Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 27
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/06/2026
0 Views
Episode no 27
یہ خبر ملی تھی۔وہ مزید پریشان ہوا تھا ۔۔عریشہ کے نمبر سے میسج تھا اور اب اسکا نمبر بند جارہا تھا۔۔ مصطفیٰ نے سر د بیڈ کراؤن سے لگا دیا، آنکھیں بند کر لیں۔ تو یہ تھی عریشہ کی دوستی؟ وہ، جو ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس سے بانٹتی تھی، وہ جس کے لیے مصطفیٰ ہمیشہ ایک فون کال کی دوری پر تھا، آج اس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کیا اور اسے بتانا بھی گوارا نہ کیا؟ ایک ہاتھ زخمی تھا، مگر درد سینے میں زیادہ ہو رہا تھا۔ "کیا میرا ایکسیڈنٹ واقعی اتنا بڑا حادثہ تھا کہ اس نے مجھے اپنی زندگی کے سب سے اہم موقع پر شریک کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا؟مجھ سے مشورہ تک نہ کیا ۔۔اتنا معذور سمجھ لیا کہ ایک کمپنی کے معمولی سے امپلائی کو ترجیح دی۔۔"اس نے ایک گہرا سانس لیا، اور سرد ہنسی ہنسی۔ "زبردست، عریشہ… تم نے کمال کر دیا۔"باہر آسمان پر شام اتر رہی تھی، مگر مصطفیٰ کے دل میں رات اُتر چکی تھی۔۔۔ثمرہ کی یادوں نے پھر بسیرا کیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باہر کراچی کی سڑکوں پر رات کا شور مدھم ہو چکا تھا،کمرہ ہلکی روشنی میں ڈوبا ہوا تھا۔ مگر اس کمرے میں ان دونوں کے مابین ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی۔۔۔ عریشہ نے بازو باندھ کر سنجیدہ نظروں سے مجتبیٰ کو دیکھا، "دیکھیں مسٹر مجتبیٰ ،میں صوفے پر سو جاؤں گی، آپ آرام سے بیڈ پر سو جائیں۔وہ ابھی بھی باس بنی ہوئی تھی"مجتبیٰ نے فوراً سر جھٹک دیا۔ "ایسا نہیں ہو سکتا! صوفہ اتنا آرام دہ نہیں ہے، آپ بیڈ پر سو جائیں ۔ویسے بھی آپ مہمان ہیں۔"عریشہ نے تیوری چڑھائی۔۔ "تو پھر آپ کہاں سوئیں گے؟کیونکہ آپ کا وجود اس چھوٹے سے صوفے پر تو فٹ نہیں ہوسکتا۔۔۔"مجتبیٰ نے کندھے اچکائے۔۔ "یہی فرش پر کوئی دری بچھا لوں گا۔"عریشہ نے ہونٹ بھینچ لیے۔ "یہ کوئی فلمی سین نہیں ہے، مجتبیٰ! مجھے کوئی مسئلہ نہیں، میں صوفے پر ٹھیک رہوں گی۔" مجتبیٰ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا، "ہاں، کیونکہ آپ کو مجھ مڈل کلاس کے گھر سے بھی الرجی ہورہی ہے، ہے نا؟" عریشہ کی آنکھیں پھیل گئیں، "یہ بات آپ نے کہی بھی کیسے؟ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا!" مجتبیٰ نے مصنوعی معصومیت کے ساتھ سر ہلایا۔۔ "لگژری بیڈ سے اندازہ لگا لیا۔ مطلب صاف ہے، صوفے پر سونے کا مطلب ہے کہ تمہیں اس بیڈ سے کوئی خاص لگاؤ نہیں۔ لگاؤ تو ہے نہیں۔"مجتبیٰ نے جان کر کہا تھا ، عریشہ نے گہری سانس لی، جیسے ضبط کر رہی ہو۔۔ "مجتبیٰ، آپ ضد کیوں کر رہے ہیں؟" مجتبیٰ نے ہنستے ہوئے کہا، "یہ سوال میں آپ سے بھی سے پوچھ سکتا ہوں باس !! مگر خیر، ایک حل ہے!" عریشہ نے الجھن سے پوچھا، "کیا؟" مجتبیٰ نے شرارتی انداز میں انگلی اٹھائی، "بیڈ کو درمیان سے لکیر کھینچ کر دو حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ آدھا آپ کا ،اور آدھا میرا !!" عریشہ نے آئی برو اٹھائے اور گھورا۔ "واہ، بہت mature حل دیا ہے!"وہ طنزیہ بولی "دیکھیں، آپ میری بیوی ہو، میں اپکا شوہر ہوں، اور گھر کا فرنیچر ہم دونوں کا ہے۔ تو کیوں نہ اس کا منصفانہ بٹوارہ کر لیا جائے؟"مجتبیٰ نے مزے سے کہا۔۔ عریشہ نے تیز نظروں سے اسے دیکھا، پھر ناک چڑھائی۔یہ بندہ چند گھنٹوں میں زیادہ ہی پهيل رہا تھا۔ "ٹھیک ہے، مگر یاد رکھیں، حد پار کی تو میں یہ تکیہ اٹھا کر سیدھا نشانہ لوں گی!"مجتبیٰ نے قہقہہ لگا کر ہاتھ اٹھا دیا، "وعدہ کرتا ہوں، جو آپکا حصہ ہے، وہ آپ کا ہی ہی رہے گا!میں دوسری سائیڈ ہر گز نہیں اؤنگا۔۔اور آپ مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں۔۔۔۔دونوں اپنے اپنے سائیڈ پر لیٹ گئے تھے۔۔۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی، لیکن ہلکی سی مسکراہٹ دونوں کے لبوں پر چھائی تھی۔ یہ لڑائی کسی جیت کے لیے نہیں تھی، بلکہ کسی تعلق کے بنتے بگڑتے دھاگوں کو سلجھانے کی ایک ننھی سی کوشش تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کی مدھم روشنی پردوں کے درمیان سے چھن کر کمرے میں پھیل رہی تھی۔ باہر کسی ریڑھی والے کی آواز آ رہی تھی، جو اپنے گاہکوں کو بلا رہا تھا۔۔۔۔ عریشہ نیند سے بیدار ہوتے ہی اپنا پیٹ تھام کر بے بسی سے صوفے پر سوئے ہوئے مجتبیٰ کو دیکھنے لگی۔ وہ ایک عجیب سی، خالص مڈل کلاس انگڑائی لیتے ہوئے، آنکھیں بند کیے، بے سدھ لیٹا تھا۔ "اف! یہ بندہ پتھر ہے کیا؟" عریشہ نے دل ہی دل میں سوچا، پھر آہستہ آہستہ چلتے پاس آ کر کھڑی ہوگئی۔ "مجتبیٰ…؟" اس نے ہلکی آواز میں بلایا۔ کوئی حرکت نہیں۔ "مسٹر مجتبیٰ، اٹھیں …" اس بار ذرا اونچی آواز تھی۔ اب بھی کوئی جواب نہیں۔عریشہ نے نظریں گھمائیں۔۔ "مجتبیٰ!!" وہ تقریباً سرگوشی نما چیخی۔ مجتبیٰ نے ہلکی سی آنکھ کھولی، مگر فوراً بند کر لی۔ "کیا مسئلہ ہے، میڈم؟ رات بھر تو سونے نہیں دیا، اب صبح بھی چین نہیں؟مجتبیٰ اسے انكمفرٹیبل دیکھ دس منٹ بعد ہی صوفے پر شفٹ ہوگیا تھا۔۔عریشہ نے خفگی سے ہاتھ باندھ لیے۔ "رات بھر میں نے سونے نہیں دیا؟ آپ نے خود ہی صوفے پر شہید ہونے کا فیصلہ کیا تھا!"مجتبیٰ نے آنکھیں مسلتے ہوئے کراہ کر کہا۔۔ "ہاں، اور اب میری پیٹھ بھی وہی بتا رہی ہے کہ یہ زندگی کا سب سے غلط فیصلہ تھا۔"عریشہ نے اسکی سنی انسنی کی۔۔۔ "یہ سب چھوڑیں، مجھے بھوک لگی ہے!" مجتبیٰ نے ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھا۔ "تو؟" "تو؟" عریشہ نے حیران ہو کر کہا۔ "تو، کھانے کا بندوبست کریں!" مجتبیٰ نے آنکھیں بند کر کے ہاتھ ہوا میں ہلایا، "فرج میں دیکھ لیں کچھ ہوگا۔" عریشہ نے صدمے سے اسے دیکھا، جیسے اس نے کوئی سنگین جرم کر دیا ہو۔ "آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں اپنے نکاح کے اگلے ہی دن، اس گھر میں جا کر خود سے کھانے کا انتظام کروں؟" مجتبیٰ نے بمشکل آنکھ کھولی، "تو آپ کیا چاہتی ہو؟ میں ناشتے میں Candle Light Omelet بنا کر دوں؟"عریشہ نے طنزیہ انداز میں آنکھیں گھمائیں۔ "نہیں، مجھے صرف کھانے کے قابل کوئی چیز چاہیے۔ مجھ سے زیادہ، میرا پیٹ نیا نیا آیا ہے اس گھر میں، اس کا خیال کریں!" مجتبیٰ نے لمبی سانس لی، آخر ہار مانتے ہوئے صوفے سے اٹھنے کی کوشش کی۔ "ٹھیک ہے، چلیں دیکھتے ہیں، فریج میں کیا ہے… مگر ایک بات یاد رکھیں!"عریشہ نے ابرو چڑھائی۔۔ "کیا؟" "اگر فریج میں کچھ نہ ہوا، تو پھر آپ خود ہی باورچی خانے میں جا کر اپنی قسمت آزمائیں گی!"عریشہ نے صدمے سے آنکھیں پھیلائیں، اور اسی لمحے دونوں کو احساس ہوا تھا کہ وہ بلاوجہ بحث کر رہے ہیں۔۔۔مجتبیٰ وہاں سے سیدھا کٹچن کی جانب بڑھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناشتہ کی ٹیبل پر کی معمول کی ہلچل عروج پر تھی۔ خوبصورت، مہنگے ڈنر سیٹ میں ناشتہ لگا تھا۔ آئزل، ہمیشہ کی طرح، نفاست سے بیٹھ کر چمچ سے اپنا جوس ہلا رہی تھی،جبکہ اس کے سسر، جناب مهروز صاحب، ایک سنجیدہ اور روایتی شخصیت، اخبار کے پیچھے چھپے بیٹھے تھے۔ آئزل کی ساس، تحمینہ بیگم، ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ چائے میں چمچ ہلا رہی تھیں، جب اچانک ایک مخصوص شرارتی ہنسی کی آواز سنائی دی۔۔۔ "السلام علیکم !!سب لوگ الرٹ ہوجائیں! شہر کا سب سے ہینڈسم انسان تیار ہو کر ناشتہ پر آ چکا ہے!"ذرا اعلانيه انداز میں بولتا اہان، اپنی مخصوص شوخ چال کے ساتھ ڈائننگ روم میں داخل ہوا۔ وہ پوری شان کے ساتھ اپنی شرٹ کے کف ٹھیک کرتا ہوا کُرسی کھینچ
