Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 45
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
499 Views
Episode No 45
نادیہ کی ہمراہی میں فردوس بیگم کے سامنے پیش ہوگئے تھے جو اپنے شوہر کی دوسری بیوی اوربیٹی کو دیکھ آپے سے باہر ہوگئیں تھیں۔جوان بہو بیٹوں کی موجودگی میں فردوس کے ان تماشوں پر شرمندہ تو شمس صاحب بھی ہوگئے تھے مگر کیا کرتے۔وہ ڈھلکے قدموں سے واپس لوٹ آئے تھے۔نادیہ کا رو رو کر برا حال تھا۔فردوس نے ان کی ذات پرکیسے کیسے الزام نہ لگائے تھے ۔ اُن کی معصوم بچی کے بارے میں کیا کیا بکواس کی تھی، شمس صاحب بہت غصےٰ سے گھر پہنچے تھے مگر وہاں اُن کی بیوی اور دونوں بیٹے پہلے ہی پنچائت لگا ئےبیٹھے تھے۔۔۔ اور پھر روز روز کے لڑائی جھگڑوں سے وہ تنگ آگئے تھے۔۔ اور فردوس کا رویہ دیکھتے ہوئے وہ خاموشی سے اپنی جائیداد کاکچھ حصہٰ اپنی بیٹی کے نام کر چکے تھے۔۔اور نادیہ کی ناں ناں کے باجود بھی وہ ان کے اکاؤنٹ میں ہینڈسم اماؤنٹ ڈال چکے تھے جو کسی بھی مشکل وقت میں کام آسکتی تھی۔۔مگر فردوس بیگم بھی خاموش نہیں بیٹھی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت ایک سال مزید بڑھ گیا تھا،فردوس بیگم کی لاکھ کوششوں کے باجود بھی وہ کسی طور پر نادیہ بیگم کو چھوڑنے پر رضامند نہیں تھے۔مگر فردوس نے ہار نہیں ماننی تھی۔ ان کی تین سال کی جان توڑ کوششوں اور شدید قسم کے لڑائی جھگڑوں کے بعد وہ چار و نچار وہ بظاہر نادیہ کو چھوڑنے پر رضامند ہوگئے تھے۔جبکہ وہ دل ہی دل میں کچھ اور سوچے بیٹھے تھے۔جس رات وہ نادیہ کو پاس جانے والے تھےاس رات انہیں میجر ہارٹ آٹیک آیا تھا۔۔ نادیہ کو اس با ت کی خبر بہت دیر سے ہوئی تھی۔وہ بھاگتی دوڑتی ہسپتال پہنچی تھیں۔جہاں فردوس بیگم نے نہ اپنے شوہر کی حالت کا خیال کیا تھا اور نہ ہی ہسپتال کا،جب سے انہیں یہ معلوم ہوا تھا کہ شمس صاحب نے جائیداد کا ایک بڑا حصہٰ اپنی لاڈلی بیٹی کے نام کر رکھا ہے انہیں یہ بات کسی صورت ہضم نہیں ہوئی تھی ،جبھی وہ نہ صرف شمس صاحب کی غنودگی کا فائدہ اُٹھاتیں نادیہ کے سامنے طلاق نامہ رکھ چکی تھیں ، جس پر انہونے دستخط نہیں کئے تھے مگر وہ جعلی سائن کر ا چکی تھیں،اور نادیہ کے منہ پر دے مارے تھے۔۔ ساتھ ہی ان سے اُن کا ُکل اثاثہ شرمین کو بھی چھین لیا تھا۔ناصر صاحب حقیقت سے نا واقفف تھے انہیں لگا کہ شاید واقعی میں شمس نے طلاق دے دی جو اس روز غصےٰ میں بار بار ایک ہی ذکر کر رہے تھے۔کہ اب وہ اس مسلہ کا کوئی مستقل حل ضرور نکالیں گے۔مگر وہ حل یہ تھا۔۔۔انہیں اپنے دوست کی حماقت پر شدید غصٰہ آیا تھا جو زندگی کی ذرا سی تنگی بھی نہ جھیل سکا اور مشکل وقت میں اپنی بیوی کا ساتھ چھوڑ چکا تھا۔جس کا ساتھ نبھانے کا وعدہ وہ عمر بھر کے لئے کر چکے تھے۔۔۔۔ فی الحال ناصر صاحب ایک بار پھر روتی سسکتی نادیہ کو اپنے ساتھ لے آئے تھے جو ایک بار پھر بے آسرا ہوگئیں تھیں،جبکہ زرین کو انکی موجودگی بُری طرح کھٹک رہی تھی۔۔سالوں بعد اللہ اُنہیں اولاد کی نعمت سے نوازنے والا تھا ایسے میں وہ اس منحوس عورت کا سایہ اپنے گھر پر پڑتا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔شمس صاھب میجر ہارٹ اٹیک کے بعد ابھی سنبھال ہی نہ پائے تھے کہ فردوس نے انہیں نادیہ کی بے وفائی اور ان کی اولاد یہاں پھینک کر جانے کی جھوٹی کہانی سنا دی تھی۔جو شدید صدمے اور فالج کے اٹیک کے باعث بولنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہو گئے تھے۔جب ناصر صاحب کو علم ہوا تو وہ جو نادیہ کا بابت انہیں آگاہی دینا چاہتے تھے اور ان سے اس زیادتی کا سوال کرنا چاہتے تھے انہیں اس حال میں دیکھ خاموش رہ گئے۔جبکہ زرین نے نادیہ کا جینا حرام کرر رکھا تھا جو اپنی عدت کے دن عزت سے گزرانا چاہتی تھیں۔مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔۔۔ رات کا وقت تھا جب ناصر صاحب تھکے ہارے سے گھر واپس لوٹے تو زرین نے ایک الگ ہی جنگ کا میدان سجا رکھا تھا۔۔ اس حالت میں وہ اِن کی جان پر کسی قسم کا کوئی رسک نہیں لینا چاہتے تھے اور اب نہ ہی نادیہ مزیدوہاں ٹھرنا چاہتی تھیں۔۔۔ ’’نادیہ پلیز!بس آج رات اور یہاں ٹھر جائیں۔میں کل صبح زرین کو سمجھاؤنگا۔۔‘‘وہ منتی لہجے میں بولے۔۔ ’’میں یہاں آخر کس رشتے سے ٹھر جاؤں ناصر صاحب۔میرا آپ سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔‘‘وہ شدید رنج کی کیفیت سے دوچار بولی تھیں۔ ’’ایسا نہ کہیں!وہاں شمس کی حالت بہت خراب ہے یہاں آپ اس طرح جانے کے لئے باضد ہیں۔۔پلیز۔ کچھ تو خیال کریں۔‘‘وہ سمجھانا چاہ رہے تھے۔ ’’اس شخص کا نام بھی نہ لیجئے گا میرے سامنے۔نفرت ہے مجھے اسے بزدل آدمی سے۔‘‘ وہ دونوں ایک دوسرے سے رُخ موڑے کھڑے تھے۔ ’’ نہ جائیں پلیز!‘‘وہ انہیں اپنا ضروری سامان پیک کرتا دیکھ ایک بار پھر منتی لہجے میں بولے۔ ’’اب یہاں رکنے کا جواز بنتا نہیں ہے۔‘‘وہ ٹھان چکی تھیں۔ ’’میرے کہنے پر رُک جائیں۔‘‘ایک آخری کوشش۔ ’’یہ بات آپ کس حثیت سے کہ رہے ہیں؟آخر رشتہ کیا ہے آپ کا مجھ سے۔‘‘وہ تلخ ہوئیں۔۔ ’’آپ۔ نادیہ میں آپ کو ، الگ گھر میں شفٹ کردونگا۔۔۔۔۔‘‘ ’’کیا آپ مجھے اپنے نکاح میں لے سکتے ہیں؟َکیا آپ مجھ سے یہ وعدہ کر سکتے ہیں کہ میری عدت کی مدت پوری ہونے کے بعد آپ مجھے اپنے نکاح میں لے لیں گے۔تو میں یہاں ٹھر جاتی ہوں۔۔اور آپ کی بیوی کی تمام باتیں برداشت کرلونگی۔۔مجھے تو ویسے بھی دوسری بیوی بننے کی عادت سی ہوگئی ہے۔‘‘‘ وہ انتہائی درشتگی سے بولی تھیں۔۔۔ ’’بولیں جواب دیں۔‘‘وہ ماوف دماغ کے ساتھ خاموش کھڑے تھے۔جبکہ نادیہ کی ان کی جانب پشت تھی،دونوں ہی بے حجابی کے خیال سے رُخ موڑے کھڑ ے تھے۔ ’’ایسا نہ ممکن ہے۔۔میں زرین کو کوئی دُکھ نہیں دے سکتا۔۔‘‘وہ نادم لہجے میں بولے تو وہ استہزائیہ مسکرائیں۔۔۔ ’’شکر ہے آپ نے اپنے دوست کی طرح جھوٹے وعدے نہیں کئے۔ اور اچھی بات ہے۔اپنی بیوی کے ساتھ ہمیشہ مخلص اور وفادار ہی رہنا چاہئے۔جو آپ کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیتی ہے۔ویسے بھی اس معاشرے میں عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔۔یہ میری آزمائش ہے اس میں زرین یا کسی دوسرے شخص کا کوئی قصور نہیں۔۔تو سزا وہ کیوں بھگتیں۔‘‘وہ تلخی سے گویا ہوتی اپنا سامان اُٹھا کر کمرے سے باہر نکل گئیں تھیں۔۔اور اس بار ناصر صاحب خود میں اتنی ہمت نہیں جٹا سکے تھے کہ وہ اس بات کا جواب دے سکتے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر اللہ کے آسرے اتنی بڑی زمین پر اپنے لئے پناہ گاہ ڈھونڈے نکل کھڑی ہوئی تھیں۔وہ بے مقصد راستوں پر چلتی شمس صاحب سے ایک بار ملاقات کرنا چاہتی تھیں۔۔وہ اس ظالم شخص سے ایک بار سوال کرنا چاہتی تھیں کہ انہوں نے آخر کیوں ان پر اتنا ظلم ڈھایا تھا۔آخر کیوں اُن سے اِنکے جینے کا واحد سہارا اُن کی بیٹی بھی چھین لی۔۔وہ بے آسرا ہوگئیں تھیں۔اور دل ہی دل میں اللہ سے شکوہ کناں بھی تھیں۔ ’’یا اللہ تو نے عورت کو اتنا کمزور کیوں بنایا ہے۔۔آج مرد محرم کا سایہ کیا سر سے گیا میں بھری دنیا میں اکیلی رہ گئی،لوگوں نے مجھ سے میری اولاد چھین لی اور میں کچھ نہ کر سکی،تو کہتا کہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ تیری اس بندی کی تو صبر کی انتہا ہوگئی اور کتنی آزمائش لکھی ہے میرے نصیب میں۔‘‘انسان جب
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Sun Oct 19 2025
Zaberdast ♥️ Feeling sad for afgan 😢
