Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 27
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/06/2026
0 Views
Episode no 27
کر آئزل کے ساتھ بیٹھا۔ آئزل نے ایک نظر اُوپر اٹھا کر دیکھا، پھر سر جھکا کر مسکرا دی، جبکہ تحمینہ بیگم نے سر پر دوپٹہ جماتے ہوئے بیٹے کو گھورا۔جو ہنی مون سے لوٹ کر مزید بے شرم ہوچکا تھا۔۔ "بیٹا، ناشتہ خاموشی سے کر لو۔ صبح صبح کوئی فضول حرکت نہ کرنا!"ماں کی تنبیہ پر اس نے مصنوعی صدمے سے ہاتھ سینے پر رکھا۔ "امی، یہ آپ کہہ رہی ہیں؟ میں اور فضول حرکت؟ یہ تو میرے کردار پر حملہ ہے!"مہروز صاحب نے اخبار نیچے کیا اور اپنی مخصوص بارعب آواز میں بولے۔۔ "فضول باتوں میں وقت ضائع نہ کرو، ناشتہ کرو۔"اہان نے چمچ اُٹھایا، پھر ایک نظر آئزل پر ڈالی، جو خاموشی سے اپنے توس پر مکھن لگا رہی تھی۔۔۔۔ "ویسے، بابا ایک بات کہوں؟"اہان نے معنی خیزمسکراہٹ کے ساتھ پوچھامہروز صاحب نے بیزاری سے ایک نظر اخبار سے اوپر ڈالی۔ "کہو۔"اس نے گلا صاف کیا۔ "میں نے سنا تھا کہ دنیا میں دو ہی لوگ سب سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں—ایک، خاموش بیوی… اور دوسرا، اخبار پڑھتا ہوا باپ!مگر آپ دونوں کو لے کر میں كنفیوس ہوں کہ آپ دونوں میں سے میرےلئے زیادہ خطرناک کون ثابت ہوسکتا ہے۔۔وہ شرارت سے بولا آئزل نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، اور تحمینہ یگم نے حیرانی سے بیٹے کو گھورا، جبکہ انہونے نے اخبار نیچے رکھتے ہوئے سنجیدہ انداز میں دیکھا "ویسے یہ تم نے ٹھیک ہی سنا تھا!"اس نے ہنسی دبانے کی کوشش کی۔ "ویسے بس، میں یہی سوچ رہا تھا کہ میرے نصیب میں دونوں ہی آگئے ہیں!"اس بار آئزل نے اپنی ہنسی ضبط کرنے کے لیے جلدی سے نوالہ منہ میں ڈالا، اور تحمینہ بیگم نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے اسے گھورا۔جو بلاوجہ شوخا ہورہا تھا۔۔۔ "اہان ، تمہیں سلیقے سے ناشتہ کرنے کی عادت کب آئے گی؟"وہ خفگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔اہاں نے سنجیدہ شکل بنا نے کی ناكام کوشش کی ۔۔ "امی، میں نے بہت کوشش کی، مگر میں نے محسوس کیا کہ ناشتہ کرنے میں سلیقہ صرف وہ لوگ دکھاتے ہیں جن کے پیٹ پہلے ہی بھرے ہوں!"مہروز صاحب نے چائے کا سپ لیتے ہوئے ایک لمبی سانس لی۔ "بس کر دو، بیٹا۔ ہم تمہاری صبح صبح کی کامیڈی شو دیکھنے نہیں بیٹھے!"اہان نے بے ساختہ ہنستے ہوئے چمچ نیچے رکھا اور مصنوعی افسوس سے بولا، "یہی بات میری بیوی بھی کہتی ہے!"آئزل نے ہنسی دبانے کے لیے جلدی سے پانی کا گلاس اٹھایا، کیونکہ وہ ساس کی کینہ توز نگاہیں مسلسل خود پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کی روشنی کمرے میں مدھم سی چمک رہی تھی۔ عریشہ آئینے کے سامنے کھڑی، ایک ہاتھ میں دوپٹہ سنبھالے اور دوسرے ہاتھ سے ہلکا سا لپ اسٹک کا شیڈ لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں نیند کی ہلکی سی خماری واضح تھی، مگر چہرے پر سنجیدگی طاری تھی۔ دوسری طرف، مجتبیٰ اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے بار بار آئینے میں عریشہ کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر الفاظ نہیں مل رہےہوں. "مم…مجھے لگتا ہے کہ ہم آفس ساتھ جا رہے ہیں؟" آخر کار، عریشہ نے نظریں آئینے میں ہی رکھتے ہوئے آہستہ سے کہا۔ مجتبیٰ نے گلا کھنکھارا اور جلدی سے ٹائی کی گرہ ٹھیک کرتے ہوئے بولا، "ہاں… میرا بھی یہی خیال تھا۔ کیونکہ… میرا مطلب ہے، ہم ساتھ ہی رہتے ہیں… تو، ظاہر ہے، ساتھ جانا چاہیے؟" عریشہ نے ایک پل کے لیے رک کر اس کی طرف دیکھا، پھر سر ہلایا۔ "ہاں، میرا بھی یہی خیال تھا… شاید۔" کمرے میں ایک عجیب سا خاموش لمحہ آیا، جیسے دونوں ہی ذہن میں الفاظ ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہوں۔ مجتبیٰ نے اپنی گھڑی پہنتے،سرسری انداز میں کہا، "ویسے، میڈم آگر آپ چاہو تو اپنی گاڑی الگ لے جا سکتی ہو، مطلب… کوئی زبردستی نہیں۔" عریشہ نے چونک کر اسے دیکھا، پھر ذرا سخت لہجے میں بولی، "اوہ… نہیں، میرا مطلب ہے، اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میں تمہارے ساتھ ہی چل لوں گی۔ میرا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔" مجتبیٰ نے فوراً سر ہلایا، جیسے وہ پہلے ہی اتنا بولا کیوں۔ "ہاں، ہاں! میرا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔"پھر دونوں ہی ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے۔ عریشہ نے اپنی فائلیں سمیٹتے ہوئے سر جھکایا، جبکہ مجتبیٰ نے موبائل چیک کرنے کی اداکاری کی۔چند سیکنڈز بعد، عریشہ نے آہستہ سے پوچھا، "تم عام طور پر آفس کیسے جاتے ہو؟"مجتبیٰ نے کندھے اچکائے، "بس، گاڑی میں بیٹھتا ہوں… اور چلا جاتا ہوں۔"عریشہ نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی۔ "واہ، بہت انوکھا طریقہ ہے!"مجتبیٰ نے مصنوعی سوچنے والے انداز میں سر ہلایا۔ "ہاں، میں ذرا creative انسان ہوں۔"عریشہ نے ہلکا سا سر جھٹکا اور بیگ کندھے پر ڈالا۔ "چلو، اب زیادہ creative ہونے کی ضرورت نہیں، ورنہ ہم لیٹ ہو جائیں گے!"مجتبیٰ نے آحتراماً اداکاری کرتے ذرا جھک کر دروازے کی طرف اشارہ کیا، "تو محترمہ، چلیں؟"عریشہ نے آنکھیں گھمائیں، "چلیں، جناب!" وہ اسکی ہمراہی میں باہر آئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دروازے پر کھڑے دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ باہر کی چمکتی دھوپ میں، عریشہ کے چہرے پر ہلکی سی ناگواری تھی، جبکہ مجتبیٰ کے چہرے پر بے نیازی کا سا تاثر تھا، مگر اندر سے وہ بھی تھوڑا بےچین تھا۔انہونے جو رائیڈ بک کی تھی۔۔اس نے اندر گلیو ں میں انے سے صاف انکار کردیا تھا۔۔اور رائیڈ کینسل کردی تھی۔۔۔ عریشہ نے ذرا غصّے سے بیگ کندھے پر ڈالا اور ہاتھ باندھ کر بولی، "تو… ہميں بس اسٹاپ تک جانا ہے؟"مجتبیٰ نے پرسکون لہجے میں جواب دیا۔ "ہاں۔ دو منٹ کی واک ہے، کوئی بڑی بات نہیں۔"عریشہ نے بھنویں چڑھائیں۔ "دو منٹ؟ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ باہر سورج کتنا تیز ہے؟ میرے بال خراب ہو جائیں گے، جوتے مٹی میں بھر جائیں گے اور سب سے بڑی بات، میں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کرتی!" مجتبیٰ نے کندھے اچکائے، "ہاں، میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ آپ کوئی عام بندی نہیں ہیں ۔۔مگر میں عام سا ہی بندہ ہوں۔۔"عریشہ نے ناک چڑھائی۔ "عام بندی کی بات نہیں… میں کمفرٹ میں یقین رکھتی ہوں۔" مجتبیٰ نے ذرا طنزیہ انداز میں کہا، "اچھا، تو کیا آپ ہیلی کاپٹر بلوانا چاہو گی؟ یا پورا روڈ سیل کروا دوں تاکہ آپ بنا کسی رکاوٹ کے چل سکو؟"عریشہ نے گہرا سانس لیا اور ہاتھ کمر پر رکھ کر بولی، "زیادہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں، میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ میں ڈرائیور بلوالیتی ہوں ، ہم آرام سے گاڑی میں جائیں گے!"مجتبیٰ کی آنکھوں میں ہلکی سی سختی آ گئی۔ "تم جا سکتی ہو، میں بس سے چلا جاؤں گا۔" عریشہ نے جھٹ سے موبائل نکالا اور ڈرائیور کا نمبر نکالنے لگی ۔۔ "بس کیوں؟ میں نے کہا نا کہ گاڑی آ جائے گی۔ تم میرے ساتھ چلو۔"مجتبیٰ نے ایک تلخ ہنسی ہنسی لی۔ "دیکھیں، میں اپنے پیسوں سے جو افورڈ کر سکتا ہوں، وہی کروں گا۔ میں آپ پر بوجھ نہیں بننا چاہتا۔" خفگی سے موبائل بند کیا اور تیزی سے بولی۔۔ "بوجھ؟ یہ کیسی باتیں کر رہے ہو؟ میں نے ایسا سوچا بھی نہیں!اور بس افس تک ساتھ جانا ہے۔تمہارے نام اپنی پراپڑتی نہیں کرنے لگی۔۔۔مجتبیٰ نے ایک پل کو خاموشی اختیار کی، پھر دھیمے لہجے میں بولا۔۔ "ہو سکتا ہے تم نے نہیں سوچا، مگر میں نے سوچا ہے۔ اور میں ایسا نہیں کر سکتا۔" عریشہ نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا، پھر چپ ہو گئی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ مجتبیٰ کے لیے
