Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 07 & 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 03/02/2026
0 Views
Episode No 07 & 08
#وہ_اک_گماں_سا #ہما_قریشی #قسط_نمبر_07&08 رات کے نو بج کر پچیس منٹ کا وقت تھا۔جب ہانیہ شوز اسٹور کے کیش کاؤنٹر کے قریب کھڑی آخری دو کسٹمرز کو نبٹاتی اب گھر نکلنے کی جلدی میں تھی۔اس کے ورکنگ آورز دس بجے ختم ہوجاتے تھے ’’ہاؤ مچ اٹ از؟‘‘ وہاں کے لوکل شہری نے ایک شوز کا پئیر ستائشی نظروں سے دیکھ شائستہ سی انگریزی میں قیمت دریافت کی ۔ سکسٹی ٹو پاؤنڈ۔۔‘‘ ‘‘اس نے مختصر سا جواب دیا تھا۔جبکہ اب وہ بس نکلنے کے لیے تیار تھی۔ کسٹمر کا حساب چل رہا تھا۔ جب اچانک بلیک ،پینٹ شرٹ میں ملبوس بلیک ہیلمٹ سر پر پہنے ہیوی بائیکس سوار بائیک شاپ کے عین سامنے روک کر گلاس شاپ کا دروازہ کھول کر داخل ہوئے ۔ہاتھوں میں جدید اسلحہٰ تھا۔شاپ میں یکا یک بھگ دڑ سی مچ گئی تھی۔ہر کوئی حواس باختہ سا ارد گرد میں چھپا تھا۔دونوں ڈکیتوں نے کیش کاؤنٹر کے قریب آکر کیشیئر کے ساتھ ساتھ اس کی کنپٹی پر بھی گن رکھی تھی۔ہانیہ کی آنکھیں باہرُ ابلنے کے قریب ہوگئیں تھیں۔سانس فنا ہوتی رکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔۔اپرُ کا سانس اپرُ اور نیچے کا سانس نیچےرہ گیا تھا۔وہ اب تیز آواز میں مذاکرات کرتے جلد از جلد پیسہ بیگ میں بھر کر وہاں سے فرار ہونے والے تھے۔مگر ان کی مزید کسی کروائی کے عمل میں آنے سے پہلے ہی موقع پر وہاں پولیس آگئی تھی۔ ہانیہ دوڑ کر شاپ کے کونے میں جاکر گھٹنوں کے بل سر جھکا کر بیٹھتی خوف سے شدید سردی میں بھی پسینے سے شرابور تھر تھر کانپ رہی تھی۔چہرے پر ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں۔ پولیس آبھی گئی تھی اور ڈکیتوں کو گرفتار بھی کر چکی تھی،جبکہ ایک ڈکیت کے بھاگنے کی کوشش میں پولیس مزید فارم میں آئی تھی۔۔۔۔مگر اس کے گالوں پر آنسوؤں کا ریلا بہ رہا تھا۔ ’’ہانیہ!‘‘کوئی بہت شناسہ سی آواز تھی جوکان کے بہت قریب سے اُبھری تھی۔ہانیہ نے آنسو سے لبالب نگاہیں آٹھا کر آواز کی سمت دیکھا۔جو مکمل وجاہت شجاعت کا حامل شخص ساری انا بالائے طاق رکھے چہرے پر پریشانی سجائے اس کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا۔چہرے پر پریشانی ،فکر مندی کے تاثرات واضح تھے۔ ’’میں!!میں!!‘‘ہانیہ کی آواز انسو کے باعث رندھ گئی تھی۔ آنکھوں میں خوف ہچکولے لے رہا تھا۔ ’’کیا ہوا ہنی؟اتنا رو کیوں رہی ہو۔‘‘شمعون کو اس کے جھرنے کی مانند بہتے آنسو دیکھ تکلیف ہوئی جو مسلسل کپکپاہٹ کا شکار جانے کس خوف کے زیرِ اثر مسلسل کانپ رہی تھی۔ ’’میرے۔۔۔وہ گن۔۔مجھے پاکستان جانا ہے۔اپنے گھر پاکستان جانا ہے پلیز!!‘‘وہ پھپھک کر روتی زرا سی نرمی پر بے ساختہ ہی اس کے گلے آلگی تھی۔شمعون چند لمحوں کے لیے حواس باختہ سا رہ گیا۔وہ اس اچانک افتاد کے لیے ہر گز بھی تیار نہیں تھا۔ ’’ہانیہ ریلیکس!!آٹھو یہاں سے ہم کرتے ہیں کچھ کرتے ہیں ۔۔صبر کرو تھوڑا پلیز!۔۔‘‘وہ اس کا سر تھپک کر خود سے جدا کرتا نرمی سے بولا ۔جوابھی تک خوف کے حصار میں جکڑی ہوئی تھی۔ ’’نہیں پلیز!!مجھے پاکستان جانا ہے۔آپ مجھے پاک لے کر جائیں گے ناں۔‘‘اس کی سرخ متورم آنکھوں میں ایک آس سی تھی۔شمعون کا دل ایسے بغاوت پر ُاکسا رہا تھا۔مگر ابھی ضبط کرنا ضروری تھا۔ ’’وعدہ ہنی!آٹھو پلیز! سب ہمیں دیکھ رہے ہیں۔‘‘شمعون نے اس کی توجہ اس جانب دلوائی۔وہ جو حواس باختہ سی ہوئی بیٹھی تھی۔حالیہ صورتحال پر خجل سی ہوگئی ۔شاپ میں موجود لوگ شمعون کو اس کا بوئی فرینڈ ہی سمجھ رہے تھے۔مگر ہانیہ کا مسلسل رونا سمجھ سے باہر تھا۔کیونکہ یہ کوئی اتنی بڑی واردات نہیں تھی پولیس صورتحال پر قابوں کر چکی تھی۔ شاپ کا آنر انویسٹیگیشن آفیسرز کو سی سی ٹی وی کیمرہ فوٹیج دکھانے میں مصروف تھا۔وہ مسلسل رو رہی تھی۔شمعون ایسے اپنے ساتھ لیے اپنی گاڑی میں لے آیا۔وہ اس عجیب سے ڈر کی کیفیت سے دوچار بغیر سوچے سمجھے ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی تھی۔گھوم کر گاڑی میں بیٹھتا شمعون ایک نظر دیکھ سانس بھر کر رہ گیا۔ ’’ہانیہ پلیز!‘‘اس نے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر اسے تھمایا ۔۔شمعون کو دن با دن اس لڑکی کا بڑھتا ہوا خوف دیکھ عجیب سا لگ رہا تھا۔جو کبھی حد سے زیادہ نڈر نظر آتی تھی تو کبھی سہمی سی بلبل۔۔جو راستہ بھٹک گئی ہو یا پھر کسی بہت اپنے کی تلاش میں ہو۔۔ ’’مجھے پلیز! آپ گھر تک چھوڑ دیں۔۔‘‘اب جا کر اس کے اوسان بحال ہوئے تھے۔ وہ آنسو صاف کرتی رندھی ہوئی آواز میں بولی۔ ’’ہم وہیں جارہے ہیں۔آپ آنسو صاف کرلو پلیز!‘‘وہ مسلسل ڈرائیو کرتا اسےہی بہلا رہا تھا۔وہ تو شاپ کے باہر اس کا انتظار کر رہا تھا۔مگر وہاں ایک الگ ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا۔ ’’آئم سوری!میری وجہ سے آپ۔۔‘‘ایسے شرمندگی ہوئی ۔انداز شدید خجالت سے مزئین تھا ۔شمعون کے عنابی لب اس کی سابقہ حرکت یاد کر بے ساختہ ہی مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔ ’’سوری کہنے والی کوئی بات نہیں۔ڈرو مت زندگی میں بہت کچھ ایسا ہوجاتا ہے جو بالکل ہماری توقعات کے برعکس ہوتا ہے۔۔۔‘‘شمعون نے مسکرا کر اس کی شرمندگی دور کرنی چاہی ۔جس کی ناک بہنے لگی تھی۔ ’’ویسے اگر آپ مائینڈ ناں کریں تو ہم آچھے دوست بن سکتے ہیں۔۔‘‘شمعون کی پیشکش پر اس کی چھوٹی سی پیشانی پر بل نمایا ہوئے ۔ناگواری سے دیکھتی وہ لمحوں میں اپنی جون میں واپس لوٹی تھی۔ ’’آپ مجھے ایسی ویسی لڑکی مت سمجھیں،میں یہاں مجبوری کی بنا پر رہی ہوں۔آپ ہر بار میرے راستہ میں آکر میری منزل تک کے کٹھن سفر کو مزید دشوار کیے جارہے ہیں۔‘‘وہ بے تاثر لہجے میں بڑی سفاکی سے گویا ہوئی۔شمعون کے عنابی لبوں میں بکھری مسکراہٹ یکا یک سمٹ سی گئی تھی۔ ’’ہانیہ سب سے پہلے تو اپنے مائینڈ سے یہ بات نکال دو کہ میں آپ سے فلرٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔میں سیریس ہوکر آپ سے بات کرنا چاہ رہا ہوں مگر آپ مجھے سمجھ ہی نہیں رہیں۔‘‘شمعون نے ٹائینی ہاؤس کے بیک سائید پر ایک جھٹکے سے گاڑی روکی تھی۔اس کا آنداز سخت پتھریلا تھا۔ ’’مگر میں آپ سے کسی قسسم کی کوئی بات کرنے میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں۔آپ نے میری مدد کی تھی ۔اس کے لیے میں آپ کی مشکور رہوں گی،کبھی بھی میری ضروت محسوس ہو آپ مجھے بلاجھجھک یاد کرسکتے ہیں۔مگر میں آپ کے ساتھ دوستی کے نام پر ایک ناجائز رشتہ بنانے میں ہر گز بھی دلچسپی نہیں رکھتی ہوں۔بہتر ہے آپ مجھ سے فاصلے پر رہیں۔‘‘وہ سخت تاثر اور خشک سے لہجے میں بولتی اس کا دماغ گرم کر چکی تھی۔ شمعون خاصی مشقت کے بعد اپنی زبان پر قابوں رکھ سکا تھا۔ ابھی لفظوں کو ترتیب دینے میں ہی کوشاں تھا کہ وہ ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھولتی باہر نکل کر روڈ کراس کرتی لمبے لمبے ڈگ بھرتی وہاں سے غائب ہوگئی تھی۔ شمعون نے غصہٰ سے اسٹیرنگ پر ہاتھ مارا۔لندن کا موسم اچانک تبدیل ہوا تھا ۔مسلسل ہوتی برف باری نے ماحول کے ساتھ ساتھ دلوں پر ہی ٹھنڈی تہ جما دی تھی۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رومان بیٹا چلو جلدی سے ریڈی ہوجاؤ!آج ہم ماں بیٹا ڈنر باہر کریں گے۔‘‘جویریہ نے ایسے ُاداس دیکھ پروگرام ترتیب دیا۔جبکہ مہینے کا آخر تھا ابھی وہ ہر گز بھی یہ عیش آفورڈ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ ’’مجھے نہیں جانا!‘‘وہ انکاری تھا۔ ’’کیوں نہیں جانا؟ماما کے ساتھ جانا آچھا نہیں لگتا کیا؟‘‘وہ مسکرا کر بولتی چھوٹی سی رائٹنگ ٹیبل کے نزدیک آئی ۔جہاں وہ خاموش بیٹھا تھا۔ ’’مجھے ماما ااور بابا دونوں کے ساتھ جانا اچھا
