Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 34
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 14/06/2026
0 Views
Episode no 34
تھا۔ ’’میں نے تمھیں بہت مس کیا۔‘‘اس کو اپنے حصار میں قید کئے،اس وقت وہ انجانے سے خوف سے دوچار تھا۔ ’’کیا ہوا؟ سب خیریت ہے؟‘‘وہ ٹھٹھک گئی تھی۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ یونہی اسے لئے کھڑا تھا۔۔ ’’ مجھے آپ ٹھیک نہیں لگ رہے ہیں۔۔۔بتائیں تو ہوا کیا ہے؟‘‘ وہ اسکی گرفت میں سختی واضح محسوس کر گئی تھی۔ ’’آئی لو یو! تمھیں پتہ ہے نا میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں۔‘‘ اس سے ذرا سا فاصلہ بناتا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا وہ مخمور لہجے میں گویا ہوا تھا۔آئزل نے ذرا حیرانی سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’میں جانتی ہوں اہان! کیا ہوگیا ہے۔۔۔‘‘وہ اس بار دھیرے سے مسکرائی تو اہان کچھ ریلیکس ہوا تھا۔۔اپنی محبت کو کھو دینے کا خیال ہی سوہان روح تھا۔۔جو کچھ بھی تھا وہ صرف مہروز صاحب کے کہنے پر کر رہا تھا،ورنہ وہ تو شروع سے آئزل کے لئے دیوانگی کی حد تک پاگل تھا۔ ’’اچھا چھوڑو یہ سب! طبیعت کیسی ہے؟‘‘اس کا دھیان یکدم دوسری طرف گیا تھا۔ ’’ٹھیک ہوں میں۔۔‘‘ابھی اس کے الفاظ لبوں میں اَدھورے ہی تھے کہ باہر سے مجتبیٰ کی چنگھاڑتی ہوئی آواز سُنائی دی تھی۔۔جو کمرہ ہلکا سا کھلا ہونے کے باعث اِن کے رُوم تک آرہی تھی۔ ’’یہ مجتبیٰ کی آواز ہے نا؟یہ اتنی زور سے کیوں پکار رہا ہے۔۔‘‘آئزل یکدم پریشان ہوئی تھی۔ ’’میں دیکھتا ہوں۔۔تم یہیں۔۔۔‘‘ ’’آئزل! اس بار ایک اور آواز بلند ہوئی تھی۔ ’’اللہ خیر کرے۔۔اہان چلیں جلدی۔۔پتہ نہیں کیا ہوگیا۔۔‘‘اہان نے سختی سے آنکھیں میچ لی تھیں۔۔جبکہ وہ دوپٹہ سنبھالتی روم سے نکل گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاڑی تیزی سے شہر کی گلیوں میں گھومتی ہوئی ایک عالی شان بنگلے کے سامنے آ کر رُکی تھی۔ عریشہ نے اُلجھن اور حیرت کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ مجتبیٰ کی طرف دیکھا۔ ’’یہ۔۔۔ یہ تم کہاں لے آئے ہو مجھے؟ یہ تو تایا ابو کا گھر ہے۔‘‘ مجتبیٰ نے غصے میں گاڑی کا دروازہ کھولا، مٹھیاں سختی بھینچ رکھی تھیں۔ ’’ہاں کیونکہ آج میں یہاں سے حساب لئے بغیر ہر گز نہیں جاؤنگا۔‘‘ عریشہ ہکّا بکّا رہ گئی۔ ’’مگر تمہیں کیسے پتا یہ اہان کا گھر ہے؟‘‘ مجتبیٰ نے ایک پل کو اس کی طرف دیکھا، آنکھوں میں عجیب سی تکلیف تھی۔وہ اب اس پر بھی اعتبار نہیں کر َسک رہی تھی۔۔۔۔ دونوں تیز قدموں سے بنگلے کے دروازے کی طرف بڑھے۔ اور سیدھا ہال میں آگئے تھے۔۔۔اتنے میں ملازمہ بھی وہاں آگئی تھی۔۔" ’’اہان کہاں ہے؟ اسے کہو مجتبیٰ آیا ہے!" مجتبیٰ کی آواز سخت اور بےچین تھی۔ساتھ ہی اس نے دو سے تین بار اسے تیز آواز میں پکار ا تھا۔۔۔ مہروز صاحب اور تحمینہ بیگم اس وقت کسی کام سے نکلے ہوئے تھے۔۔۔گھر میں اس وقت صرف آئزل اور اہان ہی تھے۔۔۔ عریشہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ اس بات پر ابھی تک حیران تھی کہ مجتبیٰ اتنے یقین سے یہاں آیا کیسے۔ ملازمہ ہڑبڑا کر اندر چلی گئی۔ کچھ ہی لمحوں بعد اہان ہال میں آتا دکھائی دیا، اور اس کے چہرے پر جیسے ہوائیاں اڑ گئیں۔ساتھ ہی حیران و پریشان سی آئزل بھی ساتھ ہی باہر آئی تھی۔۔۔ ’’تم دونوں۔۔۔یہاں؟" اہان نے چونک کر کہا۔ مجتبیٰ نے تیز قدموں سے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑ لیا۔ ’’یہ سب کیا تماشا لگا رکھا ہے تم نے؟ کیوں عریشہ کو بلیک میل کر رہا تھا؟ اہان نے خود کو چھڑانے کی کوشش کی، مگر مجتبیٰ کا غصہ خطرناک حد تک تھا۔ ’’مجتبیٰ یہ کیا بدتمیزی ہے!‘‘آئزل یکدم گھبرائی تھی۔عریشہ کو سرے سے نظر آنداز کر گئی تھی۔۔اس نے اپنے بھائی کے ساتھ آئی اس نئی لڑکی کو دیکھنے تک گوارہ نہیں کیا تھا۔۔اسے اس وقت صرف اپنے بھائی کی فکر تھی۔۔ ’’چھوڑو مجھے! بات سنو میری۔۔‘‘ عریشہ نے آگے بڑھ کر مجتبیٰ کو روکا۔ ’’چھوڑو مجتبیٰ، پہلے بات تو سُن لو۔۔‘‘ ’’مجتبیٰ اہان کو چھوڑو ،ورنہ میں اب تمھیں ایک تھپڑ لگا دونگی۔۔‘‘وہ چلائی تھی۔۔ عریشہ نے حیرت سے دیکھا تھا۔۔۔وہ اہان کی بیوی آئزل تھی، جو ہکا بکا نظروں سے منظر کو دیکھ رہی تھی۔ مجتبیٰ نے اپنی گرفت ڈھیلی کی اور جیسے ہی عریشہ نے آئزل کو دیکھا، اس کی آنکھیں مزید پھیل گئیں۔ ’’کیا بدتمیزی ہے یہ؟‘‘اس بار وہ سختی سے گویا ہوئی۔ ’’بدتمیزی میں نہیں! تمھارا یہ شوہر کر رہا ہے۔‘‘وہ غصےٰ سے چلایا تھا۔ ’’ اہان یہ سب کیا ہے؟‘‘وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ ’’مجتبیٰ تم جاؤ یہاں سے ! آئزل میں تمھیں بتاتا ہوں سب۔۔‘‘ اس نے قائل کرنا چاہا۔۔ ’’نہیں آئزل یہیں رہے گی ،اسے بھی تو تمھارے کارناموں کا پتہ لگے۔‘‘ ’’مجتبیٰ! آئزل کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ڈاکٹر نے اسے اسٹریس دینے سے منع کیا ہے۔‘‘ اس بار اس نے دانت کچکائے۔ ’’تو یہ سب اوچھی حرکتیں کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا نا۔۔‘‘وہ استہزائیہ لب و لہجے میں بولا۔۔ ’’ مجتبیٰ مجھے بتاؤ کیا کیا ہے اہان نے۔۔کچھ نہیں ہوا مجھے۔۔‘‘اب آئزل سنجیدگی سے بولی تھی۔۔کچھ تو تھا۔۔۔ ’’ آئزل۔۔۔‘‘ ’’اہان پلیز!وہ خاموش ہوگیا۔۔مجتبیٰ نے ایک نظر غصےٰ سے دیکھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈرائنگ روم میں خاموشی چھا گئی تھی۔ آئزل نے بےیقینی بھری نظروں سے اہان کی طرف دیکھا، جیسے مجتبیٰ کے الفاظ پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ دھیرے دھیرے صوفے پر بیٹھ گئی، آنکھیں نمی سے بھرنے لگیں۔ "مجھے تو لگا تھا تم۔۔۔ تم سچ میں بزنس کے کام سے باہر ہو۔ مگر تم یہاں۔۔۔یہ سب؟ عریشہ کو ڈرانا، اس پر وار کرنا؟" آئزل کی آواز کپکپا رہی تھی۔ ’’آئزل کچھ حقیقت نہیں ہے۔۔بس میں بابا کے کہنے پر ۔۔۔۔‘‘وہ خاموش ہوگیا تھا۔۔۔ عریشہ ایک طرف کھڑی آنکھیں پھاڑے یہ سب سُن رہی تھی۔ دل میں ہلچل مچ گئی تھی۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اہان اسکے شوہر کا بہنوئی تھا۔۔۔؎ ’’بے غیرتی کی بھی ایک انتہا ہوتی ہے اہان! میں تمھارئ اکلوتی کزن ہوں۔۔اور تم نے ہمیشہ میرے ساتھ ناانصافی کی۔۔اور اب اپنی بیوی کو بھی دھوکا دیتے رہے ہو۔۔‘‘وہ غصےٰ سے غرائی تھی۔ ’’شٹ اپ! میں نے اپنی بیوی کو کوئی دھوکا نہیں دیا ہے۔۔اور بات سنو آگر تمھارا وہ باپ دادا ابو کی جائیداد کا سیونٹی پر سنٹ لے کر نہ اُڑتا تو ہمیں یہ اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال نہ کرنے پڑتے۔۔‘‘وہ اس بار غصےٰ سے غرایا تھا۔۔آئزل بالکل خاموش بیٹھی تھی۔ ’’تمیز سے بات کرو اہان! بیوی ہے میری۔۔‘‘مجتبیٰ نے گھور کر دیکھا تھا۔ ’’بیوی تو کیا اس کی ہر بات مان لوگے؟ جو غلطی تھی وہ میں نے مان لی۔۔لیکن میں نے آئزل کو کوئی دھوکا نہیں دیا ہے۔۔۔بابا نے جھوٹا نکاح نامہ ہی بنوایا تھا اسے ٹریپ کرنے کے لئے۔۔آگر یہ میرے نکاح میں ہوتی تو ابھی تمھاری بیوی نہ کہلا رہی ہوتی۔۔دوسری بات ان محترمہ کا باپ کوئی نیک صفت انسان نہیں تھا۔۔ دادا ابو کی ساری جائیداد دھوکے سے لے کر اسٹریلیا فرار ہوگیا تھا۔۔اور انکی وہ دوسری بیوی،دونوں میاں بیوی ایک نمبر کے لالچی تھے۔۔ اور بات سنو مسز مجتبیٰ! تمھارے باپ نے ایک دو بچوں کی ماں کو ورغلایا تھا۔۔ کیونکہ اس عورت کا شوہر بھی ایک لینڈ لارڈ آدمی تھا۔۔وہ اسکی جائیداد بھی ہڑپ کرنا چاہتا تھا۔۔مگر بدقسمتی سے وہ جیولری کے علاوہ زیادہ کچھ ساتھ نہیں لاسکی تھی۔۔۔ مرتے وقت تمھارا باپ تمھارے سامنے، نیک صفت بن گیا۔۔نیک صفت شادی شدہ عورتوں کو نہیں ورغلاتے سمجھیں۔۔‘‘اس بار وہ شدید غصےٰ کی کیفیت میں غرایا تھا۔۔عریشہ کو چپی سی لگ گئی تھی۔ ’’جھوٹ مت بولو! میرے باپ کے بارے میں۔۔‘‘وہ کچھ لمحوں بعد غرائی تھی۔۔ ’’ہاہاہا! بابا
