنی دونوں بائیکس لاتے اس کے گرد گول گول گُھمانے لگے تھے۔اقصیٰ پریشان سی اپنا راستہ بلاک ہونے کے باعث ناآگے جا سک رہی تھی اور نا پیچھے۔۔ "ہٹو میرے راستے سے ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔۔"اقصیٰ انگشت شہادت اٹھا کر تیز لہجے میں پُھنکاری۔۔ "ارے کیا اچھا نہیں ہوگا،ہمیں بھی تو بتاؤ۔۔"مغرب کے بعد کا وقت تھا۔ہر سو سناٹا سا تھا نا دور دور تک نا آدم تھا نا آدم کی ذات۔۔ "ایک نے ارد گرد میں نگاہ چلا کر موقع کا فائدہ اٹھا کر جھپاک سے اقصیٰ کا ہاتھ دبوچا۔اس اچانک افتاد پر اقصیٰ بوکھلا کر چیخ پڑی۔۔ "چھوڑو مجھے۔"وہ تینوں بائیکس سائیڈ میں لگا کر اسے پکڑنے لگے جو مسلسل مزاحمت کر رہی تھی۔۔ ان میں سے ایک کے اشارے پر دو اقصیٰ کو قابوں کرتے ایک بائیک سٹارٹ کر چکا تھا۔ایک نے ہاتھ پکڑے، تو دوسرے نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کی آواز بند کر دی ۔۔ "اقصیٰ کسی صورت خود کو آزاد نہیں کراپارہی تھی۔۔یکایک اقصیٰ کے دماغ میں جھماکا ہوا اور اس نے اپنے ہاتھوں پر ان کی گرفت مضبوط دیکھ اپنا پیر ذرا سا بلند کر اپنی سنڈل سیدھی ایک کے ٹخنے میں ماری ،وہ اچانک پڑنے والی چوٹ سے تکلیف سے بُلبُلا کر پیچھے ہوا۔بِلا تاخیر اقصیٰ نے یہی عمل دوسرے کے ساتھ بھی دُہرایا۔وہ دونوں بوکھلاۓ ہوۓ تھے۔اقصیٰ نے اپنی پوری طاقت لگا کر ان کے پیروں کے جوڑوں پر اپنی سینڈل سے ہٹ کیا۔چند لمحوں کے لئے وہ تینوں ہی لڑکھڑا گئے۔ٹخنے،گھٹنے،اور پاؤں سے لیکر بیچ کے حصّہ میں پڑنے والی چوٹ شدّت کی تھی۔یہی وہ لمحہ تھا جب وہ اپنا آخری وار کرتی دوڑ پڑی۔ تینوں طیش اور غصّہ میں اس پر جھپٹنے کے لئے آگے آۓ.جبکہ وہ پیروں کو سینڈل سے آزاد کروا کر ان پر پھینکتی مخالف سمٹ میں دوڑی۔۔ "ابے پکڑ اس۔۔۔۔۔۔کو۔ایک کے ناک،دوسرے کے منہ پر سینڈل پڑنے پر وہ غصّہ میں گالی بکتے ایسے پکڑنے کی غرض سے اس کے پیچھے دوڑے۔۔ اقصیٰ نے بھاگنے کے ساتھ ساتھ راستے میں پڑے دو بڑے پتھر اٹھا کر پوری قوّت لگا کر ان کی جانب اُچھالے جو ان میں سے ایک کا سر کُھول چکے تھے۔ایک نازک سی لڑکی کی اس قدر سخت جوابی کارروائی نے ان تینوں ہٹے کٹے لڑکوں کی آنا پر گہری ضرب لگائی تھی۔۔ پھولے تنفس سے وہ اپنی پوری رفتار سے بھاگ رہی تھی۔جبکہ وہ مُسلسل اس کے پیچھے آتے اُسے رُک جانے کی کے لئے گن نکال کر دھمکی دے رہے تھے۔۔وہ کتنی ہی بار لڑکھڑا کر گرنے لگی تھی مگر ہمّت نہیں ہاری تھی۔۔ گلے میں خراش پڑ گئی تھی۔وہ چاہ کر بھی چیخ نہیں پارہی تھی۔جبھی کانوں میں پولیس موبائل کے سائرن کی آواز گونجی تو اقصیٰ کو کچھ حوصلہ ملا۔۔ وہ تینوں لفنگے جو غصّہ میں اپنی بائیکس کہیں پیچھے ہی چھوڑآۓ تھے۔اچانک گهبرا کر پولیس کے ڈر سے اُلٹے قدموں بھاگ پڑے۔۔۔ اقصیٰ ایک پول کی آڑ میں کھڑی ہو کر اپنا سانس بحال کرنے لگی۔جب تک پولیس موبائل اس کے نزدیک آچکی تھی۔۔ سیف پول کی آڑ میں ننگے پاؤں،کُھلے سر، ہانپتی کانپتی لڑکی کو دیکھ تیزی سے گاڑی سے اُتر کر اس کی نزدیک آیا۔۔ وہ۔۔وہ وہاں۔۔کچھ لوگ۔میرے پیچھے۔پہلے انہیں پکڑو۔۔اقصیٰ نے وہیں زمین پر بیٹھ کر پیچھے اشارہ کیا۔تو سیف کے اشارے پر موبائل پولیس فوراً ان کے پیچھے گئی۔جو انھیں سامنے ہی بھاگتے ہوۓ نظر آگئے تھے۔۔۔ "اقصیٰ آپ ٹھیک ہیں۔اس وقت یہاں کیا کر رہی تھیں۔"سیف ایسے گہری گہری سانسیں بھرتا دیکھ قریب آیا۔۔ اقصیٰ نے چونک کر سراُٹھا کر پولیس وردی میں ملبوس اس آفیسر کو دیکھا۔وہ اس کا نام کیسے جانتا تھا۔۔ "اُٹھیں،اُٹھیں آپ یہاں سے جلدی۔یہاں بیٹھنا ٹھیک نہیں۔۔"سیف نے
