Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode No 45
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 18/10/2025
499 Views
Episode No 45
دھوپ چھاؤں سا ہر جائی از ہما قریشی قسط نمبر ۴۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ماضی) شمس صاحب کا تعلق شہر کے ایک نہایت ہی مہذب اور مال دار گھرانے سے تھا۔لیاقت صاحب اپنے اکلوتے بیٹے کی پیدائش کے محض چند سال بعد ہی محبوب بیوی کو کھو دینے کے بعد وقت سے پہلے بوڑھے ہوگئے تھے۔ماں کی وفات کے وقت شمس صاحب کی عمر محض نو سال تھی،اتنا بڑا گھر دونوں باپ بیٹوں کو کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔وقت مزید چند سال آگے بڑھ گیا تھا۔ لیاقت صاحب اپنی دن با دن بگڑتی طبیعت کے باعث زیادہ تر بیمار ہی رہتے تھے۔۔ وہ اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹے کی خوشیاں دیکھنا چاہتا تھا۔۔یہی وجہ تھی کہ وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے اپنے اکلوتے سترویں سال میں قدم رکھتے بیٹے شمس کا نکاح اپنے ایک دور کے رشتے دار کی بیٹی فردوس بیگم سے کراچکے تھے۔جو ان سے عمر میں پورےپانچ سال بڑی تھیں۔مگر قد کاٹھ میں وہ نازک سی فردوس کے سامنے خوب جچ رہے تھے۔ان کی جوڑی بے حد خوبصورت تھی۔ اکیس سالہ نازک،دبلی پتلی سی فردوس شمس صاحب کے بے حد اسرار کے بعد محض دو ماہ میں ہی رخصت ہوکر دونوں باپ بیٹے کی تنہائی بانٹنے آگئی تھیں۔ شادی کے ایک سال بعد ہی بڑے بیٹے عدیل کی پیدائش پر مینش میں جشن کا سا سماں بن گیا تھا۔۔لیا قت صاحب تو پوتے کی پیدائش پر خوشی سے پھولے ہی نہیں سما رہے تھے،یہی وجہ تھی کہ وہ فردوس بیگم کی جانب سے ملنے والی اتنی بڑی خوشی کے باعث یہ گھر تحفہ کے طور پر اپنی بہو کے نام کر گئے تھے۔جو اِن کی ملکیت میں آنے کے بعد فردوس منزل کہلایا تھا۔عدیل صاحب کی پیدائش کے محض چھ ماہ بعد ہی لیاقت صاحب اس دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔فردوس بیگم کو تو گویا اب اپنی من مانی چلانے کے لئے کھلا میدان مل گیا تھا۔وہ مزاجً خاصی تیز طرار لڑکی تھیں۔اور پھر شمس صاحب کی کم عمری کے باعث انہیں کوئی خاص تجربہ نہیں تھا۔۔اب کوئی روک ٹوک کرنے والا بھی نہیں رہا تھا۔۔شمس صاحب فطرتً کم گو اور سادہ مزاج انسان تھے۔ایسے میں فردوس کے روز روز کے لڑائی جھگڑوں سے تنگ آکر انہونے اپنا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزارنا شروع کر دیا تھا۔۔گھر کے عجیب و غریب ماحول میں اپنی پڑھائی مکمل کرنا اور پھر لیاقیاقت صاحب کا اس قدر محنت سے کھڑا کیا گیا بزنس سنبھالنا ان کے لئے بے انتہا مشکل ثابت ہوا تھا،جبھی ان کے یہاں دوسرے بیٹے ہمدان کی پیدائش ہوئی تھی۔اور وقت کا کام ہے گزرنا وہ گزرتا چلا گیا تھا۔۔ انہونے گھریلوں چپقلش سے بچنے کی خاطر خود کو بزنس تک محدود کر کے رکھ لیا تھا۔۔اب ان کے بڑے بیٹے عدیل جو ابھی نو سال کا ہی تھا ماں سے ضد لگاکر وہ اپنے ماموں کے پاس پڑھنے کی خاطر باہر چلا گیا تھا۔ جبکہ وہ اپنے یار ناصر کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔جو بلآخر اور بڑی مشکل سے شادی کے لئے راضی ہوا تھا۔ وقت مزید کچھ سال آگئے آگیا تھا۔ناصر صاحب کو اللہ نے اب تک اولاد کی نعمت سے محروم رکھا تھا۔مگر ابھی انہونے اللہ سےے اُمید نہیں ہاری تھی۔ یہ انہی دنوں کی بات ہے جب شمس صاحب کی ملاقات ناصر صاحب کے آفس میں کام کرنے والی سادہ مزاج نادیہ سے ہوگئی تھی،جن کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔ وہ اپنے ماں،باپ کی صرف ایک ہی بیٹی تھیں۔۔جو ماں باپ کے گزر جانے کے بعد ،ماموں کے گھر رہائش پذیر تھی۔شادی کی عمر نکلی جارہی تھی اور وہ مسلسل جاب کر رہی تھی۔جبکہ دوسری جانب فردوس بیگم کی بے رُخی اور بے اعتنائی کا یہ نتیجہ نکلا تھا کہ شمس صاحب خود سے ہی بیزار رہنے لگے تھے۔۔۔اور پھر جب جگہ خالی چھوڑ دی جائے تو کوئی نا کوئی قابض ضرور ہو جاتا ہے۔۔قسمت کا کھیل تھا کہ نادیہ بیگم ایک سادہ مزاج عورت تھیں، اپنی جانب شمس صاحب کا بڑھتا جھکاؤ دیکھ،وہ حد سے زیادہ خائف رہنے لگی تھیں،مگر یہ جاب ُان کی ضرورت تھی، بلآخر وہ زچ ہوکر ناصر صاحب سے شکایت کرنے پر مجبور ہوگئیں تھیں۔ناصر صاحب نے بھی شمس کا جھکاؤ دیکھ،انہیں سمجھایا تھا،کہ وہ کیون اپنا بسا بسایا گھر برباد کرنے پر تُلے ہیں۔بھلے اُن کی شادی چھوٹی عمر میں بڑی عمر کی لڑکی سے کرادی گئی تھی۔مگر جو بھی تھا اب وہ جوان اولادوں کے باپ تھے۔تو وہ خاموشی سے اپنے قدم پیچھے لے چکے تھے۔۔۔ وقت خاموشی سے چند ماہ مزید آگئے آگیا تھا۔یہ مصروف سے دن کی ایک سیاہی مائل رات تھی جب نادیہ بیگم کے ماموں کی اچانک موت کے بعد ،ممانی نے آدھی رات کو جوان لڑکی کو گھر سے باہر نکل دیا تھا۔۔اور اتفاق کی بات تھی کہ وہ اس رات ناصر صاحب کو سڑک پر اکیلی کھڑی روتی ہوئی ملی تھیں۔جنہیں وہ فوری اپنے گھر لے گئے تھے۔زرین بیگم پہلے پہل تو مشکوک ہوئیں اور جب چار چھے دن گزرے تو انہیں نادیہ کی وہاں موجودگئ بری طرح کھٹکنے لگی تھی،شمس صاحب نے اسی وقت ایک کڑا فیصلہ کیا تھا جیسے وہ اپنی آخری سانس تک نبھانے کا تہیہ کر چکے تھے مگر ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ شمس صاحب کی نکاح کی پیش کش پر وہ کسی طور رضامند نہیں تھیں۔مگرزرین کی نظریں اور بے آسرا زندگی کو کسی پار لگانے کا یہ واحد حل تھا۔وہ چار نچار راضی ہوہی گئیں تھیں۔ نادیہ بیگم اور شمس صاحب کا نکاح بہت اناً فاناً ہوا تھا،وہ انہیں لے کر اپنے ذاتی فلیٹ میں آگئے تھے۔فردوس بیگم اُن کے دوسرے نکاح سے ناواقف تھیں۔ شمس صاحب کی بے رونق زندگی میں پہلے نادیہ اور پھر شرمین نے آکر زندگی میں رنگ بھر دیے تھے۔۔زندگی میں بیٹی کی کمی انہیں ہمیشہ سے کِھلتی رہی تھی،اور پھر شرمین کی پیدائش نے گویا اس کمی کو بھی پورا کر دیا تھا۔۔۔نادیہ ایک سادہ مزاج خاتون تھیں۔ان کے سنگ زندگی پرسُکون گزر رہی تھی۔شمس صاحب اب زیادہ تر کام کا بہانہ بنا کر فردوس منزل سے غائب ہی رہتے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شمس صاحب اس وقت اپنی دوسری بیوی نادیہ بیگم کے گھر میں موجود تھے۔۔شرمین کی عمر بھی چار سال ہونے کو آئی تھی،وہ اب خوش رہنے لگے تھےنادیہ بیگم کی سنگت میں گزُرے یہ دن و رات زندگی کا اثاثہ معلوم ہوتے تھے۔۔جبکہ فردوس بیگم جیسی تیز طرار عورت کے ساتھ گزارا مزید دشوار ہوتا چلا جارہا تھا۔۔اور جب سے اُن کے دونوں بڑے بیٹے جوان ہوئے تو ان کی ذات کا رعب و طنطنہ مزید بڑھ گیا تھا۔وہ آج کل اپنے بڑے بیٹے جن کی عمر ابھی محض اُنیس برس ہی تھی،ان کی شادی کا مصمم ارادہ کر چکی تھیں۔گھر میں دولت کی ریل پیل تھی تو شمس صاحب بھی خاموش رہے۔اُن کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔فردوس بیگم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا تھا۔ وہ خوشی خوشی سب تیاریوں میں مگن تھی۔اور ساتھ خیر سے ان کی بڑی بہو بھی بیاہ کر فردوس منزل میں آگئی تھی،سال بعد پوتے کی پیدائش پر شمس صاحب فردوس بیگم سب ہی بہت خوش تھے۔۔ دو سال کے وقفے سے چھوٹے بیٹے کی بھی شادی کر دی تھی، شمس صاحب کسی حد تک مطمئن ہوگئے تھے کہ اب ان پر عائد زمہ داریاں ختم ہوگئی تھیں۔اب وہ اپنی بیوی اور بیٹی کو معاشرے میں مقام دلانا چاہتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ وہ ایک روز شرمین اور
Comments
Leave a Comment
Hina Batool
Sun Oct 19 2025
Zaberdast ♥️ Feeling sad for afgan 😢
