Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 34
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 14/06/2026
0 Views
Episode no 34
آجائیں تو خود ڈیل کر لیں گے تمھیں! بہت ہوگیا یہ کھیل۔بلکہ میں نے تو بابا کو پہلے بھی کہا تھا کہ دفعہ کریں تمھیں اور تمھاری جائیداد کو ،مگر انھیں بھی پتہ نہیں کونسسی پیسے کی بھوک ہے۔۔خون تو ایک ہی ہے نا۔۔۔‘‘اس بار وہ ناگواری سے غرایا تھا۔۔یہاں بات اسکی بیوی پر آ گئی تھی۔۔ ’’اپنی جھوٹی سچی کہانی اپنے پاس رکھو! آئزل تم چلو میرے ساتھ۔۔کوئی ضرورت نہیں ہےا س مکار شخص کے ساتھ رہنے کی۔۔جو اپنی کزن کو بلیک میل کر سکتا ہے۔اس کے لئے مزید عورتوں سے تعلقات بنانا کونسی بڑی بات ہوگی۔۔‘‘مجتبیٰ پر بس بیوی کی مجبت تھی یا کچھ اور بس وہی سوار تھا۔ ’’مجتبیٰ بکواس بند کرو! خبردار جو تم نے میرے کردار پر انگلی اٹھائی تو،جان سے مار دونگا۔۔‘‘وہ تیز لہجے میں غرایا تھا۔۔آئزل گھبرا گئی تھی۔ ’’آئزل چلو یہاں سے۔‘‘ ’’آئزل کہیں نہیں جائے گی،،یہ میری بیوی ہے اور میرے ساتھ ہی رہے گی۔۔‘‘ وہ سختی سے اسکا ہاتھ تھام چکا تھا۔۔کہیں وہ واقعی بھائی کے ساتھ نہ چلی جائے۔ ’’ ہاتھ چھوروں اسکا۔۔ ’’ مجتبیٰ تم ابھی جاؤ یہاں سے۔۔۔انکل،آنٹی کو آنے دو مجھے ان سے بات کرنی ہے۔۔تم فی الحال اس لڑکی کو یہاں سے لے کر جاؤ۔۔بلکہ اب تمھاری باڈی گارڈ کی نوکری بھی ختم ہوگئی،تو اس لڑکی کا قصہٰ ختم کرو۔۔۔۔۔یہ ان خاندانی معاملہ ہے خود حل کر لیں گے۔۔۔‘‘آئزل بولی بھی تو کیا تھی۔۔۔ ’’ کیا؟؟کیا بکواس کی ہے تم نے؟َ؟؟یہ لڑکی کی کیا رٹ لگا رہی ہو۔۔بیوی ہے میری۔۔‘‘اس نے بہن کو غصےٰ سے دیکھا تھا۔ ’’تم بھول رہے ہو کہ تم نے مجھے کیا بتایا تھا۔‘‘اس نے آئی برو اٹھائیں۔اب عریشہ اور اہان خاموشی سے دونوں بہن بھائیوں کی تکرار دیکھ رہے تھے۔ ’’نکاح کیا ہے میں نے،کوئی کھیل نہیں ہے۔۔عریشہ میری بیوی۔۔۔۔‘‘ ’’ایک منٹ مجتبیٰ! تمھاری بہن واقعی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ میں کوئی تمھاری بیوی نہیں ہوں،یہ نکاح ایک کونٹریکٹ کے تھرو ہوا تھا،اور اب جبکہ تم اس فراڈی شخص کے رشتہ دار نکل آئے ہو تو مجھے تم پر بھی بھروسہ نہیں ہے۔کیا معلوم یہ تم سب کا کوئی پلین ہو۔۔۔‘‘اہان استزائیہ مسکرایا تھا۔ ’’ عریشہ تم اپنے باپ کی ہی بیٹی ہو ، یہ بات بار بار واضح نہ کیا کرو، دوسروں کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنا جانتی ہو بس!کبھی احد مصطفیٰ! تو کبھی مجتبیٰ آصف!‘‘ اس بار مجتبیٰ کو چپی سی لگ گئی تھی۔۔۔عریشہ نے ایک لمحے میں اس کے وجود کو خاک کردیا تھا۔۔ ’’تم سے تو اب میں عدالت میں نمٹ لونگی۔۔مصطفیٰ دیکھنا تمھارا کیا حال کرتا ہے۔‘‘اس نے دانت کچکچائے۔ ’’وہی مصطفیٰ نا جس سے تم شاد ی کی خواہش مند ہو۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ الریڈی میریڈ ہے۔اپنے باپ کی بیٹی!‘‘عریشہ کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔۔ ’’شٹ اپ۔۔۔بلڈ۔۔۔۔‘‘وہ غصےٰ سے غرائی۔۔مگر اب مجتبیٰ خاموش رہا تھا۔۔ ’’آئزل تم چل رہی ہو میرے ساتھ؟‘‘اس نے آخری بار بہن سے پوچھا تھا۔ ’’نہیں! میں کل آونگی۔۔۔اور تم ڈائیورس پیپرز تیار رکھنا!‘‘ آئزل سختی سے بولی تھی۔جبکہ وہ خاموشی سے اٹھ کر گھر سے نکل گیا تھا۔۔عریشہ بھی اس کے پیچھے ہی بھاگی تھی۔۔مگر وہ اس کی گاڑی میں بیٹھنے کے بجائے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آئزل میری بات!‘‘ ’’اہان مجھے فی الحال تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔۔مجھے نیند آرہی ہے۔سونے دو۔۔‘‘وہ ناراضی جتاتی ہوئی رخ پھیر گئی۔۔جبکہ اہان نے ذرا آنکھیں چلا کر دوسری سائیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے ،اسے ایک جھٹکے سے اپنے حصار میں لیا تھا۔ ’’جب تک میری بات نہیں سنو گی میں تمھیں سونے نہیں دونگا۔۔‘‘اس کی آنکھوں میں شرارتی مسکان تھی۔ ’’میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں اہان۔‘‘وہ خفگی سے بولی۔ ’’مذاق کر کون رہا ہے۔۔میں بس اپنے بے بی کی مما کو منانے کی کوشش کر رہا ہوں،کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے سے ناراض ہوکر سوئیں اور ان پر شوہر کو ناراض کرنے جیسے کوئی سیکشن لاگو ہوجائے۔‘‘وہ ہنوز شرارتی لب ولہجے میں بولا،جبکہ اس کے چہرے پر قوس و قزاح کے کئی رنگوں نے اپنی بہار دکھائی تھی۔۔ ’’میں صبح اٹھتے ہی مجتبیٰ کے ساتھ چلی جاؤنگی۔‘‘اس نے دھمکی لگائی۔ ’’نام مت لو اس جہنمی سالے کا۔‘‘وہ خفگی سے بولا تو آئزل نے گھور کر دیکھا تھا۔ ’’میرا مطلب ہے سالے صاحب کو بلانے کی کیا ضرورت ہے۔۔میں خود آ پ کو لے جاؤنگا۔‘‘وہ فوراً پٹھری پر چڑھا تھا۔۔کہیں بیوی سچ میں ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ ’’چھوڑ و مجھے نیند آرہی ہے۔‘‘ ’’کیوں نیند آرہی ہے۔۔ایک ہفتے سے تو میں گھر بھی نہیں تھا۔نیندیں پوری نہیں کی ہیں آپ نے۔۔‘‘اس کے بالوں کی لٹوں سے کھیلتا وہ شرارتی لب و لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔آئزل نے اس کی گرفت سے نکلنے کے لئے بھر پور مزاحمت کی تھی۔۔ ’’اسی شہر میں بیٹھ کر تم نے مجھے پاگل بنایا ہے۔۔ بات نہیں کرو مجھ سے ۔۔‘‘اس کے سینے پر زور سے ہاتھ مارتی اب وہ غصےٰ سے بولی تھی۔۔ ’’یار سب کچھ بتا تو دیا میں نے۔۔اب کیوں ناراض ہو۔۔‘‘وہ مزید سختی سے اپنے حصار میں جکڑ چکا تھا۔ ’’اتنے تم ننھے کاکے ہو نا! کل کو انکل بولیں گے اہان ،فلاں لڑکی سے شادی کرلو،تو تم شادی کرلینا۔۔‘‘ اس نے کینہ توز نگاہوں سے بولا تھا۔ ’’آئیڈیا اچھا ہے ویسے! ابا پر یہ الزام ڈالا جا سکتا ہے۔۔‘‘آئزل نے زور سے کہنی پیٹ میں چبھائی تھی۔ ’’زہر لگ رہے ہو مجھے۔‘‘وہ ہولے سے مسکراتا ہوا،اسکے گالوں پر لب رکھ گیا۔اور یہاں آکر وہ موم ہوگئی تھی۔ ’’لیکن آپ ہمیشہ مجھے، پیاری لگتی ہو۔۔ناراضی چھوڑ دو آئزل! میں سارا معاملہ دیکھ لونگا،عریشہ اتنی بھی کوئی بری نہیں ہے کہ تم نے مجتبیٰ کوڈائریکٹ طلاق دینے کا ہی بول دیا ہے۔۔مجنون کی طرح گیا ہے یہاں سےعریشہ کا بوڈی گارڈ!‘‘اس بار وہ سوچ کر مسکرایا تھا۔۔ ’’تم نے ہی تو کہا تھا کہ وہ کسی لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے؟‘‘اس نے بھنویں اٹھائیں۔ ’’لڑکے سے نہیں شادی شدہ مرد سے۔‘‘اس نے مسکراہٹ دبائی۔ ’’ہاں وہی!‘‘اس نے ناک چڑھائی۔ ’’لیکن وہ لڑکا اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے،لیکن مجھ سے کم!‘‘آئزل نے آنکھیں چلائیں۔۔ ’’تو پھر اب؟‘‘اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا،اب وہ خود ہی اسکے پاس جگہ بنا کر لیٹ گئی تھی۔۔ناراضی اپنے آپ ہی ختم ہونے لگی تھی۔ ’’اب یہ فیصلہ تو وہ دونوں خود ہی کریں گے۔۔تمھیں بیچ میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔کسی کا گھر خراب کرانا اچھی بات نہیں ہے۔اور یہ طلاق کے معاملات میں آگر دونوں فریقین اس نہج پر پہنچ جائیں تو اکیلے ہی معاملہ حل کر نے دینا چاہئے! نکاح خود کیا ہے تو طلاق دینی ہے یا نہیں یہ فیصلہ بھی انکا اپنا ہوگا۔‘‘اس بار وہ تنبیہ لہجے میں بولا تھا۔ ’’لیکن وہ میرا چھوٹا بھائی ہے اہان،میں کیسے اسے اکیلا چھوڑ دوں۔‘‘اہان نے گردن جھکا کر اسے گھورا تھا۔ ’’ایک تو یہ تم عورتوں کو خوش فہمی بہت ہوتی ہے کہ تمھارا بیٹا یا چھوٹا بھائی،تمھارے مشورے کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔۔وہ لڑکی بیوی ہے اسکی،زمہ داری اٹھائی ہے تو فیصلہ بھی اسے خود ہی لینے دو۔اور اتنا گبرو جوان تمھیں کہاں سے چھوٹا نظر آتا ہے۔۔‘‘اس بار اس نے ایک بار پھر اس کے سینے پر ہاتھ مارا تھا۔ ’’وہ میرے لئے ہمیشہ چھوٹا ہی رہے گا۔۔‘‘وہ مسکرائی تھی۔۔جبکہ اب وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔ ’’پھر اب تو کوئی شکوہ نہیں ہے؟‘‘وہ محبت سے بولا تھا۔۔۔ ’’میں ابھی بھی ناراض ہوں ۔۔۔‘‘اس نے فوری شکوہ درج کرایا تھا۔۔وہ ہنس پڑا تھا۔۔۔۔ جاری
