Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 07 & 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 03/02/2026
0 Views
Episode No 07 & 08
اور داؤد ہاشمی کی ملکیت پر کوئی میلی نظر بھی اگر ڈالے نا تو۔۔۔۔۔میں ان آنکھوں کو نکال باہر پھینک دونگا۔‘‘وہ ایک بار پھر جبڑا ہاتھوں میں جکڑ کر اس کی سرخی مائل آنکھوں میں جھانک کر کہتا خباثت سے مسکرایا۔جبکہ وہ اپنی بے بسی اور حماقت پر صرف پچھتانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔خود غرضی میں اٹھائے گئے قدم اکثر زندگی بھر کا ُروگ بن جاتے ہیں۔۔اور ُاس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’رپورٹر!‘‘وہ جو کچن میں کھڑی اپنے لیے چائے بنا رہی تھی۔ٹائیگر کی شوخ بھری آواز سن کر آنکھیں گھما کر رہ گئی۔ ’’رپورٹر سنو تو!‘‘ٹائیگر آقصیٰ کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب گھماتا بڑا پر جوش نظر آرہا تھا۔ ’’بولو بھی کیا مسئلہ ہے؟‘‘آقصیٰ عادتً چڑ گئی۔ ’’میں سوچ رہا تھا۔اب سے دس سال بعد جب تم زرا موٹی لحیم شحیم ہوجاؤ گی۔تو تم کس چینل میں جاب کروگی؟مطلب میڈیا میں ایسے ڈیل ڈول جسامت والے لوگوں کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور پھر تم تو پورے کیمرہ میں ہی سما جاؤگی۔‘‘ٹائیگر کچن کاؤنٹر سے ٹیک لگائے شرارت سے بولا۔آقصیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔بس نہیں چلا ورنہ وہ اس جنگل کے سرداروں کے رشتہ دار ٹائیگر کو کچا ہی چبا ڈالتی۔ ’’تم فکر نہیں کرو! میں اپنا زاتی چینل بنا لونگی۔ اور پھر اس شہر سے چُن چُن کر تمہارے جیسے لّچوں کا پردہ فاش کرونگی۔ خاص کر کہ تم جیسے دو نمر ٹپوریوں کا۔‘‘چائے کا کپ لبو سے لگاتی وہ پھاڑ کھاتے لہجے میں بولتی ایسے سلگانا ہر گز نہیں بھولی تھی۔مگرُ مقابل بھی ڈھیٹوں کا سردار ٹائیگر تھا۔ ’’ہاہاہا!سچ بتا ؤرپورٹر !مطلب دس سال بعد بھی ڈھونڈے گی اپن جیسا ہی کوئی۔ٹائیگر کے بغیر رپورٹر کو اپنا آپ ادھورا ادھورا سا جو لگے۔‘‘ٹائیگر کی شرارتی رگ پھڑک چکی تھی۔جبھی عجیب و غریب زبان میں بولا۔آقصیٰ کی سنجیدہ طبیعت کو اس ٹپوری کی زبان سر چوٹ لگتی تھی۔ ’’ہٹو راستے سے۔‘‘ٹائیگر کی فضول گوئی میں ایسے کوئی انٹرسٹ نہیں تھا۔ ’’ہٹ تو جاؤں!مگر یہ بتاؤ یہ کالی سفید سی چائے تم نے ایک کپ ہی بنائی ہے۔‘‘ٹائیگر اس کی راہ میں حائل ہوتا بازو سینے پر لپیٹ کر آئی برو آٹھا کر بولا۔ ’’ہاں تو!‘‘ ’’میرے لیے کون بنائے گا؟‘‘ائی برو اچکائے سوال کیا۔ ’’نوکر ہوں تمہاری؟ ’’نوکر نہیں مگر پرسنل بیوی تو ہو نا رپورٹر ۔۔بولے تو فل ٹائم چائے والی۔‘‘وہ شرارت سے قہقہہ لگا کر ایسے چھیڑنے کی غرض سے بولا۔ ’’ہنہ!گن پوائنٹ پر بنائی گئی بیوی۔‘‘جتانا ضروری سمجھا۔ ’’گن پوائنٹ پر ہو یا ڈھول کی تھاپ پر بیوی تو ہو نا۔۔‘‘بحث میں اب مزہ انے لگا تھا۔ ’’ہاں!اور بہت جلد یہ بیوی تمہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے کروائے گی۔پھر جیل میں تمہیں کالی تو کیا چائے نصیب بھی نہیں ہوگی۔‘‘آقصیٰ کا معنی خیز لہجا جتاتا ہوا تھا۔ ’’ہاہاہاہا!رپورٹر پھانسی چڑھوا کر ہی دم لو گی۔‘‘آقصیٰ کی آنکھوں میں چھپی ناگواری اس کے قول کی نشاندہی کر رہی تھی۔ ’’ویسے میں جب بھی مرؤں گا، ٹائیگر کی موت پر اگر سب سے زیادہ خوشی کسی کو ہوگی تو وہ رپورٹر آْقصیٰ شاہ زین ہوگی۔اور پھر رپورٹر مستقبل میں اپنے کارناموں کا میرے بچوں کو بتا رہی ہوگی۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ لے کر لبو سے لگاتا کچن سے باہر نکل گیا تھا۔جو بڑبڑا کر مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی ۔اس وقت اس کے لہجے میں کتنا مان تھا۔کہ شاید وہ کم ہی سہی مگر آقصیٰ کے ساتھ ایک اچھی زندگی ضرور گزارے گا۔ماضی میں گمُ شاہ زین کی تصویر پر ہاتھ پھیرتی آقصیٰ ہچکیوں سے بلک اُٹھی تھی۔جبھی سوچوں میں خلل ڈالتی موبائل کی چنگھاڑتی آواز نے توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔۔ ’’ہیلو!‘‘آنکھوں سے بہتے انسو پونچھ کر وہ رندھے لہجے میں بولی ۔ ’’ہیلو!دوسری جانب خاموشی محسوس کر وہ پھر سے گویا ہوئی۔ مگر دوسری جانب ہنوز خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ وہ مسلسل ہیلو بول رہ تھی کال کا دورانیہ طویل ہوا ۔۔مگر دوسری جانب سے کال بند ہوچکی تھی۔ ایک اجنبی سے ٹکراؤ پھر اس کا شاہ زین کا ہم نام ہونا آقصیٰ کو بہت سی تکالیف سے دوچار کر گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یااللہ بھوتنی چڑیل مجھے کہاں لے آئی ہے؟‘‘شارق سر پر ہاتھ رکھے کوئٹہ شہر کے مشہور پرنس روڈ فوڈ اسٹریٹ پر پریشان صورت بنائے گاڑی کے بونٹ سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ ’’اب کس سے راستہ پوچھوں؟‘‘شارق کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ گاڑی کس سمت میں لے آیا ہے۔وہ ثانیہ کی ہمراہی میں کل صبح ہی دو گھنٹہ کی فلائٹ سے کوئٹہ پہنچا تھا۔آج مہندی تھی ثانیہ میڈم نے بڑے وثوق سے حُکم سناتے ہوئے شام کے پانچ بجے بازار بھیج دیا تھا۔وہ کیسے نا کیسے کر کوئٹہ کی کسی مارکیٹ میں پہنچ تو گیا تھا مگر سمجھ نہیں آرہا تھا۔یہاں ہار پھولوں والے کی دکان کہاں تھی۔جبکہ نظر دوڑانے پر ہوٹل اور رسٹورنٹس نظر آرہے تھے۔ ’’افف !گوگل میپ کہاں پہنچا دیا۔۔‘‘وہ ایک بار پھر میپ سے لوکیشن سرچ کرنے میں مصروف ہو گیا۔جبھی ناک سے کسی پکوان کی خوشبو ں ٹکرائی تھی۔ ’’ہائے اتنی اچھی خوشبو کہاں سے آرہی ہے۔میری تو بھوک چمک اٹھی ہے۔‘‘شارق کو اس وقت براق کی کمی شدت سے محسو س ہوئی۔۔ ’’دفعہ کر شارق!پہلے اس بھوتنی کا سامان لینے کا انتظام کر۔۔۔سمجھ نہیں آرہا دوست کی شادی پر اتنی تیاریاں کر رہی ہے ،اپنی شادی پر کیا چاچو کو کنگلا کرے گی یہ لڑکی۔‘‘براق تو تھا نہیں تو بیچارہ اکیلے میں ہی بڑ بڑا رہا تھا۔جبھی موبائل پر رنگ ہوئی۔ ’’ہیلو!دوسری طرف ثانیہ تھی۔ ’’کہاں ہو تم۔چار پھول لینے بھیجا تھا تمہیں دو گھنٹے ہوگئے۔دو گھنٹے میں تو کوئٹہ شہر ختم ہوجاتا ہے اور تم ابھی تک گھر واپس نہیں آئے؟‘‘دوسری جانب وہ مخصوص پھاڑ کھاتے لہجے میں بولی تھی۔ ’’ہاں!تو مجھے کیا پتہ یہاں کونسئ مارکیٹ کہاں ہے۔ابھی بھی پتہ نہیں کہاں پھنس گیا ہوں۔‘‘شارق چڑ کر گویا ہوا۔ ’’گھر آؤ فٹافٹ ۔۔کیونکہ میرا سامان آچکا ہے۔۔‘‘دوسری جانب وہ ناگواری سے بولتی کال بند کر چکی تھی۔ ہنہ!گھر آؤ چاچو کا نوکر سمجھا ہوا ہے۔مجھے ا س بھوتنی سے تو میں مر کر بھی شادی ناکرو۔‘‘خود ساختہ بڑبڑا کر وہ گاڑی ٹرن کرنے لگا تھا۔ابھی گھر پہنچنے میں جانے ایسے کتنی دیر لگنی تھی۔بیچارہ شارق برا پھنسا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیلو!بلیو توتھ سے ُابھرتی آواز میں سردگی تھی۔ ’’تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم اس کھیل میں ہمارا ساتھ دوگے۔۔اب تم اپنے قول سے پھر نہیں سکتے۔‘‘مقابل کی سخت سی آواز غصہٰ میں لپٹی تھی۔ ’’جب ایک بار کہ دیا کہ !سو کہ دیا۔۔کام ہو جائے گا۔‘‘دوسری جانب سے جواب دے کر فون کھٹ سے بند کیا گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہاں آپ کو بریکنگ نیوز سے آگاہ کرتے چلیں۔لندن میں مقیم معزز پاکستانی الیاس احمد بزنس ٹائیکون کو کسی نے بےدردی سے قتل کر دیا ہے ۔جو کچھ دن پہلے ہی اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان چھٹیاں گزارنے آئے تھے۔یہاں آپ کو اہم خبر سے باخبر کرتے چلیں۔۔۔‘‘میڈیا پر نشر ہونے والی خبر دیکھ اس کے لبو پر ایک جاندار مسکراہٹ ُابھر کر معدوم ہوئی۔۔جبھی تیز چنگھاڑتی موبائل کی آواز پر وہ معنی خیزی سے مسکرایا تھا۔ ’’ویلڈن میرے شیر!‘‘مقابل کے خوشی سےچور لہجے میں سراہے جانے پر وہ مسکراکر موبائیل بند کر چکا تھا۔۔۔۔مگر ابھی بہت کچھ تھا جو مسنگ تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لندن شہر کی اسٹریٹ پر اس وقت ریلی کی شکل میں کچھ لوگ پیدل چلتے ہوئے سامنے والے گھر کے دروازہ کے عین سامنے آکر ُرکے تھے۔۔آ قصیٰ بالکونی میں کھڑی
