Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/06/2025
20 Views
Episode No 03
پیلس کی چھت پر آفتاب پوری تمکنت کے ساتھ طلوع ہوا تھا۔کمرے کی کھڑکی پر پڑے پردوں کے باعث چھن کر آتی سورج کی کرنیں سیدھی اس ماہ جبین کے چہرے پر ہی پڑی تھیں۔اچانک چہرے کے سامنے ایک سایا سا محسوس ہوا تھا جیسے کسی نے سورج کی کرنوں اور اس کے چہرے کے درمیان ایک دیوار سی حائل کردی ہو۔۔۔ نیند سے بوجھل آنکھوں کو پورا کھولنے کی کوشش میں وہ نیند سے بیدار ہوچکی تھی۔جبکہ بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس شخص مسکراتی آنکھوں سے اس کی پلکوں کے چلمن کا آٹھنا اور پھر جھکنا بڑی توجہ سے دیکھ رہا تھا۔آنکھوں پر ہاتھ رکھتی وہ کہنیوں کے بل سرک کر زرا اُپر کو آٹھی تھی۔ ’’گڈ مارننگ ڈارلنگ!‘‘وہ بڑی خوش مزاجی سے گویا ہوا تھا۔نا چاہتے ہوئے بھی ایسے مسکرانا پڑا تھا۔ ’’گڈ مارننگ۔۔‘‘جوابً وہ بالوں کی لمبی آبشار سمیٹ کر جوڑا بناتی بیڈ سے قدم نیچے رکھنے لگی تھی۔ ’’چلو جلدی سے فریش ہو جاؤ پھر ساتھ میں بریک فاسٹ کریں گے۔میں کب سے تمہارے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا۔‘‘وہ اس کے چہرے پر آئی لٹ کو کان کے پیچھے آڑس کر لہجے میں بے پناہ محبّت سمو کر گویا ہوا تھا۔۔ ’’میں بس ابھی آئی۔‘‘بے رونق سے چہرے پر زبردستی پھیلتی مسکراہٹ نے ایسے ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ’’ساری رات سوئی نہیں ہونا تم۔‘‘وہ اس کا چہرے ہاتھوں کے پیالے میں تھام کر آنکھوں کے نیچے پڑے ہلکے دیکھ خود کو کہنے سے باز نہیں رکھ سکا تھا۔ ’’نہیں۔۔بس طبیعت ڈاؤن سی ہورہی ہے۔‘‘وہ بادل نخواستہ مسکرائی۔ ’’کل کے رویہ کے لیے سوری ۔۔پلیز !تم مجھے غصہٰ نہیں دلایا کرو۔میری ہر بات خاموشی سے مان جایا کرو۔۔شاباش موڈ ٹھیک کرو اپنا۔‘‘وہ تلخی سے مسکرائی تھی۔تلوں میں لگے زخم ابھی تازہ تھے۔ایسےرویہ کی تو ایسے اب عادت سی ہوگئی تھی۔وہ جب نشے میں ہوتا تھا اس کے ساتھ نوکروں سے بھی بدتر سلوک کرتا تھا۔ ’’میں شاور لے کر آتی ہوں۔‘‘وہ مسکرا کر واشروم کی جانب بڑھی تھی۔جبکہ وہ اب سر جھکائے سوچوں میں گُم تھا۔منہ دھو کر وہ باہر نکلی اور کمرے سے منسلک ڈریسنگ روم میں بند ہوگئی تھی۔جبھی اس کی موبائل اسکرین بلنک کرنے لگی تھی۔وہ چونک کر موبائل کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔۔ ’’ہیلو!داؤد ہاشمی اسپیکنگ!!‘‘کال ریسو کرتے ہی سرد سی آواز میں گویا ہوا۔جبکہ دوسری جانب سے اُبھرتی آواز سن ُ اس کا چہرہ سپاٹ ہوگیا "شیخ پاکستان کب آیا؟فی الحال دبئی کی ٹیکٹس بُک کرواؤ میری۔۔ ۔۔‘‘دوسری جانب سے کسی بات کی آگاہی دی گئی تھی۔جبھی وہ سپاٹ سے لہجے میں گویا ہوا تھا۔جبکہ ایسے واشروم سے باہر آتا دیکھ وہ چہرے کے تاثرات بحال کرتا کال بند کر چکا تھا۔ ’’چلیں۔۔‘‘قدم آٹھا کر اس کے نزدیک آیا ۔جو پرپل پیلن سوٹ میں آئینہ کے عین سامنے کھڑی سیاہ بالوں میں ہیئر برش پھیر رہی تھی۔ ’’جی ۔۔۔‘‘وہ مسکرا کر اس کے ہم قدم ہوئی۔جیسے وہ بازؤں کے حصار میں لیے نیچے آیا تھا۔ گھر میں موجود سبھی ملازمین ایسے دیکھ چوکنے سے ہوگئے تھے۔ ناشتے کی ٹیبل پر آکر پہلے ایسے بیٹھایا تھا اور پھر خود بھی سربراہی کرسی کی پشت پر کوٹ ڈال کر کرسی گھسیٹ پر بیٹھ چکا تھا۔۔جبکہ ارد گرد میں وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس وہ دونوں لڑکیاں اس کی گارڈز تھیں۔جو اطراف میں نظر سامنے کی جانب کئے کھڑ ی تھیں۔جنہیں خاص اس کے لیے ہائر کیا گیا تھا۔ ’’چلو بتاؤ ناشتہ میں کیا لوگی۔‘‘وہ بہت نرمی سے مخاطب ہواتھا۔ ’’آپ ناشتے کریں میں لے لونگی۔‘‘وہ ہلکی باریک سی آواز میں بولی۔پہلے تو اس کے جواب پر تاثرات سخت ہوئے تھے۔پھر ایک گہری سانس فضا کے سپرد کر اُس کو پر سکون کیا تھا۔جو ذرا ڈری سہمی سی نظر آرہی تھی۔ ’’ٹھیک ہے۔مگر پہلے یہ فریش جوس کا گلاس فنش کرو جلدی سے۔‘‘وہ اورنج جوس کا گلاس زبردستی اس کے لبو سے لگا کر بولا تھا۔وہ زبردستی گھونٹ گھونٹ ہلک سے اتارتی زہر مار کرنے لگی تھی۔ ’’مجھے ایک بہت ہی ضروری کام سے ارجنٹلی آج ہی دبئی جانا ہے۔اور دو دن بعد واپسی ہے۔اپنا بہت سارا خیال رکھنا ۔اور ہاں اکیلےکہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔جہاں بھی جانا ہو یہ گارڈز تمہارے ساتھ جائینگے۔بلکہ ایک کام کرتے ہیں۔ میرے واپسی تک تم گھر ہی رہو۔پھر ورلڈ ٹور پر چلیں گے۔اگلے چند ماہ میں فری ہی ہوں۔۔‘‘وہ پاپ اپ ناٹیفیکشن میں اپنی سیکٹری کا میسج دیکھ جلدی سے ہدایت کرتا۔بریف کیس اور کوٹ سنبھالتا آٹھ کھڑا ہواتھا۔جبکہ وہ بھی سر ہلاتی اس کی تقلید میں قدم آٹھاتی سی آف کرنے کار پورچ تک آئی تھی۔جہاں پہلے ہی اس کے لیے گاڑی تیار تھی۔ ’’اوکے ڈارلنگ بابائے۔۔۔‘‘وہ ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کرتا گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اس کے گاڑی میں بیٹھتے ہی ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی گارڈز نے صدر دروازہ کھولا تو لمحوں میں گاڑی غائب ہوگئی تھی۔جبکہ وہ خالی خالی آنکھوں سے دور جاتی اس گاڑی کو ہی دیکھ رہی تھی۔جس میں اس کی زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔۔ ’’میڈم چلیں۔۔آپ کی میڈیسن کا ٹائم ہورہا ہے۔‘‘وہ خیالوں سے چونکتی اس کی ہمراہی میں واپس اس خوبصورت سے قید خانے میں آگئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کمبخت یہ کیا کردیا۔۔۔اب اس کے پیسے کون؟؟تیرا باپ دے گا کیا؟‘‘برتن دھوتے میں ایک گلاس اس سے غلطی سے ٹوٹ گیا تھا۔وہ ہڑبڑا کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔ ’’بھابھی سوری ۔۔وہ میں نے جان کر نہیں کیا۔‘‘وہ گھبراہٹ میں دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔جس کے باعث کانچ کی کرچیاں تک پیروں میں کھب گئی تھی۔ ’’منحوس آج تجھے ایسی سزا دونگی کہ کبھی ایسی غلظی کرنے سے پہلے دس بار سوچے گی۔‘‘وہ بالوں سے پکڑ کر کھینچنے کے آنداز میں لے جاتی مسلسل بک رہی تھیں۔جبکہ وہ درد سے کراہ کر رہ گئی تھی۔۔ ’’چل مر یہاں پر۔۔ دو دن اس طے خانے میں رہے گی۔عقل ٹھکانے پر آجائے گی۔‘‘وہ چنگھاڑنے کے آنداز میں پیچھے دھکیل کر کمرہ بند کر چکی تھیں۔کمرے میں آندھیرا سا پھیلنے لگا تھا۔۔۔ ’’بھابھی نہیں۔۔۔‘‘وہ حواس باختہ سی ایک جھٹکے سے آٹھ بیٹھی تھی۔اردگرد میں نظر ڈالی تو وہ اپنے بستر پر موجود تھی۔لندن شہر کی شدید سردی میں بھی اس کا بدن ہولے ہولے سے کانپ رہا تھا۔ چند لمحوں میں منظر واضح ہوا تو وہ اپنے اؤسان پر قابوں کر چکی تھی۔ اففف۔۔‘‘یہ خواب بھی ناں۔‘‘سر جھٹک کر وہ واپس سے سو گئی تھی۔اپنے خوف پر قابوں پانا وہ کب کا سیکھ چکی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ماما!زیان ڈوڑ کر اس کی جانب آیا تھا جو کسی کتاب کے مطلع میں غرق تھی۔ ’’جی میری جان۔۔‘‘آقصیٰ آنکھوں پرر موجود ریڈنگ گلاسز ایک جانب رکھ کر اس کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔ ’’ماما زیان کو سیف بابا کے پاس جانا ہے۔‘‘اس کے مطالبہ پر آقصیٰ مسکرائی تھی۔ ’’جائیں گے ضرور جائیں گے۔مگر پہلے میرا شیر بیٹا ٹھیک تو ہوجائے۔‘‘وہ اس کے گال کا بوس لے کر گویا ہوئی تھی۔۔۔وائٹ لانگ شرٹ اور ٹراؤز میں ملبوس وہ خاصی فریش نظر آریہ تھی۔اپنے سارے کام فی الحال وہ ان لائن ہی کر رہی تھی۔اور گرلز اکیڈمی کا سارا کام سیف کے آنڈر تھا۔ ’’میں کب ٹھیک ہونگا؟‘‘وہ اداس ہوگیا تھا۔ ’’بہت جلد میری جان۔۔‘‘ ’’چلو آؤ ہم کارٹونز دیکھتے ہیں۔‘‘وہ ایسے بھلانے کی غرض سے گود میں آٹھا کر بیڈ پر آئی تھی۔جبکہ خوشی میں وہ بھی سب بھول بھال گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو!اللہ کا شکر میں ٹھیک ہوں اور نرمین کیسی ہے؟اور میری دونوں شہزادیاں بھی؟‘‘ابھی تھوڑی دیر ہی
