Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 05/01/2026
2 Views
Episode No 05
ایسا تھا، جیسے وہ خود ہی یہاں ہوتی کروائی کے سیاہ،سفید کا مالک ہو۔۔ "ہمیں اندر جانا ہے۔اندر کیا کچھ ہو رہا ہے۔اس کی آگاہی عوام تک پہچانی ہے۔دروازہ کُھولو۔ورنہ ہم پولیس کو بلوائیں گئے۔"ٹیم میں موجود چار پانچ لڑکے دور کھڑی گاڑی سے اتر کر گھر نمافیکٹری کے نزدیک آتے آب ان سے جرح پر اتر آۓ تھے۔ نرمین تو جلدی سے ایک طرف ہو کر کھڑی ہوگئی تھی۔جبکہ ٹیم اور ان دونوں پہرے داروں کے درمیان مذکرات شروع ہو چکے تھے۔ مسلسل بحث اور تكرار کے بعد بھی وہ لوگ کارخانے کا دروازہ کُھولوانے میں ناکام رہے۔اس تضاد پر بحث و مباحثہ ہوتے ہوتے ان کے درمیان ایک جنگ سی چھڑ گئی تھی۔ اب بات بڑھتے بڑھتے ہاتھ پائی تک آگئی۔متعلقہ تھانے میں رپورٹ جا چکی تھی۔مگر اب تک کوئی سُنوانی نہیں ہو سکی ۔ہر طرف افرا تفری کا عالم تھا۔اپنے ہونٹ دانتوں میں دباتی نرمین پریشانی سے صورتحال سے پریشان ایک طرف کو کھڑی سے ان سب کو لڑتا،جھگڑتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ دروازہ تو نہیں کھل سکا البتہ بات ہوتے ہوتے ایک سنگین لڑآئی کی شکل اختیار کر گئی ۔ایسے میں نرمین اپنی ٹیم پر ہوتے پتھراؤ کو دیکھ اپنا کیمرہ آن کرتی سائیڈ میں ہو کر وہاں سے بھاگنے کے لئے پر تولنے لگی۔۔۔ "میڈم آپ میرے ساتھ گاڑی میں چلیں۔اب یہ معاملہ پولیس ہی دیکھے گی۔"ٹیم کے لوگ نرمین کو اپنے گھیرے میں لے کر ساتھ میں خالی پڑے پلاٹ کی جانب سے گزرتے دور کھڑی گاڑی کی جانب دوڑے۔۔ میڈیا ٹیم پر مسلسل پتھراؤ جاری تھا۔ٹیم میں نرمین کے علاوہ مزید کچھ لوگ موجود تھے۔وہ اسے سیو مقام تک پہنچا کر خود ہی پیچھے کے راستے سے فرار ہونے کی جلدی میں تھے۔ "چلو جلدی کرو۔وہ لوگ ہمارے پیچھے ہی ہیں۔"ٹیم کے آخری شخص نے وین میں بیٹھتے ہی ڈرائیور کو جلدی سے گاڑی بڑھانے کا حکم دیا۔ نرمین نے جیسے ہی شیشہ نیچے کر ذرا باہر کو گردن نکال کر دیکھا تو سیدھا ایک زور دار پتھر اس کے ماتھے پر آکر لگا۔سر سے خون کی پچکاری سی پھوٹ پڑی۔۔۔ "اففف۔۔۔۔نرمین ماتھے سے نکلتے خون پر ہاتھ رکھ کر سی کرتی رہ گئی۔۔ "کیا ہوا نرمین۔۔"شاہ میر نے چونک کر پوچھا۔ کچھ نہیں !!بس چوٹ لگ گئی ہے۔۔نرمین ناخوت سے سر جھٹک گئی۔۔ اس کی سوچ میں ڈوبی گہری نگاہیں گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگتے ڈورتے مناظر پر مرکوز تھیں۔جہاں سب نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا تھا۔جب کے سر سے نکلتا گرم گرم مادہ اسے بار بار اپنے فیصلے پر پچھتانے پر مجبور کر رہا تھا۔۔۔ ______ "ناظرین یہاں ہم آپ کو بریکنگ نیوز سے آگاہ کرتے چلیں۔کہ ایل ٹی وی نیوز کا غیر قانونی طریقے سے اشیاء تیار کرنے والے کارخانوں پر چھاپا مارنے کی کوشش میں ٹیم پر پتھراؤ۔پولیس کو فوری اطلاع کرنے کے باوجود ،پولیس وقت پر مطلوبہ جگہ پر پہنچنے میں ناکام۔ٹیم اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جان بچانے کی کوشش میں شدید زخمی۔۔۔"شام چھے بجے کی نیوز پڑھنے کے بعد اب نیوز کاسٹر چیخ چیخ کر بار بار ایک ہی خبر دہرا رہی تھی۔اقصیٰ نے ایک نظر بے زاری سے اسکرین پر ڈال ٹی وی ہی اف کردیا۔ ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھا جہاں چھے بج کر بیس منٹ ہو رہے تھے۔پھر ایک نظر کچن میں ڈالی جہاں شگفتہ بیگم آج اس کی چھٹی کروا کر ناجانے کون کون سے نت نئے پكوان تیار کرنے میں مصروف تھیں۔وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔۔ "ماما میں ذرا ایک کام سے جا ررہی ہوں۔واپسی پر کچھ دیر ہوجائے گی آپ انتظار نہیں کیجئے گا۔۔" ہاتھ میں ہینڈ بیگ پکڑے اقصیٰ مکمل تیار کھڑی انہیں اپنی روانگی کے بابت آگاہ کر رہی تھی۔۔ "یہ بیٹھے بیٹھاۓ کہاں جانے کا شوق چڑھ گیا ہے تمھیں۔"انہوں نے جانچتی نگاہوں سے استفسار کیا۔ "نرمین سے ملنے جا رہی ہوں۔بہت دن ہوگئے اس سے ملاقات کئے۔"اقصیٰ نے جواب دیا۔ "چلو سہی ہے۔مگر وقت پر آجانا۔"انہوں نے اجازت دی۔۔ "اوکے۔"اقصیٰ انہیں جواب دیتی گھر سے باہر نکل گئی۔۔ _____ "تو تمھیں ضرورت ہی کیا تھی۔اس قدر خطر ناک علاقے میں جانے کی۔وہاں تو پوری مافیہ بیٹھی ہے۔کسی ایک کو چھیڑوں گی تو تمہارا اپنا دامن بچانا مشکل ہو جائے گا"اقصیٰ نے اس کے سر پر زخم دیکھ غصّہ سے پوچھا۔۔ "بس یار۔۔میری عقل نے کام ہی نہیں کیا۔اور پھر زمان صاحب نے اتنا مجبور کر دیاکہ بس۔۔"نرمین اقصیٰ کو دیکھ شرمندہ شرمندہ سی تھی۔۔ "بس کل فوراً ہی منع کرنا۔بھاڑ میں گیا سب کچھ۔جان ہے تو جہان ہے۔تم کل ہی منع کرو سر کو۔روڈ شوز نارمل انداز میں ہوسٹ کرو۔اس قدر خطرناک لوگوں سے دشمنی مول لینے کی کیا ضرورت ۔"اقصیٰ نے فکرمند لہجے میں ایسے باز رہنے کو کہا۔۔ "ہمم یہی کرونگی۔تم بتاؤ،نئی جاب کیسی جا رہی ہے۔۔"نرمین کو اقصیٰ والا واقعہ ابھی بھولا نہیں تھا۔ "اچھی جا رہی ہے۔ایک نئے ادارے میں نیا نیا تجربہ ہے۔ذرا سیٹنگ ہونے میں وقت لگے گا۔۔"اب وہ آرام سے اپنے تاثرات بحال کرتی بات چیت میں مصروف ہو چکی تھی۔۔ "چلو اچھا ہے۔۔"ہلکی سی آواز میں بولتی وہ کسی گہری سوچ میں گم تھی۔ "تم مجھ سے ناراض تھی نا۔"اس نے ذرا ہچکچا کر پوچھا۔۔ "تھی !!مگر اب نہیں ہوں۔۔"اقصیٰ نے مسکرا کر نفی میں گردن ہلا کر کہا۔ "مطلب تمھیں مجھ پر غصّہ نہیں آرہا کہ میں نے اسی چینل میں تمہاری جگہ لے لی۔"نرمین کو اس کی تحمل مزاجی بری طرح کھٹک رہی تھی۔۔ اقصیٰ دهیمے سے مسکرا کر آہستہ سے گویا ہوئی۔ "کوئی انسان کبھی بھی کسی کی جگہ نہیں لے سکتا۔ہر انسان کا اپنا میعار اور ظرف ہوتا ہے۔اور وہ ہمیشہ اسی کے مطابق عمل کرتا ہے۔"اقصیٰ کے لہجے میں کچھ تو تھا جو اسے شرمندہ کر گیا۔ "خیر تم اس گلٹ سے باہر آجاؤ۔کہ تم نے میری جگہ لے لی ہے۔ان لوگوں کے ساتھ میرا دانا پانی بس اتنا ہی تھا۔جتنا میرے نصیب میں تھا،سو مجھ مل گیا۔اب دنیا کی کوئی طاقت بھی مجھ سے میرا نصیب نہیں چھین سکتی۔۔"اقصیٰ نے ایسے مطمئن کرنے کے لئے مسکرا کر تسلی بخش انداز میں باور کروایا۔۔ "اچھا اب باتیں ہی کرتی رہو گی۔یا کچھ کھلاؤ گی بھی۔سچ میں بہت بھوک لگ رہی ہے۔"اس نے اس کی خاموشی محسوس کر ماحول کو خوش گوار کرنے کے واسطے اس طرف توجہ دلوائی۔ "ہاہاہا!!اچھا تم بیٹھو میں تمہارے لئے کچھ لے کر آتی ہوں۔"نرمین سر پر ہاتھ مارتی جلدی سے اٹھتی مسکرا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔جبکہ وہ پیچھے مسکرا کر اس کی پشت تکتی رہ گئی تھی۔ کبھی کبھی سہل زندگی گزارنے اور ناچاکیاں ختم کرنے کے لئے پہل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اقصیٰ کو یہاں آکر ذرا افسوس نہیں ہوا تھا۔ _____ "یار چیتے بہت وقت ہوگیا،ہم نے کوئی بڑا ہاتھ نہیں مارا۔۔"چھوٹے نے پُر سُوچ انداز میں گال رگڑ کر کہا۔۔ لبوں میں سيگرٹ دباۓ ٹائيگر تمسخر سے مسکرایا۔یقیناً اس کے خرافاتی دماغ میں کچھ الٹا سیدھا ہی چل رہا ہوگا۔۔ "چل پھر کچھ نیا کرتے ہیں۔"ٹائیگر اتنے سادہ لہجے میں بولا کہ کچھ لمحوں کے لئے تو وہ بھی چونک پڑا۔۔ جیسے کہ۔۔۔چھوٹے نے ابرو اٹھا کر سوالیہ انداز میں دریافت کیا۔۔ "جیسا کہ رپورٹر کو ایک نئی بریکنگ نیوز فراہم کرتے ہیں۔"ٹائیگر ایک آنکھ دبا کر شیطانیت سے مسکرایا۔۔ "ابے یار!!چیتے میں سمجھا کچھ بڑا کریں گے۔تو اس چھٹانک بھر کی رپورٹر کو ہی رو رہا ہےاب تک۔۔"وہ جیسے بےزار سا ہوا۔۔ اچانک ماتھے پر بل نمودار ہوۓ، ٹائیگر نے سیگرٹ کی راکھ ایش
