Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 07 & 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 03/02/2026
0 Views
Episode No 07 & 08
لگتا ہے۔‘‘وہ معصوم نگاہیں آٹھائے ایک آس سے بولا ۔ ’’آہاں! بیٹا بابا دور ہیں ناں ہم سے ۔وہ ہم میں جلدی واپس لوٹ آئیں گے پھر دیکھنا ہم جلدی ہی سب ساتھ میں ہیپی ہیپی رہیں گے۔‘‘وہ اس کے گال پر بوسا دیتی بہلانے لگی تھیں۔ ’’نو! آپ ہمیشہ یہی بولتی ہیں۔جھوٹ بولتی ہیں مجھ سے۔پھپھو بابا دونوں مجھے چھوڑ گئے ۔۔مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا۔‘‘وہ اچانک سے جھٹکے سے کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوتا ضدی لہجے میں بولتا وہاں سے نکل گیا۔ پیچھے وہ منہ پر ہاتھ رکھتی ہچکیوں سے رو پڑی تھی۔وہ اپنے باپ سے کتنا آٹیچڈتھا اس بات کا ایسے باخوبی آندازہ تھا۔مگر وہ کیا کرتی مجبور تھی۔ کیسے نا کیسے کر کے وہ اپنے ساتھ ساتھ اس کا پیٹ بھی پال رہی تھیں۔مگر وہ تھا کہ اپنی ماں کی مجبوری سمجھتا ہی نہیں تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رف اینڈ ٹف حلیہ میں کوٹ پشت پر ڈالے گہری سنجیدگی سے داؤد پیلس میں داخل ہوتا وہ سیدھا ہال سے گزر کر ُاپر جانے والا تھا۔جبھی سامنے سے آتی لڑکی کو دیکھ وہ ٹھرا ۔۔ ’’گڈ ایوننگ سر! میم اب بالکل ریڈی ہیں۔‘‘بلیک پینٹ پر گھٹنوں تک آتا ٹاپ پہنے دوپٹہ سے ندار وجود اور میک اپ سے لبریز چہرہ لئے وہ شام کا سلام کرتی پروفیشل آنداز میں بولی تھی۔ ’’اس وقت!‘‘کلائی پر بندھی قیمتی رسٹ واچ میں وقت دیکھ اس کی چوڑی پیشانی پر بل نمودار ہوئے ۔ ’’یس سر!ایکچوئیلی میم کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔اسی لیے دیر ہوگئی۔‘‘داؤد کے چہرے کے بگڑے تاثرات دیکھ وہ گڑبڑا کر بولی۔ ’’اوکے!جاؤ تم۔۔‘‘داؤ د کا سنجیدہ آنداز اب ناگواری میں تبدیل ہوگیا تھا۔ جبکہ وہ سر ہلا کر تیزی سے اپنا بیگ سنبھالتی سیڑھیاں پھلانگتی جلدی سے داؤد پیلس کا بڑا سا ہال کراس کرتی باہر کی جانب بڑھی تھی۔جہاں پہلے ہی داؤد کا ڈرائیور کار سمیت ُاس کا منتظر تھا۔ ایک جھٹکے سے روم کا دروازہ دھکیل کر آندر داخل ہوتا داؤد ہاشمی کفلنگ کھولتا خاصہ غصہٰ میں دکھائی دے رہا تھا۔۔نظر سیدھی گلاس ونڈو کے پاس کھڑی اس پری پیکر پر گئی تھی۔جو ڈھلتی شام کا منظر آنکھوں میں بساتی نظریں باہر مرکوز کئے کھڑی تھی۔ پشت پر پھیلے لنبے سلکی بال ہوا کے دوش پر ہلکے ہلکے لہرا سے رہے تھے۔داؤد کو یہ منظر بہت منفرد اور مکمل سا محسوس ہوتا رگ و پے میں سکون پہنچا گیا تھا۔جو سر کے بال سے لے کر پیر کی چنگلی تک صرف اس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے صرف اس کے لیے ہی سجی سنوری تھی۔ دروازہ آہستگی سے بند کرتا گہری سانس بھر کر خود پر ضبط کئے وہ دھیمی قدموں کی چاپ پیدا کرتا اس کے نزدیک قدم آٹھا رہا تھا۔اہستہ اہستہ غصہٰ بھی اب ہوا ہونے لگا تھا۔کمرے کا ماحول اس کی پسند کے مطابق خواب ناک بنا ہوا تھا۔ہوا کے باعث جلتی بجھتی کنڈلز نے سفید تھیم سے مزئین کمرے میں ایک فسوں سا پھونک دیا تھا۔جو سینے پر ایک ٹھنڈی پھوار کا سا کام کر گیا تھا۔ ’’وہ اس کی موجودگی محسوس کرتی بہت آہستگی سے پلٹی تھی۔جو کوٹ سے نادار سفید شرٹ میں ملبوس آنکھوں میں معنی خیزی سی چمک لیے اس کے قریب ہوا ۔ ’’بہت خوبصورت لگ رہی ہو!‘‘اس کے ریشمی بال مٹھی میں بھرتا وہ گہری مسکراہٹ سے بولا۔جو نیچرل میک اپ کیے ناک کان اور ہاتھوں میں ہلکی سی جیولری پہنے آسمان سے اتری اپسرا ہی لگ رہی تھی۔ جوابً وہ دھیما سا مسکرائی تھی۔ ’’منہ میں زبان نہیں رہی ڈارلنگ!‘‘وہ اچانک ہی چہرے پر جھکتا سرد لہجے میں بولا۔اس کے چہرے پر حواس باختگی سی چھا گئی تھی۔ ’’نہیں!میرا مطلب۔۔آپ کیسے ہیں سفر کیسا رہا؟‘‘اس کا موڈ خراب ہوتا دیکھ وہ فوری سنبھل گئی تھی۔وہ دو قدم دور ہوتا بڑی توجیہی سے اس کی تیاری دیکھ رہا تھا۔جو انارکلی ٹخنوں تک کو چھوتی فراک پہنے اس کی پسند کے رنگ میں رنگی سیدھی دل میںُ اتر رہی تھی۔ ’’ڈارلنگ میں بالکل ٹھیک ہوں!اور تمہیں دیکھ کر تو میرا موڈ بھی فریش ہوگیا ہے۔اب تم ایسا کرو یہاں بیٹھ کر میرا انتظار کرو میں ابھی فریش ہوکر آیا پھر تسلی سے تمہاری تیاری پر نظر ڈالوں گا۔‘‘ایسے کندھوں سے تھام کر صوفہ کم بیڈ پر بیٹھاتا خود کمرے سے منسلک ڈریسنگ روم میں غائب ہوگیا۔ جبکہ وہ خاموشی سے اس کے حکم پر تابع اس کا انتظار کرنے لگی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’وہ دونوں اس وقت ڈائننگ ٹیبل پر موجودخاموشی سے ڈنر کر رہے تھے۔ ’’داؤد!وہ کشمکش کا شکار جھجھکتی ہوئی بلآخر بول آٹھی ۔ ’’ہمم!چاول کا بھرا ہوا چمچ منہ میں ڈالتا وہ ہنکار بھر گیا۔ ’’میں گھر جانا چاہتی ہوں!‘‘اس نے ہمت کر دل کی بات بول ہی دی تھی۔داؤد کے ہاتھ اچانک ٹھر گئے۔ ’’کیوں!‘‘وہ کھانے سے ہاتھ روک کر نپکن سے منہ تھپتھپا کر سردگی سے بولا۔مطلب صاف تھا وہ غلط وقت پر غلط بات کر گئی تھی۔ ’’میں اپنے گھر والوں سے ملنا چاہتی ہوں۔۔‘‘وہ آنکھوں میں آس لیے بے بسی سے بولی۔ ’’کیوں میری محبت کم پڑ گئی ہے کیا؟جو تمہیں پرائے لوگ یاد آرہے ہیں۔‘‘اس کے لہجے میں چھپا جنوں ایسے اندر تک لرزا گیا ۔ ’’میرا مطلب ہے جب سے شادی ہوئی ہے۔ہم کسی سے نہیں ملے۔وہ مجھے بہت یاد کرتے ہیں۔۔‘‘ڈائننگ کے اطراف میں کھڑے ملازمین نے گڑ بڑا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔جانتے تھے اب کیا ہوگا۔پچھلی بار جب میم نے اس بات کا زکر کیا تھا تو داؤد ہاشمی نے غصے میں ڈائینگ کا سارا سامان زمین بوس کر دیا تھا۔اب جانے کیا ہوگا۔ ’’چلو!رات بہت ہوگئی۔روم میں چلتے ہیں۔‘‘وہ جھٹکے سے کرسی چھوڑتا اس کے نزدیک اکر بازؤں سے پکڑتا وہ گھسیٹنے کے آنداز میں سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا۔جبکہ وہ کسی گڑیا کی مانند ساتھ ساتھ کھینچی چلی جارہی تھی۔ ’’کیا بول رہی تھی نیچے؟‘‘وہ بیڈ پر پٹخ پر جبڑا چار انگلیوں میں جکڑ کر پھنکارا ۔۔۔اس کی آنکھوں میں خوف کی لہر سی دوڑ گئی۔ ’’داؤد وہ۔۔‘‘ ’’شش!خاموش۔۔۔یہ وقت میرا ہے۔۔۔اور میرے وقت میں کسی تیسرے کا زکر نہیں ہونا چاہیے۔۔کہا تھا ناَ؟کہا تھا یا نہیں۔‘‘ایک قدم دور ہوکر کمرے میں مارچ کرتا خود پر قابوں کرنے کی کوشش میں ناکام ہوتا وہ شدت سے دھاڑا۔۔ ’’داؤد آج میری بات سننی پڑی گی آپ کو۔‘‘وہ شاید آج ضبط کھونے لگی تھی۔جبکہ داؤد ہاشمی کے اندر چھپا درندا انگڑائی بھر کر بیدار ہو نے لگا تھا۔ ’’چپ!خاموش ہوجاؤ۔۔۔بھول گئ ہماری شادی محبت کی تھی۔جب مجھے کسی کی ضرورت نہیں !تو تمہیں کیوں سب کی یاد آرہی ہے۔‘‘وہ شدت سے سائیڈ ٹیبل پر رکھا لیمپ زمین پر پٹختا پاگل ہوا جارہا تھا۔جبکہ وہ ہچکیاں دباتی تھرتھر کانپ رہی تھی۔ مسز داؤد!تمہارے لیے میں ایک بہت ہی شریف انسان ہوں۔بہتر ہے مجھے شریف ہی رہنے دو ۔۔میں نہیں چاہتا کہ تم میرا وہ روپ دیکھو جو تم سے تمہاری سانس بھی چھین لے۔۔‘‘ایک جھٹکے سے پیچھے دھکیل کر تیز لہجے میں بولتا اپنا ضبط کھونے لگا تھا۔جبکہ وہ آنسو ؤں سے رونے لگی ۔ ’’مگر اپنی فیملی سے ملنا نا ملنا یہ میرا زاتی فیصلہ ہے۔آپ فیصلہ کا حق نہیں رکھتے۔‘‘وہ ہزدیانی سی ہوکر چلائی۔ ’’ڈارلنگ!داؤد ہاشمی اپنے فیصلوں میں بالکل اسی طرح آزاد ہے جیسے ایک پرندہ آسمان پر پرواز بھرنے میں۔‘‘وہ بے ساختہ سی اس کی جانب جھک کر چہرہ قریب کرتا شیطانی مسکراہٹ سے مسکرایا ۔ ’’مگر وہ میرے بھائی ہیں۔‘‘وہ اس کے انکار کی وجہ جانتی تھی جبھی بے بسی سے بولی ۔ ’’تم داؤد ہاشمی کی ملکیت ہو ڈارلنگ !
