Mohabbat Bazi E Aakhir Updated Version Complete Novel Online Reading — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 01/01/2026
15 Views
Episode No 01
#محبت_بازیِ_آخر #از_قلم_ہما_قریشی #قسط_نمبر_1 (Updated Version) پیش الفاظ !! یہ تحریر دو سال پرانی یعنی میرے ابتدائی دنوں کی تحریروں میں سے ایک ہے۔جس میں حدسے زیادہ غلطیاں تھیں۔۔مگر اب اسے دوبارہ سے ایف بی پر پوسٹ کرنے کا مقصد ہی ان تمام غلطیوں کی درستگی کے ساتھ مزید کانٹ چھانٹ کرنا ہے۔اُمید ہے کہ آپ اس پر اچھا رسپانس شو کریں گی تاکہ میں دل لگا کر روزانہ کی بنیاد پر ناول پوسٹ کرسکوں۔کیونکہ ناول مکمل لکھا ہوا ہے۔۔ورنہ معذرت رسپا نس اچھا نہ ہو تو میں کام مکمل ضرورکرتی ہوں مگر اولین ترجیحات کی بناء پر نہیں۔۔اب پڑھئیے۔۔ ******** "ناظرین!! آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں،کہ کس طرح کل رات کچھ نامعلوم افراد نے رات کے آندھیرے میں ان معصوم شہریوں سے لوٹ مار کی۔اور ان کی ذرا سی مزاحمت پر اِن معصوم جانوں کو موت کے گھاٹ اتُار دیا۔"شہر سے ذرا مسافت پر ایک گنجان علاقے کی مین شاہراہ کے عین وسط میں لگے خون کے دهبوں کو کیمرے کی زینت بناتی،کل رات ہوئی واردات کے بارے میں عوام کو چیخ چیخ کر آگاہ کرتی اپنے کیمرہ مین کے ساتھ قدم بڑھاتی لڑکی اس وقت غصے سے بهپری ہوئی تھی۔۔ ’’ناظرین یہ دیکھیں،کہ کس طرح درندگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔محض چند کاغذ کے ٹکروں کی خاطر۔۔۔آخر کس لئے؟ محض چند روپوں کی خاطر،کیا ہمارے یہاں انسانی جان اتنی سستی ہوگئی ہے۔کہ اب کوئی بھی چور اُچکا یا پھر کوئی بھی غنڈا موالی بندوق کے زور پر اِن معصوموں کا خون بہا دے۔اور پوچھنے والا کوئی بھی نہ ہو۔۔۔"چہرے پر حد درجہ سنجیدگی لئے۔ہاتھ میں پکڑے مآئیک میں تیز تیز پھولے تنفس سےبولتی وہ اس وقت اس ملک کہ ہر ٹی وی اسکرین پر موجود تھی۔۔ ’’میں پوچھتی ہوں کہاں ہے ہماری پولیس،کیا آپ سب سُو رہے ہیں یا پھر آپ کو اس ملک میں بڑھتی یہ درندگی،خون ریزی کہیں نظر ہی نہیں آرہی۔کیا آپ سب آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔آخر کر کیا رہی ہیں ہماری فورسز؟ اب تک حرکت میں کیوں نہیں آئی ہیں؟کیا آپ کو معصوم عوام کی آہ و سسکیاں،اُن کی چیخ و پکار کیا کچھ سنائی نہیں دے رہی۔آخر کب تک۔۔۔آخر کب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔اور معصوم شہری اِن بے ضمیر لوگوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے رہیں گئے۔آخر کب جان چھوٹے گی ہماری اس ٹائیگر نامی بلا سے۔۔’’آنکھوں میں نفرت کی چنگاری لئے پورے جوش اور جذبہ کے ساتھ اپنا ہر جملہ پُراعتمادی سے بولتی وہ قوم کے کتنے ہی لوگوں کا دل جیت چکی تھی۔۔جبکہ اس کہ آخری لفظوں پر اپنے اڈے پر موجود شخص نے اسکرین پر پٹر پٹر بولتی لڑکی کو نشے کے باعث سُرخ ہوتی آنکھیں وا کرتے بڑی دلچسپی سے دیکھا تھا۔۔۔ جس کی آنکھ میں کسی قسم کا کوئی ڈر و خوف نہیں تھا۔وہ اس ٹآئیگر کا نام بڑے دھڑلے سے لے رہی تھی۔جس کا ذکر عام شہری صرف اشارے کناروں میں ہی کیا کرتے تھے۔جہاں لوگ اس گینگ سے اِس قدر خوف زدہ رہتے تھے کہ بھولے سے اُن گینگسٹر کا نام تک اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے۔کہ کہیں کوئی سرگوشیانہ بھی سُن نہ لے۔اس شہر پر ٹآئیگر کی اتنی دہشت تھی کہ بغیر اجازت تو وہاں پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا اور کہاں یہ پانچ فٹ کی لڑکی بڑی دیدہ دلیری سے کل رات ہوۓ حادثے کا قصور وار اس کو ٹہرا چکی تھی۔۔ ٹائیگر نے اس کا چہرہ حفظ کر کہ سر واپس صوفے کی پشت پر گرا لیا تھا۔جبکہ وہ ابھی بھی اس کے لئے نفرت آمیز الفاظ بولتی اس کے اندر کے حیوان کو جگا چکی تھی۔ اڈے پر موجود ارد گرد اسلحہ سے لیس کھڑے ساتھی گینگسٹرز اپنے باس کی تحمل مزاجی دیکھ ذرا حیران سے تھے۔ جو اسکرین پرایک نظر ڈالنے کے بعد واپسی نشے میں مدہوش ہو چکا تھا۔ شہر میں بڑھتی غنڈہ گردی کا یہ عالم تھا۔کہ اب ہر روز میڈیا میں کوئی نا کوئی خبرسر گرم رہتی تھی۔۔کہیں گھروں میں چوری،راہ چلتے لوگوں سے لوٹ مار،بینکس روبری اور بڑے بڑے اداروں میں لوٹ مار یہ سب شہر میں بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے۔مگر اب تک اس سنگین صورتحال پر قابوں نہیں پایا گیا تھا۔۔اس شہر کی خراب صورتحال کا صرف ایک ہی ذمہ دار تھا۔اور وہ تھا ٹائیگر اور اس کا گینگ۔۔ ******** صبح صادق سے طلوع ہوتے سورج کی شہر میں پھیلتی کرنیں دیکھ لوگ اپنے اپنے کاموں کی جانب رواں دواں تھے۔صبح کے وقت عموماً ہر گھر میں ہی افراتفری کا عالم ہوتا ہے۔۔ محلہ کے ہر گھر سے بچے اپنے اسکول،کالجز کی جانب گامزن تھے۔تو کہیں بڑوں کودفاتر پہنچنے کی جلدی تھی،گو کہ ہر شخص ہی ایک نئے دن میں نئی امنگ اپنے ہمراہ لئے اپنی زندگی کا کوئی نیا محاذ سر کرنے کہ لئے تیار زندگی کے اس میدان میں اپنی حصّے کی جنگ لڑنے کہ لئے تیار تھا۔۔ جمشید صاحب کہ گھر میں بھی اس وقت کچھ ایسا ہی سماں تھا۔ناشتے کی چھوٹی سی ٹیبل پر موجود جمشید صاحب اخبار میں منہ دئیے بڑی دلچسپی سے آج کہ اخبار کی سرخیوں پر نظر ثانی کر رہے تھے۔جبکہ دوسری جانب ان کی لاڈلی اکلوتی بیٹی اقصیٰ جلدی جلدی ہاتھ چلاتی آفس وقت پر پہنچنے کی جلدی میں بوکھلائی،سی تیاری میں مگن تھی۔۔شگفتہ بیگم کچن میں ناشتہ کی تیاری میں مصروف تھیں۔شہر کے ایک متوسط علاقے میں واقع دو سو گز کے مکان میں جمشید صاحب کے گھر کے تین افراد آباد تھے۔جمشید صاحب اور شگفتہ بیگم کی کل کائنات اُن کی لاڈلی اکلوتی بیٹی اقصیٰ ہی تھی۔جو میڈیا سائنس میں بیچلر کی ڈگری لینے کے بعد صحافت کے شعبے سے ہی جوڑ گئی تھی۔۔جمشید صاحب خود بھی کافی عرصہ میڈیا سے منسلک رہے تھے۔کئی عرصہ ٹی وی چینلز کو اپنی خدمات فراہم کرتے رہے تھے۔اب اپنی ریٹآئرمنٹ کہ بعد باقی کی سہل زندگی اپنے گھر اور بچوں میں ہی گزار رہے تھے۔ اقصیٰ پچھلے دو سال سے شہر کے ایک نام وار نیوز چینل میں روڈ شو ہوسٹ تھی۔ملک کے حالیہ حالات کے پیش نظر شگفتہ بیگم کو اس کی تیز چلتی زبان کے باعث ہر وقت دھڑکا ہی لگا رہتا تھا۔وہ چاہتی تھیں کہ وہ ادارے میں رہ کر ہی کوئی ٹاک شو ہوسٹ کر لے مگر اقصیٰ اپنے نام کی ایک ہی تھی۔روڈوں کی خاک چھاننے کا کچھ زیادہ ہی شوق تھا۔سیدھا سادھ آسان کام تو اس سے ہوتے ہی نہیں تھے۔جان بوجھ کر روڈ شو ہوسٹ کرنے کا بیڑا اُٹھا لیا تھا۔جس کی آج کل کچھ زیادہ ہی ریٹنگ آرہی تھی۔جو ہمہ وقت کوئی نا کوئی راز فاش کرنے کو تیار ہی رہتی ہے۔۔ "میرے اللّه اس شہر کو اب تو ہی بچا سکتا ہے۔اس شہر کو محفوظ رکھ میرے مالک شر پسندوں کہ شر سے۔۔"جمشید صاحب اخبار فولڈ کر کہ ایک جانب رکھ کر تاسف سے نفی میں سر ہلا کر مایوسی سے گویا ہوۓ۔ہر روز کہ معمول کی طرح آج کا اخباربھی تازہ ترین خبروں سے بھرا ہوا تھا۔جو محض قتل غارت پر مبنی تھیں۔۔ "بابا آپ بھی صبح صبح کیاپڑھنے بیٹھ گئے ہیں۔یہ تو اس شہر میں روز کا معمول بن گیا ہے۔ایسی خبریں پڑھ کر تو اچھا خاصہ بندہ ڈپریشن کا شکار ہو جائے۔’’اقصیٰ اپنا چٹائی کا بُنا بیگ کندھے پر ٹکاکر ناشتے کی ٹیبل پر آتی اُکتا کر بولی۔۔ "کہ توآپ سہی رہی ہیں بیٹا۔اللّه جانے ان بے حس لوگوں کہ سینے۔میں دل ہے یا پتھر۔انہیں ذرا رحم نہیں آتا ان معصوم جانوں پر ظلم کرتے۔’’وہ خاصہ افسردہ دکھائی دے
