Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 01/01/2026
15 Views
Episode No 01
رہے تھے۔رنجیدگی سے بولتے دکھ کا اظہار کیا۔ ’’اسی لئے،صرف اسی لئے میں آپ کو کہتی تھی کہ نا بھیجیں اس لڑکی کو اس فیلڈ میں۔شہر کہ حالات دیکھیں اپُر سے اس کی گز بھر کی زبان کیمرے کےآگے چلتی ہے تو بس چلتی ہی چلی جاتی ہے۔مجال ہے جو ذرا کوئی ڈر و خوف ہو اس لڑکی کو۔" شگفتہ بیگم کو تو جیسے موقع ہی مل گیا تھا اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا۔۔ ’’پلیز امی آپ یہ اپنا فکر نامہ صبح صبح شروع نہ کیجئے گا۔’’اقصیٰ نے سلآئس پر مکھن لگاتے بیزاری سے کہا۔جس پر جمشید صاحب نے مسکراہٹ چھپائی۔۔ ’’ہاں ہاں۔۔تمھیں تو میری باتیں برُی ہی لگیں گی۔اقصیٰ میں پھر کہ رہی ہوں۔تمہاری جاب محض عوام تک تازہ ترین خبریں پہچانے کی ہے تو بہتر ہے وہی کرو۔یہ ٹآئیگر اور اس کہ گینگ سے دور رہو۔یہ خطرناک لوگ ہیں اگر خدا ناخواستہ تم اُن کی نظر میں آگئیں یا انہوں نے تمھیں کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو بھلا کیا کریں گئے ہم۔۔"شگفتہ بیگم نے نرم لہجے میں اسے سمجھانا چاہا۔جو مسکرا کر ان کی بات پر اثبات میں سر ہلا کر متفق نظر آرہی تھی۔۔ "مامابالکل صحیح کہ رہی ہیں آپ۔اب میں خطروں سے کئی سو کلو میٹر کہ فاصلے پر ہی رہو گی۔مگر خطر اگر خود میری جانب چل کر آجاۓ تو میں معصوم کیا کروں۔’’اقصیٰ مزے سے ناشتے سے انصاف کرتی معصومیت سے گویا ہوئی۔جس پر شگفتہ بیگم نے تیوری چڑھا کر اس کی جانب دیکھا جبکہ جمشید صاحب اس کی شرارت پر قہقہہ لگا اُٹھے۔۔ ’’اوکے اللّه حافظ!!مجھے دیر ہو رہی ہے۔میں نكلتی ہوں۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ سخت سنُاتیں اقصیٰ جلدی سے اپنا سامان اُٹھا کر انہیں خدا حافظ کرتی گھر سے باہر نکل گئی۔جبکہ پیچھے وہ مسلسل بڑبڑا رہی تھیں۔مجال ہے جو وہ کبھی ان کہ کسی بھی خدشے کو سیریس لیتی ہو۔جبکہ جمشید صاحب محض نفی میں سر ہلا کر رہ گئے یہ ان کے گھر کا روز کا معمول بن گیا تھا۔۔۔ ********* چیتے تو آج کے لئے تیار ہو نا پھر تم۔اڈے پر جتنا بھی مال موجود ہے۔وہ سب تو تم اپنی نگرانی میں نکلوانے والے ہو۔۔ ۔’’پاشا سیٹھ نے ٹیبل پر پڑے مشروب کو منہ سے لگاتے سوالیہ انداز میں پوچھا۔۔ ’’وہ تو اَپن لوگ پہنچا دے گا سیٹھ۔۔ یہ بتاؤ۔اس میں اَپن کا حصّہ کتنا ہے۔’’ٹآئیگر نے گلے میں پڑی سونے کی چین انگلی پر گھماتے اپنے مخصوص لہجے میں پوچھا۔۔ "خوش کر دیں گئے تمھیں چیتے۔۔"سیٹھ نے ذومعنی انداز میں کہتے قہقہہ لگایا۔ "تو سیٹھ سمجھ لے کام ہوگیا۔"ٹائیگر نے کہتے ساتھ ہی سامنے پڑا گلاس اُٹھا کر اپنے منہ سے لگایا۔۔۔ ’’چیتے اس بار میرے مال پر پولیس کی کڑی نگاہ ہے۔اور یہ مال بھی کڑوڑوں کاہے۔ تو ذرا خیال رکھنا۔بس تم یہ مال اس کے مقام تک پہنچا دو پھر سیٹھ تمھیں نوٹوں میں نہلا دے گا۔۔۔سیٹ نے اسے صوفے پر سر گرا کر مدہوش ہوتے دیکھ چوکنا کیا۔۔۔ ’’ سیٹھ ۔۔۔۔۔۔۔بے فکر ہو کر گھر جا۔یہ ٹائیگر کی زبان ہے۔جب ایک بار کہ دیا کہ کام ہوجاۓ گا تو مطلب ہو جائے گا۔’’اس نے نشے میں جانے سے پہلے نیم وا آنکھیں کھول کر باور کرایا۔ اب اس پر آہستہ آہستہ نشہ طاری ہو رہا تھا۔نگاہوں کے سامنے ایک بار پھر اس چپڑ چپڑ کرتی حسینہ کا چہرہ گھوم گیا تھا۔۔سیٹھ اُسے مدہوش ہوتا دیکھ گینگ کہ باقی کہ لوگوں کو چوکس رہنے کی تاقید کرتا وہاں سے نكلتا چلا گیا۔سیٹھ دن کہ اُجالے میں دنیا کہ سامنے شہر کا نام چی بزنس مین تھا۔جبکہ رات کہ اندھیرے میں اس کا ایک الگ ہی کام اور روپ تھا ۔جس سے محض چند ہی لوگ واقف تھے۔۔ دوسری جانب ٹآئیگر نشے میں دهت آدھ کُھلی آنکھوں سے پاشا سیٹھ کی پشت تک رہا تھا۔یہ وہ لوگ تھے جو اپنا کام نکل جانے کہ بعد مشکل پڑنے پر مقابل کو پہچانے سے بھی انکار کردیتے ہیں۔مگر اپنا کام مکمل کرنے کہ لئے اِنہیں ضرورت بھی انہی جیسے بدنامے زمانہ لوگوں کی ہوتی ہے۔۔۔ ******* دراز قد ، بیضوی چہرہ،کھلتے گلاب سی رنگت،بڑی بڑی روشن سیاہ چمک دار آنکھیں اور بھرے بھرے گال جن پر ہر وقت لالی سی چھائی رہتی تھی۔شولڈر کٹ بالوں کو،ہاف کیچر میں قيد کر رکھا تھا۔۔ بالوں کی چند آوارہ لٹوں کو کان کے پیچھے اُڑستی ناموار نیوز چینل کی شیشے کی پرشکوه عمارت میں قدم رکھتی وہ بڑے اعتماد سے قدم اُٹھاتی ذرا عجلت میں دیکھائی دے رہی تھی۔بڑی بڑی گہری سیاہ آنکھیں اِرد گرِد پر جانچتی ہوئی نظر ڈال کر،اب کسی کو متلاشی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔آج دِیر ہو جانے کے باعث جلدی جلدی فاصلہ عبور کرتی وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی جانب جا رہی تھی۔ "اففف یار آج میں بہت لیٹ ہو گئی ۔سر تو نہیں آئے نا ابھی۔’’اپنی مخصوص جگہ سنبهال کر اقصٰی نےذرا عجلت بھرے لہجے میں دریافت کیا۔ ’’بے فکر رہو کڑیے،تمہاری قسمت اچھی ہے،کہ سر اب تک نہیں آئے ہیں۔ورنہ اب تک تمھاری پیشی ٓاچکی ہوتی۔’’نرمین نے ہاتھ جھلا کر ساتھ آنکھیں بھی چلائیں۔اگر اقصٰی اس کو چلتا پھرتا۔اسٹار پلس کہتی تو کچھ غلط بھی نہیں کہتی تھی۔ ’’چلو یار بچت ہوگئی،تم یہ بتاو،کل والے حادثے کی تفشیش کہاں تک پہنچی۔’’اقصیٰ نے چیئر گھسیٹ کر اس کے برابر لگاتے دلچسپی سے پوچھا۔ ’’کہاں تک پہنچنی ہے۔اور اب تفتیش کیا خاک ہوگی۔ایک دو دن کی بات ہے۔پھر یہ کیس بھی تھوڑی سی تفتیش کے بعد بند ہو جانا ہے۔جاں بحق افراد کے گھر والوں نے کیس عدالت میں دائر کرنے سے منع کر دیا ہے۔پولیس کی جانب سے جو زرا قانونی کارروائی ہو بھی رہی ہے۔وہ بھی جلد ختم ہو جائے گی۔’’ بورڈ پر چلتی اس کی مخروطی انگلیوں کے ساتھ ساتھ زبان بھی تیزی سے چل رہی تھی۔۔۔جبکہ یہ سُن اقصی کے چہرے پر مایوسی سی چھا گئ تھی۔ ’’مجھے سمجھ نہیں آتا،لوگ اتنی جلدی اپنے پیاروں کا خون کیوں معاف کر دیتے ہیں۔’’وہ پر سوچ انداز میں گویا ہوئی۔ ’’وہ بھی کیا کرئیں یار!! مجبور ہیں۔اپنے پیاروں کاخون تو کوئی بھی اتنی جلدی نہیں بھولتا،جانے والا تو چلا گیا اب انہیں ان کا بھی تو سوچنا ہے جو اس وقت حیات ہیں۔’’نرمین کی زبان اور ہاتھ دونوں ہی ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔جب کے لپ ٹاپ پر کام کرتے وہ ایک سرسری سی نظر اس پر بھی ڈال لیتی تھی۔ ’’کہ تو تم بھی صحیح رہی ہو۔یہاں ہر انسان اپنی اپنی جگہ بے بس سا ہے۔’’اقصیٰ اس کی بات سے متفق تھی۔ نرمین پر ایک نظر ڈال کر وہ بھی اپنا کام کرنے میں مشغول ہوگئی۔کچھ ہی دیر میں ایسے ٹیم کے ہمرا روڈشو کے لیے نکلنا تھا۔۔۔ ********* آدھی رات کو جب دنیا جہاں کے لوگ ہر غم و فکر سے لاپرواہ دنیا مافیہ سے غافل پُر سکون نیند کے مزہ لوٹ رہے ہوتے ہیں،ایسے میں بہت سے شیطان کے چیلے انسانوں کے روپ میں اِس زمین پر اپنے حصے کی بُرائی پھیلانے میں بھی مشغول ہوتے ہیں۔رات کا دوسرا پہر تھا۔جب رات کے اندھیرے میں چند لوگ گودام میں کھڑے ہیوی ڈیوٹی ٹرکس کو سمگلنگ ہونے والے مال سے لوڈ کرنے میں مصروف تھے۔سارے ٹرکس تقریبً لوڈ ہو ہی چکے تھے،اب اگر انتطار تھا تو بس رات کا۔۔۔ سب ہی مزدور جلدی جلدی ہاتھ چلا کر اپنا اپنا کام مکمل کرنے میں مصروف تھے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ٹائیگر وقت کا کتنا پابند ہے۔اگر زرا سی بھی دیر ہو جاتی یا پھر وقت پر کام مکمل نہ ہوتا،تو
