Woh Ik Guman Sa Free Online Reading (Episodic Novel) — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Thriller
Published: 01/06/2025
23 Views
Episode No 01
دھند کی لپیٹ میں تھا۔یہ گھر شیپنگ کنٹینرز میں بنائے جاتے ہیں۔جنہیں ویلز کی مدد سے آپ باآسانی کہیں بھی موو کرسکتے ہیں۔جو گھر ناسہی گھر جیسی فیلنگز ضرور پوری کر دیتے ہیں۔ ۔ آنکھوں میں اداسی لیے وہ مسلسل آسمان تکنے میں مصروف تھی۔وہ پچھلے چار ماہ سے لندن میں تھی مگرپاکستان سے کیسی نے پلٹ کر اس کی خبر تک لینی ضروری نہیں سمجھی تھی۔جب اچانک کانوں میں اُبھرتی آواز پر وہ چونک آٹھی تھی۔ ’’ہانیہ ڈارلنگ!! کیا تم میرے ساتھ کافی شاپ پر چل رہی ہو۔یاتم نے اپنی کنٹری کی یاد میں سارا وقت یونہی برباد کر نا ہے۔‘‘وہ سُوچوں کے محور میں غرق تھی۔جب اچانک اس کے ونڈو نما روم کے دروازے پر کھڑے ہوتے جینی نے شائستہ انگریزی میں سوالیہ استفسار کیا۔ ’’جانا ہے۔۔بالکل جانا ہے۔کیونکہ مجھے پیسے جمع کر نے کے بعد پاکستان بھی تو لوٹنا ہے۔‘‘وہ ہڑ بڑا کر بولتی کپڑوں کی شکن درست کرتی جلدی سے ٹائینی ہاؤس کے واشروم کی جانب بھاگی تھی۔ ’’اوکے!!تم ریڈی ہو میں جیزی کو اسکول کے لئے ریڈی کر دیتی ہوں۔۔‘‘وہ ایک ڈرامائی سانس فضا کے سپرد کرتی اپنی بیٹی کے روم کی جانب گھومی۔وہ اپنے دونوں بچوں کی سنگل مدر تھی۔جبکہ ہانیہ ایک ہی کافی شاپ میں جاب کرنے کے باعث واجبی سے رینٹ کے عوض انھی کے ساتھ رہ رہی تھی۔جس کا ٹائینی ہاؤس برف باری کے باعث کافی عرصے سے ایک ہی جگہ کھڑا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد کی سر سر زمین پر باران چھم چھم برس رہا تھا۔آج موسم خاصہ ابرالود تھا رات کا جانے کونسا پہر تھا جب وہ ایک کونے میں سیڑھیوں پر سکڑی سمٹی بیٹھی لان میں برستی بارش کو تھرتھر کانپتی ہوئی دیکھتی بس بے ہوش ہونے کے در پر تھی۔۔۔۔ بارش تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی جب کہ جسم ایسا ہو رہا تھا کہ بس ابھی روح پرواز کر جائے گی۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہ قسمت ہر بار اُسے ہی کیوں آزماتی تھی۔جسم پر پڑے نیل اب مزید واضح ہونے لگے تھے۔ادھ کھلے زخموں سے خون سا رسنے لگا تھا۔۔۔مگر جسم ان سب تکالیف کا عادی ہوگیا تھا۔اس کے لیے یہ درد تکلیف اب کوئی معنی ہی نہیں رکھتے تھے۔۔۔ آج صرف ایک غلطی۔۔۔۔۔شاید وہ غلطی ،غلطی تھی بھی نہیں۔۔۔۔یا پھر اس کے ہاتھوں سر زد ہوجانے والا گناہ تھا جبھی تو اس کا جسم ان گنت چوٹوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہونٹوں سے خون رسنے لگا تھا۔۔جسم جب سردی کی شدّت برداشت کرنے سے قاصر ہوگیا تو ایک دم لہرا کر دو سیڑھیوں سے لڑھکتی زمین پر آگری تھی جبکہ اب آسمان سے برستا اِبررحمت جو اس کےجسم پر تیر کی مانند لگتا۔اب سیدھا اس پر ہی برس رہا تھا۔مگر وہ ہر غم سے غافل آنکھیں موند گئی تھی۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’زیان بچہ کیا ہوگیا ہے۔ایسے کیوں روئے جا رہے ہو۔‘‘آقصیٰ زیان کو مسلسل روتا دیکھ سب کام پرے کر حواس باختہ سی نزدیک آئی تھی۔ ُ’’ماما!!وہ درد کی شدت سے دہرا ہو رہا تھا۔ ’’ماما کی جان!کیا ہوا شہزادے کو۔‘‘وہ اُسے کڈنی پر ہاتھ رکھ کر تڑاپتا دیکھ تڑپ آٹھی تھی۔ ’’ماما!!یہاں بہت پین ہو رہی ہے۔‘‘وہ ہچکیوں کے درمیان آنسوؤں پر ضبط کرتا بولا۔ ’’درد ہورہا ہے؟؟بس چپ!!ماما ابھی لے جائے گی ڈاکٹر کے پاس۔۔‘‘آقصیٰ نے جلدی سے ایسے گود میں آٹھا کر باہر کی رہ لی۔مناہل اور اس کا شوہر جاب پر تھے۔شام ڈھلنے لگی تھی۔ برف باری کے باعث موسم خاصہ خراب تھا۔ ’’وہ حواس باختہ سی زیان کو گود میں آٹھائےابھی گھر سے باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے سے وہی شخص اس کے سامنے ان وارد ہوا تھا۔جس سے چند روز قبل لندن برج پر ملاقات ہوئی تھی۔ ’’کیا ہوا مس!!‘‘آقصیٰ نے پر یشانی میں ناٹ ہی نہیں کیا تھا۔وہ اس کے خاصہ قریب آکھڑا ہوا تھا۔ ’’زیان کی کڈنی میں بہت درد ہو رہےمجھے ایسے جلد از جلد ہاسپٹل منتقل کرنا ہے۔‘‘وہ ہڑبڑا کر اپنے آنسو پر ضبط کرتی زیان کو بہلا رہی تھی۔ ’’اوکے!!پلیز!ڈانٹ کرائے۔۔ہم ابھی چلتے ہیں۔‘‘اس نے زیان کو اپنی گود میں اُٹھا لیا تھا۔اور جلدی سے موبائل نکال کر ایک کال ملائی تھی۔وہ جب تک روڈ کراس کر زرا اگے آئے تھے۔اتنی دیر میں اس کادوست گاڑی لے آیا تھا۔ ’’آقصیٰ جلدی سے بیٹھیں آپ۔۔‘‘وہ اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھول کر خود فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔ ’’زیان !!‘‘وہ پیچھے سے انسو روکتی بے ساختہ پکار آٹھی۔ ’’ریلکس!!کچھ نہیں ہوگا زیان کو۔۔‘‘اس نے تسلی دی ۔ چند منٹوں میں لندن شہرکےہسپتال کے عین سامنے گاڑی ایک جھٹکے سے روکی تھی۔وہ تینوں ہی بغیر ایک لمحہ برباد کیےہسپتال کے اندر بھاگے تھے۔ ’’زیان کو فوری ایمرجنسی میں لے جایا گیا تھا۔جبکہ کوریڈور میں کھڑی آقصیٰ مسلسل اس کے لیے دعائیں کرتی انسو بہا رہی تھی۔ ’’کیا ہوگیا ہے آپ کو؟بچے سے زیادہ آپ اپنے حواس گنوا رہی ہے۔ہوش میں رہیں اگر آپ اس طرح کریں گی تو زیان کو کون سنبھالے گا۔‘‘وہ زرا سرد لہجے میں گویا ہوا۔اس نے مترنم نگاہیں آٹھا کر اپنے مسیحا کو دیکھا تھا،جس کے چہرے پر خفگی واضح تھی۔ "ٹھیک ہوں میں!!مگر زیان۔‘‘اس نے چہرہ صاف کر تھکے سے لہجے میں استفسار کیا۔ ’’پریشان نہیں ہوں۔ڈاکٹرذ دیکھ رہے ہیں۔وہ ٹھیک ہوگا۔۔‘‘آقصیٰ کا دل تیزی سے ڈھڑک رہا تھا۔ ’’ڈاکڑ میرا بیٹا!!‘‘ڈاکٹر کے باہر اتے ہی وہ بھاگنے کے انداز مین ان تک پہنچی۔ ’’ڈانٹ وری!!ناؤہی از فائن ۔۔‘‘اس نے ایک شکر بھرا سانس فضا کے سپرد کیا تھا۔ ’’مگر ڈاکٹر بچے کو یہ درد ہوا کیوں تھا؟؟‘‘اس کے استفسار پر ڈاکڑ ایسے تفصیل بتا رہا تھا۔جبکہ آقصیٰ اجازت ملتے ہی بھاگنے کے آنداز میں جنرل ورڈ میں داخل ہوتی زیان تک پہنچی۔۔ "تھینک یو ڈاکٹر!!‘‘وہ شکریہ ادا کرتا اس کے پیچھے گیا۔جہاں وہ زیان کو تھامے بیٹھی تھی۔وہ بھی ماں کی گود میں دوائیوں کے زیر اثر پر سکون نیند سو گیا تھا۔۔ آنسو بہاتی آقصیٰ کی نظر بے ساختہ ہی سامنے اونچے لمبے دراز قد والے شخص سے جا ملی تھی۔جو بہت غور سے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔دونوں کی نظر ملنا اتفاقیہ سا عمل تھا۔ایک دوسرے سے نظر ملتے ہی وہ دونوں نظریں چرا گئے تھے۔ ’’آپ ٹھیک ہیں ناں!‘‘مقابل کے سوال کرنے پر آقصیٰ اپنی آنکھیں خشک کرتی اس کے نزدیک آئی۔ ’’میں ٹھیک ہوں۔۔ائی ائم سوری!! کہ ہماری وجہ سے آپ کو تکلیف آٹھانی پڑی۔۔بہت شکریہ آپ کا۔‘‘اس کے لہجے میں ندامت واضح تھی۔وہ نفی میں سر ہلا کر رہ گیا۔ ’’شکریہ کی کوئی بات نہیں مس آقصیٰ اور انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ہم اور آپ تو ہیں بھی ایک ہی وطن کے۔۔آپ کی مدد کرنا تو مجھ پر فرض تھا۔‘‘اس کے لہجے میں اپنائیت تھی۔بلیک جینز اور بلیک اور کوٹ پہنے وہ شخص چالیس کے قریب ہی لگتا تھا۔گہری براؤن آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔جو اقصیٰ کا ماتھا ٹھنکا رہی تھی۔ ماتھے پر بلیک گھنے سیاہ بال بکھرے ہوئے تھے۔اگے کے دو چار بالوں میں سفیدی سی چمک رہی تھی۔جیسے بالوں کی چند لٹوں کو الگ سے رنگ کیا گیا ہو۔ ’’میرے خیال سے آپ الریڈی ہماری کافی مدد کر چکے ہیں۔اب آپ کو چلنا چاہئے۔کچھ دیر میں ڈاکٹرز زیان کو بھی ڈسچارج کر دیں گے۔‘‘ضرورت سے زیادہ کسی انجان شخص کا احسان لینا تو پہلے ہی آقصیٰ جمشید کی فطرت کے خلاف تھا۔ ’’آپ تو ایسی باتیں بول کر اجنبی کر رہی ہیں۔ساتھ میں آپ کے علم میں آضافہ کرتا چلوں کہ میں اور آپ نیبرز بھی ہیں۔اور ایسے مشکل وقت میں پڑوسی ہی
