Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 34
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 14/06/2026
0 Views
Episode no 34
اس کا۔ وہ لڑکا خود جلد بازی میں حادثے کا شکار ہوا ہوگا۔‘‘ وہ خاموش رہے۔۔قتل تو ان کے بیٹے سے ہوا تھا اور یہ بات وہ جھٹلا نہیں سکتے تھے۔مصطفیٰ نے اس پر ثمرہ کو قید رکھنے اور حملہ کرانے کا بھی کیس فائل کردیا تھا،ایسی صورت حال میں وہ کر ہی کیا سکتے تھے۔ ’’اللہ سے دعا کرو ثمرہ۔۔۔میرا ایک ہی بیٹا ہے۔۔۔‘‘ وہ ناچار لہجے میں گویا ہوئے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کورٹ سے سیدھا گھر واپس آیا تھا۔۔مصطفیٰ جیسے ہی گھر کے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو اس کے چہرے پر دن بھر کی تھکن صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نیند اور فکرمندی کا امتزاج تھا۔ ہاتھ میں فائل اور چہرے پر سنجیدگی کی چھاپ لیے وہ سیدھا لاونج کی طرف بڑھا، جہاں صوفے پر ثمرہ چپ چاپ بیٹھی تھی۔ ’’السلام علیکم!‘‘ مصطفیٰ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، مگر اس کی آواز میں تھکن چھپی ہوئی تھی۔ ثمرہ نے چونک کر سر اُٹھایا اور زَبردستی مُسکرائی۔۔۔ ’’وعلیکم السلام۔۔۔۔آپ آگئے؟‘‘ مصطفیٰ نے فائلیں ٹیبل پر رکھیں اور جوتے اُتارتے ہوئے تھکے انداز میں بولا۔ "ہاں، کیس ختم ہوتے ہی سیدھا آ گیا۔ کافی لمبی پیشی تھی آج۔" اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے گہری سانس لی اور ثمرہ کی طرف دیکھا، "شارق کا کیس ابھی بھی پیچیدہ ہے، مگر وکیل نے کہا ہے کہ کچھ امید ہے۔کہ یہ کیس ہم ہی جیتیں گے۔کیونکہ ہم حق پر ہیں۔‘‘ ثمرہ نے بس سر ہلا دیا۔ اس کے چہرے پر عجیب سی خالی مسکراہٹ تھی۔ مصطفیٰ نے غور سے دیکھا، جیسے اس کی آنکھوں میں کوئی چھپی بات پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ’’ثمرہ، آپ ٹھیک ہیں؟ لگ رہا ہے آپ کچھ پریشان ہو۔ صبح سے دیکھ رہا ہوں میڈم کا موڈ کچھ عجیب ہے۔" ثمرہ نے فوراً نظریں چرا لیں۔ "نہیں… کچھ خاص نہیں۔ بس ذرا تھکی ہوئی ہوں۔" مصطفیٰ نے ہلکا سا ماتھا سکوڑا۔ "ثمرہ، آپ مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو؟ دیکھو، میں جانتا ہوں کہ تم بہت مضبوط ہو لیکن اگر دل میں کوئی بات ہے تو شیئر کر لو۔" ثمرہ نے زبردستی مسکراہٹ سجائی اور کہا، "مصطفیٰ، واقعی کچھ نہیں ہے۔ آپ خوامخواہ فکر کر رہے ہیں۔ بس تھوڑا سر درد ہے، شاید نیند پوری نہیں ہوئی۔" مصطفیٰ نے اس کی بات کا یقین تو نہیں کیا مگر دباؤ ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔ وہ آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام کر بولا، "ٹھیک ہے۔۔ اگر کچھ کہنا ہو تو جانتی ہیں نا میں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوں۔" ثمرہ کی آنکھیں نم ہو گئیں، مگر اس نے جھٹک کر ان آنسوؤں کو پیچھے دھکیلا ۔۔ ’’شکریہ مصطفیٰ۔۔۔ آپ بہت اچھے ہیں۔‘‘ مصطفیٰ نے ہلکی سی مسکراہٹ دی اور کہا، ’’چلیں پھر ذرا ملازمہ سے کہہ کر چائے بنوا لیں۔ اور آپ بھی ذرا آرام کرو، ٹھیک ہے؟ ثمرہ نے اثبات میں سر ہلایا، مگر دل کے اندر جو طوفان تھا، وہ ابھی بھی بےچین تھا۔ مصطفیٰ چلا گیا مگر وہ اپنی جگہ بیٹھی، دیوار کو خالی نظروں سے تکتی رہی، جیسے کوئی ان کہی بات اس کے سینے میں قید ہو جو زبان تک آنے سے ڈرتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گاڑی دھیمی رفتار سے سڑک پر رواں دواں تھی۔ عریشہ کھڑکی کے پار دیکھتے ہوئے اپنے خیالوں میں گم تھی، جبکہ ڈرائیور خاموشی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ اچانک سامنے سے ایک کالے رنگ کی تیزی سے آ کر بالکل ان کی گاڑی کے سامنے آ کر رکی، ڈرائیور نے گھبرا کر بریک مارا۔جبکہ مجتبیٰ بھی بری طرح سے چونکا تھا۔ ’’یہ کیا بکواس ہے؟" عریشہ چونک کر سیدھی ہوئی۔جبکہ مجبتیٰ بھی الرٹ ہو گیا تھا۔۔۔ دروازہ کھلتے ہی ایک مانوس سا چہرہ سامنے آیا۔ ’’اہان! اس کے چہرے پر غصے اور بےچینی کی ملی جلی کیفیت تھی۔ عریشہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ مجتبیٰ نے حیرت زدہ نگاہوں سے اسے پہچانتے ہوئے کہا،اہان ابھی اسے نہیں دیکھ سکا تھا۔۔جبھی مجتبیٰ نے کچھ سمجھتے ہوئے غیر مانوس آنداز میں چہرے کا رخ دوسری طرف پھیر لیا تھا۔۔تاکہ اہان کی نظریں اس پر نہ پڑ سکے۔۔عریشہ غصےٰ میں کار سے باہر نکلی تھی۔مجتبیٰ ابھی تک گاڑی میں ہی بیٹھا تھا۔۔ ’’اہان؟ تم؟‘‘ اہان کی نظریں براہ راست عریشہ پر مرکوز تھیں، جیسے اس کی آنکھوں میں سوالوں کا طوفان ہو۔ "مجھے تم سے بات کرنی ہے، ابھی اور اسی وقت! " اس کی آواز میں سختی اور گھبراہٹ دونوں تھیں۔ عریشہ نے ضبط سے کہا، "یہ طریقہ ہے بات کرنے کا؟ راستہ روک کر؟" مجتبیٰ اب تک الجھن میں تھا، وہ گاڑی سے باہر نکلا، "تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو؟ اور… اہان، تم یہ کیا کر رہے ہو؟" اہان کی نظریں اس لمحے مجتبیٰ پر پڑیں، اور اس کا چہرہ لمحے بھر کو بدلا، جیسے اس کی حقیقت کھل رہی ہو۔ "مجتبیٰ… تم یہاں؟" اس کی آواز میں حیرانی چھپی ہوئی تھی، اور اس کے تاثرات میں ایک جھجک آ گئی۔ مجتبیٰ کا ماتھا شکن آلود ہو چکا تھا۔ وہ قدم بڑھا کر قریب آیا اور غصے سے بولا۔۔ "یہ سب تم کر رہے تھے نا؟ وہ بلیک میلنگ، فائرنگ۔۔۔یہ سب کچھ تمہاری پلاننگ تھی؟" اہان نے ایک لمحہ خاموشی اختیار کی، اس کے چہرے پر شدید کشمکش تھی۔اہان تو اپنے سامنے مجتبیٰ کو دیکھ بوکھلا ہی گیا تھا۔پھر فوراً سنبھل بھی گیا تھا۔۔۔ جبکہ عریشہ ابھی تک سمجھ نہیں پائی تھی کہ دونوں کے مابین کیا تعلق تھا۔۔۔ وہ میں۔۔۔۔دراصل مجتبیٰ میری مجبوری تھی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ بات یہاں تک پہنچے۔‘‘عریشہ نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا۔۔ "مجبوری؟ تم نے ہماری زندگی اجیرن کر دی، اور اب کہہ رہے ہو مجبوری تھی؟" اہان کی آنکھوں میں ندامت تھی لیکن وہ خود بھی حواس باختہ نظر آ رہا تھا۔ "میرا مقصد تمہیں نقصان پہنچانا نہیں تھا، میں بس۔۔۔ڈرانا چاہتا تھا۔ کچھ چیزیں میرے ہاتھ سے نکل گئیں۔" مجتبیٰ نے سخت لہجے میں کہا، "تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے اہان۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تم…" اہان نے بیچ میں کاٹتے ہوئے کہا، "مجھے افسوس ہے مجتبیٰ، لیکن پلیز میرا یقین کرو۔۔میں بس ویسے ہی عریشہ کو۔۔۔ ’’شٹ اپ!‘‘بے غیرت انسان۔۔۔میرا بس نہیں چل رہا میں تمھارا قتل کردو۔تم میری بہن کے جذبات کے ساتھ کھیلتے رہے۔۔‘‘مجتبیٰ نے اسے پیچھے کو دھکا دیا تھا۔۔۔وہ خاموش رہا۔۔۔ ‘‘عریشہ نے غصے سے گاڑی کا دروازہ کھولا، ’’نہیں مجتبیٰ ایسے مت بولو پلیز!‘‘ وہ تڑپ کر رہ گیا۔۔آئزل تو اس کی روح میں بستی تھی۔۔وہ اسے دھوکا دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ "تمہاری وضاحتوں کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ ہٹو راستے سے۔" اہان نے ایک آخری نظر ڈالی، اور تھکے قدموں سے واپس اپنی گاڑی کی طرف گیا۔ مجتبیٰ اور عریشہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھےآنکھوں میں بےیقینی، حیرت اور غصہ۔ ’’یہ سب کیا تھا مجتبیٰ! تم اہان کو کیسے۔۔۔‘‘وہ حیران تھی۔ ’’گاڑی میں بیٹھو۔میں سب بتاتا ہوں۔۔۔ عریشہ نے گہری سانس لیتے ہوئے سر ہلایا، اور گاڑی آگے بڑھ گئی، مگر اس رات کی تلخی دونوں کے دلوں میں گھر کر چکی تھی۔اسکا کزن مجتبیٰ کی بہن کا شوہر تھا۔۔ یہی چیز تھی وہ عریشہ کو پریشان کر رہی تھی۔۔کیا مجتبیٰ بھی اس سازش کا حصہٰ تھا؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آئزل!‘‘وہ اُسے پکارتا ہوا فوراً سے رُوم میں آیا تھا۔جہاں وہ بیڈ پر بیٹھی کپڑوں کو تہہ لگا رہی تھی۔ ’’اہان! آپ آگئے؟ اتنی اچانک۔۔۔مجھے بتایا بھی نہیں۔‘‘وہ اسے دیکھ حیران ہوئی۔جبکہ اس نے آتے ہی آئزل کو سینے سے لگالیا
