Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 01/01/2026
15 Views
Episode No 01
اب ذرا خاموش ہو کرموبائل کی جانب متوجہ تھی۔ساتھ ساتھ اس کی باتیں بھی سُن رہی تھی۔ "یار اس موبائل کی جان تو چھوڑ دو۔میں بولے جارہی ہوں۔اور تم صرف ہوں ہاں میں ہی جواب دے رہی ہو۔"اقصی نے اُسے مسلسل موبائل پر مصروف دیکھ جھنجھلا کر ٹوکا۔۔ "ٓاہاں یار بولو،بولو۔نرمین موبائل سائیڈ میں رکھتی جلدی سے اُس کی جانب متوجہ ہوئی۔جو اِس کی توجہ کی ہی منتظر تھی۔۔ " یار میں سُوچ رہی تھی کہ کل رات جو وردات ہوئی ہے۔اِس کے پیچھے کیا واقعی ٹائیگر اور اُس کے گینگ کا ہاتھ ہے؟؟"اقصیٰ نے پر سُوچ انداز میں استفسار کیا۔ "ظاہر سی بات ہے ،اور بھلا کس کا ہاتھ ہوگا۔نرمین نے بے نیازی سے کندھے اُچکائے۔ "پر یار! مجھے پتہ نہیں ایسا کیوں لگتا ہے جیسے ضرور کوئی گڑ بڑ ہے۔کیونکہ وہ تو کافی عرصے سے روپوش ہے۔توپھر وہ یہ سب کیسے کر سکتا ہے۔۔"اقصٰی نے اہم نکتے پر پہنچ کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ "لو بھئی! تم تو جب کرنا عجیب ہی بات کرنا۔"نرمین نے تیوری چڑھا کر کہتے سر جھٹکا۔۔ "یار! تم میری بات کا مطلب نہیں سمجھ رہیں،میرا کہنے کا مطلب یہ ہے،کہ اس شہر میں ایک واحد گینگ ٹائیگر کا ہی تو نہیں ہے ۔یہ کام کیسی اور گینگ کا بھی تو ہوسکتا ہے۔"۔اقصٰی نے بہت سوچ بچار کے بعد اپنی رائے کا اظہار کیا۔ "ارے یار! تم فضول میں اتنا سوچ رہی ہو۔ایسا کچھ نہیں ہے۔ٹائیگر گینگ اتنا بڑا گروہ ہے۔تمہیں کیا لگتا ہے۔یہ چھوٹے موٹے گینگسٹرز اس کہ آگے ٹک سکتے ہیں۔بلکہ میرے خیال میں وہ تو خود اس کی جی حضوری کرتے ہونگے۔"نرمین نے آنکھ دبا کر شرارت سے مسکرا کر قیاسہ آرائی کی۔جتنا ہولڈ ٹائیگر کا اِس شہر پر تھا۔اس کے بعد ایسا سوچنا کوئی اچھنبے کی بات ہرگز نہیں تھی۔ "کہ تو تم بھی ٹھیک رہی ہو۔" ۔اقصٰی نے کسی سُوچ کے زِیر اثر کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔۔ "اقصیٰ اور نرمین ابھی باتوں میں ہی مصروف تھیں۔کہ کافی شاپ میں یکا یک بھونچال سا آگیا۔دوسری تیسری ٹیبل کے لوگوں کی چیخیں خوف سے بلند ہوگئیں تھیں۔منہ پر سیاہ ماسک لگائے ،سیاہ لباس اور جیکٹ میں ملبوس جدید اسلحٰے سے لیس ڈاکیتوں نے وہاں دو چار فائر کر کے سب کو خوف زدہ کردیا تھا۔ لوگوں میں مزید خوف و ہراس بڑھ گیا تھا۔اقصیٰ اور نرمین بھی حواس باختہ سی ڈر کر ایک کونے میں کھڑی ھوگئیں تھیں۔وہ غنڈے چار پانچ لوگوں اور وہاں کے اسٹاف سمیت سب کو اپنے گھیرے میں لے چکے تھے۔اقصیٰ کو آج حقیقت میں اس طرح کی صورتحال کا سامنہ کرنا پڑا تھا۔ورنہ تو آج تک اس گینگ کی دہشت گردی کو محض خبروں یا اخباروں میں پڑھ رکھا تھا۔۔اس بار اسکرین پر پٹر پٹر رپورٹنگ کرنے والی اقصیٰ کے حواس تک معطل ہو گئے تھے۔ "خاموش بالکل خاموش، کوئی ہلنے کی کوشش بھی نہیں کرنا۔ہوشیاری نہیں۔ "سرد لہجے میں بولتے۔وہ ان سب چھوٹے بڑوں کے خوفزدہ چہرے دیکھ درشت لہجے میں چنگھاڑے تھے۔۔ "دیکھو،یہ سب لوگ بے قصور ہیں۔۔یہ معصوم شہری ہیں۔تمھیں جو بھی بات کرنی ہے۔ہم سے کرو۔"وہاں کا آنر جو اتفاق سے آج وہیں موجود تھا۔ڈور کر اُن کی جانب آتا صلح جو آنداز میں بولا تھا۔۔۔ اُس کی بات نظر انداز کرتا،ایک نقاب پوش دور سے ہی اقصیٰ کو ڈرا سہما کھڑا دیکھ۔قدم قدم چلتا اس کے نزدیک آیا تھا۔جو خوف سے قدم پیچھے کو اُٹھاتی دیوار سے چپک گئی تھی۔نرمین کا حال بھی اس سے کچھ خاص مختلف نہیں تھا۔۔ ٹائیگر قدم اُٹھاکر اُس کہ مزید نزدیک آتا اُسے ہراساں کر رہا تھا۔جو خوف سے تھر تھر کانپ رہی تھی۔ ماسک کے پیچھے چہرے پر اچانک سے شیطانی مسکراہٹ رقصاں ہوئی تھی۔ "رپورٹر۔۔"عجیب سے لہجےمیں کان کے پاس اُبھرتی سر گوشی پر اقصیٰ کی آنکھیں حیرت کی زیادتی سے پھیل سی گئیں تھیں۔ "اوہ ہیرو ،اگر اپنی جان کی امان چاہتا ہے تو یہیں سائیڈ پر کھڑا ہوجا۔۔ہوشیاری دکھانے کی ضرورت نہیں۔شاپ کے آنر کو لڑکیوں کی جانب قدم بڑھاتا دیکھ ایک نقاب پوش نے گن اُس کی کنپٹی پر رکھ کر دھمکایا۔وہ بے بسی سے وہیں ٹہر گیا تھا۔اور پریشانی سے اُس نقاب پوش کو اُن لڑکیوں کو خوف زدہ کرتا دیکھ رہا تھا۔ اقصیٰ خوف سے گردن پھیر کر آنکھیں میچ گئی تھی۔جبکہ ٹآئیگر مسُکراتی آنکھوں سے اُس کے چہرے پر پھیلا ڈر و خوف دیکھ اُس کی حالت سے خظ اُٹھا رہا تھا۔ "رپورٹر!! میرا نام تو ٹی وی پر بڑی دلیری سے لیتی ہو۔اور مقابل آنے پر نظریں چُرا رہی ہوں۔یہ تو بڑی ناانصافی ہے رپورٹرررر۔۔۔"ٹائیگر کی قیاسہ آرائی پر اقصیٰ کی آنکھیں پٹ سے کُھلی تھیں۔تو کیا وہ اس شیطان کی نظروں میں آچکی تھی۔۔ بے ساختہ ہی نگاہیں اس کی سُرخ انگارا نگاہوں سے جا ملی تھیں۔جو اس کی عجیب سی یا پھر نفرت بھری نگاہ سے دیکھتا وحشت زدہ کرگیا۔۔۔جو بلاوجہ اس کہ راستے میں آرہی تھی۔۔ "مجھ سے دور رہو رپورٹر۔ورنہ اپنی آگ میں تمھیں بھی جلا کر خاستر خاک کر دوں گا۔"ٹائیگر کی اس بات پر اقصیٰ نے ناسمجھی سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔آخر اس بات کا پس نظر کیا تھا۔ "میں ۔۔میں ۔۔نے کیا ۔۔کیا۔۔"اُس کی گن ماتھے پر آتی دیکھ خوف سے اقصیٰ کے ٹوٹے پھوٹے الفاظ بھی حلق میں ہی دب گئے تھے۔اس اچانک افتاد پر وہ گھبرا کر ہی رہ گئی تھی۔رہے سہے اوسان اس کی آمد نےخطا کر دئیےتھے۔ "ٹائیگر گینگ سے دور رہو رپورٹر ورنہ اگلی بار وارننگ نہیں دونگا۔سیدھا ٹھوک ڈالوں گا۔"انتہائی سرد لہجے میں بولتا وہ آخر میں اُس کہ چہرے پر شدّت سے غُرایا تھا۔زور سے آنکھیں میچ کر کھڑی اقصیٰ کی خوف سے چیخ بلند ہوگئی تھی۔۔ "پیٹر کام ہوگیا۔اقصیٰ کو زور زور سے روتا دیکھ اپنے ساتھی سے پكارا۔جو کاؤنٹر پر سے سارا کیش اُٹھا چکا تھا۔اب اس لڑکی کی خاطر اتنی دور سے خواری کاٹتا یہاں آیا تھا۔تو ذرا ہاتھ صاف کرنا تو بنتا تھا۔ "سن اؤ رپورٹرآج کی خبر مجھے ہر اخبار کی زینت چاہیے۔آج اس شہر میں ہونے والی ہر واردات کے پیچھے صرف اور صرف ٹائيگر کا ہاتھ ہوگا۔اور یہ خبر تو میڈیا تو دے گی۔اپن کو کل کے ہر اخبار میں چاہیے ورنہ۔۔۔۔خوف سے کپکاتے لوگوں کو دیکھ، دو ہوائی فائر کر اُن پر اپنی دہشت کی دھاک بیٹھاتا وہ سیدھا سے اقصیٰ سے مخاطب ہوتا سرد لہجے میں غرایا تھا۔اقصیٰ کی تو پہلے ہی خوف کے مارے جان نکلی جا رہی تھی۔اُس کے غرانے پر بے ساختہ ہی سر اثبات میں ہل گیا تھا۔ایک بار پھر ٹائیگر اس کی فرمابرداری پر مسکرا اُٹھا تھا۔جو کل تک بڑی دلیر بنی گھوم رہی تھی۔اور اب آواز بھی حلق سے نکلنے سے انكاری تھی۔نظریں گھُما کر باقی تمام لوگوں کو دیکھا جو خوف سے اِسی کو دیکھ رہے تھے۔شاپ آنر کو اپنی جانب گھورتا دیکھ۔پہلے تو رُخ موڑ کر جانے لگا پھر اچانک ہی پلٹ کر سیدھا نشانہ اس کے پیر کا لئے،بڑے تحمل کے ساتھ وہاں سے دندناتا ہوا نكلتا چلا گیا تھا۔۔۔۔ "آہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔پیچھے چیخ و پکار سے ایک عجیب ہی عالم ہوگیا تھا۔جبکہ اقصیٰ تو اب ساکت و جامد سی سُن کھڑی تھی۔اُس کو تو اب تک یقین ہی نہیں آرہا تھا۔کہ ٹائيگر اس کے اتنا قریب تھا۔اور وہ ابھی تک زندہ تھی۔۔اب پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس شخص کے پیر سے پانی کی طرح بہتا سرخ ماده دیکھ رہی تھی۔جو تکلیف سے بری طرح ٹرپ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ******* جاری ہے۔۔۔ ناول مکمل لکھا ہوا ہے ۔۔۔روز پوسٹنگ ہوگی
