Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 45
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
499 Views
Episode No 45
جارہا تھا۔جو وہ سوچ رہے تھے،،،مگر نہیں، بھلا ایسے کیسے ممکن تھا۔بے شک شمس نادیہ کو طلاق دے چکا تھا۔۔۔مگر ابھی زیادہ وقت تو نہیں گزرا تھا۔۔دل میں آئی کہ فون کر کے شمس کو اطلاع دے مگر پھر وہ خود ہی ارادہ ملتوی کر گئے ،جو خود سہاروں پر آخری سانسیں لے رہا تھا وہ بھلا نادیہ کو اور اس بچے کو کیا سہارا دیتا۔۔۔چند گھنٹے مزید سرک گئے تھے،جبھی ڈاکٹر ز چہرے پر سے ماسک ہٹا کر مایوس سے باہر آئے تھے۔وہ تیزی سے ان کی جناب بڑھے۔ ’’ائی ایم سوری!ہم نے بہت کوشش کی۔مگر ہم آپ کے بے بی کو نہیں بچا سکے۔اور ہمیں بہت افسوس کہ ساتھ بولنا پڑ رہا ہے ک وہ کبھی مدر نہیں بن سکتیں۔‘‘وہ ڈاکٹر قیامت خیز لفظ بولتیں جا چکی تھیں۔جبکہ وہ کتنے ہی لمحے میں سکتِ کی سی کیفیت سے دوچار کچھ بول ہی نہیں سکے تھے۔۔۔قسمت نجانے کیوں انہیں آزمانے کے در پر تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر قبل ہی ڈاکٹر اُ نہیں ایک خوبصورت سے بچے کے دنیا میں آنے کی خبر سُنا کر گئیں تھیں۔۔ وہ نرسری میں موجود تھا۔۔۔وہ بے انتہا خوبصورت بچہ تھا، وہ بالکل اپنی ماں کا عکس تھا۔ ناصر صاحب کے دل میں ہوک سی اُٹھی تھی۔اپنی اولاد کا غم یاد کر ان کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ کوئی مہربان کندھا ملے اور وہ اس کے کندھے پر سر رکھ کر رولیں،مگر ایسا کہاںممکن تھا۔ابھی تو انہیں خود کو سنبھلنا تھا اور پھر زرین کو بھی۔جنہیں ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا۔۔ کافی وقت گزر گیا تھا۔نادیہ کی حالت اب خطرے سے باہر تھی۔وہ بچے کو گود میں ہی اُٹھائے نادیہ کے روم میں داخل ہوئے تھے،جہاں نادیہ نڈھال سی لیٹی آنسو بہا رہی تھیں۔ اپنے سامنے کھڑے ناصر صاحب کو دیکھ وہ ایک لمحے میں سکتِ میں رہ گئیں تھیں۔۔۔۔ ’’نادیہ آپ کہاں چلی گئیں تھیں،میں نے آپ کو ہر جگہ تلاش کیا،لیکن آپ نہیں ملیں۔‘‘وہ زرا فاصلے سے کھڑے ہوگئے تھے۔ ’’ یہ ۔۔۔یہ بچہ۔‘‘اُن کی نظریں تو بس گود میں موجود نومولود بچے پر تھیں۔ ’’جی آپ کا بیٹا!آپ کو شمس کو ضرور بتانا چاہئے۔اس کی اولاد ہے یہ۔‘‘ وہ زرا سنجیدگی سے بولے جبکہ نادیہ کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا۔ ’’یہ شمس کا بچہ نہیں ہے۔۔۔۔‘‘وہ تیز لہجے میں بولتیں ،اس بات کو فراموش کر گئیں تھیں کہ وہ کیا کہ رہی ہیں۔ ’’نادیہ۔۔۔۔آپ۔۔۔آپ نے عدت کے دن ختم ہونے سے قبل ہی دوسری شادی کر لی؟‘‘ ان کے دماغ میں اتنی دِیر سے جو سوچ چل رہی تھی وہ زبان پر لے آئے تھے۔چہرے پر تاسف اور حیرانگی واضح تھی۔نادیہ استہزائیہ مسکرا ئی تھیں۔ ’’میں نے کوئی نکاح نہیں کیا۔۔۔یہ بچہ۔۔۔یہ بچہ ناجائز ہے۔۔آپ اسے مار دیں ناصر۔۔۔آپ اس بچے کو مار دیں۔۔ورنہ میں اسے ماردونگی۔۔کتنی بار مارنے کی کوشش کی ۔۔لیکن ناجانے یہ کس قدر ڈھیٹ جان ہے۔گاڑی کے سامنے آنے سے بھی نہیں مرا۔‘‘ وہ شدید غصےٰ اور نفرت کی سی ملی جلی کیفیت میں بولتیں اس بات کو نظر آنداز کر گئیں تھیں کہ کچھ لمحے قبل ہی وہ زندگی اور موت سے لڑ کر اس بچے کو دنیا میں لائی تھیں۔وہ اُن کی اولاد تھا۔جبکہ وہ تو آج پے در پے ملنے والے شاکس کے باعث بالکل خاموش ہوگئے تھے۔۔۔ ’’یہ میری اور شمس کی اُولاد نہیں ہے ناصر!یہ تو اِس درندے صفت انسان کی ُاولاد ہے جنہونے میری زندگی برباد کر دی۔۔نجانے اُن درندوں میں سے بھی اس کا باپ کون تھا۔۔اُسے مار دو۔۔۔یہ بھی اسی شخص جیسا ہوگا۔۔اُسے مار دیں۔۔میں نہیں ہوں اس کی ماں۔۔۔اُسے مار دیں آپ۔۔۔۔۔‘‘وہ ہذیانی سی ہوکر چیخی تھیں۔اور وہ بچے کو لے کر تیزی سے باہر آگئے تھے۔۔۔ نادیہ کی حالت خراب ہورہی تھی۔ڈاکٹرز نے انہیں نیند کا انجیکشن لگا دیا تھا۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے ۔۔۔۔
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Sun Oct 19 2025
Zaberdast ♥️ Feeling sad for afgan 😢
