Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 03
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/06/2025
20 Views
Episode No 03
#وہ_اک_گماں_سا #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_03 جہانگیر ہاؤس میں ڈنر کے بعد سب ہی مکین کمروں میں بند اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ویسے ہی اس گھر کے لوگ ساتھ بیٹھے کم ہی نظر اتے تھے۔ایسے میں شارق بھی صبح افس سے اف ہونے کے باعث اپنے کمرے میں ڈم لائٹ کئے خواب ناک ماحول بنائے کونجيورنگ ہارر مووی دیکھنے میں مگن تھا۔ابھی ایک ڈراؤنا سین دیکھ شارق کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی تھی۔جبھی اچانک سے کوئی آسمانی مخلوق اس پر حملہ آور ہوئی تھی۔۔ "آ ہ ہ ہ!!"ڈر اور خوف میں گونجتی شارق کی حولناک چیخ نے جن بھوتوں کو بھی کانوں پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔صد شکر کے کمرہ ساؤنڈ پروف تھا۔۔ ’’شارق۔۔۔‘‘براق دھڑام سے اس کے ساتھ بیڈ پر آگرا تھا۔مگر مقابل کا ریکشن دیکھ وہ گڑبڑا کر سیدھا ہوا۔لہجے میں چھپی ایکسائٹمنٹ پل بھر میں ہوا ہوئی تھی۔ ’’آہ ہ ۔۔۔۔ہاتھی کہیں کے آرام سے نہیں بیٹھ سکتے۔ڈرا کر رکھ دیا۔‘‘دبلا پتلا سا شارق جو لیپ ٹاپ پر مووی دیکھنے میں محو سن سا بیٹھا تھا اس اچانک افتاد پر لپ ٹاپ سمیت بیڈ پر اچھل کر رہ گیا۔گهبراہٹ میں بیڈ کے پیچھے دیوار پر ہاتھ مار کر کمرے کی ساری لائٹس ان کیں۔۔سفید تھيم سے مزین پرآسائیش كمره دودھیا روشنیوں میں نہا گیا تھا۔۔ ’’الے میرا نازک مزاج بچہ ۔۔۔ڈر گیا بے بی۔۔۔۔‘‘اس کی حالت دیکھ براق کی آنکھوں میں شرارت سمٹ آئی تھی۔مزے سے قریب ہوکر ذرا پچکارنے کے آنداز میں گویا ہوا۔اس نے بدک کر اس کے ہاتھ جھٹکے۔۔ ’’اؤئے چل پیچھے ہو مجھ سے۔۔‘‘وہ کسی لڑکی کی مانند اس کے چپکنے پر گھبرا کر دور ہوا ۔ ’’چل نوٹنکی پہلے بات سُن میری۔۔‘‘وہ اپنے دماغ میں کلک ہونے والی اچانک یاد پر فوراً سیریس ہو کر نزدیک آیا۔آخر وہ جس مقصد کے لئے یہاں آیا تھا اس پر عمل بھی تو کرنا ہی تھا ناں۔ ’’بول۔۔‘‘شارق بادل نخواستہ منہ باسور کر راضی ہوا ۔ورنہ اس افلاطون کے شاگرد نے اتنی ّآسانی سے جان نہیں بخشنی تھی۔ ’’دادا جان بول رہے ہیں۔اگر شمعون بھائی واپس نہیں آئے تو وہ ثانیہ کی شادی تم سے کروا دیں گے۔‘‘براق نے اسٹار پلس کی ہیروئنوں کی طرح آنکھیں مٹکا کر کہتے گویا اس کے سر پر دھماکا ہی کیا تھا۔۔شارق براق سے دو سال بڑا تھا۔جبکہ جسامت کے حساب سے براق ہی بڑا لگتا تھا۔ ’’کیا؟؟کیا بکواس ہے یہ۔۔‘‘لپ ٹاپ ایک طرف کو رکھ کر وہ باقاعدہ آنداز میں اوچھل کر بیڈ پر کھڑا ہوا تھا۔۔آخر انکشاف ہی اتنا ہولناک جو تھا۔۔ ’’اور ایکٹنگ کے بیس روپے کٹ کرو ان کے۔۔‘‘وہ خیالوں میں حکم سناتا ناک سے مکھی آڑا کر گویا ہوا جبکہ وہ تو ابھی تک سکتِ کی سی حالت میں ہونق بنا کھڑا تھا۔پھر لہرا کر نیچے گرا۔۔ ’’یار سچ بتا۔۔۔مزاق کر رہا ہے ناں ۔۔‘‘وہ ثانیہ جیسی جنگلی بلی کو سوچ کر ہی جھر جھری بھر کر رہ گیا تھا۔چہرے پر بلا کی مظلومیت تھی۔ ’’تیری قسم یار سچ بول رہا ہوں۔۔اگر جھوٹ بولوں تو یہ بیڈ ابھی اور اسی وقت ٹوٹ جائے۔۔‘‘وہ جذبات میں ایک زور دار جمپ لگا اس کے برابر میں لیٹا تھا۔اور بُرا ہو اس کی خوبصورت زبان کے بد فعلوں کا۔بیڈ ڈھڑام سے ان دونوں کے لئے نیچے گیا تھا۔۔زمین پر ہونقوں کی مانند پڑے براق کا چہرہ فق ہوگیا تھا۔ ’’میرا بیڈ۔۔‘‘شارق تو اپنے بیڈ کی ایسی حالت دیکھ صدمے سے نڈھال ہی ہوگیا۔ ’’جھوٹے۔۔۔۔۔‘‘وہ غم اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں ایسے مارنے کے لیے دوڑا ۔جبکہ وہ گرتا پڑتا بیڈ شیٹ میں الجھتا اپنا بچاؤ کرتا کمرے سے باہر بھاگا۔ ’’سچ بول رہا ہوں یار۔۔۔یہ بیڈ تھا ہی کمزور کسی اچھی کمپنی کا لیا ہوتا تو آج یہ دن نہیں دیکھنا پڑتا۔۔‘‘وہ اونچی آواز میں ہانک لگا کر پھرتی سے اس سے دور ہوا تھا۔ ’’آج ُرک جاؤ تم کالی زبان والے۔۔ایک تو خبر ایسی منحوس سنائی ہے اُپر سے میرا بیڈ بھی ٹوڑ ڈالا۔۔‘‘وہ بھی بیڈ شیٹ میں الجھ کر زمین بوس ہونے کے بعد زچ ہو کر دانت کچکچا کچکچا کر کھڑا ہوتا اس کے پیچھے بھاگا۔ ’’بچاؤ۔۔۔بچاؤ مجھے کوئی بچاؤ اس ایکسرے مشین سے۔۔‘‘براق دھائیاں دیتا تیزی سے سیڑھیاں اتر رہا تھا۔اور بچانے والی ہستی کی کرخت آواز سن بھاگتے قدموں کو جھٹکے سے بریک لگی تھی۔۔ ’’شارق،براق یہ کیا بچپنا لگایا ہوا ہے۔‘‘سیڑھیوں کے ُاپر ریلنگ تھام کر کھڑے دادا جان کی کرخت سی آواز سُن دونوں کے پیروں میں بریک لگی۔ ’’دادا جان،،پیارے دادا جان بچائیں مجھے۔ورنہ یہ ایکسرے مشین مجھے مار ڈالے گا میں تو ابھی شدید سنگل ہوں ناں۔‘‘براق دوسری سائیڈ سے الٹے قدموں سیڑھیاں چڑھتا اس کے پاس پہنچا۔ ’’ہوا کیا ہے بھئ۔۔‘‘وہ خونخوار آنداز میں پیچھے آتے شارق کو دیکھ ہاتھ کے اشارے سے وہیں روک گئے تھے۔جبکہ وہ ان کے پیچھے چھپ کر اپنا بچاؤ کر رہا تھا۔ ’’بتاؤ تم کیا شرارت کی ہے تم نے۔شرم نہیں آتی بڑے بھائی کو تنگ کرتے ہوئے۔‘‘انہونے مصنوعی سخت لہجے میں دونوں کو گھورا تھا۔براق کے کولگیٹ سے صاف کی گئی چمکتی بتیسی فوراً سے نمودار ہوئی تھی۔ ’’میں نے کچھ نہیں کیا دادا جان۔۔میں نے تو بس بریکنگ نیوز سے آگاہ کیا ہے۔جس سے آپ ابھی چھوٹے دادا کو باخبر کر رہے تھے۔‘‘جذبات میں شارق کو اپنی جانب خونخوار انداز میں گھورتا دیکھ براق کی زبان سے سچ پھسل گیا تھا۔جہانگیر صاحب ماتھے پر تیوری چڑھائے اب باقاعدہ آنداز میں اس نمونے کی جانب گھومے تھے۔ ’’تمہیں شرم نہیں آئی بے شرم۔۔دادا کی باتیں سنتے ہوئے۔‘‘انہوں نے ایسے فوراً کان سے ہی پکڑ لیا تھا۔جبکہ اب مزے لینے کی باری شارق کی تھی۔ ’’جی دادا جان ۔۔اس بار آپ ایسے سزا ضرور سنائیے گا۔اس نے میرا بیڈ بھی توڑ ڈالا ہے۔‘‘شارق نے شکایت کرنا ضروری سمجھی تھی۔ ’’بس اب ان کی سزا یہی ہےکہ یہ ایک ہفتے تک فرش پر بستر لگا کر سوئیں گے۔اور آپ ان کے کمرے میں شفت ہوجائیں۔اور خبردار جو تم گھر کے کسی اور کمرے میں بھٹکتے بھی نظر آئے مجھے۔ ‘‘ایسی زبردست سزا کے ساتھ ساتھ دھمکی پر شارق کی تو باچھیں کھل گئیں تھی۔ ’’نہیں دادا جان۔۔میرے ساتھ یہ ظلم نا کریں۔۔میں غریب کیسے سوؤں گا فرش پر۔‘‘وہ کان کی جان خلاصی ہوتے ہی دھائیاں آنداز میں بولتا اپنا رونا ڈال گیا تھا۔ بالکل ویسے ہی بیٹا جیسے تمہارا باپ جوانی کے دنوں میں ٹھنڈے فرش پر سوتا تھا۔جب میں نے اپنی اولاد کو نہیں بخشا تو اپنے لئے تمہاری امید لگانا تو بے کار ہی ہے۔"وہ خشمگین نگاہوں سے گھورتے فیضان صاحب کا حوالہ دے گئے تھے۔جبکہ دونوں کے قہقہہ بے ساختہ تھے۔ ’’چلیں شاباش دونوں اپنے اپنے کمرے میں جائیں۔اور صبح مجھے وقت پر آپ دونوں ناشتے کی میز پر چاہیے۔اور خبردار جو رات دیر تک الو کی طرح جاگنے کے بعد صبح نیستیوں کی ماند بستر پر پڑے ملے تو۔۔۔‘‘جہانگیر صاحب کے سخت لہجے میں دیے گئے حکم اور تنبیہ پر براق منہ لٹکائے جبکہ شارق خوشی سے جمپ لگاتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔کیونکہ سونے کا شوقین صرف ایک ہی فرد تھا اور اس عظیم شخصیت کا نام تھا۔۔ "براق فیضان جہانگیر۔۔۔۔" جہانگیر صاحب ان دونوں کو مسکرا کر جاتا دیکھ سر جھٹک کر اپنے کمرے کی جانب بڑھے تھے۔وہ دونوں تو جہانگیر ہاؤس کی رونق تھے۔ان دونوں کی ہی بادولت اس گھر میں زندگی محسوس ہوتی تھی۔ورنہ عرصہ پہلے وہ حادثہ اس گھر کی تمام خوشیاں تیز طوفان کے بہاؤ کے ساتھ اپنے ساتھ ہی بہا لے گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ داؤد
