Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 45
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
499 Views
Episode No 45
کہنے والے ناصر کاظمیٰ نے میری ماں کو اپنی عزت کی چاددر اُڑھا دی ہوتی تو آج میرا وجود معاشرے میں گالی نہ ہوتا۔۔۔ کاش۔۔‘‘جس حقیقت سے وہ پچھلے کئی سالوں سے نظریں چُراتا آرہا تھا،وہ تلخ حقیقت ایک بار پھر پورے قد سے اُس کے روبرو آگئی تھی، اور وہ بھرپور مرد اس حقیقت کے سامنے خود کو ریزہ ریزہ،بکھرتا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ ’’افگن آپ پاک ہیں۔۔ایسا کچھ نہیں ہے۔۔جو گزر گیا اِسے بھول جائیں۔۔ ماضی صرف انسان کو دکھ ہی دیتا ہے۔۔‘‘وہ اس کے ہاتھ تھامنا چاہتی تھی جو آنکھوں کو چھپائے مسلسل آنسو بہا رہا تھا۔ ’’نہیں!تم نہیں جان سکتیں اس تکلیف کو جو میں پچھلے آٹھ سالوں سے محسوس کر رہا ہوں۔۔تم نہیں سمجھ سکتیں اس کرب کو جو مجھے آٹھ سالوں سے ہر روز کچوے لگاتا رہتا ہے۔ یہ حقیقت میرے حلق میں کسی ہڈی کی طرح اٹکی ہے حیات کے میں ایک ناجائز اولاد ہوں۔میرا باپ۔۔۔میرا باپ نجانے کون تھا۔۔میں جس شخص کا گندا خون ہوں وہ میری ماں کی موت کا زمہ دار ہے۔۔‘‘وہ شدت گریہ سے رندھے ہوئے لہجے میں نا قابل برداشت حقیقت کو بیان کرتا درد کی انتہاؤں کو چھو رہا تھا۔۔حلق میں خراشیں سی پڑ گئی تھیں۔گویا واقعی کوئی ہڈی سی حلق میں اٹک گئی ہو جیسے۔۔۔ ’’افگن!افگن سنبھالیں خود کو۔۔‘‘وہ اس کی بگڑتی حالت دیکھ حواس باختہ ہوگئی تھی ،جو دیوانگی کے عالم میں گلاس میں پانی اُنڈیلتا غٹا غٹ دو چار گلاس اُتار گیا تھا۔۔۔ ’’جاؤ!چلی جاؤ تم بھی یہاں سے۔۔۔چلی جاؤ یہاں سے۔۔میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا،نہ نام،نہ مقام،نہ عزت،اور نہ ہی اچھی زندگی۔۔۔۔‘‘وہ جذبات میں پاگل ہوتا بالوں میں ہاتھ پھیرتا شدید ضبط سے بولا تھا۔۔حیات دو قدموں کے فاصلے پر سہمی سی کھڑی تھی۔اس وقت وہ شیر افگن نہیں تھا جیسے وہ پچھلے کئی مہینوں سے جانتی تھی،وہ تو کوئی مختلف ہی شخصیت کا مالک کوئی پاگل جنونی سا شخص لگ رہا تھا۔۔جو کبھی اپنا حلق سہلا رہا تھا تو کبھی سینہ مسل رہا تھا۔۔۔دماغ کی شریانیں پھٹتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔۔ ’’جاؤ!چلی کیوں نہیں جانتیں تم۔۔۔پلیز جاؤ یہاں سے حیات۔۔۔چلی جاؤ۔۔‘‘وہ اسے پتھر کا ہوا دیکھ ایک بار پھر عجیب جنونی لہجے میں بولا تھا۔آنکھوں سے وحشت ٹپک رہی تھی۔۔وہ لڑکھڑاتے قدموں سے بامشکل قدم جماتی دروازے کی جانب بھاگی تھی، بیڈ پر نڈھال سے بیٹھے افگن نے دُھندلی آنکھوں سے خود سے دور جاتی حیات کی پشت کا دُھندلاتا اور قدم قدم دور جاتا عکس دیکھا تھا۔۔۔ ’’کیا وہ بھی سچ میں اُسے چھوڑ گئی تھی۔جیسے پہلے سب اُس کے قریبی اُسے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔کیا وہ بھی اس کے وجود سے گھن کھا رہی تھی؟‘‘ یہ آخری سوچ تھی ، اور پھر دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ ناؤ ہی از فائن مسٹر ہاشمی!کل صبح تک یہ بہتر ہوجائیں گے۔میں شاکڈ میں ہوں کہ سات سالوں بعد شیر افگن کی دوبارہ یہ کنڈیشن ہوئی کیسے۔۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ وہ اتنا پینک کر گیا۔۔ جہاں تک میں اِسے جانتا ہوں وہ بہت مضبوط اعصاب کا لڑکا ہے۔جب میں نے اس کا علاج کیا تھا تب وہ ایک نو عمر لڑکا تھا،جو اپنے احساسات کو کنٹرول نہیں کر پاتا تھا۔۔مگر اب۔۔سچوئشن بالکل ڈفرینٹ ہے۔ناؤ ہی از میرڈ۔‘‘شیرافگن کو پینک اٹیک ہوا تھا۔۔آج سے کئی سال قبل جب اسے حقیقت کا علم ہوا تھا تب بھی وہ یونہی رویا تھا،چلایا تھا،بکھر کر رہ گیا تھا، ان ساری تلخ باتوں نے اس کی ذات پر گہرے نشان چھوڑے تھے۔جو اس کی شوخ مزاج ،نرم خو شخصیت کو تباہ و برباد کر گئے تھے۔۔۔ ’’دراصل علی۔۔‘‘وہ ایک بہترین ماہر نفسیات اور ان کے بہترین دوستوں میں سے تھے۔ وہ کم لفظوں میں افگن کی دوسری شادی،اور آج ہوئے تماشے کے بابت چیدہ چیدہ باتیں گوشے گزار کر گئے تھے۔ ’’اوہ!سو سیڈ۔۔‘‘وہ پچھلے کچھ ماہ سے ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے اافگن کے رسپیشن میں شرکت نہیں کر سکے تھے ورنہ معاملے کی نزاکت سے بخوبی واقف ہوتے۔ ’’یہ حیات ہیں۔۔میرے بیٹے افگن کی وائف!‘‘ وہ خوف زدہ سی کھڑی حیات کے سر پر ہاتھ رکھتے محبت سے بولے تھے۔جو یونہی ساکت و جامد سی افگن کو دیکھ رہی تھی۔جو آج یوں خاموش لیٹا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔ ’’خو ش رہو۔ناصر تم میرے ساتھ آؤ۔‘‘وہ حیات کی حالت کے پیش نظر اس کے سر پر ہاتھ رکھتے خود وہ اپنا بیگ اُٹھا کر روم سے باہر کی جانب بڑھ گئے تھے۔ حیات آہستہ روی سے چلتی ُاس کے سرہانے بیٹھ گئی تھی۔اس کے چہرے پر نگاہ پڑتے ہی آنکھوں میں افسوس در آیا تھا۔پلکوں پر ٹھری نمی،پیشانی پر پڑے لاتعداد بل،گویا وہ بے ہوشی میں بھی خود سے خفا تھا۔وہ دھیرے سے اس کے سر میں انگلیاں چلاتی سُوچوں میں غرق ہوگئی تھی۔۔۔ ’’کیا اُجالا سے نکاح کرنا ،اور اُس کے بچے کو اپنا نام دینے کا فیصلہ کرنا کیا یہ بھی اس حادثے کی ایک کڑی تھا۔‘‘وہ غیر مرئی نقطے کو گھورتی قیاس لڑانے میں مصروف تھی۔ ’’کاش کہ اس سیاہ رات میں ناصر ہاشمی نےمیری ماں کو اپنی عزت کی چادر اُڑھا دی ہوتی تو آج میرا گندا وجود اس دنیا میں نہ ہوتا۔‘‘افگن کہ کچھ دیر قبل کے ادا کئے گئے جملے کانوں میں گونج اُٹھے تھے،اور اس نے بےساختہ ہی افگن کو دیکھا تھا جو نیند میں کچھ بڑبڑا رہا تھا۔۔وہ کان اس کے لبوں کے قریب لے گئی۔۔اسے محسوس ہوا کہ وہ اُس کا نام پکار رہا تھا۔۔۔بے ساختہ ہی آنکھوں میں نمی آگئی تھی،افسانوی دنیا میں جینے والی،ہر بڑی سے بڑی بات کو دیکھ لیں گے کہ کر ٹالنے والی حیات جب سے زندگی کے تلخ حقائق سے آشنا ہوئی تھی ،اس میں چھپی ایک معصوم حیات تو اپنی موت آپ ہی مر گئی تھی،افگن کی دوسری شادی کے بعد اسے لگتا تھا کہ اس کا دُکھ سب سے بڑا ہے مگر آج علم ہوا کہ شیر افگن ہاشمی تو بہت بڑا دکھ اپنے دل میں دبائے بیٹھا تھا۔۔ اُس کی شدید خواہش رہی تھی کہ اس کا شوہر اس کے عشق میں پاگل دیوانہ ہو،جس طرح قصے کہانیوں میں ہیرو اپنی ہیروئن کے لے جنونی ہوتا ہے۔۔شادی کے اس مختصر عر صے میں اُس طرح کا کوئی بھی لفظ اُسے سننا نصیب نہیں ہوا تھا۔جس میں بس محض دیوانگی ہی دیوانگی ہو۔ مگر اپنے ہوش گنوا کر محض خود کو ُپکارتے افگن کو دیکھ اسے نجانے کیوں ایک عجیب سا احساس جاگا تھا۔جو دل کو پرُسکون کر گیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی سوچوں میں محو بیٹھی تھی جبھی دروازے پر دستک ہوئی۔وہ چونکی،شیرافگن کے بالوں میں سرسراتی انگلیوں میں ٹھراؤ آیا۔وہ دوپٹہ درست کرتی دروازے کی سمت بڑھی تھی۔ ’’حیات بیٹا!افگن ہوش میں آئے یا نہیں!‘‘وہ ساتھ ہی کمرے میں داخل ہوئے۔ ’’نہیں بابا !ابھی تو نہیں۔‘‘ وہ بہت دھیمے لہجے میں گویا ہوئی۔ ’’جانتا ہوں ،آپ پریشان ہورہی ہونگی،مگر فکر نہ کریں یہ میرا بیٹا ہے،اور یہ لاکھ انکار کر لے ہمیشہ ہماری ہی اولاد رہے گا۔‘‘وہ دکھ بھرے لہجے میں بولتے بیڈ کے سرہانے بیٹھ گئے تھے۔جبکہ وہ مضبوط تواناں مرد ہوش و خرد سے بیگانہ تھا۔ ’’انکل کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ افگن کی مدر کے ساتھ اس رات کے بعد کیا ہوا تھا؟‘‘وہ جو کب سے مکمل سچ جاننے کے لئے بے چین تھی،تیزی سے بول اُٹھی تھی۔وہ حیات کے سوال پر حیران نہیں ہوئے تھے۔کیونکہ اپنے بیٹے کی دوٹوک طبیعت سے وہ بخوبی واقف تھے۔ ’’آگر آپ بتانا نہیں چاہتے تھے
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Sun Oct 19 2025
Zaberdast ♥️ Feeling sad for afgan 😢
