Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 05
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 05/01/2026
2 Views
Episode No 05
#محبّت_بازیِ_آخر #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_05 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "السلام علیکم!!!"سیف آغا نے مسکرا کر لاؤنج میں قدم رکھتے بلند آواز میں سلامتی بھیجی۔۔ "وعلیکم سلام۔کیسے مزاج ہیں ایس پی صاحب کے۔"سیف کے والد صاحب نے اپنے خوبرو بیٹے کو پولیس کی وردی میں ملبوس دیکھ مسکرا کر پوچھا۔ "مزآج تو کافی اچھے ہیں۔آپ سنائیں!!آپ کی خبریں کہاں تک پہنچیں۔"سیف نے ان کے ساتھ ہی صوفے پر نشست سنبھال کر شوخی سے پوچھا۔۔ "خبریں تو وہیں ہیں۔جو پہلے تھیں۔بس ٹائیگر،ٹائیگر ۔۔۔مجھے تو لگ رہا ہے ان میڈیا والوں کی دکانیں جب تک نہیں چلتیں جب تک یہ ٹائیگر کے نام کا منجن نہ بیچ لیں۔"رفیق صاحب تو جیسے موقع کی تاک میں بیٹھے تھے۔۔ سیف کی جانب سے ایک زور دار قہقہہ بلند ہوا تھا۔یہ ان کے گھر کا روز کا معمول تھا۔وہ یونہی آتا تھا۔اور وہ میڈیا والوں کا رُونا شروع کر دیتے تھے۔۔ "تو بابا اس میں ان کی کیا غلطی۔چینلز پر تو وہی آتا ہے۔جو عوام دیکھنا چاہتی ہے۔اب ہماری عوام ہی ٹائیگر گینگ کی اتنی بڑی فین ہوگئی ہے کہ جس چینل پر ٹائیگر کا ذکر نہ ہو۔اس کی راٹنگ نہیں آتی۔تو آخر میڈیا والے بچارے بھی اب کیا کریں۔۔"سیف نے آرام دہ انداز میں ٹيبل پر پیر پسار کر ابرو اُٹھا کر ان کی جانب رُخ کئے سوالیہ انداز میں کہا۔۔ "ارے چھوڑو میاں،ٹائیگر ٹائیگر۔۔ارے کہاں کا چیتا اور کہاں کا گیدڑ۔۔صرف نام اور برے کاموں کی ہی شہرت کمائی ہے۔اگر اتنا ہی جیدار اور جنگل کا بے تاج بادشاہ ہے تو ذرا اپنی چہرہ شناسی بھی کراۓ، اور پھر دے فورسسز کو چکما۔تو جانے آیا بڑا کہیں کا ٹائیگر۔ہونہہ ۔۔۔"رفیق صاحب نے تو ایک ہی جھٹکے میں سیف کو آڑے ہاتھوں لے کر حساب برابر کیا تھا۔۔جبکہ وہ منہ کھولے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا۔جو ٹائیگر ایک نام چی غنڈے کو ایک گیدڑ سے ملا رہے تھے۔جیسے پکڑنے میں پوری پولیس فورس ناکام تھی۔۔ "بابا یہ تو آپ انڈراسٹیمیٹ کر رہے ہیں ٹائیگر کو۔بڑا دلدار چیتا ہے۔صرف نام ہی نہیں نظر کا بھی چیتا ہے۔وہ ہماری پوری کی پوری ٹیم کو ایسے چکما دیتا ہے کہ ہم صرف منہ تاکتے رہ جاتے ہیں۔"سیف تو ٹائیگر کے دفاع کے لئے ایسے میدان میں کودا تھا۔جیسے وہ اس کا مطلوبہ مجرم نہیں بلکے جگری یار ہو۔۔ "ارے پرے ہٹو میاں!!ہوگا چیتا اپنے گھر کا۔ارے اپنے بل میں تو چوہا بھی ببر شیر ہوتا ہے۔جبکہ اصل شیر تو وہ ہوتا ہے جس کی ایک دھاڑ ہی مقابل کو خوف میں مبتلاکردے۔"رفیق صاحب سیف کو جھڑک کر جانے کونسی مثالے دینے بیٹھ گئے تھے۔۔ "اچھا بھئی آپ جیتے اور میں ہارا۔یہ بتائیں کھانے میں کیا بنایا ہے۔"سیف کچھ دیر تو منہ کھولے انکی قیاسہ آرائیاں سنتا رہا۔پھر ہاتھ ہوا میں بلند کر، سرینڈر کرنے والے انداز میں ان کے آگے ہتیار ڈال کر اپنے مطلب کی بات پر آیا۔ "کیا مطلب کھانے میں کیا بنایا ہے۔میں کیا تمہارا خانساماں لگا ہواہوں۔ خود ہی جاکر دیکھ لو کچن میں کہ کیا بنایا ہے۔"رفیق صاحب نے خبریں بند ہوتے ہی ماتھے پر شکن سجاۓ سر جھٹکا، ساتھ ہی پاس رکھا اخبار اٹھا کر آہستہ سے ہاتھ کو جھٹک کر اخبار کا پلندہ کھول کر اپنے منہ کے سامنے پھیلایا۔۔ "واہ مولا تیری شان۔گھر میں تو انسان کی کوئی عزت ہی نہیں ہے۔۔مطلب گھر کی مرغی دال برابر۔ارے والد صاحب ذرا باہر جا کر دیکھیں، آپ کے ایس پی بیٹے سیف آغا کی اس معاشرے میں کتنی عزت ہے۔پولیس اسٹیشن میں ہر جانے والا سلام صاحب کے ساتھ سلوٹ ٹھوک رہا ہوتا ہے۔اور یہاں،گھر اؤ تو،کھانا بھی خود ہی گرم کر کے نکال کر کھانا پڑتا ہے۔اس سے اچھا تو میں سارا دن پولیس اسٹیشن میں ہی گزاروں۔"سیف پرانی خواتین کی طرح ہاتھ جُھلا جُھلا کر تقریری انداز میں منہ بنا کر ناراضگی سے گویا ہوا۔جبکہ بظاہر بےنیازی سے اخبار پڑھنے میں خود کو مگن ظاہر کرتے رفیق صاحب نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے۔اس کی لن ترانیاں سن کر بھی ان سنی کی تھیں۔ "ارے شکر مانو لڑکے،کہ ڈیوٹی پر سے واپسی پر صرف کھانا نکال کر میکرو ویو میں گرم ہی کرنا پڑتا ہے۔گزرے وقتوں کی طرح لكڑیوں پر نہیں پکانا پڑتا۔۔اللّه کے شکر کے بعد مجھے دعائیں دو کہ میں ایک اچھی ماں کا رول پلے کرتا تمہارے گھر انے سے پہلے ہی ہر کام مکمل زمہ داری سے سر انجام دے چکا ہوتا ہوں۔۔۔۔"رفیق صاحب نے بھی تیز آواز میں ایسے سنانے والے انداز میں اپنی اہمیت جتائی۔ دال چاول پلیٹ میں نکالتا سیف ان کے احسان جتانے والے انداز پر بے ساختہ ہی مسکرا اٹھا۔۔۔ رفیق صاحب تین سال قبل اپنی بیوی جبکہ سیف اپنی ماں کی اچانک موت کے باعث غم سے نڈھال دنیا سے بے گانا سے ہوگئے تھے۔مگر وقت کب کسی کے لئے رکتا ہے۔ اپنے ماں کے ہاتھوں سے سجاۓ اس خوبصورت سے اشیانے میں اب وہ دونوں باپ بیٹے تنہا ہی زندگی کی گاڑی کو دھکا دینے پر مجبور تھے۔گھر میں مزید کوئی خاتون نہ ہونے کے باعث یہ عورتوں والے کام بھی دونوں باپ بیٹا یا پھر یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ رفیق صاحب ہی سر انجام دیتے تھے۔کیونکہ سیف تو اپنی ڈیوٹی پر ہی ہوتا تھا۔اور یہ کام بھی انہی کے ذمہ لگ جاتا تھا۔کوئی بھی ملازمہ اول تو کام کرنے پر راضی ہی نہیں ہوتی تھی۔اگر غلطی سے کوئی ہو بھی جاتی تھی تو رفیق صاحب کی نفاست پسند طبیعت کی بادولت وہ محض دو ہی دن میں بھاگ جاتی تھی۔ سیف اوپن کچن میں ساتھ ہی پڑی ٹیبل پر سے ایک کرسی سنبھالتا کھانے کی جانب متوجہ ہو چکا تھا۔جبکہ اب وہ اخبار فولڈ کر،ایک جانب رکھ کر کچن میں داخل ہوۓ تھے۔۔ سیف نے منہ میں لے جاتے چاولوں کے چمچ کو بیچ میں ہی روک کر سائیڈ میں کھڑے رفیق صاحب کو دیکھا۔جو ذرا آڑ سے نکل کر مسکرا کر اب اس کے سامنے ہی بیٹھ گئے تھے۔چاول کا چمچ منہ میں رکھ کر سیف مصنوعی انداز میں ناراضگی جتاتا اپنی مسکراہٹ چھپا رہا تھا۔جبکہ وہ مسلسل ایسے مسکرا کر ہی دیکھ رہے تھے۔چند لمحوں بعد ہی کچن میں رفیق صاحب اور سیف کا ایک جان دار قہقہہ بلندہوا تھا۔جو اس بات کی نشان دہی کر رہا تھا کہ وہاں بسنے والے مکین خوش اخلاق ہیں۔جبکہ وہ کھانے سے انصاف کرتے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے تھے۔جس کی شخصیت کا رعب و دبدبا پولیس کی وردی میں اور بھی نكهر سا جاتا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "آہ ہ ہ۔۔۔اپنے پیچھے سے نمودار ہوتی نسوانی زور دار چیخ پر اقصیٰ خوف سے چونک کر پلٹی ۔ "کون۔۔کون ہے یہاں۔۔"شام کے گہرے ہوتے ساۓ میں اقصیٰ خوف زدہ سی تھوک نگل کر،پھنسی پھنسی آواز سے سن سان پڑی گلی کی جانب بڑھی۔ جبکہ اپنے قریب سے اٌبھرتی رپورٹر کی خوف سے کپکپآتی آواز پر اندھیرے میں پلر کی آڑ میں کھڑے شخص کی سرخ آنکھوں میں شیطانیت سی ناچی تھی۔۔ "کون ہے یہاں۔۔۔"اقصیٰ دھیمے دھیمے قدم اُٹھاتی چوکنا سی مزید آگے آئی تھی۔ جبکہ ٹائیگر کے شکنجے میں پھڑپھڑاتی لڑکی،زندگی اور موت کی کشمکش میں بلآخر اس کے ہاتھوں میں ہی دم توڑ گئی ۔اپنے اُپر بھاری وجود محسوس کر، وہ ایک جھٹکے سے اس لڑکی کو اقصیٰ کی جانب دھکیلتا چیتے کی سی رفتار سے اسی اندھیرے میں غائب ہوگیا تھا۔۔ "آہ ہ ہ۔۔اپنے اپر گرتے ایک بے جان وجود کو دیکھ اقصیٰ خوف سے چلا اٹھی تھی۔اس لڑکی کی آنکھ،ناک،کان ہر جگہ سے خون بہ رہا تھا۔۔خوف سے روتی کپکپآتی ،اقصیٰ
