Haraa Junoon By Huma Qureshi (YouTube Novel) — Episode no 27
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/06/2026
0 Views
Episode no 27
ہارا جنون از_ہما_قریشی قسط_نمبر_27 شہر کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس کی ایک سادہ مگر خوبصورت مسجد میں ہلکی ہلکی روشنی جگمگا رہی تھی۔چوڑی گلیوں میں گہری خامشی تھی، بس کبھی کبھار کوئی گاڑی گزرنے کی ہلکی سی آواز آتی ماحول میں ارتعاش برپا کردیتی۔۔ مسجد کے اندر سادہ مگر روحانیت بھری فضا تھی۔ سفید دیواروں پر ہلکی نیلی روشنی کا عکس پڑ رہا تھا، اور ایک کونے میں رکھی جائے نمازوں کے ڈھیر سے ہلکی مہک آ رہی تھی۔ مجتبیٰ اور عریشہ مسجد کے ایک کونے میں دوزانوں خاموشی سے بیٹھے تھے۔۔۔مجتبیٰ کا چہرہ سپاٹ تھا جبکہ عریشہ کے پریشان کن تاثرات واضح تھے۔۔۔جیسے ابھی تک انہیں یقین نہ آ رہا ہو کہ وہ اس لمحے میں پہنچ چکی ہے کہ یوں اچانک اپنی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کر رہی تھی۔۔۔ یہ نکاح کوئی روایتی، دھوم دھام والا نکاح نہیں تھا، بلکہ ایک ایمرجنسی نکاح تھا،بنا کسی تیاری کے، بنا کسی گھر والے کے، بس ایک فیصلہ، جو لمحوں میں کر لیا گیا تھا۔ "بیٹا، آپ لوگ پریشان لگ رہے ہیں۔ نکاح سنتِ نبوی ہے، اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔"امام صاحب نے ان دونوں کو پریشان دیکھ، نرم لہجے میں کہا۔۔ مجتبیٰ نے گہری سانس لی اور اپنے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں الجھا کر سر ہلایا، جیسے اپنی گھبراہٹ کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔ عریشہ کا دوپٹہ اس کے ہاتھوں میں مڑا جا رہا تھا، اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، مگر چہرے پر ہلکی سی بے بسی تھی۔ امام صاحب نے نکاح کا مختصر خطبہ پڑھا اور پھر عریشیہ کی طرف متوجہ ہوئے۔۔۔ "عریشہ بنت سلیمان ولد سلیمان احمد ، آپ کا نکاح مجتبیٰ فاروق ولد فاروق شیرازی کے ساتھ باعوض دس لاکھ حق مہر سکہ رائج الوقت گواہان کی موجودگی میں ہونا قرار پایا ہے۔کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟؟" عریشہ کی نظریں بدستور جھکی ہوئی تھیں، اس کے ہاتھ مزید سختی سے دوپٹے کو پکڑ چکے تھے۔ دل میں ہزاروں خدشات تھے، مگر حالات نے اسے وہاں لا کھڑا کیا تھا جہاں واپسی ممکن نہیں تھی۔ اس نے بمشکل سر اٹھایا، اور آہستہ سے کہا۔۔ "قبول ہے۔"تین بار قبول بول کر وہ آنکھیں میچ گئی۔۔۔ "مجتبیٰ فاروق ولد فاروق شیرازی، آپ کا نکاح عریشہ بنت سلیمان ولد سلیمان احمد کے ساتھ باعوض دس لاکھ حق مہر گواہاں کی موجودگی میں قرار پایا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ؟؟" مجتبیٰ نے ایک لمحے کے لیے عریشہ کی طرف دیکھا، جیسے اس سے خاموشی سے اجازت مانگ رہا ہو، پھر آنکھیں بند کر کے آہستہ سے بولا۔۔ "قبول ہے۔" امام صاحب نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا،مسجد کی خاموشی میں امام صاحب کے الفاظ ایک بار پھر گونج اٹھے تھے۔۔۔ "مبارک ہو، نکاح مکمل ہو چکا ہے۔ اللہ آپ دونوں کو خوش رکھے اور آپ کے درمیان محبت اور برکت پیدا کرے۔آمین ۔ ایک پل کی خاموشی چھا گئی۔۔ مجتبیٰ نے ہاتھوں کی مٹھیاں بند کیں اور گہری سانس لی، جیسے ایک بھاری بوجھ دل سے اتر گیا ہو۔ عریشہ نے بھی ایک ہلکی سانس خارج کی، مگر اس کے چہرے پر اب بھی ایک انجانی کشمکش تھی۔ "بیٹا، نکاح کوئی بوجھ نہیں، یہ اللہ کی رحمت ہے۔ بس صبر اور محبت سے ایک دوسرے کا ساتھ دینا، باقی سب اللہ آسان کر دے گا۔"امام صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا،مجتبیٰ اور عریشہ نے ہلکے سے سر ہلا دیا۔ مسجد کی خاموش فضا میں، یہ دو لوگ ایک نئے سفر کا آغاز کر چکے تھے۔ بغیر کسی دھوم دھام کے، بغیر کسی اپنے گواہ کے، بس تقدیر کے فیصلے کے ساتھ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجتبیٰ کی گاڑی ایک متوسط علاقے میں ایک درمیانے سائز کے گھر کے عين سامنے آکر ٹھہری تھی۔۔ یہ کوئی بڑی کوٹھی نہیں تھی، نہ ہی کوئی جدید طرز کا بنگلہ۔ ایک عام سا، مڈل کلاس گھر تھا، جہاں دیواروں پر ہلکی ہلکی نمی کے نشانات تھے، دروازے کی کنڈی ذرا پرانی لگ رہی تھی۔۔وہ گاڑی والے کو پیسے دیتا اسکی ہمراہی میں ہی گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔ عریشہ، جو ہمیشہ بڑے گھروں اور سہولیات میں پلی بڑھی تھی، گاڑی سے اتری تو ایک پل کے لیے ٹھٹک گئی۔ وہ اس وقت ہلکے گلابی جوڑے میں ملبوس تھی، جس کے کنارے نازک موتیوں سے سجے تھے۔ ہاتھ میں بیگ مضبوطی سے تھام رکھا تھا، اور چہرے پر ایک عجیب سا تاثر تھا۔۔جیسے دل نے تو کہہ دیا تھا کہ مجتبیٰ کے ساتھ جانا ہے، مگر دماغ ابھی بھی الجھا ہوا تھا۔ مجتبیٰ نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا، پھر پلٹ کر اسے دیکھتے ہوئے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔۔ "آؤ، یہ اب آپ کا بھی گھر ہے۔۔۔"عریشہ نے ایک نظر دروازے کے پرانے مگر صاف پردے کو دیکھا، پھر آہستہ قدموں سے اندر آ گئی۔ گھر کا اندرونی حصہ بھی باہر کی طرح سادہ تھا۔ ایک چھوٹا سا صحن، جس کے ایک طرف دو چار گملے رکھے یا چھوٹا سا باغیچہ کہہ لیا جائے، اور دوسری طرف ایک موٹا سا صوفہ، جو شاید کچھ سال پرانا تھا۔ دیواروں پر چند گھریلو تصویریں اور ایک دیوار پر گھڑی لگی ہوئی تھی، جو شاید تھوڑی سی ٹیڑھی ہو چکی تھی۔یہ سب کچھ اس کی توقع سے بہت مختلف تھا۔ عریشہ، جو ہمیشہ اے سی کی ٹھنڈی ہوا، نرم و ملائم قالین، اور چمکتے ماربل کے فرش کی عادی تھی، اس نے ایک پل کے لیے اپنے فیصلے پر غور کیا۔۔۔مجتبیٰ نے اسے دیکھ پانی کا گلاس لا کر میز پر رکھا ۔۔۔ "جانتا ہوں، کہ آپ کے لیے یہاں رہنا آسان نہیں ہوگا۔ پر میں وعدہ کرتا ہوں، کہ آپ کو یہاں کبھی تکلیف نہیں ہونے دوں گا۔" عریشہ نے کچھ نہیں کہا، بس گلاس کو دیکھا اور آہستہ سے سر ہلا دیا۔ وہ صوفے پر بیٹھ گئی، لیکن بیٹھتے ہی جیسے کچھ کھٹکا۔ اس نے چونک کر نیچے دیکھا۔۔پھر پرانا سا صوفہ دیکھ سر جھٹک گئی۔۔۔یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں اسے بار بار یاد دلا رہی تھیں کہ وہ اب ایک نئے، مختلف زندگی میں آ چکی ہے۔وہ سر جھٹک گئی بھلا وہ کونسا ہمیشہ کے لئے آئی تھی۔۔ "کمرہ دیکھنا چاہين گی؟" مجتبیٰ نے ذرا سوالیہ انداز میں پوچھا۔عریشہ نے آہستہ سے سر ہلایا۔وہ اسے اپنی ہمراہی میں کمرے میں لے آیا۔ یہاں بھی سادگی تھی۔ ایک سادہ مگر صاف بستر، ایک چھوٹی سی الماری، اور کھڑکی کے ساتھ رکھے ہوئے کچھ کتابیں۔ کوئی زیادہ آرائش نہیں، کوئی اضافی چمک دمک نہیں۔ عریشہ نے ایک پل کو آنکھیں بند کیں۔ اسے احساس ہو رہا تھا کہ یہ گھر اس کی توقعات کے مطابق نہیں، مگر یہاں محبت اور اپنائیت کی خوشبو تھی۔مجتبیٰ نے دروازے پر ہاتھ رکھ کر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، "یہ پہلے صرف میرا کمرہ تھا ،اب ہمارا ہے۔"عریشہ نے پہلی بار مکمل نظر سے مجتبیٰ کو دیکھا۔ "لیکن میں الگ کمرے میں رہونگی۔۔وہ باضد ہوئی۔۔" "معذرت !مگر آپ جب تک میرے نکاح میں ہیں ،تب تک آپ کو یہیں اسی کمرے میں ،میرے ساتھ گزارہ کرنا ہوگا۔۔"عریشیہ خاموش ہی رہی۔ یہ شخص شاید اس کے خوابوں کا شہزادہ نہیں تھا، مگر یہی وہ شخص تھا جس نے نکاح کے وقت اس کا ہاتھ تھاما تھا۔مشکل وقت میں اسکا ساتھ دیا تھا۔۔ابھی تو مصطفیٰ کو اطلاع دینا رہتی تھی۔۔۔وہ کھانے کا پوچھ رہا تھا ،جبکہ اسکا دماغ بری طرح سے الجھا ہوا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "عریشہ کا نکاح ہو گیا؟" وہ خود سے بڑبڑایا، جیسے الفاظ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔اسے جب سے
