Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 45
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
499 Views
Episode No 45
اذیت کی انتہاؤں کو چھو رہا ہو تو اکثر کفریہ کلمات ادا کر جاتا ہے یا پھر اس رب سے شکوہ کناں ہوجاتا ہے وہ تمام جہانوں کا پالنے والا ہے،جو ہم گنہگاروں پر ہماری بسط سے زیادہ بوجھ مسلط نہیں کرتا مگر ہم پھر بھی اس کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔۔ ’’عورت کمزور نہیں ہوتی۔۔ جو عورت تخلیق کے مراحل سے گزر جائے اور ایک دوسرے انسان کو دنیا میں لانے کا ذریعہ ہو وہ عورت بھلا کمزور کیسے ہو سکتی ہے۔۔عورت کو کمزور بناتی ہے اس کی کمزور سوچ، عورت کو کمزور بناتی ہے اس کی اپنی ذات سے کی ہوئی ہمدردری،عورت کو کمزور بناتی ہے اُس کا دوسروں پر ڈیپینڈ ہونا۔ وہ خود آج تک اپنا مقام پہچانے سے قاصر رہی ہےتوپھر اللہ سے شکوہ کیوں۔اللہ نے تو عورت کو بہت صابراور مضبوط اعصاب والی تخلیق کیا ہے۔جو وقت پڑھنے پر اپنے بچوں کا باپ بھی بن جاتی ہے۔جو معاشرے کو پروان چڑھاتی ہے۔جس عورت پر ایک دوسرے انسان کو پروان چڑھانے کی زمہ داری عائد ہو وہ بھلا کب سے کمزور ہوگئی ہے۔۔ ۔عورت جذباتی ہے،عورت حساس ہے۔عورت وفادار ہے۔عورت درگزر کرنے والی ہے،عورت قربانی دینا جانتی ہے،عورت ہر خوبی سے آراستہ ہے،مگر خود کو پہچانے میں ہمیشہ دیر کردیتی ہے۔۔۔ ’’عورت کی نازک مزاجی ہمیشہ اپنے محرم کی چھاؤں میں اچھی لگتی ہے،اور بے شک اللہ نے عورت کو مرد کے مقابلے میں کمزور بنایا ہے ،مگر اس کی یہ کمزوری صرف محرم کی موجودگی تک ہے،جب محرم نہ رہے تو اسے مضبوط ہونا پڑھتا ہے،اپنا آپ سنبھالنا پڑھتا ہے،آگر عزت کی خاطر تلوار بھی اُٹھانی پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے کہ کیونکہ تمہارا جسم ، تمہاری ذات تمہارا کل اثاثہ ہیں،اور جب کوئی آپ سے اس کی زندگی کا حاصل چھیننے کی کوشش کرے تو ایسے شخص کو زندہ درگور کر دینا چاہئے۔۔‘‘کہیں بہت قریب سے کوئی شناسہ آواز اُبھری تھی۔انہیں اپنی قرآن پاک پڑھانے والی باجی کے لفظ بے ساختہ ہی یاد آئے تھے اور آنکھیں بھیگتی چلی گئی تھیں۔۔۔۔ وہ چند قدم ہی چل سکی تھیں کہ بادل کی گرج چمک پر وہ چونک کر ٹھریں،آسمان کی جانب چہرہ اُٹھا کر دیکھا تو آسمان کا رنگ سُرخ ہورہا تھا۔بادلوں کی گرج چمک موسم کے تیور بدلنے کا پتہ دے رہی تھی۔نجانے قسمت میں کیا لکھا تھا۔۔انہیں سمجھ ہی نہ آیا تھا کہ وہ بھری دنیا میں آخر کس کے در پر جاتیں اور کہاں سہارا تلاش کرتیں۔شمس صاحب کی دی ہوئی رقم سے وہ ایک پائی بھی اپنی ذات پر لگانے کی اہل نہیں تھیں۔ان کی عزت نفس انہیں اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دے رہی تھی کہ جو شخص انہیں زندگی کے سفر میں بیچ منجھدار میں اکیلا چھوڑ گیا تھا وہ اس شخص کا دیا ایک بھی روپیہ استعمال کرتیں۔۔۔وہ بے مقصد راستوں کی جانب گامزن تھیں۔۔۔ آسمان سے باران رحمت چھم چھم کرتا برس پڑا تھا۔جبکہ انہیں اپنے آنسوؤں چھپانے کا بہانہ مل گیا تھا۔۔سنسان سڑکیں،بجلی کی ہولناک کڑک جو وقفے وقفے سے کڑکتی تاریکی میں ایک وحشت ناک اُجالا سا بکھیر رہی تھی۔۔ایسی صورت حال میں وہ تن تنہا عورت اکیلی ہی نامعلوم منزل کی جانب گامزن تھیں،وہ پیدل چلتے چلتے نجانے کہاں نکل آئی تھیں۔سوٹ کیس کی ٹرالی دیوار سے لگاتیں وہ خود بھی فٹ پاتھ سے ٹیک لگا کر ہی بیٹھ گئیں تھیں۔دکھ،درد،خوف،رنج،افسوس، بے بسی ،مجبوری قسمت کی ستم ظریفی ایسا دنیا کا کونسا غم تھا جو اس وقت انہوں نے شدت سے محسوس نہ کیا ہو۔۔وہ دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھیں زاور قطار رو رہی تھیں۔وہ جس شدت سے آنسو بہا رہی تھیں اس سے کئی زیادہ شدت سے آسمان سے مینا برس رہا تھا۔۔جسم پر کپکپی سی طاری ہوگئی تھی۔ ’’یا اللہ میری آزمائش ختم کردے۔۔مجھے اس دنیا میں نہیں رہنا۔۔مجھے عزت کی دو گز زمین ہی میسر کر دے میرے مالک۔میری بچی۔۔۔‘‘ وہ نجانے کتنی ہی دیر آنسو بہاتی رہیں تھیں،اور پھر جب دل غم سے پھٹنے لگا تو وہ رو رو کر اپنے مالک سے موت کی دعا کرنے لگی تھیں،مگر شاید قدرت کی طرف سے ابھی ان کے نصیب کے اور امتحان باقی تھے۔۔ بارش تھم چکی تھی،رات کا نجانے کونسا پہر تھا، سرد ہواؤں کی وجہ سے وہ شدید سے کپکپاہٹ کا شکار تھیں،ہر طرف سوگ کا سا سناٹا تھا۔شکاری کتوں کے بھونکنے کی آواز ماحول میں وحشت سی پھونک رہی تھی۔وہ نڈھال سی اپنی ساری ہمت مجتمع کرتی بہت مشکل سے کھڑی ہوئی تھیں۔ اب دور دور تک نہ آدم تھا نہ آدم کی ذات،وہ با مشکل دو قدم ہی چل سکی تھیں جبھی، تیز رفتار بائکس کی آوازسماعتوں سے ٹکرا ئی تھی،وہ تین موٹر بائیکس پر سوار سات سے آٹھ منچلے نوجوان بہت تیزی سے وہاں سے گزرے تھے وہ ایک لمحے کو لڑکھڑائی تھیں،اور بامشکل اپنے قدم زمین پر جمائے۔ وہ ابھی سنبھل بھی نہ سکی تھیں کہ وہ موٹر بائیک سوار کچھ دوری پر جاکر ٹھر گئے تھے،اور آہستہ روی سے چلتی وہ تینوں بائیکس اس کے نزدیک چلی آئی تھیں،وہ خوفزدہ سی اپنا دوپٹہ سختی سے مٹھی میں دبوچتی سہم گئی تھی،جبکہ وہ لڑکے اب اس کے گرد گول گول بائیکس گھوماتے اسے اپنے گھیرے میں لے چکے تھے،جو ہر طرف سے بھاگنے کی کوشش کرتی اب بُری طرح رو رہی تھی۔وہ لڑکے شاید نشے میں دھت تھے وہ قہقہے پر قہقہے لگا رہے تھے،اور نادیہ نے ایک بار پھر خود کو بے بس ،نڈھال اور کمزور پایا تھا۔ ’’آدھی رات کا وقت،سنسان سڑک،خوبصورت جوان سال عورت،یہ بارش اور بھیگا سراپا ہائے ظالم قیامت ہی قیامت ہے۔۔۔‘‘ان میں سے ایک ہاتھ میں کانچ کی بوتل پکڑے مدہوش لہجے میں باآواز خباثت سے بولا تھا،نادیہ کو اپنے اِرد گرد دنیا گھومتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔ ’’ چلو آؤ ہم تمہاری اس رات کا مزاح دوبالا کر دیتے ہیں۔‘‘اب بائیکس ٹہر چکی تھیں،ان میں سے ایک آگے بڑھتا تیزی سے اُن کا ہاتھ تھام چکا تھا۔۔اور وہ پوری شدت سے چلائی تھیں۔۔ ’’ہیلپ!‘‘نادیہ جسے کچھ دیر قبل اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی تھی اب وہ اس قدر شدت سے چلائی تھی کہ اگر ارد گرد میں آگر واقعی باضمیر لوگ تھے تو انہونے اس نازک سی لڑکی کی چیخ ضرور سنی ہونگی۔۔۔ مگر وہ چیختی رہی چلاتی رہی وہ وحشی نما درندے اسے دبوچ کر لے گئے تھے۔ وہ سیاہ،سنسان سڑک اُس بد نصیب کے دکھ کی گواہ بن گئی تھی۔اپنے مخصوص اڈے پر لے جاکر وہ سات آٹھ لحیم شحیم مرد اس نازک ذات کی عزت کو پامال کرتے رہے نہ زمین دھنسی،نہ آسمان پھٹا،اور اس دھرتی پر ایک اور معصوم عورت بے ضمیر لوگوں کے اس معاشرے میں اپنی نسوانیت کھو بیٹھی تھی،اپنی شناخت کھو بیٹھی تھی،اپنی عزت کھو بیٹھی تھی،وہ عورت جس کا کل اثاثہ محض اس کی عزت ہی ہوتی ہے وہ عورت اپنا کل اثاثہ اپنی جینے کی وجہ بھی کھو بیٹھی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افگن پلیز سنبھالیں خود کو ۔۔‘‘وہ جو اپنی شناخت تلاش کرتا خود ماضی میں غرق ہوگیا تھا اب کسی بچے کی طرح چہرہ ہاتھوں چھپا کر بلک بلک کر رُو پڑا تھا۔ رو تو حیات بھی رہی تھی یا پھر اس کمرے کی ،ہر شے ہی اس درد ناک منظر میں جکڑی افسردہ اور ماتم کناں تھی۔۔ ’’کاش!کاش کہ میں وقت کو پلٹ سکتا۔۔کاش کہ ناصر صاحب نے اس رات میری ماں کو تنہا نہ کیا ہوتا تو شاید آج میرا گندا وجود اس دنیا میں نہ ہوتا۔۔کاش کہ اس رات خود کو میرا باپ
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Sun Oct 19 2025
Zaberdast ♥️ Feeling sad for afgan 😢
