Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 45
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
499 Views
Episode No 45
تو کوئی بات نہیں پریشان نہ ہوں۔‘‘دوسری جانب گہری چپ محسوس ہوئی تو متوازن لہجے میں گویا ہوئی۔جبکہ ناصر صاحب کی آنکھوں میں پچھتاوے کی آگ واضح تھی۔۔اور پھر وہ ناچاہتے ہوئے بھی اٹھائیس سال پیچھے چلے گئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’زرین مجھے آپ سے یہ اُمید ہر گز نہیں تھی۔‘‘وہ تاسفی لہجے میں گویا ہوئے ،جو ضبط سے خاموش بیٹھی تھیں۔ ’’تو آپ کیا چاہتے ہیں ناصر صاحب؟میں اس عورت کو اپنے ساتھ شراکت دار بنا لوں۔ جس نے پہلے آپ کے دوست کی زندگی میں زہر گھول دیا تھا اب وہ ہماری زندگیاں برباد کرنے پر تل گئی ہے۔‘‘‘ وہ ناگوار لہجے میں پھُنکاری تھیں۔ ’’بس کردیں زرین!اللہ کا واسطہ ہے بس کردیں۔کسی معصوم پر الزام لگاتے ہوئے شرم نہیں آرہی آپ کو۔‘‘وہ غصہٰ سے سخت لہجے میں بولے۔ ’’معصوم!ایسی ہی معصوم ہوتیں ہیں،جو شادی شدہ مردوں ۔۔۔۔‘‘ ’’بس زرین۔۔۔خاموش ہوجائیں ،اب میں ایک لفظ برداشت نہیں کرونگا۔آپ جان نہیں سکتیں میں اس وقت خود کو کس قدر بے بس محسوس کر رہا ہوں۔جاکر دیکھیں باہر کس قدر تیز بارش ہورہی ہے۔۔نجانے نادیہ کہاں گئی ہونگی۔مجھے آپ کی بات ماننی ہی نہیں چاہئے تھی۔‘‘وہ غصےٰ سے بولتے یکدم اپنی نشست چھوڑ کر اُٹھے تھے۔ ’’جائیں آپ ضرور جائیں۔۔مگر ایک بات یاد رکھئے گا کہ آگر اب آپ اس عورت کے پیچھے گئے یا پھر میری کسی بات کو رَد کیا تو میں خود کو نقصان پہنچا لونگی۔۔اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں میں ایسا کر گزرونگی۔‘‘وہ ہزیانی سے بولی تھیں۔ ’’زرین آپ اتنی بے حس اور خود غرض کیسے ہوسکتی ہیں؟‘‘وہ حیران تھے۔ ’’ ہاں میں ہوں خود غرض۔کیونکہ میں اپنی خوشیوں کو آگ نہیں لگا سکتی۔آپ تو اس عورت کے پیچھے بالکل پاگل ہوچکے ہیں۔ہم نے جس خوشی کا برسوں انتظار کیا،جب اللہ ہمیں نوازنے جارہا ہے تو آپ لاپرواہی کر رہے ہیں۔اللہ کی نعمت کی ناشکری کر رہے ہیں۔‘‘ ابھی ان کے تخلیق کے ابتدائی دنوں کی شروعات تھی،اور وہ بہت احتیاط سے کام لے رہے تھے۔ ’’زرین!میں کیا کہوں آپ کو۔۔اللہ جانے آپ اس معصوم کے بارے میں کیا کچھ سوچ رہی ہیں۔شمس نے اپنی مرضی سے نادیہ سے شادی کی تھی،کسی کی زور زبردستی نہیں تھی۔‘‘وہ اُن کی پھولتی سانس دیکھ کندھوں سے تھام کر سمجھانے والے لہجے میں گویا ہوئے تھے۔ ’’جی میں یہ بات بہت اچھے سے جانتی بھی ہوں اور سمجھتی بھی ہوں۔جبھی وہ عورت کچھ دیر قبل آپ کو خود اپنے منہ سے نکاح کی پیشکش کر رہی تھی۔‘‘وہ کینہ توز نگاہوں سے گھور کر بولی تھیں۔ ’’زرین!وہ مجبور ہیں،بے سہارا ہیں،مدد کے نام پر صرف محفوظ چھت چاہتی ہیں،عورت نہ سہی ایک انسان ہونے کے ناطے صرف ایک بار خود کو ان کی جگہ رکھ کر سوچ لیجیے۔‘‘وہ ہار گئے تھے۔ ’’اتنی بڑی دنیا ہے ناصر صاحب،چلی جائے کسی یتیم خانے میں یا دنیا میں کہیں بھی،کسی رشتے دار کے گھر،یہ عورت ہر بار ہمارے گھر میں کیوں پناہ تلاش کرتی ہے ،اب بس میرئ برداشت یہیں تک تھی۔جو آج نکاح کی پیشکش کر رہی ہے کل وہ آپ کو مجھ سے چھین بھی لے گی۔‘‘اُن کے لہجے میں خوف بول رہا تھا۔ ’’ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔آئی رئیلی لو یو۔تم کیوں خود کو تھکا رہی ہو،کچھ نہ سوچوں،میں کچھ نہیں کر رہا ،فائن۔۔میں یہیں ہوں تمہارے پاس۔‘‘ وہ ان کی کنڈیشن کا خیال کرتے اب نرم پڑ گئے تھے۔وہ اب اس معاملے کو بعد میں دیکھنے کا مصمم ارادہ کر چکے تھے کیونکہ وہ زرین اور اپنے بچے کی زندگی پر کسی قسم کا کوئی کمپرو مائز نہیں کر سکتے تھے۔۔مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ قدرت اب انہیں دوسرا موقع ہر گز نہیں دینے والی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت تیزی سے پَر لگا کر اُڑ گیا تھا۔ناصر صاحب نے نادیہ کو ہر اس جگہ تلاش کر لیا تھا،جہاں اُس کی موجودگی ممکن تھی۔مگر اسے نہ ملنا تھا اور نہ وہ ملیں۔تھک ہار کر وہ نادیہ کو تلاش کرنا ترک کر چکے تھے۔شمس صاحب کو ایک بار پھر فالج کا اٹیک پڑا تھا۔ بولنے کی صلاحیت سے تو وہ پہلے ہی محروم ہوچکے تھے اور اب مکمل جسم بھی ان کا ساتھ چھوڑ گیا تھا۔۔ شرمین فردوس منزل میں پرورش پارہی تھی،چھوٹی سی شرمین جب جب اپنے باپ کو دیکھتی تو اسے ماں کی یاد ستانے لگتی،وقت گزرتا گیا عدیل صاحب کی بیگم اور باقی سب بڑے بہن بھائیوں کی نفرت کا نشانہ وہ معصوم بنتی رہی تھی۔۔فردوس بیگم کو تو شرمین ویسے ہی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی کجا کہ اب وہ اپنی ماں کو یاد کر کے بلکنے لگتی تھی۔۔۔ فردوس بیگم کو اُس بچی کے و جود سے شدید نفرت تھی وہ بس اسے جائیداد ہاتھ سے نہ چلی جائے کہ ڈر سے برداشت کر رہی تھیں۔فردوس بیگم کے ڈر و خوف کی وجہ سے اب تو وہ اپنی ماں کو بھی پکارنا بھول چکی تھی۔اسے باپ کے پاس بھی جانے کی اجازت نہیں تھی۔جو معصوم ننھی سی جان کمرے میں ایک کونے میں سکڑی سمٹی بیٹھی رہتی تھی۔اتنے ماہ ہوگئے تھے نجانے اُس کی ماں کہاں چلی گئی تھی۔۔۔مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ ماں کی ممتا اب اس کے نصیب میں نہیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زرین کی طبیعت اچانک ہی خراب ہوگئی تھی،وہ اضطرابی کی سی کیفیت سے دوچار ہسپتال کے کوریڈور میں ٹہل رہے تھے،زرین کو ایک ہفتہ بعد کی ڈیٹ دی گئی تھی،مگر طبیعت کی اچانک خرابی کے باعث انہی فوری ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔جبھی ایک ایمرجنسی کیس وہاں لایا گیا جس کا پورا وجود خون سے لت پت تھا۔حواس باختہ سے پیچھے بھاگ کر آتی خاتون بامشکل اسٹرئچر کے ساتھ قدم ملا رہی تھیں۔ ان کی غیر ارادی سی نگاہ اسٹریچر پر موجود اس وجود کے چہرے پر پڑی اور پھر پلٹنا بھول گئی۔وہ شاید نہیں یقیناً نادیہ ہی تھیں۔وہ بھاگ کر قریب گئے مگر جب تک ڈاکٹرز ایمرجنسی میں انہیں آپریشن ٹھیٹر میں لے گئے تھے۔ ’’یہ میڈم ۔۔۔یہ خاتون آپ کے ساتھ ہیں؟‘‘ وہ تیزی سے قدم اُٹھا کر اس اَدھیڑ عمر عورت کی جانب بڑھے۔ ’’بیٹا !کیا آپ اس بچی کو جانتے ہیں؟‘‘وہ تو خود حواس باختہ نظر آرہی تھیں۔ ’’جی!۔۔۔یہ میری بھابھی ہیں۔‘‘وہ ناچاہتے ہوئے بھی حوالہ دے گئے۔ ’’بیٹا مجھے معاف کردو، یہ بچی اچانک میری گاڑی کے سامنے آگئی تھی۔ ڈاکٹرز بول رہے ہیں یہ پولیس کیس ہے بچی تخلیق کے مراحل سے گزر رہی ہے۔۔بیٹا پلیز ہوسکے تو اس معاملے کو دیکھ لیں۔ہسپتال کا سارا خرچہ میں اُٹھا لونگی۔‘‘وہ فوری ہی عاجزی سے بولیں تھیں،جبکہ ناصر صاحب کے تو قدموں تلے زمین ہی کھینچ گئی تھی۔وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوئے تھے۔ وہ ابھی سنبھل بھی نہیں سکے تھے کہ عجلت میں ڈاکٹرز ان کے قریب آئے تھے۔ ’’دیکھیں ناصر صاحب کملیکشنز مزید بڑھ گئیں ہیں ،ہم دونوں میں سے کسی ایک کی جان بچا سکتے ہیں ،آپ پلیز ان پیپرز پر سائن کر دیجئے۔‘‘وہ شدید ُدکھ سے دوچار لڑکھڑا کر پیچھے بینچ کر گر پڑے تھے۔ مگر نہیں ابھی انہیں حوصلہ کرنا تھا۔کیونکہ وقت کم اور مقابلہ بے حد سخت تھا۔وہ پیپرز پر جلدی سے دستخط کرتے اب بس اُسی سے اُمید لگا کر بیٹھے تھے۔جو کبھی اپنے بندوں کو نااُمید نہیں لوٹا تھا۔مگر آزمائش تو ہر انسان کا مقدر ہوتی ہیں اور انہیں بھی اس آزمائش سے گزرنا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک طرف نادیہ اور د وسری طرف زرین دونوں ہی زندگی اور موت کی کشمکش میں تھیں، پولیس کا معاملہ تو وہ نبٹا چکے تھے ،جبکہ دل تھا جو شررمندگی کے گہرائیوں میں ڈوبتا چلا
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Sun Oct 19 2025
Zaberdast ♥️ Feeling sad for afgan 😢
