Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 01/01/2026
15 Views
Episode No 01
کے چہرے پر ٹہر سی گئی تھی۔یہ چہرہ تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔اچانک سے سُرخ انگارا ہوتی نگاہوں میں بے انتہا نفرت سمٹ آئی تھی۔۔۔ ******** "آپ اقصیٰ کو سمجھاتے کیوں نہیں ہیں۔کیا ضرورت ہے۔یہ روڈ شوز کرنے کی بس سیدھا سیدھا نیوز پڑھا کرے۔یا اگر شو ہوسٹ کرنے کا اتنا شوق چڑ رہا ہے۔تو کسی سیاست دان کو شو میں بلاوا کر اس کے ساتھ شو ہوسٹ کرلیں۔یہ گینگسٹرز سے الُجھنے کی کیا ضرورت ہے۔"شگفتہ بیگم ابھی حال ہی میں ہوا،اس کا شو دیکھ کر بهپر گئی تھیں۔ جمشید صاحب نے ناک پر رکھا چشمہ ُاتار کر ایک طرف رکھا اور ان کی جانب دیکھا،جو مسلسل جلے پیر کی بلی کی مانند ادِھر اُدھر گشت کرتی مسلسل پریشانی کے عالم میں کچھ نہ کچھ بول رہی تھیں۔۔بس نہیں چل رہا تھا۔ورنہ وہ اقصیٰ کا ہاتھ پکڑ کر گھر میں بیٹھا لیتیں۔جو چلی تھی دنیا سر کرنے۔ "صحافت اس کا شوق ہے۔اور ایسا بھی کیا غلط ہے۔۔ رپورٹر کا تو کام ہی یہی ہے۔معاشرے کی بُرائی کو دنیا کے سامنے اُجاگر کرنا۔بحث و مباحثہ کرنا۔کہیں زیادہ تو کہیں کم مگر بات تو کرنی پڑتی ہے۔اختلافات ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔۔"جمشید صاحب نے تحمل مزاجی سے سمجھانے والے انداز میں کہا۔۔ "وہ سب تو ٹھیک ہے جمشید صاحب۔شوق کو شوق ہی رکھے۔اس طرح کے معمالات میں کیوں داخل اندازی کر رہی ہے۔یہ لوگ بہت خطرناک ہیں۔اپنی بیٹی سے کہیں کہ ذرا اپنی زبان پر قابوں رکھے۔ورنہ مجھے تو لگ رہا ہے۔ہم بہت جلد کوئی بڑا نقصان اُٹھانے والے ہیں۔"شگفتہ بیگم پریشانی سے اپنے خدشات کا اظہار کرتیں،غصّے میں کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔ جبکہ پیچھے بیٹھے جمشید صاحب کسی سُوچ میں غرق دکھائی دے رہے تھے۔ایک عرصہ اُنہوں نے بھی صحافت کی تھی مگر جاب کو جاب کی ہی طرح رکھا تھا۔مگر اقصیٰ کچھ زیادہ ہی سر پر سوار کر رہی تھی۔ ***** "یہاں آنے کی کیا ضرورت ہے ٹائیگر !!ابھی یہاں کی پولیس تمہاری ہی تاک میں بیٹھی ہے۔تمہاری تلاش اب بھی جا رہی ہے۔ہم سب بھی اڈوں سے فرار ہیں۔دو بار ریٹ پڑ چکی ہے۔۔"ٹائيگر کے ساتھی دوست نے اس سے فون پر گفتگو کرتے اسے فی الحال اپنے آرادوں سے باز رہنے کا کہا۔جو ایک نئی مصيبت سرلینے کے چکر میں تھا۔۔۔ دوسری جانب سےٹائيگر کا ایک جاندار قہقہہ سُنائی دیا تھا۔وہ اُس کو ڈرا بھی کن لوگوں سے رہا تھا۔جو آج سے نہیں کئی سالوں سے اِس کے پیچھے خوار ہورہے تھے۔مگر وہ ٹائیگر تھا۔چیتے کی سی رفتار سے بھاگنے والا۔۔۔ "چھوٹے ایسا بھونڈا مذاق تو اپن کے ساتھ نہ کیا کر یارا۔ڈرانا ہی تھا تو کسی ایسی ہستی کا نام لیتا جیسے سن کر واقعی کپکپی آجاتی۔یا میں خوف سے تھر تھر کانپنے لگتا۔یہاں تو سالی ابھی تک کوئی جھرجھری بھی نہیں آئی۔"مذاق اُڑاتے لہجے میں تبصرہ کرتا وہ آج موڈ میں لگ رہا تھا۔ٹآئیگر کے موڈ کی شوخی کسی اچھی خبر کا پیش خیمہ ہرگز نہیں تھی۔نجانے یہ خوشی کس،معصوم کی سانسیں خشک کرنے والی تھی۔۔ "لیکن یارا تو کرے گا کیا یہاں آکر۔مجھے بتا،میں اس رپورٹر کو ابھی اُٹھا لاتا ہوں۔پھر تو جیسے مرضی چاہیے اِس کی زبان بند کرانا۔مگر ابھی یہاں نہیں واپس نہ آنا میرے یار۔ورنہ بڑا لفڑا ہوجاۓ گا۔۔"یاور اس گینگ کا سب سے اہم اور ٹائيگر کا لاڈلا بندہ تھا۔اُسے اس کے ارادے بالکل بھی نیک نہیں لگ رہے تھے۔ "نہ نہ چھوٹے اب تو جو بات ہوگی۔وہ مدِمقابل ہی ہوگی۔میں بھی تو دیکھوں آخر کتنا دم ہے،اس رپورٹر میں۔"وہ بستر پر دراز آنکھیں بند کئے کسی اور ہی سُوچ میں گُم تھا۔ دوسری جانب سے اُس نے کچھ کہنا چاہا مگر جب تک وہ فون کاٹ چکا تھا۔چھوٹے کے ذمہ محض اس کے گھر سے باہر نکلنے،اور جانے کے وقت تک کی جانکاری درکار تھی۔باقی سب تو وہ خود ہی دیکھ لیتا۔۔ ******** "ویل ڈن مس اقصیٰ۔۔۔آپ تو جانتی ہی ہونگی۔ہمارے روڈ شوز کس قدر کامیاب جا رہے ہیں۔اس وقت ہمارے سارے شوز ہی ٹرینڈنگ میں جار ہیں۔صرف صرف آپ بھی محنت اور لگن کی بادولت،یہ آپ ہی کا حوصلہ ہے کہ یوں روڈ کے بیچ و بیچ کھڑے ہو کر ٹائیگر کا نام لیتی ہیں۔بلکہ ساتھ ہی انصاف کے لئے سبھی کے دروازے بھی کھٹکھٹاتی ہیں۔ایک مخلص انسان یونہی اپنے پیشے کے ساتھ ایماندار ہوتا ہے۔"ہفتہ بھر پہلے عوام کے ساتھ ہوا شو سوشل میڈیا پر ٹرینڈنگ میں گیا تھا۔جس میں بہت سے لوگوں نے کمینٹس میں اقصیٰ اور ان کے چینل کو سراہا تھا۔کہ چلو کوئی تو تھا جو اس گھمبیر موضوع کو بھی زیرِ بحث لایا تھا۔ورنہ اب تک تو سب ہی ڈر اور خوف سے خاموش،چپ بیٹھے تھے۔کہ کہیں ٹائيگر نامی بلا انہی پر نہ ٹوٹ پڑے ۔۔۔ "تھنک یو سو مچ سر۔میرا یہ شو کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ عوام اپنے اندر کے ڈر کو ایک سائیڈ پر رکھ کر اپنے حق کے لئے آواز اُٹھاۓ، خاموش نہ رہے،کچھ تو بولے۔۔"اقصیٰ اپنے باس کے شیشے کے بنے آفس روم میں موجود ان کی تعریف پر کھل سی اُٹھی تھی۔۔۔ "جی مس اقصیٰ بالکل صحیح کہ رہی ہیں آپ۔اور انشاءالله ایسا ہی ہوگا۔آپ دیکھئے گا۔کتنی جلدی ہمارا شو اور نیوز چینل اس ملک میں ٹاپ ٹین چینلز میں سے ایک ہوگا۔نیوز چینل کے مالک کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا۔پچھلے کچھ عرصے میں کچھ فیک نیوز نشر کرنے کے باعث ان کے چینل کی ریٹنگ بالکل ڈاؤن ہو چکی تھی۔جو اِنہیں اب اقصیٰ کی بادولت آسمان کو چھوتی نظر آرہی تھی۔ "انشاءلله ضرور سر!!"اقصیٰ کو تھوڑا عجیب لگا مگر پھر مسکرا کر گویا ہوئی۔ "گڈ جاب مس اقصیٰ۔آپ جا سکتی ہیں۔"انہوں نے اسے ایک بار پھر سراہا کر جانے کی اجازت دی۔اقصیٰ بھی اپنے باس کی تعریف پر پُر جوش دکھائی دے رہی تھی۔ ****** "اففف نر مین!!میں تمھیں اپنی خوشی لفظوں میں بیان بھی نہیں کر سکتی،کہ میں آج کس قدرخوش ہوں۔آج باس نے خود مجھے اپنے آفس میں بلوا کر میری تعریف کی تھی۔ایسا لگ رہا ہے۔جیسے آج مجھے میری محنت کا ثمر مل گیا ہو۔"اقصیٰ وہاں سے ڈورنے کے سے انداز میں بھاگ کر نرمین کی جانب آتی،فرط مسرت سے جذبات میں سیدھا اس کے گلے سے لگ گئی تھی۔ "واہ بھئی کیا بات ہے۔مجھے تو پہلے ہی خبر تھی۔آخرمیری دوست ہے ہی اتنی قابل۔تعریف کی حقدار ۔۔نرمین مسکرا کر اُس سے گلے ملتی پر جوش سی شرارت سے گویا ہوئی۔تو وہ اُسے ایک دهپ لگاتی مسکرا اُٹھی۔۔ "چلو پھر، اِسی خوشی میں آج کی کافی میری طرف سے۔تم بھی کیا یاد کروں گی کہ کس بڑے دل والی سے پالا پڑا تھا۔اقصیٰ فراخ دلی سے آفر کرتی مصنوعی تفخر سے بولی تھی۔ ۔نرمین جلدی سے آنکھیں پٹ پٹاکر راضی ہوتی اپنی فائلز اٹھا کر،اس کے ہم قدم ہوئی۔شام کے پانچ ہونے میں چند ہی منٹ باقی تھے۔تقریبً آدھا اسٹاف تو پہلے ہی نکل چکا تھا۔۔ ****** شام کے وقت کافی شاپ میں موجوود اقصٰی ایک کونے میں پڑے ٹیبل پر نرمین کہ ہمرا کرسیوں پربراجمان کافی کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیتی، آج شہر میں ہوئی تازہ وردات کے بابت بات کرتی محو گفتگو تھی۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چہرے کو چھوتے الگ ہی سرور بخش رہے تھے۔شہر بھر کی بہت سی عوام اس وقت اس شاپ میں موجود دنیا جہاں کی فکروں سے غافل اِس خوبصورت شام سے لطف اُٹھانے میں مصروف تھے۔تیز ہوا کے باعث چہرے پر آتی بالوں کی چند لٹیں کان کے پیچھے اُڑس کر نرمین کی جانب متوجہ ہویئ ۔جو
