Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 01/06/2025
23 Views
Episode No 01
پڑوسی کے کام آتے ہیں۔‘‘ اس نے آقصیٰ کا کترانہ بھانپ لیا تھا۔ ’’ویل!!میرے خیال سے اب ہمیں گھر کے لیے نکلنا چاہئے۔موسم کے تیور کچھ خاص اچھے نہیں۔ڈاکٹرز نے ہیلدی فوڈ کھلانے کی خاص تاکید کی ہے۔تو پلیز۔۔آپ زرا خیال رکھیے گا۔‘‘ڈاکٹرز کی اجازت ملتے ہی آقصیٰ کی ناں ناں کو کسی بھی خاطر میں لائے بغیر وہ شخص باقی تمام تر فارملٹیز مکمل کرتا اپنی ہمراہی میں ہی گھر تک چھوڑ گیا تھا۔آقصیٰ اس کیے مدد کرنے پر دلی مشکور تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر داؤد پيلس کا تھا جہاں وہ اپنے علیشان سے گھر کے نہایت سی پرآسائش سے بیڈ روم کے تھری سیٹر گذار سے سفید صوفے پر بیٹھا تفخر سے حرام محلول کو لبو سے لگائے گھونٹ گھونٹ حلق سے اتار رہا تھا۔ سفید چمچماتے ٹائلز پر اس کے پیروں سے بہنے والے خون کے نشانات سے بن گئے تھے۔جبکہ وہ لان کے سادہ سے تھری پيس سوٹ میں ملبوس ضبط سے سرخ پڑتی آنکھوں پر پہرے بیٹھائے آنسو روکنے کی مکمل کوشش کر رہی تھی۔جو باہر آنے کو بے تاب سے تھے۔۔ "یہ صاف کون کرے گا؟ میرا باپ؟؟"نشے سے دهت صوفے کی پشت پر ہاتھ پهيلا کر بیٹھا وہ بس مدہوشی میں جانے لگا تھا۔۔ "میں کرتی ہوں۔پیر کی تکلیف کو نظر انداز کئے وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھتی کانچ کی بکھری ہوئی کرچیاں سمیٹنے لگی تھی۔پیروں کے ساتھ ساتھ ہاتھ بھی زخمی ہوگیا تھا۔ "جلدی ہاتھ چلا اور پھر آکر میرے پیر دبا۔مفت کی روٹیاں توڑنے کے لئے نہیں لایا ہوں تجھے۔"نشے میں جانے سے پہلے وہ سخت لہجے میں غرا کر اس کی اوقات یاد دلانا ہر گز نہیں بھولا تھا۔۔۔ ہاتھوں میں کانچ چن کر ڈسٹبن میں ڈالتی وہ کمرے سے باہر نکلنے ہی لگی تھی۔کہ پیچھے سے سنائی دینے والی غراہٹ آور سامنے سے بوتل کے جن کی مانند نازل ہوتی اس کی خاص ملازمہ کو دیکھ سانس روکے الٹے قدموں واپسی کمرے میں اس کے نزدیک آگئی تھی۔جبکہ دروازہ پر خاص اس کی چوکیداری پر معمور وہ دیو نما عورت گھوری سے نوازتی واپس پلٹ گئی تھی۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جہانگیر ہاؤس میں اس وقت صبح کا سماں تھا۔کچن میں ملازموں کو جلد از جلد ناشتہ بنانے کی ہدایت کرتیں جہانگیر صاحب کی دونوں بہوئیں ذرا بوکھلائی سی تھیں۔ "السلام علیکم بابا جان!!"ایک ایک کر سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے مگر ایک شخصیت تھی جو اب تک غائب تھی۔۔ "وعلیکم السلام!!صاحبزادے کہاں ہیں آپ کے؟"بابا جان نے کڑے تیورں سے پوچھا تھا۔جبکہ انہوں نے ناسمجھی سے دیکھا تھا۔ "بابا جان آپ جانتے تو ہیں۔۔کہ وہ کہاں ہے۔"وہ نظر چرا کر رہ گئے تھے۔جبکہ بارعب سے جہانگیر صاحب سب پر ایک کٹیلی نگاہ ڈال کر فریش جوس کا گلاس اٹھا کر لبو سے لگا چکے تھے۔مطلب صاف تھا کہ اب وہ لوگ باقاعدگی سے ناشتہ شروع کر سکتے ہیں۔گھر کی خواتین بھی نظروں ہی نظروں میں سوالیہ انداز اپناتی خاموشی سے اپنی اپنی چیئرز گھسیٹ کر بیٹھ گئیں تھیں۔۔ ٹیبل پر موجود شارق اور براق نے نظروں ہی نظروں میں خاموشی سے جوس پیتی ثانیہ کی جانب دیکھ نظروں کا تبادلہ کیا تھا۔یقیناً دادا جان کا غصّہ بے وجہ ہر گز نہیں تھا۔۔ "شارق!!"" "جی دادا صاحب!!"وہ جھٹ متوجہ ہوا تھا۔ "اپنے بھائی کو بتادینا کے ایک مہینے کے اندز اندر یا تو اس گھر میں واپس آکر ثانیہ سے نکاح کرے۔یا پھر ہماری بہو کے گھر لے کر آئے۔ "وہ جس اندز میں بولے تھے جہانگیر ہاؤس کے سبھی مکینوں نے انہیں چونک کر دیکھا تھا۔گویا بہوئیں کیا راہ چلتے ملنے لگی تھیں۔۔۔ "مگر بابا جان!!"سب سے پہلے ہوش فیضان جہانگیر کو ہی آیا تھا۔ "بس۔"وہ ہاتھ کے اشارے سے انہیں باز رہنے کی تنبیہ کر گئے تھے۔ "بابا جان!آپ کا جو بھی فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہے۔مگر میں ثانیہ کی خوشیوں پر کسی قسم کا کوئی كمپرومائز ہر گز نہیں کرونگا۔ "وہ صاف اور اٹل انداز میں بولے۔جبکہ سارا بیگم اور عائلہ بیگم نے ایک دوسرے کی جانب دیکھ سر جھٹکا تھا۔۔ "براق شام کو افس سے انے کے بعد آپ میری اسٹڈی میں آئیے گا۔ابھی آپ ہمارے ساتھ افس چلیں۔"وہ نپکن سے منہ تهپ تهپا کر ہر بات کو نظر انداز کئے اپنے پوتے سے مخاطب ہوئے تھے۔جو ناشتہ ادھورا چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔ "جی دادا ابو!چلیں۔۔"جہانگیر صاحب ایک سخت گھوری ڈال کر پہلے اپنے کمرے کی جانب بڑھے تھے۔جبکہ وہ براق کو مخصوص اشارہ کرتا کار پورچ کی جانب بھاگا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہانیہ بلیو جینز ،گھوٹنوں تک آتی شرٹ پہنے جینی کی ہمراہی میں لندن کی ڈبل ڈیکر بس میں سفر کرتی کافی شاپ پہنچی تھی۔ان دونوں کو کیفے پہنچتے پہنچتے ساڑھے سات بج چکے تھے۔۔ ’’یار ہانیہ آج میں زرا جلدی نکلوں گی۔تمہیں کوئی مسٔلہ تو نہیں ہے ناں۔‘‘جینی جلدی سے اپنا اور ہانیہ کا بلیک ایپرن کمر پر باندھتی مصروف سے آنداز میں بولی تھی۔ ’’نہیں!!خیریت۔۔‘‘وہ دونوں باتیں کرتی کاؤنٹر تک آئیں تھی۔ ’’ہاں سب ٹھیک ہے۔بس آج مجھے اپنے ایک دوست سے ملاقات کرنی ہے۔‘‘وہ مصروف سی بولی تھی۔ ’’چلوں!!تم جاؤ اور جلدی سے اس ہینڈسم سے آرڈر لے کر آؤ۔۔گارنٹی سے کہ سکتی ہوں۔وہ شخص صرف تمہیں پٹانے کے لیے روز صبح یہاں آتا ہے۔‘‘اس کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔ ’’تم تو جب بولنا فضول ہی بولنا۔۔‘‘وہ نظر آنداز کرتی اس کسٹمر کی جانب بڑھی۔جو پہلی دو ویٹریس کو آرڈر لکھوانے سے منع کر چکا تھا۔ ’’اکسکیوزمی سر!!آرڈر پلیز!‘‘بلیک پینٹ شرٹ پر بلیک ہی آور کوٹ پہنے وہ شخص دکھنے میں الگ ہی ایشین نظر آتا تھا،اس کی نظروں کا ارتکاز ہی تھاکہ ہانیہ آرڈر لیتے میں شدید جھنجھلاہت کا شکار تھی۔ ’’اففف!!اب یہ شخص یہاں بیٹھے بیٹھے فوت ہوجائیے ،یاکیفے سے باہر کی ٹھنڈ میں فریزہوجائے مگر میں اس جھکی ٹھرکی کا آرڈر ہر گز نہیں لونگی۔‘‘وہ کاؤنٹر پر آکر کافی مشین کے اگے کھڑی ہوتی اردو میں بڑ بڑائی تھی۔ساتھ کھڑی لیزا نے چونک کر کان اس کی جانب لگائے۔ ’’کیا بڑبڑا رہی ہو۔‘‘ایسے خاک کچھ پلے نہیں پڑا تھا۔ ’’نتھنگ!!‘‘وہ سر جھٹک کر اس کا آرڈر ٹرے میں لگاتی ایک بار پھر اس کسٹمر کی جانب بڑھی۔جس کی ایکسرے کرتی نگاہیں اسی پر مرکوز تھیں۔ ’’وہ آرڈر رکھ کر اب دوسری ٹیبلز کی جانب بڑھی تھی ۔وہ مسلسل خود کو مصروف رکھ کر زہن ہٹا نا چاہا رہی تھی۔مگرمقابل کی نظروں کی تپش ہی تھی۔جو ایسے بوکھلائے دے رہی تھی۔۔ اس شخص نے گھڑی دیکھی جہاں نو سے اُپر کا وقت ہو رہا تھا۔وہ جلدی سے ہڑبڑا کر آٹھ کھڑا ہوتا۔اس پر ایک آخری نگاہ ڈالتا کیفے سے باہر نکل گیا۔ہانیہ نے سُکھ کا سانس لیا۔پچھلے کئی ماہ سے یہ روز کا معمول بن گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
