Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 01/01/2026
15 Views
Episode No 01
پھر جو سزائیں وہ دیتا تھا،ان سے تو شیطان بھی پناہ مانگے۔ ایک طرف دو کرسیاں ملا کر لیٹنے کے سے انداز میں چہرے پر کیپ رکھے آنکھیں بند کر کے لیٹا وہ اپنے وقت کا انتطار کر رہا تھا۔دوسری کرسی پر کینچی کے سے انداز میں دھرے پاوں کو مسلسل حرکت دیتا دھیمی آواز میں کوئی سرٗ ملانے میں مصروف تھا۔۔۔ ’’باس سارے ٹرک لوڈ ہو چکے ہیں ،اب بس ان کی روانگی کا انتظار ہے۔’’ایک ساتھی ہاتھ میں کلاشنکوف تھامے اس کے نزدیک اکر گویا ہوا۔ٹائیگر کچھ دیر کے توقف کے بعد اچانک سے اُٹھ کھڑا ہوا۔وہاں موجود سب لوگ الرٹ انداز میں ہاتھ روک کر کھڑے ہوگئے۔بلیو ڈیمج پینٹ پر کُھلے گریبان کی شرٹ پہنے سنجیدہ سے چہرے پر ہمہ وقت آنکھون میں رہنے والی سُرخی۔۔۔سب پر ایک طائرانہ نگاہ گھما کر ایک ہاتھ سے ڈاڑھی سہلاتا وہ اپنی کسی سُوچ میں محو نظر آرہا تھا۔لڑکیوں کے جیسے لمبے کندھون سے نیچے تک آتے بالوں کی پونی بنا رکھی تھی۔پہلی نظر کے دیکھنے والوں کو اس عجیب سے حلیے میں دیکھنے کی بعد جو پہلا خیال آتا وہ کسی سڑک چھاپ موالی جیساہی تھا۔۔ "راستہ صاف ہے؟’’پستول کمر کے پیچھے لگاکر,ایک آئیبرو اُٹھا کر پوچھا۔ "ہاں ٹائیگر ،راستہ تو بالکل صاف ہے۔ مگر مجھے یقین ہے۔تمہارے چاہنے والے کہیں نا کہیں تمہاری تاک ضرور لگائے بیٹھے ہونگے۔"مقابل نے ایک بے ہنگم سا قہقہہ لگا کر ذومعنی انداز میں کہا۔۔۔ چہرے پر ماسک لگانے سے پہلے اس کے چہرے پر ایک بھسم کرنے والی مسکراہٹ ضرور رقصاں ہوئی تھی۔دو مزید گولیوں سے فل میگزین پینٹ کی پاکٹ میں اُڑس کر وہ ٹرک ڈرائیورز کو اشارہ کرتا اپنی نگرانی میں گودام سے باہرنکل چکا تھا۔رات کی تاریکی میں ٹرک کے سٹارٹ ہونے کے باعث ماحول میں ارتعاش سا پیدا ہوا تھا۔ہیڈ لائٹس کے باعث دور تک روشنی پھیل گئی تھی۔جبکہ وہ ان سب ٹرکس کے اگے ہیوی بائیک پر اپنی نگرانی میں ان سب کو شہر کی حدود سے باہر نکلنے تک ساتھ جانے والا تھا۔۔ آج شہر میں جگہ جگہ ناکا بندی نافذ تھی ،لیکن ٹائیگر بھی چکما دینے میں ماہر تھا۔۔کچھ ہی دوری پر پہنچ کر اُس کو ایک پولیس چوکی نظر آگئی تھی۔جن سے فی الحال ٹرک ڈرائیور خود نبٹ چکے تھے۔وہ بھی پیچھے کے راستے سے وہاں سے نکل چکا تھا۔۔دو چار مزید پولیس چوکیاں بھی آرام سے پار ہو گئی تھیں۔ کچھ ہی دیِر میں ٹرک شہر کی حدود سے باہر نکلنے ہی والے تھے۔اس کے بعد تو راستہ صاف ہی صاف تھا۔شہر کہیں پیچھے رہ گیا تھا۔ٹائیگر واپس مُڑنے ہی والا تھا کہ دور سے ہی ایک مزید چوکی نظر آگئی تھی۔پولیس کے چند ایک اہلکار اُون ڈیوٹی شاید چیکنگ پر تھے۔ چند ایک مزید گاڑیاں لگی ہوئی تھیں۔جن کی چیکنگ چل رہی تھی۔وہ سمجھ گیا تھا۔یہاں اسی کے سواگت کی ہی تیاری چل رہی ہے۔پولیس کے دو اہلکار قریب آتے ٹرکوں میں سے ڈرائیورکو بھی باہر نکال چکے تھے۔ابھی وہ مزید کوئی چیکنگ کرتے یا پھر کوئی کارروائی کر وارلیس پر پیغام آگے پہنچاتے ٹائیگر نے اچانک ہی پیچھے سے حملہ کردیاتھا۔چوکی پر موجود تمام پولیس اہلکار فائرنگ سے زخمی ہوگئے تھے۔ٹائیگر فوری طور پر ان ٹرکوں کو وہاں سے نکال چکا تھا۔جبکہ اس کی واپسی کے سارے راستے بند ہو چکے تھے۔ زخمی پولیس اہلکار اس عرصے میں وارلیس پر اگے رپورٹ کر چکے تھے۔ٹائیگر کی شہر واپسی تک شہر کی آدھی پولیس اس کی تلاش میں پہلے ہی تھوڑے تھوڑے سے فاصلے پر اس کی تاک لگا کر بیٹھی تھی۔۔جنہیں پہلے وہ ہائی وے کی سڑکوں پر گھوماتا ایک پر بار پھر ان سب کو چکما دے کر فرار ہو چکا تھا۔ساری رات پولیس اس کے بہکاوے میں اس کے پیچھے تھی،جبکہ اس کا کام ہو چکا تھا،اب تک یقیناً ٹرک کہیں کے کہیں پہنچ چکے تھے۔فی الحال وہ کچھ دن کے لیے آنڈر گراونڈ ہوچکا تھا۔جانتا تھا کہ اب ایک ہفتے تک میڈیا پر اِسی کے نام کا چرچا رہنا تھا۔ہونٹوں پر عجیب سی مسکراہٹ لیے وہ پہاڑی علاقوں کی جانب گامزن تھا۔۔۔۔ ****** یہ ناول رٹن میں صرف ہما قریشی آفیشل پیج پر پوسٹ ہوتا ہے ۔۔۔مزید کہیں پوسٹنگ کی اجازت نہیں۔۔ ****** "لو،آج پھر ایک نئی خبر اگئی،مجھے تو لگ رہا ہے۔یہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں،ورنہ ایسے کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔کہ ایک شخص اتنے سارے لوگوں کو چکما دے کر فرار ہوجائے،اور ان لوگوں کو اس کے آڈوں تک کا ع لم نہ ہو۔"اقٰصی نے آج کے اخبار پر ایک سرسری سی نگاہ ڈال کر آہستہ سی آواز میں ماتھے پر تیوری چڑھا کرسرگوشی کی۔۔۔ ’’تم کیوں ٹینشن لے رہی ہو یارا،دفعہ کرو جن کا فرض ہے عوام کو تحفظ میسر کرنا جب وہی غافل ہوئے بیٹھے ہیں،تو تم اور میں کیوں فضول میں پریشان ہوں۔’’نرمین نے آج کی سروے رپورٹ تیار کرتے،بے نیازی سے کندھے ُاُچکائے۔ اقصیٰ ایک گہری سانس خارج کرتی اُس کی سوچ پر مایوسی سے نفی میں سر ہلاتی رہ گئی۔کبھی کبھی تو لگتا تھا کہ جو قتل و غارت اس وقت شہر میں پھیلی ہوئی ہے،وہ بالکل ٹھیک ہی ہے،کیونکہ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک بے حس موجود تھا۔تو پھر کہتے ہیں نا جیسی رعایا ویسی حکومت۔ ’’اچھا!!تم بیٹھو میں زرا اپنی ٹیم کی تیاری چیک،کرلوں،آج مجھے ایک بہت اہم شو ہوسٹ کرنا ہے۔۔جس میں ہم ان حالات میں عوام کی رائے جاننے کی کوشش کریں گے۔تم دعا کرنا کے شو اچھا ہو۔’’اقصٰی اپنے چہرے پر بار بار آتی لٹوں کو کان کے پیچھے اُڑستی ایک سرد آہ خارج کرتی اُٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’ان شاءالله !!بیسٹ اف لک۔’’نرمین اُسے تھمزاپ کرتی اپنے کام میں مصروف ہوگئی۔۔۔ ’’تھینک یو!!’’اقصیٰ اپنی ساری ڈیٹیلز کی فائل تیار کرتی اپنے کیبن کی جانب بڑھی۔ ******** " سر شہر کی اِس قدر خراب صورتحال میں آپ کی کیا رائے ہے؟آپ کو کیا لگتا ہے۔کیا واقعی ہماری فورسز اس صورتحال پر سیریس ہوکر قابوں کرنا چاہتی ہیں۔یا اب تک صرف عوام کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔اقصیٰ اس وقت عوام کی رائے جاننے کے لیے روڈ کے بیچ و بیچ مائیک اور کیمرہ لیا ایک ہجوم میں گہری کھڑی تھی۔کتنے ہی لوگ اس کے اِرد گِرد آکر کھڑے ہوگئے تھے۔ "دیکھیں میڈم ،شہر کی صورتحال تو ایسی ہے کہ۔۔۔۔۔مطلب ہر طرف قتل و غارت پھیلی ہوئی ہے۔کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔عوام خوف و ہراس کا شکار ہے۔مگر ہم عوام بھی کیا کریں۔بلاوجہ اور روز روز کے اس خون خرابے سے تو ہم بھی تنگ آگے ہیں۔"ایک شہری کی رائے دینے کے بعد وہ مزید لوگوں کی جانب بڑھی تھی۔جن کی تقریبً بس ایک ہی رائے تھی۔کہ وہ بس اپنے ملک و شہر میں امن و سلامتی چاہتے ہیں۔۔فی الحال یوں کھُلے عام ٹایئگر کا نام لینے کی جرأت ان میں سے کسی میں بھی نہیں تھی۔۔۔ "جیسے کہ ناظرین آپ سب جنتے ہیں کہ ہمارے شہر میں دن با دن خراب ہوتے حالات کا صرف ایک ہی شخص ذمہ دار ہے۔اور وہ ٹائیگر۔۔جس کا سکّہ ہمارے شہر میں چلتا ہے۔یہ ہمارے معاشرے کا وہ ناسور ہے۔جو دن با دن ہمیں ديمک کی طرح چاٹتا چلا جا رہا ہے۔اور ہم کچھ بھی نہیں کر پارہے ہیں۔"پہاڑی علاقے میں ایک چائے کے دهابے پر بیٹھے ٹائیگر نے آئی برو اٹُھا کر اِس رپورٹر کو دیکھا تھا۔جو نجانے کیوں اِس عمر میں اپنی جان کی دشمن بنی ہوئی تھی۔اقصیٰ مزید اس کی شان میں قصیدے پڑھ رہی تھی۔مگر ہر بار کی طرح اس کی نظر اُس
