Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/06/2025
20 Views
Episode No 03
گزری تھی جب واٹس ایپ پر سیف کی کال آنے لگی تھی۔کال ریسو کرتے ہی وہ مسکرا کر گویا ہوئی تھی۔ ’’سب ٹھیک یہ بتاؤ میرا شہزادہ کیسا ہے اب۔‘‘دوسری جانب پاکستان میں رات ہورہی تھی۔اپنے بیڈ پر موجود وہ مسکرا کر بولا تھا۔ ’’زیان بھی ٹھیک ہے۔ابھی آپ سب کو ہی یاد کر رہا تھا۔‘‘وہ زیان کو لپ ٹاپ پر کارٹون میں مصروف دیکھ مسکرا کر بولی تھی۔ ’’اچھا زرا وڈیو کال پر بات تو کرواؤ میرے شہزادے سے۔‘‘آقصیٰ نے مسکرا کر موبائل اسکرین زیان کے سامنے کی تھی۔ جو سیف کے ساتھ ساتھ علیشا اور رائمہ کو دیکھ کھل آٹھا تھا۔ ’’زیان بابا کی جان کیسے ہو۔‘‘زیان اس کی دونوں بچیوں کی دیکھا دیکھی سیف کو بابا ہی بلاتا تھا۔پہلے تو آقصیٰ نے اعتراض اٹھایا تھا مگر سیف کے سمجھانے پر وہ مان گئی تھی۔ ’’میں ٹھیک ہوں بابا۔۔بٹ آئی مس یو الوٹ۔‘‘اس کے معصوم سے آنداز پر سیف کا دل کیا ابھی وہ گڈا اس کے سامنے ہوتا اور وہ اس کامنہ چٹاچٹا چوم ڈالتا۔ ’’میری جان۔۔بابا مس یو ٹو۔۔‘‘جوابً وہ بھی پیار سے بولا تھا۔ تین سالہ رائمہ کو گود میں آٹھا کر نرمین بھی بیڈ پر قریب ہی آگئی تھی۔ ’’زیان تم کب واپس آؤگے۔‘‘علیشا باپ سے موبائل ہاتھ میں لے کر پیار سے بولی تھی۔زیان پانچ سال کا جبکہ علیشا دس سال کی تھی۔مگر علیشا کو یہ چابی والا گڈا بہت پیارا لگتا تھا۔ ’’ماما واپس نہیں لاتیں۔‘‘وہ منہ باسور کر بولتا سارا الزام آقصی کے سر ڈال گیا۔ ’’بھئ زیان نہیں آسکتا تو کیا ہوا۔اس بار ہم زیان سے ملنے لندن آجائیں گے۔‘‘سیف کا کہنا تھا کہ دونوں بچوں نے بے ساختہ چیخ ماری تھی۔چھوٹی رائمہ بھی تالیاں پیٹنے لگی تھی۔ ’’سچ بابا۔‘‘ ’’مچ میرے گڈے۔۔بس آپ جلدی سے ٹھیک ہوجاؤ۔۔اور ہاں ماما کو بالکل تنگ نہیں کرنا اوکے۔‘‘وہ مسکرا کر ہدایت کرتا۔اب آقصیٰ سے نرمین کی بات کروانے لگا تھا۔جبکہ بچے اپنے سابقہ مشغلے مین مصروف ہوگئے تھے۔ وہ موبائل بند کر کے فارغ ہوتی پانی پینے کی غرض سے کچن میں آئی تو۔کسی نے ڈور بیل بجائی تھی۔ ’’اس وقت کون آگیا؟‘‘اس وقت مناہل کی آفس ٹائمنگ تھیں۔وہ خود کلامی کرتی گیٹ تک آئی تھی۔دروازہ کھولا تو دور دور تک سڑکوں پر برف کی تہ جمی ہوئی تھی۔جبکہ نظر بے ساختہ نیچے گئی تو آقصیٰ منہ باسور کر وہ باکس آٹھاتی گھر میں واپس آگئی تھی۔ ’’جو بھی انسان ہے۔نہایت ہی کنجوس ہے ۔۔بندہ کوئی گفٹ ہی دے دیتا ہے۔‘‘وہ ڈبہ خالی دیکھ شرارت سے بڑبڑائی تھی۔جہاں کوئی نام پتہ درج نہیں تھا۔جبکہ آج پھر آندر ایک پیپر فولڈ ہوا رکھا تھا۔ ’’آقصیٰ نے اچنبھے سے وہ پیپر نکالا تھا۔پیپر کھول کر دیکھا تو اس میں 143 ایک نمبر درج تھا۔۔۔آقصیٰ نے نا سمجھی سے پیپر الٹ پلٹ کر دیکھا تھا۔مطلب اب یہ کیا تھا؟ ’’اب یہ کون بیوقوف ہے۔۔جو مجھے ایکسٹرا جینئس سمجھ کر اس طرح کے اشارے دے رہا ہے۔مجھ سے تو یہ نمبر مر کر بھی ڈی کوڈ نہیں ہوگا۔‘‘آقصیٰ کو چڑ سی ہوئی تھی۔جبھی ایک نظر دیکھ وہ تلملا کر پیپر فولڈ کر بیگ میں رکھتی زیان کے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔ آپ کو کیا لگتا ہے۔۔ہانیہ مشکوک کردار ہے یا مظلوم؟
