Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 05/01/2026
2 Views
Episode No 05
عجیب وحشت کے عالم میں گرتی پڑتی بوکھلا کر اس لڑکی کی لاش کو ایک طرف ڈالتی ننگے پیر ہی بھاگ کھڑی ہوئی تھی۔۔پیچھے کہیں اس لڑکی پر اقصیٰ کا سرخ اسٹولر اور آئی ڈی کارڈ وہیں لاش کے پاس گر گیا تھا۔جبکہ وہ مسلسل پیچھے دیکھتی بد حواسی کے عالم میں بھاگتی بھاگتی مین روڈ پر آگئی تھی۔ابھی کچھ سوچنے سمجھنے کا موقع ملتا یا وہ کوئی مزید قدم اٹھآتی۔جبھی سامنے سے آتی ایک تیز رفتار گاڑی ایسے ہٹ کرتی تیزی سے آگے بڑھ گئی۔ماحول میں اقصیٰ کی زور دار چیخ کے بعد ہر طرف سناٹا سا چھا گیا تھا۔موت کا سا سناٹا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "وہ وہ مرگئی۔وہ مرگئی۔ٹائیگر نے مار دیا ایسے۔۔۔۔ٹائیگر نے مار دیا۔۔۔مار دیا۔۔۔"اقصیٰ ایک جھٹکے سے بیڈ سے اٹھتی،خوف زدہ لہجے میں کچّی نیند سے بیدار ہوتی، بے ربطہ سا جملہ ادا کرتی،ہراساں نظروں سے اپنے خون سے رنگے کپڑوں کو دیکھ، ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر ہچکیوں سے رو پڑی۔۔ "اقصیٰ اقصیٰ۔۔۔بیٹا کیا ہوا۔کیوں رو رہی ہو۔۔"اقصیٰ کی اِس قدر بلند چیخ سُن،دونوں ماں،باپ پریشانی سے کمرے میں داخل ہوۓ۔ "بابا۔۔بابا۔۔وہ ٹائیگر اس نے مار دیا۔۔۔میری آنکھوں کے سامنے قتل۔۔قتل ۔۔۔میں نے دیکھا۔۔"اقصیٰ جمشید صاحب کو سامنے دیکھ ہاتھ پکڑ کر اپنے کپڑوں کی جانب اشارہ کرتی، ابھی بھی خواب کے زیر اثر حواس باختہ سی تھی۔۔ "نہیں بیٹا ایسا کچھ نہیں۔۔تم گھر میں،اپنے کمرے میں موجود ہو ۔۔"شگفتہ بیگم دل پر ہاتھ رکھتی گھبرا کر آگے آئیں۔۔ "نہیں ۔۔میں سچ کہ رہی ہوں۔اس نے قتل کر دیا۔میری آنکھوں کے سامنے۔۔اور میں۔۔میں وہیں تھی۔میرا ایکسیڈنٹ۔۔۔"اقصیٰ اُن کی آنکھوں میں بے یقینی دیکھ اپنی بات پر زور دے کر بولی۔ اس وقت رات کے بارہ بج رہے تھے۔اقصیٰ کی غِیر ہوتی حالت نے ان دونوں کو بھی بوکھلا کر رکھ دیا تھا۔۔ "نہیں!!!تم نے ضرور کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے۔اور کچھ نہیں۔سب ٹھیک ہے۔یہاں کوئی بھی نہیں ہے۔دیکھو تم اپنے کمرے میں،اپنے بیڈ پر موجود ہو۔۔"شگفتہ بیگم نے اسے حواس باختہ سا اِرد گرد میں نظر دوڑاتا دیکھ تسلی دی۔۔ "خواب۔۔نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔میں نے خود دیکھا تھا۔اس نے اِس لڑکی کا قتل کر دیا۔میں آفس سے واپس آرہی تھی۔جب میں نے خود دیکھا تھا۔"اقصیٰ ابھی بھی اپنی بات پر قائم تھی۔شگفتہ بیگم نے ایک نظر اٹھا کر جمشید صاحب کو دیکھا پھر اقصیٰ کو۔جو پورے وجود سے کپکپاتی ڈری سہمی سی تھی۔۔ "بیٹا!!تم تو آج جب سے آفس سے آئی ہو۔کمرے سے باہر ہی نہیں آئیں۔ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو تم ہمارے ساتھ کھانا کھا کر کمرے میں آئی ہو۔یہ محض تمہارا خواب ہے۔اور کچھ نہیں۔۔"اب شگفتہ بیگم نے ذرا سخت لہجے میں بول ایسے جهنجھوڑ ڈالا۔۔ "مگر۔۔میں تو۔۔"اقصیٰ ابھی بھی نیند اور خواب کے زِیر اثر وہیں اسی گلی میں کہیں رہ گئی تھی۔ "ہوش میں اؤ!!اپنے کمرے میں ہو تم۔۔ہر وقت آفس کی ٹنشین خود پر سوار رکھتی ہو۔خون خرابہ،یہ وہ۔منع کیا ہے۔آفس کا کام آفس تک رکھا کرو۔حالت دیکھو اپنی۔کیا سے کیا کرلی ہے۔۔"اقصیٰ کو بے یقینی سے درمیان میں ہی خاموش ہوتا دیکھ وہ تیز لہجے میں احساس دلانے لگیں۔جبکہ وہ تو ایسے ساکت بیٹھی تھی۔جیسے قوت سماعت گنوا بیٹھی ہو۔ "کیا دیکھ رہی تھیں اس پر۔"سائیڈ میں ایک جانب پڑا لیپ ٹاپ اٹھا کر انھوں نے تفشیشی انداز میں پوچھا۔ "میں۔۔۔"اقصیٰ نے ذہن پر زور ڈالا۔مگر دماغ بالکل خالی سا محسوس ہوا۔ "یہ سب فضُولیات دیکھ کر سُو گی۔تو کیا خاک کوئی ڈھنگ کاخواب آۓ گا۔پھر تو یہ خون خرابہ بھی ذہن میں نقش رہے گا نا۔"سکرین پر چلتی قتل واردات کی ویڈیو دیکھ اُن کا دماغ گھوما۔۔ جمشید صاحب کے پانی وغیرہ پلانے کے بعد۔اس کے اوسان کچھ بحال ہوۓ .نظر اٹھا کر ارد گرد کا جائزہ لیا تو وہ واقعی اپنے کمرے میں موجود تھی۔خواب کا اثر زائل ہونے لگا تو دماغ نے بھی کام کرنا شروع کیا۔ "وہ میں کل کے شو کے لئے کچھ انفارمیشن اکھٹا کر رہی تھی۔"اقصیٰ کو یاد آیا کہ وہ تو آفس سے آکر سیدھی کمرے میں ہی آئی تھی۔۔ "کرو کام کرو،پوری توجہ سے کرو۔کس نے منع کیا۔مگر کام کو کام کےطریقے سے کرو۔کسی بھی چیز کو ذہن پر اتنا سوار تھوڑی کرتے ہیں۔کہ ہر وقت اسی کے متعلق ہی سوچتے رہو۔"جمشید صاحب نے تاسف سے اس کا ڈرا سہما چہرہ دیکھ،سمجھانے والے انداز میں کہا۔ اقصیٰ دھیرے سے اثبات میں سر ہلا تی خاموش ہوگئی۔شکر تھا کہ وہ سب ایک بھیانک خواب ہی تھا۔کوئی حقیقت نہیں تھی۔ورنہ اگر ایسا ہوتا تو۔سوچ کر ہی اقصیٰ نے جھرجھری سی لی۔ "رات بہت ہوگئی ہے۔تم آرام سے سو جاؤ۔ہم جاگ ہی رہیں ہیں،اگر ڈر لگے تو آواز دے لینا۔مزیدصبح بات کرتے ہیں۔"وہ دونوں ایسے بیڈ پر لیٹا کر کمبل درست کرتے سو جانے کی تاقید کرتے کمرے سے باہر نکل گئے۔جب کہ اس کا دماغ اس خواب میں ہی اٹکا پڑا تھا۔۔ بیڈ پر نیم درازی کی حالت میں لیٹی وہ مسلسل چھت پر چلتے پنکھے کو دیکھ خوف زدہ سی تھی۔اِسی سنسان گلی کا منظر بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے لہراجاتا۔جو آنکھیں کُھلی رکھنے پر مجبور کر رہا تھا۔جبکہ دماغ سوچ کے نئے تانے بانے بُننے میں مصروف تھا۔۔ ______ ہاتھ میں مائیک پکڑے وہ اپنی ٹیم کے ہمرا بہت محتاط انداز میں قدم اٹھاتی اپنی منزل کی جانب گامزن تھی۔کیمرے مین اس کے ساتھ ہی قدم اٹھا رہا تھا۔جبکہ ٹیم کے باقی لوگ اسے اپنے گھیرے میں لئے اسکی ہمراہی میں ہی قدم اٹھا رہے تھے۔۔ نرمین کے چہرے پر ڈر واضح تھا۔وہ یہاں آتو گئی تھی۔مگر اس علاقے کی صورتحال دیکھ اس کا دل سوکھے پتے کی مانند لرز رہا تھا۔بس نہیں چل رہا تھا کہ یہاں سے کہیں دور بھاگ جائے۔وہ اِس کچی آبادی کے اندر گُھس چکے تھے۔ارد گرد میں نئی بسيت کے لوگ اس علاقے میں میڈیا والوں کو دیکھ ایک ہجوم کی سی صورت میں اپنے اپنے گھروں سے باہر کو اتے وہاں ہجوم لگا کر کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔ اب وہ اس کارخانے کے لوہے کے مضبوط دروازے کے عین سامنے کھڑے تھے۔نرمین نے ہراساں نظروں سے ارد گرد دیکھا۔آس پاس میں کھڑے لوگ عجیب سی نظروں سے پینٹ شرٹ پہنے،اور گلے میں آئی ڈی کارڈ ڈالے کھڑی اس ماڈرن سی لڑکی کو دیکھا۔جو شاید کوئی نیوز پڑھنے والی لگتی تھی۔۔یا یوں کہا جائے کہ جو شاید بھڑوں کے چھتّے میں ہاتھ ڈالنے کو بہت آسان سمجھ رہی تھی۔ "کیا پہلے میں اندر جاؤں۔"نرمین نے بیچارگی سے کیمرے مین سے پوچھا۔ "ظاہر سی بات ہے۔پہلے آپ اندر چلو۔پھر میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے آتا ہوں۔"پروگرام کے آغاز کی ایک چھوٹی سی كلپ ریکارڈنگ تو وہ یہاں سے ذرا مسافت پر ہی کر چکے تھے۔مگر اصل شو شروع ہونے کا وقت تھا اب۔۔ "سر دروازہ کھولیں۔ہمیں اندر جانا ہے۔"نرمین اپنے تاثرات پر قابوں کر وہاں موجود عام کپڑوں میں ملبوس کھڑے پہرے دار سے سے سخت لہجے میں بولی۔ کیوں۔"اس نے کرخت لہجے میں پوچھا۔ "زیادہ کچھ نہیں۔ہم بس دیکھنا چاہتے ہیں۔کہ یہاں کس طرح کام ہو رہا ہے۔ہم ہماری عوام کو دکھانا چاہتے ہیں کہ یوں اس طرح چھوٹے پیمانے پر تیار ہونے والی اشیاء ۔ہماری عوام کے لئے صحت بخش بھی ہے کہ نہیں۔"نرمین نے اپنا لہجہ مضبوط بنانے کی پوری کوشش کی۔مگر پہرے دار کی کی پوسٹ مارٹم کرتی نگاہوں سے اس کا سارا کونفیڈینٹ چُھو ہوا۔۔ "دروازہ کھولو۔ہمیں اندر جانا ہے۔"ٹیم میں موجود ساتھی لوگ بھی اب آگے کو آۓ تھے۔ "یہ دروازہ نہیں کھل سکتا۔جاؤ یہاں سے.اپنا منجن کہیں اور جا کر بیچو۔"اُس کا روایہ
