Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 34
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 14/06/2026
0 Views
Episode no 34
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_34 " ثمرہ نے مصطفیٰ کے سینے پر سر رکھ دیا، اور آنکھیں موند لیں، اور ایک گہری سانس لی۔ کمرے کی خاموشی میں صرف دونوں کے دلوں کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی… جیسے لمحہ بھر کو ساری دنیا تھم گئی ہو۔مصطفیٰ کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔ایسا کیا ہوا تھا جو ثمرہ اس طرح کا رئیکٹ کر رہی تھی۔۔ورنہ گھر میں مہمان آیا ہوا ہے اور وہ اس طرح کمرے میں بیٹھ کر آنسو بہائے وہ اس قسم کی لڑکی ہر گز نہیں تھی۔۔کچھ تو ایسا تھا جو اب ابھی کہہ نہیں سک رہی تھی۔ویسے تو زنیرہ نے اب ثمرہ سے کچھ بھی کہنا چھوڑ دیا تھا۔۔آگر وہ اس کے ساتھ اچھی نہیں تھیں تو اب بری بھی نہیں تھیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل پر خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صرف چمچوں اور پلیٹوں کی ہلکی ہلکی آوازیں اس سکوت کو توڑ رہی تھیں۔ مصطفیٰ، عریشہ، اس کی سوتیلی ماں، اور ثمرہ۔۔۔سب اپنی اپنی پلیٹوں پر جھکے ہوئے تھے، مگر ہر ایک اپنی سوچ میں تم تھا۔ ثمرہ نے نظریں جھکائے نوالہ منہ میں ڈالا مگر وہ گلے سے نیچے اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ اس کے ہاتھ تھوڑے تھوڑے کانپ رہے تھے، دل کی دھڑکن بری طرح بے قابو ہو رہی تھی۔ آنکھیں بار بار نمی سے بھرنے لگتیں اور وہ ضبط کی انتہا پر بیٹھی تھی۔ سامنے وہ عورت۔۔۔ جو بظاہر عریشہ کی سوتیلی ماں تھی، مگر ثمرہ کی نگاہوں کے سامنے بار بار بچپن کی دھندلی تصویریں گھوم رہی تھیں۔ وہی چہرہ، وہی کڑی نظریں، وہی کڑوا لہجہ… وہی عورت جس نے برسوں پہلے اسے بے یار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔جس سے چہرے کی مشا بہت کے باعث اسکا باپ ہمیشہ اسے دھتکار دیا کرتا تھا۔۔اور وہ کیسی ماں تھی کہ اپنی اولاد کی خوشبو نہ پہنچان سکی تھی۔۔جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد وہ بھلے جتنی بھی بدل گئی تھی۔۔۔مگر ایک ماں اپنی اولاد کو کیسے بھول سکتی تھی بھلا۔۔۔ یہی بات تھی جو ثمرہ کو مسلسل کچوئے لگا رہی تھی۔۔۔ ثمرہ کی انگلیاں نپکن پر سختی سے گرفت کیے ہوئے تھیں۔ دل کر رہا تھا کہ سب کچھ چیخ کر کہہ دے، اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لے۔ مگر۔۔۔نہیں، یہ وقت نہیں تھا۔ یہ جگہ نہیں تھی۔ صرف اس کا دل جانتا تھا کہ وہ لمحے کیسے کاٹ رہی ہے۔ مصطفیٰ نے ایک نظر ثمرہ پر ڈالی تو اس کا زرد پڑتا چہرہ دیکھ کر ذرا چونکا۔ وہ نرمی سے قریب جھک کر کان میں بولا تھا۔۔۔ "ثمرہ، کچھ کھاؤ نا، تم نے تو کچھ بھی نہیں کھایا۔ ’’آپ فکر نہ کریں۔میں کھا رہی ہوں مصطفیٰ!‘‘ عریشہ کی ماں نے ایک تیکھی نگاہ ڈالی، جیسے کوئی خاص دلچسپی نہ رکھتے ہوئے، وہ اپنی پلیٹ میں مشغول رہیں۔ ان کے رویے میں وہی غرور اور لاپروائی تھی، جیسے وہ ہمیشہ سے کسی کے جذبات کو اہمیت نہ دیتی ہوں۔ ثمرہ کا دل کر رہا تھا کہ بس وہ لمحہ ختم ہو جائے۔ حلق میں ہر نوالہ کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا۔ آنکھیں بار بار چھلکنے کو تیار تھیں، مگر وہ اپنی حد سے زیادہ مضبوطی دکھا رہی تھی۔ ڈائننگ روم کی خاموشی میں ایک عجیب سی کشمکش چھپی ہوئی تھی۔۔۔ایک ایسی سچائی جو صرف ثمرہ کے دل کی گہرائی میں دفن تھی۔ کھانے کے بعد جب سب اٹھے، تو ثمرہ نے ایک گہری سانس لی، جیسے دل کے بوجھ کو چند لمحوں کے لیے ہلکا کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۔ لیکن اس کی نظریں بار بار اس عورت کے چہرے پر ٹھہر رہی تھیں۔۔۔ماں۔۔۔جس نے آج تک اس کا نام بھی نہیں لیا تھا۔عریشہ کو بھی اپنی اس سوتیلی ماں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔۔۔مگر ثمرہ وہ اپنے دل کا کیا کرتی۔۔۔۔۔کل شارق کی پیشی تھی۔۔مصطفیٰ نے اس سے کچھ بھی ڈسکس نہیں کیا تھا۔۔تاکہ وہ پریشان نہ ہوجائے مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی بھلا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ آسمان پر تاروں کی جھرمٹ چھائی ہوئی تھی، مگر عریشہ کی آنکھوں میں نیند کا نام و نشان نہ تھا۔ کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی جل رہی تھی، وہ کھڑکی کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔ باہر کی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے کو چھو رہی تھی، مگر دل کے اندر ایک عجیب سی اُداسی پھیل رہی تھی۔ اس نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا،رات کے بارہ بجنے کو تھے۔ دل نے ایک بار پھر مجتبیٰ کی یاد دلا دی۔ وہی مجتبیٰ، جو اس کا شوہر تھا۔۔۔چاہے کونٹریکٹ ہی سہی۔۔۔مگر اس رشتے کی ڈور نے کب کا دل کی دیواروں میں جگہ بنا لی تھی۔ ’’پتہ نہیں مصطفیٰ ،کیا کر رہا ہوگا ، اس وقت؟" دل نے آہستہ سے سرگوشی کی۔ ایک پل کے لیے وہ ہچکچائی، مگر پھر دل کی ضد کے آگے ہار گئی۔ فون اٹھایا، اور کانٹیکٹس میں مجتبیٰ کا نمبر تلاش کرنے لگی۔ دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔ پھر... کال ملا دی۔ دوسری جانب مجتبیٰ بھی اپنی چھت پر بیٹھا خاموشی سے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ دل عجیب سی بےچینی میں مبتلا تھا، جیسے کوئی کمی سی محسوس ہو رہی ہو۔ فون کی بیل بجی تو اس نے چونک کر موبائل کی اسکرین دیکھی۔ عریشہ…! دل نے ایک لمحے کو اچھل کر سینے میں زور سے دھڑکا مارا۔ اس نے فوراً کال ریسیو کی۔ "ہیلو…" عریشہ کی مدھم آواز آئی۔ "عریشہ؟ سب خیریت تو ہے؟" مجتبیٰ کی آواز میں فکرمندی اور حیرانی صاف جھلک رہی تھی۔ کچھ لمحے خاموشی رہی، پھر عریشہ نے آہستہ سے کہا، "ہاں۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔ بس۔۔۔ نیند نہیں آ رہی تھی، تو سوچا تم سے بات کر لوں۔" مجتبیٰ کا دل پر جیسے ٹھنڈی پھوار سی پڑ گئی ہو۔۔۔ "اچھا کیا تم نے کال کر کے۔ میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔۔۔پتہ نہیں کیوں آج دل بہت بےچین ہے۔‘‘عریشہ ہلکی سی مُسکرائی، مگر آنکھوں میں نمَی تیرنے لگی۔ ’’ لگتا ہے بارش ہونے والی ہے۔‘‘ وہ بات پلٹ گئی۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ سر جھٹک گیا۔۔کچھ دیر تک ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ دونوں ہی را بطہ منقطع کر گئے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا سورج نکلا تو گلیوں میں معمول کے دن کی چہل پہل شروع ہو چکی تھی، مگر جبران صاحب کے گھر کا ماحول ایک عجیب سی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہر طرف تناؤ کی کیفیت تھی، جیسے دیواریں بھی سانس روک کر اس گھڑی کو دیکھ رہی ہوں۔ ڈرائنگ روم میں جبران صاحب صوفے پر بیٹھے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں گتھی کیے سر جھکائے ہوئے تھے۔ ان کی آنکھوں کے گرد گہرے حلقے اور پیشانی کی لکیریں واضح کر رہی تھیں کہ رات بھر کی نیند ان سے کوسوں دور رہی تھی۔ فرناز بیگم کچن اور کمرے کے بیچ بےچینی سے چکر َلگا رہی تھیں۔ وہ بار بار ٹی وی کی طرف دیکھتیں، جیسے کوئی تازہ خبر سننے کی امید ہو، پھر بےبس ہو کر پھر سے صوفے کے قریب آ جاتیں۔ "آپ نے وکیل صاحب سے بات کر لی ہے؟" فرناز نے دبے دبے لہجے میں پوچھا، آواز میں گھبراہٹ صاف جھلک رہی تھی۔ جبران صاحب نے سر ہلایا، مگر ان کی آواز میں گہرا بوجھ تھا۔ "کی ہے… وہی کہہ رہے ہیں کہ کیس کمزور ہے، لیکن میڈیا اور پولیس کا دباؤ ہے… شارق کا کل کا ریکارڈ بھی سامنے رکھا جا رہا ہے…" "ہمارا بچہ قاتل نہیں ہے، جبران۔۔ بس کار ریسنگ کا شوق تھا
